Dr Bashir Khan Yousafzai

Dr Bashir Khan Yousafzai Our calling is to sick people healthy, and restore the health rapidly, gently, permanently in shorte
(3)

29/02/2024

‏پیچھے مڑ کر مت دیکھو۔ کوئی
نہیں جانتا کہ دنیا کیسے شروع ہوئی
مستقبل سے نہ ڈرو۔ کچھ بھی باقی
رہنے والا نہیں۔

اگر تم ماضی اور مستقبل میں الجھے
رہے تو حال گزر جائے گا۔

28/02/2024

Schizophrenia
شقاق دماغی / انتشار دماغی
شقاق دماغی ایک نفساتی بیماری ہے جس کا نفساتی اور جسمانی افعال پر گہرااثر ہوتا ہے ۔یہ بیماری دماغی افعال میں خلل پیدا کرتی ہے ۔یہ بیماری احساسات ، فہم یاداشت اور سوچ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مریض ہذیان اور وہم میں مبتلا رہتا ہے ۔جس سے روز مرہ کے معمولات پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔اگر اس بیماری کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو اس بیماری سے مریض کے معاشرتی ، معاشی ، شخصی زندگی بہت ذیادہ خراب ہونے لگتی ہے ۔
👈علامات
مریض کی سوچ شعور جزبات اور کردار میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں
مریض فریب سوچ اور ہذیان کا شکار ہو جاتا ہے جیسے غیب سےکوئی پکار رہا ہو۔
بے ڈھنگ بولنے لگتا ہے ۔ کاموں میں سستی اور حرکت میں آہستگی آنے لگتی ہے۔
غلط اور فریبی سوچ کا شکار ہو جانا جیسے وہ بہت عظیم سپہ سالار ہے لوگ اس کے ماتحت ہیں ۔سب لوگ اس سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔یا یہ سوچ جیسے آپ کسی کے ذہن پر کسی کا کنٹرول ہے اور آپ غلام ہیں ۔ یا آپ کے ساتھ سارے ظلم کر رہے ہیں ۔آپ بے آسرا ہیں ۔
تنہائی پسندی اور جزبات احساسات کا ختم ہو جانا
ہذیان ، ان چیزوں کا دیکھنا جو موجود نہ ہو ، ان چیزوں کا چھونا ، محسوس کرنا ، سونگھنا ،سننا اور چکھنا جن چیزوں کا وہاں وجود نہ ہو
بے تکی اور فضول باتیں کرنا جن کا حققیت سے تعلق نہیں ہوتا اور سننے والا سمجھ نہیں سکتا کہ کہنے والا کیا کہنا چاہتا ہے ۔
موقع محل کے منافی حرکات اور فضول چکر کاٹتے رہنا اس کا کوئی فائدہ اور حقیقت سے تعلق نہ ہو
منفی علامات ، جزبات اور احساسات کا رد عمل نہ ہونا کسی چیز میں دلچسپی نہ لینا ، تحریک زندگی اور مقصد کا نہ ہونا
شکی مزاج ہو جانا، کسی پر اعتماد نہ رہنا ۔ہر وقت خوف میں رہنا
صحت و صفائی کا خیال نہ رکھنا
لوگوں سے میل جول ختم ہوجاتا ہے ، قوت فیصلہ ختم ہو جاتی ہے ۔
منشیات اور نیند آور ادویات کی طرف راغب ہو جانا
اور آخر میں زندگی سے تنگ آکر اور نا امید ہو کر خود کشی کو شش اور خود کشی کے خیالات
👈بلوغت سے پہلے کے مریض
دوستوں اور رشتہ داروں سے بے رغبتی
پڑھنے لکھنے میں عدم دلچسپی
نیند کا نہ آنا
چڑ چڑاپن اور غمگین رہنا
چہرہ ہشاشیت اور ذہانت سے خالی
کسی چیز کا شوق اور زندگی کی تحریک نہیں ہوتی
👈وجوہات
شقاق دماغی کی وجوہات مکمل طور پر واضع نہیں ۔کچھ تحقیق دانوں کا خیال ہے کہ انتشار دماغی موروثی اور جنیاتی بیماری ہو سکتی ہے ۔دماغی کیمیائی افعال میں خلل اس پر اثر انداز ہوتا ہے ۔دماغی کیمیکل ، نیوروٹرانسمیٹر ڈوپامین گلوٹیمیٹ اپنا اثر رکھتے ہیں ۔ اور کچھ ماحول اس پر اثر انداز ہوتا ہے ۔غیر ضروری اور نشہ آور ادیات کا کثرت سے استعمال
👈پیچیدگیاں
افسردگی
مستقل بے چینی
ذہنی تناو کا شکار رہنا
نشہ آور چیزوں کی طرف راغب ہو جانا
کسی کام کے قابل نہ رہنا
سماجی زندگی کا ختم کا ہوجانا
معاشی زندگی کا بری طرح متاثر ہو جانا
زندگی میں امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی جس سے مریض خود کشی کی طرف راغب ہو جاتا ہے ۔
👈علاج / دیکھ بال
ماہر نفسیات سے اپنا مکمل اور توجہ سے علاج کروانا چاہیے۔
تعلیم اور شعور سے آپ کسی بھی شقاق دماغی مریض کو سہارا دے سکتے ہیں اس کو علاج کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں اس کا خیال اور سہارا بن سکتے ہیں۔
ماہر نفسیات اور مریض کے خاندان والے مل کر مریض کے علاج اور معاشی سہارے کا سبب بن کر کسی کی زندگی کو بچا سکتے ہیں۔
کچھ افراد مل کر فلاحی تنظیم کی صورت میں ایسے مریض جو بے گھر اور بے مقصد زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں ان کا سہارا بن کر معاشرے میں مقام پیدا کر سکتے ہیں
نشہ کرنے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ مل کر ایسے مریضوں کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے ۔
ایسے نا امید لوگوں کو معالج کے پاس لے جایا جائے اور ان کی کونسلنگ سیشن کروائے جائیں
👈ہومیوپیتھک ادویات
نوٹ ۔ کسی بھی ہومیوپیتھی دوا کے استعمال سے پہلے اپنے ہومیوپیتھک معالج سے رابطہ ضرور کریں
🔸آرم میٹ۔ ذہنی دباؤ اور افسردگی کی بڑی دوا ہے ۔مریض اداس اور نا امید رہتا ہے جس کی وجہ سے مریض خود کشی کے مواقع تلاش کرتا رہتا ہے ۔اس کو مستقبل میں کوئی امیدکی کرن نظر نہیں آتی وہ یہ سوچتا ہے کہ مستقبل مکمل اندھیرا ہے اور زندگی اب بس اک بوجھ کے سوا کچھ نہیں ۔پھر ایسے نا امید لوگ زندگی سے چٹھکارا حاصل کرنے کے لیے زندگی کے چراغ کو گل کرنا چاہتے ہیں ۔
🔸اناکارڈیم اورینٹ۔ مریض غیب سے مردوں کی آوازیں سنتا ہے ، ایسی آوازیں کہ جیسے وہ جلد ہی مرنے والا ہے۔غیب سے آوازیں آنا کہ مریض کو کہا جا رہا ہو کہ ہمارے پیچھے چلو،مریض یہ سمجھتا ہے کہ جیسے اس کا جسم اور روح الگ الگ ہو رہے ہیں یا کوئی غیبی قوتیں موجود ہیں جو اس کو اپنی پنی مرضی پر چالاناچاہتی ہیں ۔ایک کندھے پر شیطان بیٹھا ہے جو اس کو نیکی کا بول رہا ہے جبکہ دوسرے کندھے پر شیطان بیٹھا ہے جو اس کو گناہ کی ترغیب دے رہا ہے۔یاداشت انہتائی کمزور ، شکی ، اداسی ، کسی کام میں دلچسپی کا نہ ہونا، قسمیں کھانا، مریض کو ایسے لگے جیسے یہ دنیا ایک خواب ہے کچھ بھی حقیقت نہیں
🔸برائٹاکارب۔ مریض اس شک میں مبتلا رہتا ہےکہ لوگ اس کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں ۔اور مریض یہ سوچتا ہے کہ لوگ اس کا مزاق اڑا رہے ہیں ۔ توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے ،مریض تزبزب کا شکار رہتا ہے۔ بڑوں میں بچوں جیسا رویہ۔
🔸پلاٹینا۔ مغرور،مریض شوکت الفاظی ،مریض خود کو دوسروں سے بہتر اور عظیم سمجھتا ہے ، وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب سے بالا ہے ۔کسی کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
پلمبم میٹ ۔ مریض کو یہ وہم رہتا ہے کہ لوگ اس کو قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔اور میری زندگی خطرے میں ہے، مالیخولیا ، اداسی ،بے چینی، کسی سے بات کرنے کا دل نہ کرے ،غیر حاضر دماغ
🔸تھوجا۔ مریض محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ کسی غیبی طاقت کے زیر اثر ہے۔حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔چڑچڑاپن نیند کا نہ آنا، روز مرہ کے کام کاج کے قابل نہیں رہتا۔
🔸سٹرامونیم۔ مریض روحانی مخلوق اور روحوں سے باتیں کرتا ہے ۔مریض یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے خدا سے باتیں کرتا ہے ۔بے چینی جس کے ساتھ وہ تصوراتی انسانوں یا مخلوقات سے باتیں کرتا ہے ۔مریض یہ کہتا ہے کی مختلف لوگ اس کی طرف آ رہے ہیں جن سے وہ باتیں کرے گا۔مریض غیبی آوازیں سنتا رہے۔مریض یہ سوچتا ہے کہ وہ جلد ہی مر جائے گا۔جس کی وجہ سے وہ اپنی تدفین کا بندوبست کرنے لگتا ہے اور مریض موت کی تیاری کے لیے تلات اور وضائف پر زور دینے لگ جاتا ہے ۔
🔸کلکیریا کارب ۔ مریض کو یہ ڈر رہتا ہے کہ جیسے اس کا کوئی پیچھا کر رہا ہے ،یہ خوف رہتا ہے کہ جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔خود کو بد قسمت سمجھتا ہے۔اپنے قریبوں رشتوں کو کھو جانے کا ڈر رہتا ہے ۔موت کا خوف بے وجہ پریشانی
🔸کالی برومیٹم ۔ وہم کے ساتھ مستقل نیند کا نہ آنا، کوئی پیچھا کر رہا ہو اورمارنے کی سازش کر رہا ہو،زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی،بے وجہ رونے کی خواہش،اور مریض سوچتا ہے کہ مجھ پر خدا کی طرف سے غضب ہے ۔
🔸کینابس انڈیکا۔مریض بے ربط بے ترتیب باتیں کرتا ہے۔زبان میں لکنت، بولتے وقت جملہ مکمل نہیں کر سکتا،دماغ میں تصورات کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔بات کرتے کرتے اگلالفظ بھول جاتے ہیں ۔کسی ایک بات پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا،کسی سنجیدہ موضوع پر بھی مریض ہنستا رہتا ہے ۔ پاگل ہونے کا خوف
🔸لیکسس۔ مریض شکی مزاج ہوتا ہے ۔مریض کو یہ وہم ہوتا ہے کہ اس کو زہر دیا جارہا ہے ،یا کوئی دوشمن اس کا پیچھا کر رہا ہے ، یا ہر شخص اس کو نقصان دینا چاہتا ہے ۔گھر کے اندر چور گھسنے کا شک ، مریض سمھجتا ہے کہ وہ مر رہا ہے لوگ اس کے لیے کفن دفن کا انتظام کر رہے ہیں ۔مریض انتہائی باتونی ہو جاتا ہے فضول اور بے مقصد گفتگو کرتا رہا ہے ،ایک ہی لفظ بار بار دہراتا ہے ۔
🔸میڈورینیم۔ جب کوئی بھی چیز حقیقت نظر نہ آئے ہر چیز خواب دکھائی دے ۔ہر کام میں جلد بازی ہو۔ مریض مشتعل ہو جائے اور گالم گلوچ کرے۔جیسےکوئی پیچھا کر رہا ہو۔یہ سوچتا رہے کہ لوگ اس کو کرسی میز کے پیچھے سے دیکھ رہے ہیں ۔مریض کو ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ اس سے کوئی گناہ نہ سر زد ہو جائے جس سے اس کی معافی نہ ہو اور ا س کی پاداش میں اس کو جہنم میں ڈالا جائے۔
🔸ہائیوسائیمس۔ مریض کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اس کو یہ شک رہتا ہے کہ لوگ اسے زہر دے رہے ہیں ، اس کو شک ہوتا ہے کہ اس کے گھر والے پر وقت اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ، مریض مارنے اور کاٹنے کو دوڑے۔مریض وہ چیزیں دیکھتا ہے جو کہ حقیقت میں موجود نہیں ہوتی۔ مریض اپنے پوشیدہ اعضاء ننگے کر کہ گھومتا ہے ۔ اور گالیاں دیتا ہے ۔
اپنا مکمل علاج کروائیں خود کو اور معالج کو وقت دیجئے علاج سے نا امید مت ہو، ہمت سے کام لیں خود کو سہارا دیجیئے ۔زندگی ایک ہی نادر موقع ہے اس میں ہمت مت ہاریں بلکہ کوشش جاری رکھیں خالق کائنات آپ کو ضرور شفا دے گا۔ ایسے لوگوں کا سہارا بنیں جو اس بیماری میں مبتلا ہو ان کو ہمت حوصلہ اور امید دیں ۔ ان کو خوش رکھنے کی کوشش کریں اور اکیلا مت چھوڑیں کہیں وہ خود کو نقصان نہ دیں۔

طالب دعا۔ ڈاکٹر بشیر خان یوسفزئی

09/02/2024

depression clinical depression major depression what is depression major depressive disorder severe depression signs of depression depression symptoms manic ...

جن ماؤں نے تربیت کی ان کے ہاتھوں میں قرآن مجیدآج کل کی موبائل والی مائیں اپنے بچوں کی کیا تربیت کریں گی اور ان کی اولاد ...
02/02/2024

جن ماؤں نے تربیت کی ان کے ہاتھوں میں قرآن مجید
آج کل کی موبائل والی مائیں اپنے بچوں کی کیا تربیت کریں گی اور ان کی اولاد کیسے ہوگی. ان کو قرآن مجید کا علم تک نہیں
#قران #اسلام

01/02/2024

Depression
🔺 ذہنی دباؤ
ذہنی دباؤ یا ڈپریشن ایک ذہنی کیفیت ہوتی ہے جو آپ کے احساس سوچ اور آپ کے رد عمل پر منفی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈپریشن کی وجہ سے اداسی افسردگی اور آپ کے پسندیدہ کاموں میں عدم دلچسپی ہونے لگتی ہے جس کام میں پہلے کبھی آپ خوشی و مسرت محسوس کیا کرتے تھے۔اور آپ کی روز مرہ کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔
🔸. علامات
اداسی
افسردگی
اشکبار ہونا
نا امیدی
اچانک جذباتی ہوجانا طیش میں آنا
پسندیدہ کاموں اور مشغلوں میں عدم دلچسپی
معمولی بات پر چڑچڑاپن
نیند کی کمی یا نیند کا ذیادہ آنا
جسمانی تھکن معمولی کام سے تھکن
بھوک کی کمی جس سے کمزوری ہو جائے یا بھوک کی ذیادتی جس سے وزن بڑ ھ جائے
ذہنی بے سکونی
سوچنے سمجھنے کے صلاحیت کی کمی
خود کو کسی کام کے قابل نہ سمجھنا
خود کو ماضی کے ناکامیوں پرقصوروار ٹہرانا اور خود کو کوسنا
غصہ کرنے کے بعد پچھتاوا
توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کی کمی
قوت فیصلہ کی کمی
خود کشی کی سوچ اور خود کشی کرنے کی خواہش
تھکن کمر درد سر درد
بلا وجہ دکھی اور اداس رہنا
اپنی تکالیف بیان نہ کر سکے
بڑوں میں شخصیت کے اندر تبدیلیاں رونما ہونے لگ جائیں
بھوک نہ لگنا
گھر کے اندر رہنا سماجی زندگی سے دوری
🔸 وجوہات
دماغی کیمائی افعال میں خلل جس کی وجہ سے سوچ ، نیند ، بھوک میں خلل آنے لگ جاتی ہے
ہارمونز میں تبدیلیوں کی وجہ سے
موروثی طور پر والدین سے بھی ذہنی دباؤ کی بیماری بچوں میں منتقل ہوتی ہے
کم عمری کے صدمات
لمبی بیماریاں ، کینسر ، پارکنسنز، نیند کا نہ آنا،
الکحل کا لمبے عرصے تک استعمال
کسی کا درد کا لمبے عرصے تک رہنا جس سے احساسات اور جزبات پر اثر ہو
جنس ۔ مردوں کی بنسبت عورتوں میں یہ مسائل ذیادہ ہوتے ہیں
معاشی طور پر کمزور لوگ بھی ذہنی تناؤ اور افسردگی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
وٹامن ڈی کی کمی
🔸 علاج
کسی قریبی دوست کے پاس بیٹھیں اپنی تکالیف بیان کریں اور تسلی حاصل کریں ۔ اگر ایسا کوئی دوست نہیں تو کسی اچھے سائیکالوجسٹ ماہر نفسیات سے کاونسلنگ سیشن لیں ۔اپنی سوچ بدلیں منفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدلنے کی کوشش کریں ۔ خالق کی عطا کردہ نعمتوں کو سوچیں اس پر شکر ادا کریں ان نعمتوں کو سوچیں جو کسی اور کے پاس نہیں ۔ کم پر شکر ادا کریں ۔جو آپ کو عطا نہیں کیا گیا اس میں قدرت کی مصلحت اور آپ کی بہتری پوشیدہ ہے ۔خود سے اوپر والے کو دیکھ کر رشک کرنے سے آپ ذہنی دباؤکا شکار رہنے لگ جائیں گے اپنے سے نیچے دیکھیں گے تو آپ کوشکر ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ (اوپر دیکھ کر چلنے والا پھسل جاتا ہے نیچے دیکھ کر چلنے والا پھسلتا نہیں)
معالج کی مدد سے اپنی منفی سوچ کے اس زاویے کو بدلنے کوشش کریں جس سے اپکے جزبات ، کردار ، رد عمل اور مزاج میں تبدیلی آنے لگتی ہیں ۔ اور اس جگہ اور محفل اور سوچ سے دور ہونے کی کوشش کریں جس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے ۔قانون ہے کہ پاؤں میں کانٹا چھبا ہوا تو جب تک وہ کانٹا نکال نہیں لیا جاتا اس زخم پر مرہم پٹی سے فائدہ نہیں ۔اونچی آواز سے تلاوت قرآن کریم نماز کی پابندی ، طویل سجدے اور اپنے رب سے باتیں کرنا سیکھ لیں ۔ جو حاجت روا بھی ہے ، رازدان بھی ہے اور احسان کو جتلاتا بھی نہیں۔
قرآن کریم کی 3 آیات کا ترجمہ ،انبیاء کرام ، صحابہ کرام ، ازواج مطہرات، اولیاءاللہ کے واقعات پڑھیں ۔تسکین قلب کی دوا ہے ۔
رات کا کھانا کم اور سونے سے 2گھنٹے قبل کھائیں ، سادہ کھانا کھانے کی عادت ڈالیں ، زندگی کو سادہ بنائیں ،کسی کی تیمارداری اور غم خوشی کے موقع پر رواجوں سے چٹھکارا حاصل کریں ، رشتہ داروں دوستوں کے غم ، خوشی میں شریک ہو، اور کوشش کریں کہ بے آسرا ، لاچار، تنگ دست اور مظلوموں کی مدد کریں ۔جس سے آپ کو وہ خوشی ملے گی جو روح تک کو فرحت بخشے گی۔ ۔
جو بات بری لگ جائے کینہ پروری کے بجائے معاف کر دینے کی روش اختیار کریں ۔بدلا لینے کے بجائے بہترین بدلا دینے والے پر اپنا فیصلہ چھوڑ دیں ۔
جو کھو گیا اس پر رونے کے بجائے پالینے کی کوشش کریں ۔ہمت ہار جانے کے بجائے ہمت سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں آپ کی محنت کو آپ کا رب کبھی ضائع ہونے نہیں دے گا ۔آپ کے ساتھ نا انصافی ہو جانے سے آپ کی محنت ضائع نہیں ہوتی بلکہ قدرت کے پاس محفوظ ہو جاتی جس کا وہ بہترین بدلہ دینے والا ہے ۔
روزانہ ورزش کریں
سیر اور تفریح کی عادت بنائیں
نشے سے پرہیز کریں
نیند آور اور عارضی تسکین والی ادویات کی عادت مت ڈالیں
متوازن اور اچھی غذا کا استعمال کریں
دماغ اعصاب کو صحت مند رکھنے والے مغزیات کا استعمال کریں
اچھے دوستوں کی محفلوں میں بیٹھنے کوکشش کریں

🔸 ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں کسی بھی دوا کا انتخاب کسی فرد کے مجموعہ علامات اور اس کے مزاجی دوا پر ہوتا ہے ۔ ہومیوپیتھی میں ذہنی دباؤ کے لیے بہت ساری ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے یہاں چند ادویات کا ذکر ہے ۔
اگنیشیا / نیٹرم میور / آرم میٹ / کالی فاس / نیٹرم سلف / سیپیا / لیکسس / سیمیسی فیوگا / کافیا / آرسینک / جیلسی میم
کلکیریا کارب / کاسٹیکم / پلساٹیلا / لائیکوپوڈیم / ایسڈ فاس / سٹیفی / سلفر
کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں ۔

طالب دعا ڈاکٹر بشیر خان یوسفزئی

31/01/2024
21/11/2023

ہر شعور رکھنے والے کو روز مرہ کی زندگی میں کسی نا کسی رویے اور بات پر افسردگی اور اداسی ہوتی ہے
مگر اپنی ان پریشانیوں کو سوچنے کے لیے وقت مت دیجیے بلکہ اس لمحے اپنی خوشیوں کو وقت دیجیے اور خوش رکھنے والوں کو وقت دیجئے

تنہائی اور نفسیاتخالق نے مختلف مزاج کے لوگ پیدا کیے ہیں🔸کوئی نرم مزاج تو کوئی سخت مزاج🔸کوئی رحم دل تو کوئی سنگ دل🔸کوئی س...
07/11/2023

تنہائی اور نفسیات
خالق نے مختلف مزاج کے لوگ پیدا کیے ہیں
🔸کوئی نرم مزاج تو کوئی سخت مزاج
🔸کوئی رحم دل تو کوئی سنگ دل
🔸کوئی سب کی فکر میں مگن تو کوئی چوپائے کی طرح بس خود میں مگن
🔸کوئی عالمگیر تو کوئی اپنی ذات تک محدود
🔸کوئی بات سے پہلے اشک بہانے والا تو کوئی فولاد کی طرح سخت
🔸کوئی آگ بگولا تو کسی کے لبوں پہ تبسم
🔸کوئی اپنے بدلتے تیور پہ پچھتائے تو کوئی دل و جگر چیر کہ رکھ دے مگر سکون کی نیند سوئے
🔸کوئی دوسرے دیس میں روتے بچے کو دیکھ کر شب بھر سو نہ سکے تو کوئی پڑوس میں لگی آگ کی بھی پرواہ نہ کرے
🔸کوئی سخاوت کے دریا بہا دے تو کوئی کوٹا پیسہ بھی دے نہ پائے
🔸کوئی کینہ پروری کی آگ میں جلتا رہے تو کوئی خون بہ جانے سے پہلے مسکرا کہ معاف کر ڈالے
🔸کوئی برسوں بعد گزرنے والے جھونکے کو شب بھر روئے تو کوئی بس نگاہ اوپر کو اٹھا کہ دے کہ میرا خالق میرا وکیل ہے
🔸کوئی چلتے سائے پہ شک کرے تو کوئی بالغیب پہ بھی یقین رکھے اور سرمایہ حیات لٹا دے
🔸کوئی ہمالیہ سے بلند حوصلے رکھے تو کوئی پتوں کی آہٹ سے بھی گھبرا کہ چھپ جائے
🔸کوئی بہار میں بھی خزاں کو روے تو کوئی خزاں میں بھی امید بھار رکھے
🔸کوئی بستر پہ لیٹے لیٹے زندگی گزار دے اور شکوہ تقدیر سے کرے تو کوئی سترہ حملے کر کے بھی بھلائی کی امید رکھے
🔸کوئی غموں میں ڈوبا مگر محو پر امید رہے تو کوئی خوشی کے خزانوں پہ بیٹھ کر غم کی تلاش میں رہے
🔸کوئی بولے تو الفاظ سے شیطان بھی شرمائے تو کوئی بولے تو جیسے گل کی پنکھڑی سے ٹپکتی شبنم کی بوندیں
🔸کوئی تلاش محفل یاراں رہے تو کوئی تنہائی میں گم ہونا چاہے
الغرض ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان اس وقت تنہائی پسند ہو جاتا ہے جب اس شخص کے نیکی قربانی صلہ رحمی رحم دلی بھلائی کے جزبات کو قدم قدم پہ کچلا جا چکا ہوتا ہے تب وہ شخص جناب اشرف المخلوقات کے مکر و فریب سے تمسخر سے تنگ آ کر تنہائی پسند ہو جاتا ہے وہ چاہتا ہے ایسی جگہ مل جائے جہاں جناب انسان کی آواز کے بجائے بلبل کی چہچہاہٹ ہو باد صبا سے ٹکراتے پتوں کی ساز و آواز سے کانوں کو فرحت ملے جہاں بہتے پانی کے کنارے بیٹھ کر وہ اپنے زخمی جگر کو دھو سکے اور پھر دریدہ زخموں کو رفو کر سکے پھر سے انسانیت کی آواز اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے نہ آئے
اس لیے یہ زخموں سے چور شخص مرہم لگانے تنہائی کا رخ کر لیتا ہے
🔸(نوٹ) ان تمام مزاجوں اور زندگی سے نا امید اور غم کے اندھیروں میں ڈوبے لوگوں کے لیے ہومیوپیتھی طریقہ علاج نوید سحر اور امید کی کرن ہے

طالب دعا ڈاکٹر بشیر محمد خان یوسفزئی

04/11/2023

ڈاکٹر اور باغباں کون؟؟
ایک معالج کی زندگی باغبان اور کسان کی طرح ہوتی ہے. باغباں جب دانہ خاک میں بوتا ہے تو بڑے پیارے بھرے جزبے سے اس مٹی پر ہاتھ پھیر کر نگاہیں فلک کی طرف اٹھا کر التجا کرتا ہے کہ اے خاک سے گل و گزار اور مردہ سے زندگی دینے والے رب میری محنت کا لاج رکھنا. پھر روز و شب لگن و محبت کے پانی سے آبیاری کرتا ہے. اس انتظار سے کہ کبھی تو چمن میں بہار آئی گی. وہ دن آجاتا ہے کہ کونپل پھر پھول اور پنکھڑیوں سے دل فریب مناظر میں پھولوں کی مہک چار سو پھیل جاتی ہے. اس لمحے باغباں کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی. وہ پھول پر قطرہ شبنم کو چھو کر اپنی ساری محنت اور تھکن بھول جاتا ہے. ایسے ہی کسان کی داستان بھی ہے جب وہ لہلہاتے خوشہ فصل پر جب اپنا ہاتھ محبت سے پھیرتا ہے تو جھومتے خوشوں کے ساتھ اس کا دل بھی خوشی سے جھومنے لگتا ہے ہر اٹھنے والی مہک سے اس کے دل و روح کو فرحت ملتی ہے.
بس.....
ایسے ہی داستان ہے ایک معالج کی
جب وہ اپنے شفاخانے پر تشریف لاتا ہے تو یہی ایک امید اور خواہش ہوتی ہے کہ اللہ کرے آج میرے ہاتھ سے کسی درد مند کو سکون ملے کسی غمزہ اشکبار کے لبوں پہ مسکراہٹ آ جائے. کسی پژمردہ چہرے پر فرحت کی لہر کا سبب میں بن جاؤ.
خوب محنت، لگن سے تشخیص کرتا ہے پھر اچھی اخلاص اور امنگوں سے لبریز قلم اٹھا کر شفایابی کے نسخہ تجویز کرتا ہے اس بھی ایک بے بس کسان کی طرح اس کی نگاہ شافی الامراض مردہ کو زندگی دینے والے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہے. کہ اے خالق میری دوا کو شفا کر دے میرے ہاتھ شفا نہیں مگر میری الفت بھری نگاہیں شافی الامراض پر ہیں......
جب مریض بہتری کی خبر لے کر آتا ہے تو ایک باغبان کی طرح طبیب بھی جھوم اٹھتا ہے اور مریض کا لبوں پر مسکراہٹ سے اس کے دل و جاں کی تھکن دور ہو جاتی ہے وہ اپنی شب و روز کی محنت مطالعے کی تھکنوں کو بھول جاتا ہے اور ایک کسان کی طرح اس کا دل بھی جھوم اٹھتا ہے.

دعا گوہ
Muhammad khan Yousafzai
Consultant physicians of acute and chronic diseases

ڈاکٹر اور باغباں کون؟؟ ایک معالج کی زندگی باغبان اور کسان کی طرح ہوتی ہے. باغباں جب دانہ خاک میں بوتا ہے تو بڑے پیارے بھ...
04/11/2023

ڈاکٹر اور باغباں کون؟؟
ایک معالج کی زندگی باغبان اور کسان کی طرح ہوتی ہے. باغباں جب دانہ خاک میں بوتا ہے تو بڑے پیارے بھرے جزبے سے اس مٹی پر ہاتھ پھیر کر نگاہیں فلک کی طرف اٹھا کر التجا کرتا ہے کہ اے خاک سے گل و گزار اور مردہ سے زندگی دینے والے رب میری محنت کا لاج رکھنا. پھر روز و شب لگن و محبت کے پانی سے آبیاری کرتا ہے. اس انتظار سے کہ کبھی تو چمن میں بہار آئی گی. وہ دن آجاتا ہے کہ کونپل پھر پھول اور پنکھڑیوں سے دل فریب مناظر میں پھولوں کی مہک چار سو پھیل جاتی ہے. اس لمحے باغباں کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی. وہ پھول پر قطرہ شبنم کو چھو کر اپنی ساری محنت اور تھکن بھول جاتا ہے. ایسے ہی کسان کی داستان بھی ہے جب وہ لہلہاتے خوشہ فصل پر جب اپنا ہاتھ محبت سے پھیرتا ہے تو جھومتے خوشوں کے ساتھ اس کا دل بھی خوشی سے جھومنے لگتا ہے ہر اٹھنے والی مہک سے اس کے دل و روح کو فرحت ملتی ہے.
بس.....
ایسے ہی داستان ہے ایک معالج کی
جب وہ اپنے شفاخانے پر تشریف لاتا ہے تو یہی ایک امید اور خواہش ہوتی ہے کہ اللہ کرے آج میرے ہاتھ سے کسی درد مند کو سکون ملے کسی غمزہ اشکبار کے لبوں پہ مسکراہٹ آ جائے. کسی پژمردہ چہرے پر فرحت کی لہر کا سبب میں بن جاؤ.
خوب محنت، لگن سے تشخیص کرتا ہے پھر اچھی اخلاص اور امنگوں سے لبریز قلم اٹھا کر شفایابی کے نسخہ تجویز کرتا ہے اس بھی ایک بے بس کسان کی طرح اس کی نگاہ شافی الامراض مردہ کو زندگی دینے والے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہے. کہ اے خالق میری دوا کو شفا کر دے میرے ہاتھ شفا نہیں مگر میری الفت بھری نگاہیں شافی الامراض پر ہیں......
جب مریض بہتری کی خبر لے کر آتا ہے تو ایک باغبان کی طرح طبیب بھی جھوم اٹھتا ہے اور مریض کا لبوں پر مسکراہٹ سے اس کے دل و جاں کی تھکن دور ہو جاتی ہے وہ اپنی شب و روز کی محنت مطالعے کی تھکنوں کو بھول جاتا ہے اور ایک کسان کی طرح اس کا دل بھی جھوم اٹھتا ہے.

دعا گوہ
Muhammad khan Yousafzai
Consultant physicians of acute and chronic diseases

04/11/2023
31/10/2023

Conjunctivitis, Pink eye
آشوب چشم
آشوب چشم کی بیماری میں آنکھ کے پپوٹے یا آنکھ کی جھلیوں میں سوزش ہوجاتی ہے جب آنکھ میں خون کی وریدیں سوزش کی وجہ سے سوجھ جاتی ہیں اور خراش پیدا ہونے لگتی ہے تو آنکھ کے اندر سرخی پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے آنکھ میں سرخی نمایا ہو جاتی ہے آنکھ کی سوزش وائرس یا بیکٹیریا الرجی ری ایکشن کی وجہ سے ہوتاہے۔ اس بیماری میں نظر بھی کمزور ہو جاتی ہے اور یہ وبائی بیماری ہے
• علامات
∙ ایک یا دونوں آنکھوں میں سرخی
∙ ایک یا دونوں میں خارش
∙ آنکھ میں کسی بیرونی چیز کا احساس جیسے ریت وغیرہ
∙ آنکھوں میں گندگی کا بننا
∙ صبح کے وقت آنکھوں کا چپک جانا
∙ آنسو کا بہنا
∙ روشنی سے تکلیف بڑھ جانا
• وجوہات
∙ وائرس
∙ بیکٹیریا
∙ الرجی
∙ کسی بیرونی چیز کا آنکھ میں پڑ جانا
∙ نوزائیدہ بچوں میں آنسو کی نالی کا بند ہو جانا
∙ متاثرہ شخص سے لگنا
∙ الرجن یا پولن سے
• پیچیدگیاں
∙ نظر کا متاثر ہو جانا
∙ آنکھ کا شدید درد
∙ کسی میں ریت کا کسی چیز کا شدت سے احساس
∙ روشنی سے حساسیت
• احتیاطی تدابیر
∙ صفائی کا خاص خیال رکھیں
∙ اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو بار بار مت چھوئیں
∙ صاف تولیے کا استعمال کریں اور ہاتھ صابن سے دھوئیں
∙ اپنا تولیہ کسی کو مت دیں اور نہ کسی کا تولیہ استعمال کریں
∙ اپنے سرہانے ،تکیے کا کوور روز بدلیں
∙ پرانہ سرمہ یا آنکھ میں استعمال ہونے چیزیں ضائع کر دیں
∙ اپنی زیر استعمال چیزیں بیماری کی وبا کے دوران نہ کسی کو دیں اور نہ کسی سے لیں
∙ بیمار شخص کو جنسی تعلق سے پرہیز کرنا چاہیے۔
∙ جب تک اپکے بچے کی آشوب چشم کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اپنے بچے کو سکول مت بھیجیں۔
• علاج
∙ بیلا ڈونا۔۔ آنکھوں کی سرخی سوجھن، خشکی
∙ یوفریشیا۔۔ آشوب چشم کے لیے بہترین دوا ہے خصوصاَ جب آنکھوں کی سوجھن سرخی اور آنکھوں سے خراشدار پانی خارج ہو آنکھوں میں خارش اور روشنی برداشت نہ ہو
∙ اکونائٹ۔۔ آنکھوں سے پتلا پانی خارج ہو۔ساتھ تپش محسوس ہو سوجھن اور آنکھوں میں ریت کا احساس
∙ کلکیریا سلف۔۔ آنکھوں میں جلن اور سرخی اور آنکھوں میں گید ،آنکھوں سے ذرد رنگ کا چپکنے والا مادہ اخراج ہو ۔
∙ پلساٹیلا۔۔ آشوب چشم میں خصوصا جب اخراجات سبزی مائل ہو ، آنکھوں میں جلن خارش نمایا ہو
∙ ایلم سیپا۔۔یہ دوا بھی آشوب چشم کے لیے بہترین ہے خصوصا جب ساتھ زکام ، چھینکیں آنکھوں میں جلن خارش ہو اور ناک سے خراشدار پانی کا اخراج ہو۔
∙ بوریکس۔۔ یہ آشوب چشم کے لیے ایک بہترین دوا ہے ۔ آنکھوں کے پپوٹے صبح اٹھتے وقت چپکے ہوتے ہیں ،
∙ ارجنٹم نائٹریکم۔۔ آنکھیں سرخ سوجھی ہوئی انکھوں کے گید ،آنکھوں کے پپوٹے سوجھے ہوئے اور نیند سے بیدار ہونے کے بعد آنکھوں کا کھولنا مشکل ہو۔
∙ ایپس میلیفیکا۔۔ سرخ اور آنکھوں میں جلن ، آنکھوں میں چھبن دار درد، ٹھندے پانی سکون ملے ۔
∙ سلفر۔۔ آنکھوں میں جلن درد، سرخی ذرد رنگ کا بدبودار مواد خارج ہو، مریض مزاجاَ گرم ہو اور پیاس لگتی ہو۔
∙ مرک سال ۔۔ آشوب چشم آنکھوں سے سبزی مائل اور زردی مائل مواد خارج ہو آنکھوں کے کنارے زخمی ہو جائیں منہ سے بد بو آئے
∙ روٹا ۔۔ بصارت خراب ہو جاتی ہے ، آنکھوں میں کسی بیرونی چیز کا احساس آنکھوں میں خراش اور درد پپوٹے چپک جاتے ہیں ۔

Dr Bashir khan Yousafzai
Consultant physician of acute and chronic diseases

31/10/2023

#پریشانی
جس مسئلے کے بارے میں آپ برسوں پہلے پریشان رہ کر خود کو برے طریقے سے کرب میں مبتلا رکھتے ہیں
تحقیق اور تجربات سے ثابت ہے کہ وقت آنے پر وہ واقعہ اور حادثہ رونما ہوتا ہی نہیں یا 80.. 90 فیصد وہ واقعہ ہوتا ہی نہیں جس کے بارے میں آپ برسوں پریشان رہتے ہیں.
اور اگر پریشان رہنا ہی ہے انسان کو تو پھر ایک بڑا حادثہ
موت ہے پھر تو انسان کے لبوں پہ اک پل کے لیے بھی مسکراہٹ نہ آئے. اس لیے حال کی خوشیوں پر خالق کا شکر ادا کریں اور مستقبل کی پریشانی اس پر چھوڑ دیں جس نے تمھارے حال کو پر مسرت بنیایا
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں ☺️☺️
Dr Bashir khan Yousafzai 🤲🤲🤲

27/10/2023

دوسروں کے عیبوں اور گناہوں کو تلاش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ آپ کتنے عیبوں اور گناہوں سے پاک ہیں
مگر
پھر خالق نے آپ پر پردہ ڈال رکھا ہے
Everyone

27/10/2023

حقیقت اور نظام قدرت کو تسلیم کرنے کی کوشش کریں. لاحاصل کو حاصل کرنے کی جستجو انسان کو پریشان مشکلات میں ڈال دیتی ہے. اپنے پاس موجود قدرت کی عطا کردہ نعمتوں پر ایک نظر ڈالیں اور شاکر بن جائیں

26/10/2023

السلام علیکم
قابل احترام ممبران
انزائٹی، ڈپریشن کا مسئلہ بہت سے لوگوں کو در پیش ہے. یہاں بہت ساری پوسٹ دیکھتا ہو جس کے نیچے عام لوگوں نے میڈیسن لکھ دی ہوتی ہے. محترم دوستوں عام زبان میں سمجھانے کو کوشش کرتا ہوں جیسے ہر انسان کے کپڑوں کا سائز، جوتوں کا سائز الگ الگ ہوتا ہے اور الگ الگ ڈیزائن پسند ہوتے ہیں اور ہر انسان کا الگ الگ مزاج ہوتا ہے کسی کو تنہائی پسند ہوتی ہے کسی کو محفل
کسی کو خاموشی پسند ہوتی ہے تو کسی کو باتیں کرنا
کسی کو ذرا سی بات پہ رونا آتا ہے
تو کوئی بڑی سی بڑی بات پر اشکوں کو سمو لیتا ہے
کوئی رات کو اداس رہتا ہے تو کوئی شام کو کوئی صبح
کوئی مخلص رشتوں میں دھوکہ کے بعد ٹوٹ جاتا ہے
تو کوئی اپنوں کے بچھڑ جانے سے
کوئی معمولی لہجوں سے اداس اور پھر نفرت کی طرف چلے جاتے ہیں تو کوئی سب بھول جاتا ہے
کوئی نفرت کے بعد انتقام کی طرف چل پڑتے ہیں
تو کوئی معافی کا دریا بہا دیتے ہیں
کوئی سنگ دل ہوتے ہیں کوئی کسی کی پرواہ نہیں
تو کوئی دنیا کے کونے میں ہونے والے ظلم پہ روتے ہیں
کوئی شکی مزاج ہوتے ہیں تو کوئی
بار بار ڈسے جانے کے بعد پھر اعتماد کر لیتے ہیں
کسی کو تو بلا وجہ مایوسی ہوتی ہے کہ میں دنیا میں فضول ہو میں کچھ کرنے کے قابل نہیں
تو کسی کو بلا وجہ دل میں خوف رہتا ہے کہ شائد کچھ برا ہونے والا ہے
کوئی زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کا سوچتے ہیں
تو کوئی غموں کے دریا میں بھی کنارے کی امید پر رہتے ہیں
کوئی اس وقت تک سکون سے نہیں رہ پاتے جب تک دل کے زخم کسی کو دکھا نا پائے
تو کوئی کسی ویران گہرے کنوئیں میں اپنے غموں کو دفناتے رہتے ہیں اور لبوں پر جھوٹی مسکراہٹ سجھائے بیٹھے رہتے ہیں
کوئی کسی کے مزاج سے روز تنگ ہو کر چپکے سے روتے رہتے ہیں تو کسی کو پرواہ نہیں ہوتی
ان نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے جسمانی بیماریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں جس سے وہ انسان روز بروز بگڑتی صحت کا شکار ہونے لگتا ہے
تب آپ کو چاہیے کہ اپنی پوری ہسٹری اپنے معالج کو بتائیں تاکہ اس بیماری کی نوعیت کے مطابق اور آپ کی مجموعی صورتحال اور علامات پر آپ کی مزاجی اس دوا کا انتخاب ہو سکے جس سے آپ کے زخموں اور الفاظ اور رویوں کی چوٹوں کا علاج ہو سکے اور پھر آپ بغیر دوا کے اچھی صحت اور مسکراہٹوں سے بھری پر کشش زندگی کی طرف چل پڑے
یاد رکھیں....
نیند آور دوا پر زندگی گزارنے سے آپ کا علاج نہیں ہوگا. اصل بیماری بڑھتی رہے گی اور آپ کو نیند آور گولیوں سے سلائے رکھا جائے گا ( آپ کے گھر کو آگ لگی ہو تو کیا آپ اس آگ کو بجھائیں گے یا نیند کی گولی لے کر سو جائیں گے) اصل مسئلہ کو اپنے معالج کے سامنے کھل کر بیان کریں اور توجہ کے ساتھ اپنی ساری کیفیات اور علامات کو بیان کریں تاکہ آپ کی زندگی پھر سے مسکراہٹوں سے لبریز ہو جائے
طالب دعا
Dr Bashir Khan Yousafzai
Consultant physician of acute and chronic diseases
Clinical Psychologist
DHMS (NCH)
BHMS (AUST)
RHMP (NCH /KPHCC)
FTJ (NCT)
Lecturer Abbott homeopathic medical college Abbottabad

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔...
05/10/2023

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟

کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،

اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔

اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،

اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر
ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟

ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔

اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا؟

04/10/2023

پریشانیروز مرہ کے معملات میں کسی پرییشانی والی بات پر پریشان ہونا انسانی فطرت ہے ۔ مگر معمولی سی بات پرمستقل اور ب...

28/09/2023

#پریشانی
روز مرہ کے معملات میں کسی پرییشانی والی بات پر پریشان ہونا انسانی فطرت ہے ۔ مگر معمولی سی بات پرمستقل اور بار بار پریشان رہنا،خوفزدہ رہنا جس سے روز مرہ زندگی متاثرہو تشویش پریشانی کہلاتا ہے۔
ذہنی پریشانی سے انسان کے جزبات ،رویہ،احساسات اور رد عمل اور مزاج بدل جاتا ہے ۔ روز مرہ کی زندگی میں کام میں عدم دلچسپی ، ہجوم کا ڈر، یا اکیلے رہنے کا خوف ، یا بلا وجہ پریشان رہنا افسردہ رہنا جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔
👈علامات
∙ پریشان رہنا
∙ بے چینی
∙ بلا وجہ پریشان رہنا یا وقت سے پہلے پریشانی کی بارے میں پیشن گویاں کرنا
∙ دل کی دھڑکن کا تیز ہوجانا
∙ تیز تیز سانس لینا
∙ ذرا سی بات پر بہت ذیادہ پریشان رہنا
∙ پسینہ بہت ذیادہ آنا
∙ جسم کا نپنا
∙ تھکن سستی کاہلی
∙ موجودہ پریشانی ذہن پر سوار رہتی ہے جس کی وجہ سے روز مرہ کے کسی کام پر توجہ نہیں دے سکتے۔
∙ نیند کا متاثر ہو جانا
∙ پریشانی پر قابو نہیں رہتا جس کی وجہ سے مریض بے چین رہتا ہے۔
∙ بھوک متاثر ہوجانا ،اور ہاضمہ خراب ہوجانا
• شدید حالت
∙ کسی جگہ اور حالات کا خوف جس کی وجہ سے اس جگہ یا حالت سے نفرت ہو جاتی ہے۔
∙ مرض کی شدت کی وجہ سے مریض کی صحت مستقل خراب رہنے لگتی ہے جس سے مریض لاغر ہوجاتا ہے۔
∙ اگر مرض کو علاج کیے بغیر چھوڑا جائے تو مریض کی زندگی اور روز مرہ کے معمولات اور رشتے متاثر ہو جاتے ہیں
∙ مرض کی شدت میں مریض کی سانس بند ہونا شروع ہو جاتی ہے پسینہ آنے لگتا ہے ۔دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے جس سے مریض کو موت کاخؤف طاری ہوجاتا ہے ۔
∙ لوگوں کے سامنے بولنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ مریض کسی سے بات نہیں کر پاتا ۔ یا مریض کو یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں مجھ سے کویہ غلط بات یا غلطی نہ سر زد ہو جائے ۔خود اعتمادی کھو دیتا ہے اور ناامیدی کی وجہ سے تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔
∙ اپنوں سے بچھڑ جانے کا خوف ہر وقت طاری رہتا ہے ،کہ کہیں کوئی ایسی غلطی نہ کر بیٹھے جس سے اپنا وہ شخص بچھڑ جائے۔
∙ اس وجہ سے تنہائی پسند ہوجانا کہ لوگ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں اور لوگ میری غلطیاں نکال رہے ہیں ۔
∙ اپنی پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے منشیات کا استعمال شروع کر لینا یا پھر منشیات چھڑوانے کے بعد کی ذندگی کا متاثر ہونا
👈• وجوہات
∙ اکثر خاندان میں پائی جانے والی بیماریاں بچوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
∙ زندگی میں کچھ حادثات غم ،دکھ ، دھوکہ کے بعد مریض کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے ۔
∙ قریب کےرشتوں کے کھونے کے بعد یا محبت میں ناکامی کے بعد بھی انسان دکھ اور اضطراب ، پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
∙ کچھ بیماریوں کا تعلق بھی پریشانی اضطراب کے ساتھ ہوتا ہے جیسے شوگر ، دل کی بیماریاں ، تھائیرائیڈ کے مسائل ،سانس دمہ کی بیماریاں ، منشیات کا ترک کرنا، ہامونز کی خرابیاں یا زندگی میں اہم رشتوں کا کھو جانا۔
👈• پیچیدگیاں
∙ نیند کا نہ آنا
∙ زہنی بیماری کے بعد جسمانی بیماری کی ابتدا
∙آنتوں کی بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں
∙ سر کا مستقل رہنے والا درد
∙ زندگی کے کام کاج کو چھوڑ دینا
∙ جسمانی بیمایوں اور بھوک نہ لگنے کی وجہ سے کمزوری اور لاغر پن
∙ نا امیدی
∙ مایوسی
∙ زندگی سے تنگ ہوکرخود کشی کرنا
👈• روک تھام
∙ بیماری کی علامات کے ابتدا ہی میں علاج شروع کر دینا چاہئے
∙ صبح کی سیر کریں ورزش کریں
∙ اچھے اور بہترین دوستوں کی محفل میں بیٹھیٰں ۔دکھی انسانینت کی خدمت کریں آپ کے دل کو قدرتی خوشیاں ملیں گی۔
∙ بے لوث اور قدر داں رشتوں کی قدر کریں تسلی اور سہارا دینے والے رشتوں کی قربت حاصل کریں
∙ کسی اچھے ماہر نفسیات سے رابطہ کریں جو آپ کو ہمیشہ کی نیند آور دواوں کے بغیر اچھی زندگی کی راہ پر چلنے پر مدد کرے
∙ زندگی ایک انمول تحفہ ہے اسے منشیات اور نشہ آور چیزوں سے ضائع مت کیجئے بلکہ اپنا علاج کروائیں ۔
• علاج
🔸اکونائٹ ۔۔ اچانک موت پریشانی کا حملہ ،موت کا خوف ، بے چینی دل کی دڑکھن تیز ہوجانا اور منہ خشک ہوجانا، ٹھنڈے پانی کی پیاس ∙
پریشانی کی وجہ سے نیند کا نہ آنا، اعضاء کا سن ہو جانا
🔸∙آرسینک البم ۔۔ پریشانی کے ساتھ سینے میں جکڑن سانس لینے میں دشواری، شدید بے چینی مریض ایک جگہ یا ایک حالت میں آرام سے نہ بیٹھ سکے
ٹھنڈے پسینے آتے ہیں جس کے ساتھ کپکپی ہوتی ہے ۔ پریشانی اضطراب جو رات کو بڑھ جائے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان رہنا شروع کردے۔ یا بلا وجہ ایسی ذہنی پریشانی جیسے ابھی کچھ برا ہونے والا ہے ۔ مریض اپنی صحت کے بارے میں تو پریشان رہتا ہے ساتھ میں وہ دوسروں کے بارے میں بھی بہت فکر مند ہوتا ہے۔ مستقبل کے بار ے میں بہت فکر مند رہتا ہے اور مریض کو یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میں غریب نہ ہو جاوء۔
🔸∙ ارجنٹم نائٹریکم ۔۔ وقت سے پہلے کسی کام یا پروگرام کے بارے میں پریشان رہنا، کیامیٹینگ اچھی ہو پائے گی ؟ کیا میں وقت پر پہنچ پاوں گا؟ کیا میرا امتحان اچھا رہے گا ؟ اسی پریشانی میں اس کو پیچش لگ جاتے ہیں ، جلد باز ، بے صبرا ، سٹیج پر جانے کا خوف، وقت سے پہلے ہی پریشان رہنے لگ جائے کیا میں تقریر کر پاؤں گا ۔کیا میری تقریر اچھی رہے گی ؟ اور ساتھ میں اونچائی کا خوف
🔸∙ کالی فاس۔۔پریشانی ،گھبراہٹ خوف کے ساتھ نفی سوچ والے لوگ حساس مزاج والے لوگ اور ایسے لوگ جن کے ذہن میں مختلف خوف ہوتے ہیں۔ کھلی جگہوں کا خوف اور ہجوم کا خوف تنہائی کا خوف اور موت کا خوف ، ذرا سی آواز پریشانی میں اضافہ کر دے ۔ مریض ہر وقت تھکا رہتا ہے ۔
🔸∙ جلسی میم۔۔ عوام کے سامنے جانے کا خوف، اداس رہنا ،مالیخولیا، متزبزب ہوجانا،پریشان رہنے لگ جانا، خوف سے پیٹ کا خراب ہو جانا، سٹیج کا خوف
∙ اگنیشیا۔۔ کسی گہرے غم صدمے کے بعدپریشان اداس رہنا، کسی کے دھوکہ دینے بعد یا دکھ کے بعد اگر کوئی علامات پیدا ہو جائیں روز مرہ کی زندگی متاثر رہنے لگ جائے اور پریشان رہنا شروع ہو جائے۔
🔸 ∙ سٹرامونیم۔۔اندھیرے کا خوف ، تنہائی کا خوف ، مختلف ڈراونی شکلیں نظر آتی ہیں مریض چیخ کر نیند سے بیدار ہو ، ہزیان ہو اور مریض بھاگنا چاہے۔
اور بھی بہت سی ادویات ہیں جو مستقل طور پر آپ کو پریشانی، تشویش کی بیماری سے مکمل نجات دلا سکتی ہیں ( ان شاء اللہ) جن کا انتخاب آپ کا ہومیو فزیشن مجموعہ علامات پر کرے گا.
کوئی بھی دوا معالج کی ہدایت کے بغیر ہر گز مت لیں
نوٹ.. مسلمانوں کے لیے مستقل نماز اور قرآن کریم کی تلاوت سے بڑھ کر کوئی بہترین علاج نہیں. ادویات کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی اور قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام ضرور کریں

طالب دعا
Dr Bashir Khan Yousafzai
Clinical psychologist
DHMS (NCH)
BHMS (AUST)
RHMP (NCH)
PSYCHOLOGY (AUST)
FTJ (NCT)
Lecturer Abbot homeopathic medical college abbottabad

Address

Mandian Abbottabad
Abbottabad

Opening Hours

09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Bashir Khan Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr Bashir Khan Yousafzai:

Videos

Share

Nearby clinics


Other Abbottabad clinics

Show All