04/01/2026
کیا ملک چھوڑنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟
مختصر جواب:
نہیں۔
لیکن کچھ مسائل بدل جاتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔
جو مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں
• ادارہ جاتی ناانصافی
• سفارش، اقربا پروری
• میرٹ کی بے قدری
• روزمرہ کی غیر یقینی (قانون، نوکری، مستقبل)
یہ وہ مسائل ہیں جو انسان کو روز گھائل کرتے ہیں اور نوجوان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں۔
جو مسائل باہر جا کر سامنے آتے ہیں
• تنہائی اور شناخت کا بحران
• ثقافتی بیگانگی
• امیگریشن، ویزا، قانونی دباؤ
• مسلسل محنت، مقابلہ، اور کارکردگی کا دباؤ
• والدین اور خاندان سے دوری
یعنی:
باہر جا کر زندگی آسان نہیں ہوتی،مگر predictableہو جاتی ہے۔
نوجوان ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
یہ بغاوت نہیں، خاموش فرار (silent exit) ہے۔
وہ یہ نہیں کہہ رہے:
“ہم لڑیں گے اور سب بدل دیں گے”
وہ یہ کہہ رہے ہیں:
“ہم نے حساب لگا لیا ہے، لڑائی کا فائدہ نہیں”
یہ رومانوی انقلاب کا دور نہیں،یہ ذہنی صحت بچانے کا دور ہے۔
کیا باہر بھی کرپشن، مسائل اور ناانصافی ہے؟
وہاں
طاقت نظام کے ہاتھ میں،
انصاف سست مگر متوقع،
محنت کا صلہ یقینی نہیں، مگر ممکن،
اور
یہاں
طاقت شخص کے ہاتھ میں،
انصاف غیر یقینی،
محنت کا صلہ ممکن نہیں،
یہ فرق چھوٹا لگتا ہے،
لیکن زندگی اسی فرق پر چلتی ہے۔
تو کیا بچوں کو باہر بھیج دینا چاہیے؟
صحیح جواب:
یہ نجات نہیں، حکمتِ عملی ہے۔
باہر بھیجنا درست ہے اگر:
• بچہ محنتی اور حقیقت پسند ہے
• آپ اسے “جنت” نہیں، کٹھن مگر منصفانہ دنیا سمجھا کر بھیج رہے ہیں
• وہ جانتا ہے کہ وہاں کوئی رشتہ، کوئی رعایت نہیں
• وہ تنہائی اور جدوجہد ذہنی طور پر سنبھال سکتا ہے
باہر بھیجنا غلط ہے اگر:
• آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا
• بچہ نازک مزاج، بے مقصد یا صرف فرار چاہتا ہے
• آپ اسے جھوٹا خواب دکھا رہے ہیں۔
آخری بات۔
ملک !چھوڑنا بزدلی نہیں
اور ملک میں رہنا ضروری طور پر بہادری نہیں
اصل سوال یہ ہے:
آپ کا بچہ کہاں ایک باوقار، محفوظ اور معنی خیز زندگی بنا سکتا ہے؟
اگر جواب باہر ہے ، جانا درست ہے
اگر جواب اندر ہے ، رکنا بھی درست ہے
غلط صرف یہ ہے کہ،
ہم بچوں سے رومانوی نعروں یا اندھے خوف کی بنیاد پر فیصلے کروائیں۔
محمد امجد تقویم