Aysha Gellani

Aysha Gellani The psychologist of Micro actions..

19/03/2026

Why the human mind can sometimes reach a point where it feels there is "no way out."
Let's talk about mental health Struggles.

17/03/2026

Millions of followers.
Millions of views.
But sometimes… not a single safe place to fall apart.

The situation around Anurag Dobhal (UK07 Rider) reminds us of something uncomfortable: fame does not protect mental health. When family conflict, public pressure, and emotional isolation collide, even the strongest minds can reach a breaking point.
Behind every viral personality is still a human nervous system trying to survive stress, rejection, and identity crises.

This isn’t just influencer drama.
This is a reminder that visibility is not the same as support.
Mental health struggles don’t care about followers, fame, or status.



12/03/2026

Why Heartbreak Hurts So Much (And How to Heal)

In psychology, heartbreak is often compared to grief because losing someone we loved creates a deep emotional void. Understanding these emotions is the first step toward recovery and self-growth.





11/03/2026

اکثر جذباتی الجھن بالکل محبت جیسی لگتی ہے۔

بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ جب میں ڈرامہ سیریل معمہ دیکھا تو مجھے یہ انسانی نفسیات کی ایک انٹراسپشن لیبارٹری لگا۔ جو چیز ہم اسکرین پر “شدید محبت” سمجھتے ہیں، اکثر وہ صرف جذباتی کنفیوژن ہوتی ہے۔

یہ دیکھیں کہ جب کوئی شخص آپ کو غور سے سنتا ہے، آپ کی چھوٹی باتیں یاد رکھتا ہے، اور تھوڑی سی توجہ دیتا ہے، دماغ فوراً اعلان کر دیتا ہے “یہی محبت ہے” حقیقت میں یہ صرف dopamine reward system کا کھیل ہوتا ہے، جو ہمارے اعصابی نظام کو خوشی اور excitement کے ساتھ بہکاتا ہے۔ یعنی کبھی کبھی ہم انسان سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اس احساس سے کرتے ہیں جو وہ ہمیں دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں تو دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر رشتہ پرسکون اور واضح ہو تو لوگ فوراً کہتے ہیں، بس ٹھیک ہی چل رہا ہے سب۔ لیکن اگر رشتہ تھوڑا الجھا ہوا ہو، آج ناراضگی، کل قربت، پرسوں ڈرامہ… تو فوراً کہا جاتا ہے۔ واہ… کتنی گہری محبت ہے
۔
سائیکالوجی میں اسے intermittent reinforcement کہتے ہیں، یعنی کبھی تھوڑی توجہ، کبھی withdraw… اور دماغ emotional attachment کے لوپ میں پھنس جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ہم محبت سمجھتے ہیں، وہ اکثر صرف اعصابی نظام کی ایک عادت ہوتی ہے۔

جہان آرا کا کردار اس ڈرامے میں سب سے دلچسپ ہے۔ وہ صرف ولن یا ہیرو نہیں، بلکہ ایک morally complex psyche کی مثال ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ جو لوگ زندگی میں دھوکہ، betrayals، یا emotional trauma سے گزرے ہوں، وہ بعض اوقات تعلقات میں control-based behavior اختیار کر لیتے ہیں۔ کیا وہ محبت چاہتے ہیں؟ ہاں۔ لیکن ساتھ میں طاقت اور کنٹرول بھی چاہتے ہیں۔ باہر سے دیکھنے پرmanipulation لگتی ہے، لیکن اندر سے یہ صرف ٹرامہ کا سروائیول ہے۔

سوشل میڈیا نے تو اس سب کو نئی جہت دے دی ہے۔ آج کل تو سچویشن یہ ہے کہ دو تین ریپلائیز، چار اسٹوریز پر ری ایکشن، اور ایک “you understand me” والا میسج… اور لوگ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ روحانی کنکشن ہو گیا ہے۔ حقیقت میں اکثر یہ parasocial attachment ہوتا ہے، یعنی کسی آنلاین پرسن سے محدود انٹریکشن کو حقیقی تعلق سمجھنا۔ الگورتھمز بھی دماغ کی ڈوپامین لوپ کو چھیڑ کر مزید الویزن بڑھاتے ہیں۔

آپ صرف emotional chaos میں پھنسے ہیں، اور دماغ نے اسے رومانس سمجھ لیا ہے۔حقیقی محبت عام طور پر بہت سادہ اور پرسکون ہوتی ہے وضاحت، مستقل مزاجی، اور جذباتی تحفظ۔ شاید ٹی وی ڈراموں میں یہ اتنا دلچسپ نہ لگے، لیکن انسانی دماغ کے لیے سب سے پاورفل چیز یہی ہے کہ آپ کا اعصابی نظام ریلیکس ہو جائے۔

ہر شدید احساس محبت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ صرف attention، unresolved attachment wounds، اور emotional confusion ہوتا ہے… جسے dramatic music اور slow-motion close-ups کے ساتھ ہم محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔

عائشہ گیلانی



10/03/2026

یہ پوسٹ صرف میری کہانی نہیں۔ یہ ہر اس لڑکی اور ہر اس عورت کے نام ہے جس نے صرف “لڑکی ہونے” کی وجہ سے غیر ضروری فیصلے، مشورے اور پابندیاں سہی ہیں۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یہ ایک تھوڑی دیر سے سہی، مگر دل سے لکھی گئی خراجِ تحسین ہے،ان سب مضبوط عورتوں کے لیے جو معاشرے کے دوہرے معیاروں کے باوجود اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں لڑکی ہونا کسی ایڈونچر فلم سے کم نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں ولن کوئی خلائی مخلوق نہیں ہوتی، بلکہ وہ “لوگ” ہوتے ہیں جنہیں کبھی کسی نے دیکھا نہیں، مگر ان کا خوف ہر گھر میں سی سی ٹی وی کی طرح لگا ہوتا ہے۔

یہاں لڑکی پیدا ہو تو پہلا جملہ اکثر یہی ہوتا ہے
“ہائے بیچاری…”
جیسے بچی نہیں، کوئی مستقل مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔

پھر دعا دی جاتی ہے
“نصیب اچھے ہوں۔”
گویا معاشرہ خود مان چکا ہو کہ آگے راستہ آسان نہیں۔

اگر لڑکی پڑھ لے تو کہا جاتا ہے
“اتنا پڑھ کر کیا کرنا ہے؟ آخر سالن ہی تو بنانا ہے۔”

اور اگر وہ واقعی کچھ بن جائے تو وہی لوگ کہتے ہیں
“زیادہ پڑھ گئی ہے… اب قابو نہیں آئے گی۔”

یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ لڑکی کیا کر رہی ہے۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ لڑکی خود فیصلہ کر رہی ہے۔

ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ
“لڑکی کی عزت کانچ کی طرح ہوتی ہے۔”
مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یہ کانچ اتنا سستا کیوں ہے کہ کسی کی گھٹیا سوچ کی ایک اینٹ سے ٹوٹ جاتا ہے۔

اور یہاں میں خاص شکریہ ادا کرنا چاہوں گی ان تمام غیر سرکاری خفیہ اداروں کا یعنی پیاری آنٹیوں اور دور کے رشتہ داروں کا جو میری زندگی میں مجھ سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

اتنی توجہ تو لوگ اپنے بلوں اور صحت پر نہیں دیتے جتنی آپ میری زندگی پر دیتے ہیں۔
اگر تجسس اولمپک کھیل ہوتا تو یقیناً ہماری آنٹیاں گولڈ میڈل لے کر آتیں۔

جو لوگ میرے کردار کی مٹی اڑا رہے ہیں، انہیں بھی مبارک ہو۔
کیونکہ اکثر وہی لوگ دوسروں پر باتیں کرتے ہیں جو اپنی کہانی لکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

اور میری خاموشی کو میری ہار سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔
کبھی کبھی انسان صرف اس لیے خاموش ہوتا ہے تاکہ کم ظرف لوگ خود اپنی سوچ کا قد دکھا دیں۔

میری چادر کی لمبائی اور میری آواز کی اونچائی ناپنے سے بہتر ہے کہ تھوڑی دیر سکون سے بیٹھ کر چائے پی لیں اور اپنے گھر کے مسئلے حل کر لیں۔
کیونکہ میں کوئی عوامی نوٹس بورڈ نہیں ہوں جہاں ہر گزرتا شخص اپنی رائے کا کاغذ چپکا کر چلا جائے۔

اور رہی بات “لوگ کیا کہیں گے” کی…
تو یہ وہی لوگ ہیں جو کسی کی کامیابی پر کہتے ہیں
“ہاں ٹھیک ہے… مگر غرور بہت ہے۔”

اور ناکامی پر کہتے ہیں
“ہمیں پہلے سے پتا تھا اس سے کچھ نہیں ہونا۔”

یعنی ان کا کام صرف تبصرہ کرنا ہے…
کبھی خود کچھ کرنے کی ہمت جو نہیں تھی۔

دنیا کا سب سے بڑا مرض شاید واقعی یہی ہے
“لوگ کیا کہیں گے ۔”

اور میرا جواب بس اتنا سا ہے
“جو کہنا ہے کہہ لو… بس ذرا اونچا بولنا۔ کیونکہ مجھے اپنی کامیابی کے شور میں تمہاری باتیں سنائی نہیں دیتیں۔”

اللہ ہم سب کو اتنی مصروفیت اور تھوڑی سی عقل دے دے کہ ہم دوسروں کی بیٹیوں کے کپڑوں، نوکریوں اور شادیوں پر بحث کرنے کے بجائے اپنی زندگی اور اپنی آخرت کی فکر کر سکیں۔

اور جو لوگ میرے پیچھے باتیں کرتے ہیں… ان کا بھی شکریہ۔
آخر دنیا ہمیشہ ستاروں کے پیچھے ہی تو چلتی ہے۔😉😉😊

اور آخر میں… ان سب کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں دیواروں سے ٹکرا کر رک جاتی ہیں

ہم وہ نہیں جو ڈر جائیں زمانے کی دیواروں سے،
ہم نے تو راستہ بنایا ہے طوفانوں کی دھار سے۔

تم اچھالتے رہو میری عزت کے کنکر اپنی گلیوں میں،
ہم نے سیکھا ہے نکلنا، ہر بار نئے نکھار سے۔

نوٹ: یہ صرف وومن ڈے کے لیے ایک پوسٹ ہے۔ زیادہ دل پر نہ لے لینا😋😋😋

عائشہ گیلانی

08/03/2026

آپ کی اینگزائٹی آپ کا مقدر نہیں، صرف ایک ’سیکھی ہوئی عادت‘ ہے

کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ ایک صبح آپ اٹھیں گے اور یہ گھبراہٹ، یہ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور یہ انجانا خوف خود بخود کسی معجزے سے ختم ہو جائے گا؟
بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ، میں آپ کو ایک کڑوی مگر سچی بات بتا دوں: اینگزائٹی بخار نہیں ہے جو اتر جائے گا، یہ ایک ذہنی پیٹرن ہے جسے آپ کو خود توڑنا ہوگا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارا دماغ نئی عادتیں سیکھنے میں بہت تیز ہے۔ اگر اس نے ڈرنا سیکھا ہے، تو یہ پرسکون رہنا بھی سیکھ سکتا ہے۔
اگر آپ برسوں سے اس بوجھ کو اکیلے اٹھائے ہوئے ہیں، تو آج سے یہ 8 قدم اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں
1. اسے اپنا دشمن نہ سمجھیں: جب آپ کسی احساس سے لڑتے ہیں، تو وہ اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ اگلی بار جب گھبراہٹ ہو، تو اسے کہیں: "میں تمہیں دیکھ رہی ہوں۔ تم مجھے کسی خطرے سے بچانا چاہتے ہو، لیکن ابھی میں محفوظ ہوں۔ تم آرام کرو۔" یہ ایک جملہ آپ کے دماغی الارم کو آہستہ کر دیتا ہے۔

2. 5-4-3-2-1 تکنیک (Grounding): اینگزائٹی مستقبل کے وسوسوں میں رہتی ہے، اسے 'حال' میں لانے کے لیے روزانہ صبح یہ مشق کریں: 5 چیزیں دیکھیں، 4 محسوس کریں، 3 سنیں، 2 سونگھیں اور 1 چکھیں۔
3. اپنی اینگزائٹی ڈائری لکھیں: جب بھی گھبراہٹ ہو، لکھیں کہ اس وقت کیا ہو رہا تھا اور جسم میں کیا محسوس ہوا۔ ایک ہفتے بعد جب آپ اسے پڑھیں گے، تو آپ کو اپنا ایک خاص "پیٹرن" نظر آئے گا۔ دشمن کو پہچاننا ہی اسے شکست دینے کا پہلا مرحلہ ہے۔
4. سانس کی طاقت (4-7-8 تکنیک): جب دورہ پڑے، تو4 سیکنڈ ناک سے سانس لیں، 7 سیکنڈ روکیں اور 8 سیکنڈ میں منہ سے نکالیں۔ یہ عمل آپ کے اعصابی نظام کو بتاتا ہے کہ "خطرہ ٹل گیا ہے"۔
5. اپنے 'جھوٹے یقین' کو چیلنج کریں: ہر خوف کے پیچھے ایک جملہ ہوتا ہے، جیسے "سب برباد ہو جائے گا"۔ ایک کاغذ پر وہ جملہ لکھیں اور خود سے پوچھیں: "کیا میرے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے؟" حقیقت پسندی وہم کا بہترین علاج ہے۔
6. جسمانی حرکت (15 منٹ کا اصول): تحقیق ثابت کرتی ہے کہ 15 منٹ کی چہل قدمی یا ورزش اینگزائٹی کو اتنا ہی کم کرتی ہے جتنا کہ ایک طاقتور دوا۔ اپنے جسم میں جمع ہونے والے تناؤ کو حرکت کے ذریعے باہر نکالیں۔
7. ذاتی معافی کا عمل: اگر کسی دن آپ اینگزائٹی کے ہاتھوں مجبور ہو کر رو پڑے یا ہمت ہار گئے، تو خود کو برا بھلا نہ کہیں۔ خود کو معاف کریں اور کہیں: "کل میں دوبارہ ایک چھوٹا قدم اٹھاؤں گی۔" آپ کی خود سے ہمدردی ہی آپ کی شفا ہے۔
8. خاموشی توڑیں اور مدد مانگیں: اینگزائٹی تنہائی میں پلتی ہے۔ کسی قابل اعتماد دوست یا مجھ جیسے پروفیشنل سے بات کریں۔ یاد رکھیں، مدد مانگنا کمزوری نہیں، بلکہ اس تھکن کا اعتراف ہے جو آپ برسوں سے اکیلے سہہ رہے ہیں۔

دس سال کی قید بھی چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہی ٹوٹتی ہے۔ ان 8 قدموں میں سے وہ کون سا ایک قدم ہے جو آپ آج ابھی اٹھائیں گے؟ کمنٹ میں لکھیں، کیونکہ جو ہم لکھ دیتے ہیں، اسے پورا کرنے کا عزم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

عائشہ گیلانی

07/03/2026


کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف 10 سیکنڈ میں آپ اپنے موڈ کو بہتر بنا سکتے ہیں؟جی ہاں، خوشی ہمیشہ بڑی تبدیلیوں سے نہیں آتی۔ کبھی ...
06/03/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف 10 سیکنڈ میں آپ اپنے موڈ کو بہتر بنا سکتے ہیں؟
جی ہاں، خوشی ہمیشہ بڑی تبدیلیوں سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی چھوٹی سی ذہنی تبدیلی بھی ہمارے دماغ کو سکون اور مثبت طرز پر لے جاتی ہے۔
یہاں 3 سادہ مگر مؤثر نفسیاتی طریقے ہیں جو آپ فوراً آزما سکتے ہیں:
1️. تین اچھی چیزیں یاد کریں
ایک لمحہ رکیں اور اپنی زندگی کی تین اچھی چیزیں سوچیں۔
یہ بہت چھوٹی بھی ہو سکتی ہیں:
• میں صحت مند ہوں
• میرے پاس کھانا ہے
• میرے پاس سیکھنے کا موقع ہے
جب آپ شکرگزاری پر توجہ دیتے ہیں تو دماغ ایک ہی وقت میں تناؤ اور شکرگزاری دونوں پر فوکس نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موڈ فوراً بہتر ہونے لگتا ہے۔
2. باڈی ری سیٹ
سیدھا بیٹھیں، کندھے پیچھے کریں، ایک گہری سانس لیں اور ہلکا سا مسکراءیں۔
یہ سادہ عمل دماغ کو اشارہ دیتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، اور دماغ ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے خوشی کے کیمیکلز خارج کرنے لگتا ہے۔
3️. خود سے ایک سوال پوچھیں
اپنے آپ سے پوچھیں:
"اس وقت میرا سب سے مضبوط اور بہترین ورژن کیا کرتا؟"
اکثر جواب سادہ ہوتا ہے:
سکون سے سانس لیں، زیادہ نہ سوچیں، اور آگے بڑھ جائیں۔
یاد رکھیں، خوشی کوئی ایسی چیز نہیں جس کا انتظار کیا جائے۔
یہ وہ چیز ہے جو ہم چھوٹے چھوٹے لمحوں اور عادات سے خود پیدا کرتے ہیں۔
اگر یہ پوسٹ مفید لگی تو اسے سیو کریں تاکہ جب بھی ذہنی دباؤ محسوس ہو، آپ اسے دوبارہ پڑھ سکیں۔
اور کسی ایسے دوست کے ساتھ شیئر کریں جسے آج اس کی
ضرورت ہو۔

عائشہ گیلانی

05/03/2026
تھکے ہوئے بچےیہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہمارے گرد و پیش کے ہر اس گھر کی ہے جہاں سسکیاں دیواروں میں چن دی گئی ہیں...
04/03/2026

تھکے ہوئے بچے

یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہمارے گرد و پیش کے ہر اس گھر کی ہے جہاں سسکیاں دیواروں میں چن دی گئی ہیں۔ شاید ہم خود بھی وہی "تھکے ہوئے بچے" ہیں جن کا قد تو بڑھ گیا، جن کی کھال پر وقت نے جھریاں لکھ دیں اور جنہوں نے زندگی کی تلخ ذمہ داریوں کے بوجھ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ناتواں کندھوں پر ٹکا لیے۔ مگر ہمارے اندر چھپا وہ ہارا ہوا بچہ آج بھی وہیں کسی جذباتی سہارے کی تلاش میں بیٹھا ہے؛ کسی پرانے گھر کے صحن میں لگے درخت کے سائے تلے، کسی ویران برآمدے میں، یا چھت کی منڈیر پر نظریں جمائے۔ وہ بچہ آج بھی کسی ایسے ہاتھ کا منتظر ہے جو اسے تھام کر جینا سکھا دے، کسی ایسے کندھے کا تلاشی ہےجہاں وہ اتنا روئے، اتنا روئے کہ برسوں کا حبس آنکھوں کے راستے بہہ جائے اور اندر کی بنجر زمین سیراب ہو جائے

سعدیہ، جو ماں باپ کی تلخ رنجشوں کے ملبے سے نکل کر نانا کے گھر پناہ گزین ہوئی۔ وہاں ماں کی تھکن بانٹنے کی تڑپ نے اسے ایک ایسے حصار میں قید کر دیا جہاں 'نانا' کے روپ میں ایک لمس اس کی روح کو داغدار کرتا رہا۔ وہ اپنی ماں کے ماتھے پر شکنیں نہیں دیکھنا چاہتی تھی، اس لیے اس نے اپنی کمر پر پھسلتے ان گندے ہاتھوں کی اذیت کو خاموشی سے پیا۔ وہ اتنی جلدی بڑی ہو گئی کہ اسے ارد گرد کی رنگینیوں اور جوانی کی امنگوں سے گھن آنے لگی۔

ننھی بریرہ، جس کے معصوم ذہن کو یہ سمجھا دیا گیا کہ اب ماں کی گود اس کی نہیں، اس نووارد بھائی کی جاگیر ہے۔ اس کی ضد، اس کا بچپن، سب ایک پل میں اس سے چھین لیا گیا۔

نسا، جسے یہ جان کر زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا کہ جسے وہ ماں کہتی تھی وہ خالہ تھی اور اس کے اپنے والدین نے اسے محض اس لیے ٹھکرا دیا تھا کیونکہ وہ ایک 'بیٹی' تھی۔ اسے تب چھوڑا گیا جب گھر کو 'بیٹے' کی تمنا تھی، اور پھر جب حالات بدلے تو اسے اپنا لیا گیا،مگر وہ ٹوٹا ہوا مان اب کبھی نہیں جڑ سکا۔وہ آج بھی اپنوں کے درمیان خود کو ایک 'اجنبی' اور 'اضافی چیز' محسوس کرتی ہے۔
دوسری طرف حماد نے بارہ سال کی عمر میں سگریٹ کا دھواں پھیپھڑوں میں اتارنا شروع کیا کیونکہ گھر میں باپ کا ماں پر تشدد دیکھ کر اس کا دم گھٹتا تھا۔ وہ ننھا بچہ اس الجھن کو حل نہیں کر سکتا تھا، اس لیے اس نے اسے دھوئیں میں اڑانا سیکھ لیا۔ آج وہ سگریٹ کے مرغولوں میں اپنی روح کا کرب تلاش کرتا ہے۔

منسا، جس نے ساری زندگی دوسروں کو خوش کرنے کی بھٹی میں خود کو جھونک دیا۔ "بڑے ہیں"، "وہ ناراض نہ ہو جائیں"، "خاموش رہو" ان جملوں نے اسے ایک ایسی نفسیاتی الجھن میں مبتلا کر دیا کہ وہ اپنی ہستی ہی بھول گئی۔ وہ سب کو راضی کرنے کی کوشش میں خود سے دور ہوتی چلی گئی۔
اور فضا، وہ گھر کی چہیتی، جسے کوئی یہ نہ بتا سکا کہ چچا کی گود میں اسے گھٹن کیوں ہوتی ہے۔ آج بھی جب وہ تنہا ہوتی ہے، اسے اپنے جسم پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوتا ہے، ایک ایسا لمس جو اس کی روح کو آج بھی بے چین رکھتا ہے۔
سلمان، جس کے لیے مولوی صاحب کا مدرسہ اور باپ کا گھر دونوں ہی مقتل بن گئے تھے۔ جس دن اس نے ہمت کر کے ماں سے چھٹی مانگی، اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی یہ معصوم سی خواہش باپ کے جلال کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ اس دن باپ کے کندھے تو تھک گئے مگر سلمان کا جسم نیلے نشانات سے بھر گیا۔ اس نے اس دن ایک عجیب طریقہ سیکھ لیا: "جسم سے باہر نکل جانے کا"۔ وہ ساکت کھڑا سوچتا رہا کہ یہ درد تو بس اس گوشت کے لوتھڑے کو ہو رہا ہے، وہ خود تو اس میں موجود ہی نہیں۔ آج وہ بڑا ہو کر بھی اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کرتا؛ وہ گھنٹوں شدید درد میں دوا کے بغیر بیٹھا رہتا ہے، یا پھر جذبات کو دبانے کے لیے بے تحاشہ کھانے لگتا ہے۔ اس نے اپنے گرد 'بے حسی' کی ایک ایسی دیوار کھڑی کر لی ہے جسے کوئی پار نہیں کر سکتا۔

ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ان تھکے ہوئے بچوں کو خاموشی کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ ہم جب بھی اپنے بچپن کے ان زخموں کو کریدنے کی کوشش کرتے ہیں، معاشرہ ہمیں "ماضی پر مٹی ڈالو" اور "جو ہو گیا اسے بھول جاؤ" کے تسلی بخش مگر کھوکھلے مشوروں سے چپ کرا دیتا ہے۔ لیکن کیا روح پر لگی ضربیں مٹی ڈالنے سے بھر جاتی ہیں؟ کیا وہ لمس جو ہڈیوں تک میں اتر گیا ہو، محض وقت گزرنے سے مٹ جاتا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ وہ زخم آج بھی رستے ہیں۔ وہ سعدیہ کی بے حسی میں، سلمان کے غصے میں، حماد کے دھوئیں میں اور منسا کی حد سے بڑھی ہوئی فرمانبرداری میں زندہ ہیں۔ ہم سب اپنے اندر ایک ملبہ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ہم نے جینا تو سیکھ لیا، مگر سکھ سے رہنا بھول گئے۔ ہم نے دوسروں کو معاف کرنا تو سیکھ لیا، مگر اس ننھے بچے کو گلے لگانا بھول گئے جو آج بھی کسی اندھیرے کونے میں سسک رہا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ان یادوں سے بھاگیں، بلکہ ضرورت اس اعتراف کی ہے کہ "ہاں، میرے ساتھ غلط ہوا تھا"۔ جب تک ہم اپنے اندر کے اس تھکے ہوئے بچے کی چیخ نہیں سنیں گے، ہم کبھی مکمل نہیں ہو سکیں گے۔ اسے بولنے دیں، اسے رونے دیں، اسے بتانے دیں کہ اس وقت اس کے ننھے دل پر کیا گزری تھی۔ شاید آپ کے آنسوؤں کا سیلاب اس کے برسوں کے غبار کو دھو ڈالے اور وہ بچہ آخر کار سکون کی نیند سو سکے۔
اگر آپ کے اندر کا وہ "تھکا ہوا بچہ" بھی کچھ بولنا چاہتا ہے، کوئی ان کہی بات جو برسوں سے سینے میں قید ہے، تو اسے کمنٹ میں بیان کر دیجیے۔ اسے بولنے دیجیے، اسے لفظوں کا پیراہن دیجیے... شاید اس اظہار سے آپ کے اندر کی گھٹن تھوڑی کم ہو جائے اور آپ کی روح کو تھوڑا سانس لینے کا موقع مل سکے۔

عائشہ گیلانی

11/02/2026

رشتوں میں سب سے خاموش مگر خطرناک چیزوں میں سے ایک یہ ہے جب درد کے فوراً بعد شدید محبت ملنے لگے…
اور ہر تکلیف کے بعد رشتہ اور زیادہ مضبوط محسوس ہونے لگے۔

اگر ہر دُکھ کے بعد رشتہ کچھ دیر کے لیے اور بھی “پرفیکٹ” لگنے لگے،تو سمجھ لینا یہ محبت نہیں ہے۔
نفسیات میں اسے ٹراما بونڈنگ کہا جاتا ہے۔

یہ ایک چکر ہوتا ہے
درد → وقتی سکون → اور گہری وابستگی۔
دماغ یہاں کنفیوز ہو جاتا ہے۔ڈوپامین خطرے کے ساتھ جُڑنے لگتا ہے۔اسی لیے پُرسکون، صحت مند رشتے “بورنگ” لگنے لگتے ہیں…اور انتشار والے، زہریلے رشتے “پرجوش” محسوس ہوتے ہیں۔

پاکستانی ڈراموں میں یہ سب کچھ بار بار دکھایا جاتا ہے
پہلے تشدد، پھر ایک جذباتی معافی کا منظر۔
یہ رومانوی لگتا ہے،لیکن طبی نفسیات کے مطابق یہ صرف کنڈیشننگ ہوتی ہے۔

نفسیات میں ایک بات بالکل واضح ہے
جہاں محبت درد اور تکلیف دینےکے بغیر وجود ہی نہ رکھ سکے،
وہاں رشتہ بھی محفوظ ہونا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔





اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ صرف ایک سکیورٹی ناکامی نہیں تھا۔یہ اس بنیادی معاہدے کی خلاف ورزی تھی ...
07/02/2026

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ صرف ایک سکیورٹی ناکامی نہیں تھا۔
یہ اس بنیادی معاہدے کی خلاف ورزی تھی جو ایک معاشرہ اپنے شہریوں کے ساتھ کرتا ہےکہ عبادت، کم از کم عبادت، محفوظ ہوگی۔

اکتیس جانیں لمحوں میں ختم ہو گئیں۔درجنوں افراد اسپتالوں میں ہیں، کچھ جسمانی زخموں کے ساتھ، کچھ ایسے صدمات کے ساتھ جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہوتا۔
ایسے واقعات میں اصل تباہی صرف دھماکے سے نہیں آتی
یہ بعد میں آتی ہے۔نیند کی کمی، مستقل خوف، عبادت سے جڑا ہوا ٹراما، اور یہ سوال کہ اگر یہاں بھی محفوظ نہیں تو کہاں ہیں؟
دل رو رہا ہے…
اس ماں کے لیے جو دروازے پر بیٹے کا انتظار کرتی رہی،
اس باپ کے لیے جس کی دعا ادھوری رہ گئی،ان بچوں کے لیے جنہوں نے عبادت گاہ میں خوف کو داخل ہوتے دیکھا۔
یہ آنسو کمزوری نہیں
یہ زندہ ہونے کی آخری نشانی ہیں۔

نفسیات کے مطابق جب تشدد مقدس جگہوں میں داخل ہو جائے،تو خوف فرد تک محدود نہیں رہتاوہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔
پھر ہر اگلی اذان، ہر مجمع، ہر دعا ایک لاشعوری بے چینی کے ساتھ آتی ہے۔
یہ وہ زخم ہیں جو نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔

اسی دوران، ملک کے ایک اور حصے میں بسنت منائی جا رہی ہے۔
یہ بات بسنت کے خلاف نہیں۔
ثقافت زندہ معاشروں کی علامت ہوتی ہے۔بات وقت، اور احساس کی ہے۔لیکن وقت اور حساسیت سے خالی خوشی
تماشا بن جاتی ہے۔
یہ تضاد اتفاق نہیں۔
یہ ہماری اخلاقی شکست ہے۔

اسے emotional numbing کہتے ہیں۔ درد سے بچنے کے لیے احساس کرناہی بند کر دینا۔
یہ کیفیت وقتی سکون دیتی ہے، مگر طویل مدت میں
ہمدردی، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کو کھا جاتی ہے۔

ریاست کا کردار ایسے لمحات میں صرف انتظامی نہیں ہوتا
خاموشی، تاخیر سے ردِعمل، یا معمول کا تسلسل یہ سب پیغام دیتے ہیں کہ المیہ قابلِ ہضم ہے،کہ غم کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے،کہ زندگی چند گھنٹوں کے جشن سے کم اہم ہے۔

یہی رویہ دہشت گردی کا اصل اتحادی بنتا ہے۔
کیونکہ تشدد کا مقصد صرف قتل نہیں ہوتا
وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ معاشرہ کب تھک کر ردِعمل دینا چھوڑ دے گا۔

انسانیت کا امتحان یہ نہیں کہ ہم کب جشن مناتے ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ ہم غم کے وقت کس حد تک رک سکتے ہیں۔
اگر ہم یہ صلاحیت کھو بیٹھیں،تو مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں رہتامسئلہ ہم خود بن جاتے ہیں۔

آج کچھ لوگ اپنے پیاروں کو دفنا رہے ہیں۔
کل یہی صدمہ کسی اور دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔
دہشت گردی کسی شناخت کو نہیں دیکھتی؛وہ وہاں بڑھتی ہےجہاں بے حسی اسے جگہ دیتی ہے

انسان ہی انسان ہیں
انسانیت نہیں ہے ۔

عائشہ گیلانی

Address

Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aysha Gellani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Aysha Gellani:

Featured

Share