27/01/2026
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا عمران خان کی غیر قانونی حراست، قیدِ تنہائی اور صحت سے متعلق سنگین خدشات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ عمران خان گزشتہ 90 دنوں سے زائد غیر قانونی قیدِ تنہائی میں رکھے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر وہ 900 دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی حراست کا سامنا کر چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانے حراست (UN Working Group on Arbitrary Detention) اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان محض ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم، عظیم لیجنڈ کرکٹر، معروف فلاحی شخصیت اور موجودہ دور کے سب سے مقبول عوامی رہنما ہیں، جنہیں عوام نے 8 فروری کے انتخابات میں واضح مینڈیٹ دیا۔ اس مینڈیٹ کو فارم 47 کے ذریعے چوری کرلیا گیا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو کہ قانون، بنیادی انسانی حقوق اور میڈیکل ایتھکس کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں، گزشتہ 90 دنوں سے زائد قیدِ تنہائی اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا سنگین ذہنی اذیت (Mental Torture) کے مترادف ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عمران خان کو CRVO (Central Retinal Vein Occlusion) لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا واضح طور پر مطالبہ کرتا ہے کہ عمران خان کی فوری، جامع اور شفاف تشخیص کی جائے اور درست علاج فراہم کیا جائے، جس کے لیے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی مکمل رسائی ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ کسی متبادل انتظام کو انصاف ڈاکٹرز فورم قابلِ قبول نہیں سمجھتا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا عالمی انسانی حقوق کے اداروں، طبی تنظیموں اور متعلقہ فورمز سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کو اگر کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل