Ajro Sawab Foundation

Ajro Sawab Foundation A.S.F GROUP HEALTH CARE, ALIGARH

ककराला में नौजवानों के लिए मिसाल बने कुर्तुल हक साहब।ककराला के कुर्तुल हक साहब आज के दौर में एक उभरता हुआ सितारा बनकर सा...
29/04/2026

ककराला में नौजवानों के लिए मिसाल बने कुर्तुल हक साहब।
ककराला के कुर्तुल हक साहब आज के दौर में एक उभरता हुआ सितारा बनकर सामने आ रहे हैं। अपनी मेहनत और लगन के दम पर उन्होंने सहाफत (पत्रकारिता) के क्षेत्र में एक ऊँचा मुकाम हासिल किया है, जो क्षेत्र के नौजवानों के लिए प्रेरणा का स्रोत है।
आज ककराला में हकीम मौलाना अफरोज़ खान (समाजसेवी एवं अध्यक्ष, ASF ग्रुप हेल्थ केयर) के आवास पर उनकी माता के इंतकाल की खबर मिलने पर कुर्तुल हक साहब पहुँचे। इस दौरान उन्होंने ग़मगीन परिवार से मुलाकात कर ताज़ियत पेश की और मरहूमा के लिए दुआ-ए-मग़फिरत की।
आज के भागदौड़ भरे और स्वार्थी दौर में किसी के दुख-दर्द में शरीक होना, उनके लिए वक्त निकालना और दिल से दुआ करना—यह इंसानियत की पहचान और अल्लाह की खास रहमत की निशानी है। कुर्तुल हक साहब का यह अमल नौजवानों के लिए एक मिसाल और सीख के तौर पर देखा जा रहा है।
ASF ग्रुप हेल्थ केयर परिवार उनके इस नेक जज़्बे की सराहना करता है और उनके लिए लंबी उम्र व कामयाबी की दुआ करता है।

25/04/2026
23/04/2026

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں
گاؤں کے لوگ ہیں نقصان کہاں دیکھتے ہیں
قیمتی شے تھی تیرا ہجر اٹھائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں

19/04/2026

नबी की सुन्नतों पर गर तुम्हें चलने की ख्वाहिश हो
तो टूटे बिखरे रिश्तो को तुम आपस में मिला देना
सुकू की नींद चाहो तो दवा हरगिज़ ना लेना
पड़ोसी हो अगर भूखा उसे खाना खिला देना

27/03/2026

हदीस – माँ बाप को गाली देने वाली
यह हदीस सहीह बुखारी और सहीह मुस्लिम में आती है।
हदीस का मतलब
नबी ﷺ ने फरमाया:
सबसे बड़े गुनाहों में से एक यह है कि आदमी अपने माँ-बाप को गाली दे।
सहाबा ने पूछा:
या रसूलल्लाह! कोई आदमी अपने ही माँ-बाप को कैसे गाली दे सकता है?
नबी ﷺ ने फरमाया:
वह किसी दूसरे के बाप को गाली देता है, तो वह उसके बाप को गाली देता है, फिर वह उसके माँ को गाली देता है, इस तरह वह अपने माँ-बाप को गाली दिलवाता है।
आसान भाषा में समझिए
मतलब:
आप किसी को गाली देंगे
वह जवाब में आपके माँ-बाप को गाली देगा
तो गाली देने की वजह आप बने
इसलिए यह ऐसे है जैसे आपने खुद अपने माँ-बाप को गाली दिलवाई

16/03/2026

قرآن کریم کی کون سی سورہ مبارکہ جو 78 آیات پر مشتمل ہے ۔ پوری سورت میں ایک دفعہ بھی لفظ اللہ نہیں آیا ۔

👉 سورۂ الرحمن (سورة الرحمن)

وضاحت:

سورۂ الرحمن قرآنِ پاک کی 55ویں سورت ہے

اس میں کل 78 آیات ہیں

اور پوری سورت میں لفظ "اللہ" ایک بار بھی نہیں آیا

سورت کا آغاز "الرَّحْمٰنُ" (بہت مہربان) سے ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، نام نہیں

یہ ایک خوبصورت اور مشہور سورت ہے جس میں بار بار یہ آیت آتی ہے:
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"

मदरसों को राज्य विश्वविद्यालयों से संबद्ध करने के फैसले का स्वागतउत्तर प्रदेश सरकार द्वारा मदरसों को राज्य विश्वविद्यालय...
11/03/2026

मदरसों को राज्य विश्वविद्यालयों से संबद्ध करने के फैसले का स्वागत

उत्तर प्रदेश सरकार द्वारा मदरसों को राज्य विश्वविद्यालयों से संबद्ध करने की योजना एक सराहनीय और दूरदर्शी पहल है। सरकार द्वारा ‘उत्तर प्रदेश राज्य विश्वविद्यालय अधिनियम 1973’ में संशोधन कर कामिल और फाजिल कक्षाओं की परीक्षाएं राज्य विश्वविद्यालयों के माध्यम से कराने का प्रस्ताव शिक्षा के क्षेत्र में एक महत्वपूर्ण कदम माना जा रहा है।

इस फैसले से मदरसों में अध्ययन करने वाले छात्र-छात्राओं को उच्च शिक्षा और रोजगार के बेहतर अवसर प्राप्त होंगे तथा उनकी डिग्रियों को व्यापक मान्यता मिलेगी। इससे मुख्यधारा की शिक्षा से जुड़ने का मार्ग और अधिक सुदृढ़ होगा।

ASF Group Health Care Aligarh तथा Ajro Sawab Foundation Group Aligarh/Budaun उत्तर प्रदेश सरकार के इस निर्णय का स्वागत करते हैं और आशा व्यक्त करते हैं कि इससे शिक्षा के क्षेत्र में समान अवसर बढ़ेंगे तथा समाज के सभी वर्गों को आगे बढ़ने का बेहतर अवसर मिलेगा।

दोनों संस्थाओं का मानना है कि शिक्षा के क्षेत्र में ऐसे सकारात्मक कदम समाज में तरक्की, जागरूकता और बेहतर भविष्य की दिशा में महत्वपूर्ण भूमिका निभाएंगे।
097197 36445

09/03/2026

زکوٰۃ کے بنیادی اور اہم مسائل

مسئلہ ۔ زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے، اور ہر عاقل، بالغ مسلمان پر جو صاحبِ نصاب ہو، زکوٰۃ فرضِ عین ہے۔

مسئلہ ۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے مال کو آگ میں تپایاجائےگا، پھر اس کی پیشانی، پہلو اور پیٹھ کو اس سے داغا جائے گا۔

مسئلہ ۔ نصابِ زکوٰۃ یہ ہے:612 گرام چاندی، یا87 گرام سونا، یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر رقم یا تجارتی مال ہو۔

مسئلہ ۔ زکوٰۃ کے نصاب پر قمری (چاند) حساب سے ایک سال مکمل ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

مسئلہ ۔ سونا اور چاندی کے زیور کی زکوٰۃ میں مارکیٹ ریٹ کا اعتبار ہوگا، نہ کہ خریدنے کے وقت کی قیمت کا۔

مسئلہ ۔ اگر زکوٰۃ دینے والے پر لوگوں کا قرض ہو تو قرض کی رقم منہا (کم) کر کے باقی مال پر زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے گا۔

مسئلہ جو زمین بیچنے کی نیت سے خریدی گئی ہو وہ تجارتی زمین ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہے۔
مسئلہ ۔ اگر کوئی شخص کمیٹی یا کسی اور ذریعے سے رقم جمع کر رہا ہے اور رقم اس کی ملکیت میں آ چکی ہے تو اس کا حساب زکوٰۃ میں کیا جائے گا۔

مسئلہ ۔ پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) سے قرض کے طور پر لی گئی رقم میں زکوة نہیں کیوں کہ یہ قرض ہے، اس کی کٹوٹی بھی جبرًا ہوتی ہے ۔

مسئلہ ۔ نابالغ بچے کے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں، چاہے وہ صاحبِ نصاب ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے پاس کچھ سونا، کچھ چاندی اور کچھ رقم ہو، اور ان سب کی مجموعی قیمت 612 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو وہ صاحبِ نصاب ہے۔

مسئلہ۔ سونا اور چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیور پر زکوٰۃ واجب نہیں، جب تک وہ تجارت کی نیت سے نہ ہوں۔

مسئلہ۔ حج، عمرہ، مکان بنانے، زمین خریدنے، شادی یا کسی اہم ضرورت کے لیے جمع کی گئی رقم پر اگر زکوٰۃ کا سال پورا ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔

مسئلہ ۔ سامانِ تجارت میں زکوٰۃ کے وقت مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا، یعنی جس دن زکوٰۃ واجب ہو، اسی دن کی قیمت دیکھی جائے گی۔

مسئلہ ۔۔ بینک میں فکسڈ ڈیپازٹ (Fixed Deposit) کی اصل رقم پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہے، جبکہ سود حرام ہے اور اس پر زکوٰۃ نہیں۔

مسئلہ ۔ کسی کمپنی کے شیئرز اگر تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہوں تو ان کی موجودہ قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ ۔ لائف انشورنس میں جمع شدہ رقم کی واپسی یقینی ہے ،رقم ملنے کے بعد گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ سودی رقم حرام ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔

مسئلہ ۔ ٹینٹ ہاؤس کے سامان ، فیکٹریوں کی مشینیں، اینٹ بھٹے کے آلات، پریس کی مشینیں اور کرایہ پر دی گئی دکان پر زکوٰۃ نہیں، البتہ ان کی آمدنی اگر نصاب کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔

مسئلہ ۔ کرایہ کی دکان میں جو ڈپازٹ مالک دکان کے پاس جمع ہوتی ہے اور دکان خالی کرنے کا ایک وقت مقرر ہے تو کرایہ دار جب بھی رقم وصول کرے گا گذشتہ سالوں کی زکوة واجب ہوگی، اگر دکان خالی کرنے کاکوئی وقت مقرر نہیں تو جس وقت ڈپازٹ کی رقم کرایہ دار کی ہاتھ آئے گی اسی وقت سے وہ زکوة کی ادائیگی پر مامور ہوگا۔

مسئلہ ۔ اگر کمپنی ملازم کی طرف سے کسی پالیسی میں رقم جمع کرائے، تو رقم وصول ہونے کے بعد اسی سال سے زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اضافی سودی رقم حرام ہے۔

مسئلہ ۔ زکوٰۃ کی رقم کسی ٹرسٹ یا ادارے میں جمع کی جا سکتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ مستحق کو مالک بنائیں، کیونکہ تملیک کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، یہ رقم کاروبار میں لگانا ممنوع ہے۔

مسئلہ ۔ مدارسِ اسلامیہ کو زکوٰۃ دینا بہتر ہے، بشرطیکہ وہ طلبہ کو مالک بنائیں۔ مدارس کی مدد میں بڑا اجر ہے کیونکہ یہ دین کی خدمت ہے۔ تعاون کے وقت زکوة کی وضاحت ضروری ہے ۔

مسئلہ ۔ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والے وکیل سے رقم چوری ہو جائے:اگر کوتاہی کی ہو تو وہ ضامن ہے۔ اگر بغیر کوتاہی کے ضائع ہو تو ضامن نہیں۔دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا نہیں سمجھی جائے گی، اصل مالک کو دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔

مسئلہ اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب ہو لیکن قرض کی وجہ سے قرض منہا کرنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے، تو وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے اور اس رقم سے اپنا قرض بھی ادا کر سکتا ہے۔

مسئلہ ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت نیت ضروری ہے۔ جب تک رقم فقیر کے قبضے میں ہے تب تک نیت کی جا سکتی ہے۔ فقیر کے خرچ کرنے کے بعد نیت کا اعتبار نہیں۔

مسئلہ ۔ وہ شخص جس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہ ہو، یا بالکل رقم نہ ہو،یا ایسا مقروض مالدار کہ قرض کی ادائیگی کے بعد بقدر نصاب مال نہ بچے، یا وہ مالدار مسافر جو سفر کے دوران مال کا محتاج ہو—یہ سب زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔

مسئلہ ۔ ایک فقیر کو زکوٰۃ میں اتنا مال دینا کہ وہ صاحبِ نصاب ہو جائے مکروہ ہے۔ البتہ قرض کی ادائیگی کے لیے ایک بڑی رقم دی جا سکتی ہے۔

مسئلہ ۔ بھائی، بہن،پھوپھی، چچا، ماموں، خالہ، داماد، بھتیجا، بھانجا وغیرہ کو اگر وہ مستحق ہوں تو زکوٰۃ دینا زیادہ بہتر ہے۔ اس صورت میں زکوٰۃ کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ملے گا۔ ان کو عیدی یا تحفہ کے نام سے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

مسئلہ ۔ والدین، دادا، دادی، نانا، نانی، اسی طرح اولاد، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی کو، نیز بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔اسی فہرست میں کافر، صاحبِ نصاب شخص، اس کی نابالغ اولاد اور سادات بھی شامل ہیں۔پاگل یا ناسمجھ بچے کے ہاتھ میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی نہیں ہوگی، اگرچہ وہ مستحق ہوں۔ ان کی زکوٰۃ ان کے ولی کے ہاتھ میں دی جائے۔

مسئلہ ۔ مدرسہ اور مسجد کی عمارت، رفاہی ہسپتال، میت کی تجہیز و تکفین، راستے، مسافر خانے وغیرہ میں زکوٰۃ کی رقم براہِ راست خرچ کرنا جائز نہیں، کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے۔اور وہ پائی نہیں گئی۔

مسئلہ ۔ شفا خانہ کی دواؤں اور فساد زدگان کی ریلیف میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، مگر مستحق ہونا شرط ہے۔
مسئلہ کسی غریب بچی کو اس کی شادی میں زکوٰۃ دینا جائز ہے، لیکن اگر ایک یا دو لوگوں کے تعاون سے وہ صاحبِ نصاب ہو جائے تو پھر زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہوگا اور زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

مسئلہ ۔ اگر کسی کو غریب سمجھ کر زکوٰۃ دی، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مالدار تھا، تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ ۔ غریب شخص زکوٰۃ کی رقم پر قبضہ کرنے کے بعد اسے مسجد میں دے سکتا ہے، اس رقم سے کسی مالدار کی دعوت کر سکتا ہے، اور کسی بھی غیر مستحق کو دے سکتا ہے—اس میں کوئی حرج نہیں۔

اجرو ثواب فاؤنڈیشن گروپ علیگڑھ 097197 36445

09/03/2026

جب مال Nisab تک پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو Zakat واجب ہو جاتی ہے۔
زکوٰۃ کی مقدار عام طور پر 2.5٪ (چالیسواں حصہ) ہوتی ہے۔
مالِ تجارت
جو چیز بیچنے کے لیے رکھی ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی۔
سال کے آخر میں جو سامان موجود ہو اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت لگائیں۔
کل مال کا 2.5٪ زکوٰۃ دیں۔
گودام یا دکان کا سامان
سال بھر کمی بیشی کا حساب نہیں کیا جاتا۔
صرف زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ پر موجود سامان کی قیمت لگائی جاتی ہے۔
کرائے کا مکان یا دکان
مکان یا دکان کی اصل قیمت پر زکوٰۃ نہیں۔
لیکن جمع شدہ کرایہ اگر نصاب تک پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ ہوگی۔
پلاٹ یا فلیٹ
رہائش کے لیے ہو → زکوٰۃ نہیں۔
کرائے کے لیے ہو → صرف کرایہ پر زکوٰۃ۔
بیچنے کی نیت سے ہو → اس کی قیمت پر ہر سال زکوٰۃ۔
نصاب
نصاب تقریباً 612 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوتا ہے۔
اگر کل مال اس سے زیادہ ہو تو زکوٰۃ واجب ہو سکتی ہے۔
✅ آسان اصول:
جو چیز تجارت یا پیسے کی شکل میں ہو اس پر زکوٰۃ ہو سکتی ہے،
اور جو چیز ذاتی استعمال کی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوتی
اجرو ثواب فاؤنڈیشن گروپ علیگڑھ

بہلول دانا اور “میرے غلام کو حکم نہ دو” کا قصہایک دن ہارون الرشید نے بہلول دانا سے کہا:“بہلول! تم ہمیشہ سادہ زندگی گزارت...
08/03/2026

بہلول دانا اور “میرے غلام کو حکم نہ دو” کا قصہ
ایک دن ہارون الرشید نے بہلول دانا سے کہا:
“بہلول! تم ہمیشہ سادہ زندگی گزارتے ہو۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بہت دولت اور انعام دے سکتا ہوں۔ بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟”
بہلول نے کہا:
“مجھے آپ سے صرف ایک چیز چاہیے۔”
خلیفہ نے کہا:
“مانگ لو، جو چاہو دے دوں گا۔”
بہلول نے کہا:
“بس یہ وعدہ کر دو کہ تم میرے غلام کو کوئی حکم نہیں دو گے۔”
خلیفہ حیران ہو گیا اور پوچھا:
“تمہارا غلام کون ہے؟”
بہلول نے مسکرا کر جواب دیا:
“میرا غلام میری خواہشات (نفس) ہیں۔
میں نے انہیں قابو میں رکھا ہوا ہے، لیکن اکثر لوگ اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں۔”
پھر بہلول نے کہا:
“جو شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، وہ دنیا میں بھی پریشان رہتا ہے اور آخرت میں بھی۔”
یہ سن کر ہارون الرشید بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے:
“واقعی تم دانا ہو، لوگ تمہیں بے وجہ پاگل کہتے ہیں۔”
اس قصے کا سبق
سب سے بڑی کامیابی اپنے نفس اور خواہشات پر قابو پانا ہے۔
اصل آزادی وہ ہے جب انسان خواہشات کا غلام نہ بنے۔
دانائی کبھی کبھی سادہ الفاظ میں چھپی ہوتی ہے۔
اجرو ثواب فاؤنڈیشن گروپ علیگڑھ

Address

Dhorra
Aligarh
202002

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ajro Sawab Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ajro Sawab Foundation:

Share