The Dynamite Medico

The Dynamite Medico Health//Education//Entertainment//fun//general awareness++++

قصائی لقب کا اعزاز ڈاکٹروں کے ساتھ جوڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کرتے ہیں ۔ لیکن ان قصائیو...
12/11/2023

قصائی لقب کا اعزاز ڈاکٹروں کے ساتھ جوڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کرتے ہیں ۔ لیکن ان قصائیوں کی کچھ اور بھی خصوصیات ہیں جو کوئ بتاتا ہی نہیں ۔

1. یہ قصائی اپنے دوست احباب ، رشتےدار ، جونیئرز ، سینیرز حتی کہ وارڈ کی آپا تک کے خاندان کا مفت معائنہ کرتے ہیں ۔ ان کے دل میں فیس لینے کی امید پیدا ہی نہیں ہوتی۔ آپ کسی سے ایک کلو چینی مفت کے کر دکھا دیں۔

2. یہ قصائی زیادہ کوئ بھاؤ تاؤ کیے بغیر ہی فیس میں کمی یا مکمل معافی کر دیتے ہیں ۔

3. مختلف ڈیپارٹمنٹس میں قصائ ڈاکٹرز اپنی جیب سے فنڈز اکٹھے کر کے مریضوں کے لیے ادویات کا انتظام کرتے ہیں ۔

4. تقریباً ہر قصائی ڈاکٹر اپنی زندگی میں اپنے مریضوں کو خون کا عطیہ ضرور دیتا ہے۔ بلا معاوضہ

5. ایسا کوئی قصائی ڈاکٹر آپ نہیں دیکھیں گے جو پوشیدہ طریقے سے کسی نہ کسی غریب خاندان کی امداد نہ کررہا ہو۔ صدقے خیرات اور فلاحی کاموں میں آپ ہمیشہ ان کو آگے دیکھتے ہیں ۔

6. ہمارے سینیر قصائی ڈاکٹرز بنا پوچھے ہی غریب سٹاف کی وقفے وقفے سے مدد کرتے رہتے تھے اور ڈیوٹی کے دوران چاۓ پانی کا خیال بھی۔

7. قصائی ڈاکٹر وہ واحد مخلوق ہیں جو رات کے 3 بجے بھی نیند سے اس لیے اٹھ کر کال ریسیو کرتا ہے کہ اس کو معلوم ہوتا ہے فون کرنے والا کسی مشکل میں ہوگا۔

8. بہت سے قصائی ڈاکٹرز اپنے ہاتھوں پر کینولا لگا کر بھی ایمرجنسی میں مریضوں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں ۔ بہت سی لیڈی ڈاکٹرز حمل کے دوران خود کی صحت کی پروا کیے بنا مریضوں کی فکر میں بغیر کچھ کھائے پیے ڈیوٹی کرتی ہیں ۔ بہت سے قصائی ڈاکٹروں کو عید کا دن بھی گھر والوں کے ساتھ گزارنا نصیب نہیں ہوتا۔ اور ذہنی تناؤ سے بھی سب سے زیادہ یہی ڈاکٹرز گزرتے ہیں ۔

9. میں نے آنکھوں سے ایسے قصائی ڈاکٹرز دیکھے ہیں جو مریضوں کے مفت معائنے کے بعد پوچھتے ہیں کہ دوائ لینے کے پیسے ہیں یا نہیں ۔ اور چپکے سے ہاتھ میں پیسے پکڑا کر روانہ کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر کی خدمات کا معاوضہ کبھی بھی رقم ادا کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا ۔ بہت سے ڈاکٹرز مریضوں کی دعا کو اپنی کل جمع پونجی سمجھتے ہوۓ زندگی گزار دیتے ہیں ۔
تو آئندہ ایک ڈاکٹر کے چاۓ پینے یا ہنس کر اپنے کولیگز سے بات کرنے یا آپ کی مرضی کے مطابق کا علاج نہ کرنے کی صورت میں اس پر قصائی کا لقب لگانے سے پہلے سوچ لیں کہ پاکستان کے کرپٹ ترین نظام میں ابھی بھی کوئ درد مند شعبہ موجود ہے تو وہ ڈاکٹری ہی ہے ۔

12/09/2023

لکھنے کا شوقین نہیں ہوں،
لیکن مجبور ہوکر اور دل خون کی آنسو رو تا ہے جب اس طرح کے واقعات دیکھتا ہوں۔
ڈاکٹر امیر سید (جو کہ ٹیکنیشن بھی نہیں ہے) لیکن آلباکستان میں تو سب کچھ چلتا ہے۔
جمعہ کے دن صبح سویرے طاہر ولد بابو سکنہ سورا سے اپنے بانجھے محمد سعد ولد نورشیدکو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر امیر سید کے کلینک نگرئ تحصیل مندنڑ بونیر لے جاتا ہے، جسکو آجکل ہمارے سادہ لوح اور خصوصاً عورتوں نے بہت مشہور کیا ہے کہ بچہ جتنا بھی کمزور اور بیمار ہو امیر سید کے پاس لے جائے ایسی دوا دیتا ہے کہ بچہ فوراً ٹھیک ہوجاتا ہے۔
محمد سعد کی والدہ بھی اپنے بھائی طاہر کو کہتی ہے کہ یہ سعد بھی کمزور ہے اور اسے اس ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔جب طاہر اسکے کلینک پہنچتا ہے تو ڈاکٹر امیر سید اسکو ہائی ڈوز انجیکشن لگا تا ہے جس سے بچے کی حالت خراب ہو جاتی ہے اور طاہر اسکو کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب بچے کو کچھ ہوگیا اور مر رہاہے ، ڈاکٹر کہتا ہے کچھ نہیں ہوگا اب اس کا سارہ بلغم نِکل آجاےگا اور یہ ٹھیک ہوجائے گا، اور باقی مریضوں کے ساتھ مصروف ہوجاتاہے طاہر اسکو کہتا ہے ڈاکٹر صاحب بچہ مر رہاہے اور اس دوران بچے کی موت ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر اب بچے کو اپنے گاڑی میں ڈال کر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ناؤگئی لے آتا ہے اور راستے ہی میں ڈاکٹر عبدالعزیز کو کال کرتا ہے اور اسکو اعتماد میں لیتا ہے، ہسپتال پہنچ کر طاہر کو باہر بیٹھاتاہے اور اندر ڈاکٹرز اور انتظامیہ سے کہتاہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور میں نے اس سے خون لیا ہے ٹسٹ کرانے کےلئے جس سے بچہ ڈر گیا رو نے لگا اور سانس بند ہوگیئ اور یہ واقعہ پیش آیا، خیر ڈاکٹرز نے اپنی کوشش کی مگر کہا کہ یہ تو وفات ہو چکا ہے۔

ادھر سے یہ روانہ ہوجاتے ہیں اور یہ اب تقریباً دن کے ۱۱ بجے ہے پولیس سٹیشن ناؤگئی کی طرف ، وہاں پہنچ کر طاہر پولیس سٹیشن کے اندر جاتا ہے رپورٹنگ سنٹر تو وہاں پے پہلے سے کچھ لے دیکر کا معاملہ ہو چکا ہوتا ہے اور وہاں پر موجود محرر فواد طاہر کو کہتا ہے کہ آپ چونکہ نہ اس کے والد ہو اور نہ دادا ہو، تو ہم ماموں کی طرف سے FIR درج نہیں کرسکتے ، اسکے والدین کو لے آؤ اور مشورہ کرو کہ FIR درج کرانا ہے کہ نہیں۔

جب طاہر باہر آتا ہے تو بچہ چونکہ ڈاکٹر امیرسید کی گاڑی میں ہوتا ہے وہ اسکو بھگاُکر گاؤں سورا پہنچاتاہے اور وہاں پہنچ کر اپنے ساتھ گاؤں کے کچھ مشران کو مِلا کر انکے گھر میت چھوڑتا ہے اور خود بھاگ جاتا ہے، ایک سے دو گنھٹے کے وقت میں سارے امازئ کے مشران کبچے کے گھر پہنچ جاتے ہیں کہ بس حادثہ ہوا ہے اتفاق کی بات ہے آپ FIR درج نہ کرے۔ اور بچے کے گھر والے مان جاتے ہیں کہ واقعی اتفاقہً معاملہ ہوا ہے۔
یہ واقعہ دن کے دس بجے ہوتا ہے اور عصر کے نماز کے بعد نمازہ جنازہ ہے اور اسی وقت پولیس والے آتے ہیں کہ اگرآپ FIR کرنا چاہتے ہیں تو ہم حاضرہے مگر یہ ہےُکہ بچے کو آپ دفن نہیں کرینگے اور اسکا پوسٹمارٹم ہوگا۔
گھر والوں نے کہا ہے ہم نے جنازہ کرنا ہے اور اب ہم دوبارہ بچے کو ہسپتال لےکے جائینگے ٹھیک ہے ہم FIR نہیں کررہے اور SHO صاحب نے خالی کاغذ پر بچے کے والد سے دستحط اور انگوٹھا لگا لیا کہ کہیں کل کو آپ یہ نہ کہے کہ ہم نے کوئی قانونی کاروئی کرنی ہے۔
جب عصر کے وقت کو آپ پولیس والوں کو یاد آتا ہے تو اس وقت جب طاہر آپکے پاس آیا تھا کیوں رپورٹ درج نہیں کرائی۔
دوسرے دن جب طاہر اپنے بائک کے پیچھے اس امیر سید کے کلینک جاتا ہے تو صاحب روٹین کی اپنے کلینک میں موجود پریکٹس کر رہاہے اور کلینک کے پاس کرائے کے دو پولیس کھڑے کئے ہیں جوکہ طاہر کی تلاشی لیتےہیں کہیں کہ ق ت ل کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔

میرا پہلا سوال یہ ہے کہ یہ جو لوگ امازئی کے مشران اس سفاک ق ا ت ل کو معاف کرنے کے لئے کل آئیے تھے آپ نے تحقیق کی تھی کہ امیر سید بےُگناہ ہے اور آپ یہی چاہ رہے ہیں کہ یہ کل کو کسی اورکے ساتھ بھی ہو اور یہ بندہ اپنا دہندہ جاری رکھے؟ مدعی سست اور گواہ چست نہ بنے اور خدارا اس سستی شہرت کے چکر میں نہ پڑے، پہلے تحقیق ہونے دے اس کے بعد پھر اپنی منت سماجت کرے کیوں کہ آپ کا کام یہی ہے، یہ تب آپکو احساس ہوگا جب خدا نا حوسطہ کل کو کوئی آپکا بچہ آپکے گھر ایسے لائے۔

دوسرا میرا درخواست DPO بونیر سے ہے کہ کیا رپورٹ درج کرنے کےلئے بچے کے والد کا موجود ہونا ضروری ہے اگر نہیں تو فواد محرراور SHO تھانہ ناؤگئی کے خلاف قانونی کاروئی کی جائے۔اگر نہیں کی تو ہم اسکے خلاف پُرامن احتجاج اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور مہم چلا ئنگے ۔

تیسرا DHO بونیر اور HRA امیر سید اور اس جیسے جتنے بھی لوگ اس طرح کے پریکٹس میں ملوث ہیں انکے خلاف قانونی کاروائی کرے۔

چوتھا آپ سارے عوام سے درخواست ہے کہ خدارا اپنے آپ پر اور اپنے بچوں پر رہم کھایں اور اس شارٹ کٹ اور جلدی ٹھیک ہو جانے کے چکر میں اور اسے نام نہاد لوگوں اور پریکٹیشنرز کے پیچھے نہ بھاگے۔

بچے کے والدین آپ سےُکچھ نہیں مانگ رہےُہیں مگر وہُ کہ رہے کہ کل کو کسی اور کیساتھ ایسا نہ ہو اور ان سے ایسے انکے جگر کے ٹکڑے جُدا نہ ہو جائے
Health Line Figure




copied

05/07/2023

. . . . . . . . . . . . ریاض سے فوری خبر . . . . . .
ابوظہبی پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو اپنی نئی کار کی صفائی کر رہا تھا.
اس نے دیکھا کہ اس کا دو سالہ بیٹا ایک کیل لے کر گاڑی کی سائیڈ پر سکریچ لگا رہا ہے۔
باپ غصے میں آ گیا اور اپنے بیٹے کا ہاتھ مارنے لگا
یہ سمجھے بغیر کہ وہ اسے ہتھوڑے کے ہینڈل سے مار رہا ہے!!
باپ کو بعد میں سمجھ میں آیا کہ کیا اُس نے کیا حرکت کی ہے
تو فوری طور پر بیٹے کو ہسپتال لے گیا،
جہاں معلوم ہوا کہ فریکچر کی وجہ سے بیٹے کی انگلی ضائع ہوگئ ہے۔
بیٹےنے اپنے باپ کو دیکھا تو بڑے معصومانہ انداز سے پوچھا بابا میری انگلی دوبارہ کب آئے گی؟
یہ سوال باپ پر بجلی کی طرح گرا تو وہ باہر نکل کر گاڑی کی طرف بڑھا اور اسے آگ لگا دی۔
پھر وہ روتا ہوا اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر افسوس کرنے لگا۔
جب اس نے گاڑی کے اسکریچ کو غور سے دیکھا تو بچے نے لکھا تھا:
“ بابا میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں”
باپ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور اگلے روز اس نے خودکشی کر لی۔

کہانی ختم
آئیے تھوڑی دیر کے لیے دوبارہ کہانی کی طرف جاتے ہیں:

-کیا کوئی گاڑی کو ہتھوڑے سے صاف کرتا ہے؟
- اور ہتھوڑے کا موضوع سے کیا تعلق ہے؟
- لڑکا دو سال کا ہے، کیا وہ یہ جملہ لکھ سکتا ہے، کہ “ بابا میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں؟
- اور کیا اتنا چھوٹا بچہ بول کر کہہ سکتا ہے: بابا میری انگلی دوبارہ کب آئے گی؟
-ابوظہبی پولیس اور ریاض کے درمیان کیا کنکشن ہے؟
- خودکشی کرنے والے باپ کو پولیس نے کیسے پکڑا؟

در اصل
سوشل میڈیا پر اکثر سیاسی، مذہبی، فرقہ وارانہ پوسٹیں اسی طرح کی ہوتی ہیں اور ہم بغیر سوچے سمجھے ردّ عمل کا شکار ہو کر جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔
ہمارا دماغ اور ہماری سوچ ہم سے چوری ہو جاتی ہے اور ہمیں محسوس تک نہیں ہوتا۔

*لہذا ہر خبر پر یقین کرنے سے پیشتر تھوڑا دماغ کو بھی زحمت دےلیا کریں اور بلا تحقیق بات کو آگے مت پھیلائیں*

اہم هدایت وگزارشات(very very important) 1.دنیا میں ایسی کوئی بیماری نہیں جس میں چاول کھانے پر پابندی ہو۔باقی گندم جو سے ...
22/06/2023

اہم هدایت وگزارشات(very very important)

1.دنیا میں ایسی کوئی بیماری نہیں جس میں چاول کھانے پر پابندی ہو۔باقی گندم جو سے celiac disease ہو سکتی ہے۔
2. کسی بھی قسم کے یرقان میں کھانے پینے کا کوئی پر ہیز نہیں۔

3.کالا یرقان اکھٹے کھانا اور اٹھنے سے نہیں لگتا۔

4.بلڈ پریشر کے مرض میں نمک اور چاول بند نہیں۔ تا ہم کھانے میں نمک کی مقدار کم ہونی چاہیے۔

5.اپنی بیماری اور دوا کو چھپا کر رکھیں۔ اور ان کے بارے میں عام لوگوں کے مشورہ پر عمل نہ کریں۔

6.بغیر علم کسی کو مشورہ دینا سخت گناہ ہے لہذا بیماری ، دواؤں کے استعمال اور کھانے پینے کی پر ہیز کے متعلق بغیر علم کے مشورہ دے کر ا پنی آخرت اور مریض کی صحت برباد نہ کریں۔

7۔طاقت کا ٹیکہ، طاقت کی ڈرپ ، گرمی میں ٹھنڈک دینے والی ڈرپ یا جگر کی گرمی کم کرنے والی ڈرپ ، ایسی کوئی اصطلاح میڈیکل سائنس میں موجود نہیں ہے، لہذا ان ناموں پر دھو کہ کھا کر اپنی صحت اور پیسہ خراب نہ کریں۔

8۔خون کا ٹیسٹ H-Pylori اگر Positive آ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معدے میں زخم ہے ۔ لہذا اس ٹیسٹ کی بنیاد پر ‏Anitbiotics کا استعمال نہ کریں۔بلکہ یہ ٹیسٹ کروانا چاہئے.stool H pylori antigen test یہ اچھا ٹیسٹ ہوتا ہے اس سے کنفرم ہوتا ہے ائچ پیلوری کا

9۔خون کا ٹیسٹ Typhidat یا Widal اگر Positive آجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو کنفرم معیاری بخار یا ٹائیفائڈ بخار ہے۔ لہذا بلڈ کلچر ٹیسٹ کروانا چاہئے ٹائیفائڈ بخار کے لیے
10۔ خون کا ٹیسٹ A*o Titer اگر Hight Positive آ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے جوڑوں کی بیماری ہے ۔ لہذا اس ٹیسٹ کی بنیاد پر ماہانہ Pencillin کا انجکشن نہ لگوائیں۔

11۔اگر پینٹ خراب ہو جائے ،یا دست لگ جائے تو اس کا First Aid علاج نمکول /ORS ملا پانی ہے فلیجل ciproجیسی ‏Antibiotics کے استعمال سے دور رہیں۔ اس بیماری میں ڈرپ تب لگوائیں جب جسم میں پانی کی شدید کمی ہو جائے ورنہ بہترین اور سستا علاج ابلا ہوا اورنمکول ملا پانی ہے۔
12۔ موٹا پا نہ صرف شوگر، بلڈ پریشر، دل کی بیماری سانس اور جوڑوں کے مرض کا باعث بن سکتا ہے۔ بلکہ جگر کی چربی زردہ کر کے پیچد و یرقان کاسبب بھی بن سکتا ہے۔

13۔لیکور کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ ایک نارمل رطوبت ہے۔ جو منہ کے لعاب کے مانند، نچائی پوشیدہ اعضاء کی حفاظت کیلئے اللہ تعالی نے پیدا کی ہے لہذا اسکے علاج کے پیچھے مت پھریں۔
لیکن کچھ کیس میں لیکوریا کا علاج کیا جاتا ہے جب کوئی انفیکشنز وغیرہ ہو

14۔‏Disprin کی گولی یا Lasix انجکشن بلڈ پر یشر کم کرنے کا علاج نہیں ہے۔ لہذا اس احمقانہ عمل سے دور ہیں۔

15۔ اینیمیا کی بہت ساری اقسام ہوتی ہیں لہذا ہر قسم کے اینیمیا میں آئرن سپلیمنٹ یا انجکشن نہیں دیئے جاتے ۔

16۔ نفسیاتی مسئلے دو قسم کے پوتے ہیں
پہلی قسم میں مریض کو اپنے مسئلے کے بارے میں پتہ ہوتا ہے جیسا کہ ڈیپریشن ، انزائٹی اور او سی ڈی وغیرہ اسکی مثالیں ہیں اس میں مریض زیادہ تر علاج کروانے کے لیے راضی ہوتا ہےاور اسے نیروسس ڈس آرڈرز (Neurosis Disorder ) کہتے ہیں
دوسری قسم میں مریض کو اپنے مسئلے کے بارے میں نہیں پتہ ہوتا اور نہ ہی وہ علاج کروانے کے لیے راضی ہوتا ہے اور نہ کوئی میڈیسن کھانے کے لیے راضی ہوتا ہے اسےسائیکو ٹک ڈس ارڈرز (Psychotic Disorders) کہتے ہیں جیساکہ سکیزو فرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر وغیرہ، اس میں مریض کے گھر والے ہی مریض کا علاج کرواتے ہیں اور زیادہ تر میڈیسن مریض کو کسی چیز میں چھپا کے دیتے ہوتے ہیں۔

17۔ ڈیپریشن اور انزائٹی میں Benzodiazepam والی میڈیسن جیسا کہ lorazepam diazepam alprazolam وغیرہ صرف کچھ ٹائمز 4 سے 6 ہفتے کے لیے استعمال کی جاتی ہے باقی antidepressants لمبے عرصے تک استعمال کی جاتی ہیں

18۔ وائرل انفیکشنز میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا کوئی کام نہیں ہوتا لہذا اینٹی بائیوٹک ادویات صرف بیکٹیریل انفیکشنز میں کام کرتی ہیں ویسے بھی زیادہ تر وائرل انفیکشنز ایک سے دو ہفتے میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں

19۔ اور الرجی والے نزلے میں بھی اینٹی بائیوٹک ادویات کا کوئی کام نہیں ہوتا

20۔ حقیقت میں پاکستان میں 90 پرسنٹ مردانہ کمزوری والے افراد کو زیادہ تر مردانہ کمزوری ہوتی ہی نہیں یا پھر نفسیاتی مریض ہوتے ہیں لہذا جعلی حکیموں کی باتوں میں نہ آئیں ۔

Regards Dr Akhtar Malik

    etea mcqs weightage
02/11/2022


etea mcqs weightage

یہ 1998 کی بات ھے، مصر میں مشہور ڈانسر فیفی عبدو کا طوطی بولتا تھا،حکومتی ایوانوں سے بزنس کلاس تک سب فیفی کے ٹھمکوں کی ز...
10/09/2022

یہ 1998 کی بات ھے، مصر میں مشہور ڈانسر فیفی عبدو کا طوطی بولتا تھا،حکومتی ایوانوں سے بزنس کلاس تک سب فیفی کے ٹھمکوں کی زد میں تھے۔
‏قاہرہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں اپنے جلوے دکھانے کے بعد فیفی نے شراب پینے کیلئے بار کا رخ کیا ،شراب زیادہ پینے کی وجہ سے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی اور بار میں ہنگامہ کھڑا کر دیا، ہوٹل میں وی آئی پیز کی سکیورٹی پر مامور پولیس آفیسر فوراً وہاں پہنچ گیا،اس نے بڑے مودبانہ انداز میں فیفی سے کہا کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی۔
‏یہ آفیسر خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کیلئے مشہور تھا اس ہوٹل میں قیام کرنے والی اہم شخصیات انہیں پسند کرتی تھیں،
وہ ایک فرض شناس آفیسر تھے۔
‏فیفی کو پولیس آفیسر کی مداخلت پسند نہ آئی اس نے نشے کی حالت میں ھی اعلیٰ ایوانوں کا نمبر گھمایا اور پولیس آفیسر کا کہیں دور تبادلہ کروا دیا۔
‏اگلی شام جب فیفی کا نشہ اترا اس نے ہوٹل انتظامیہ سے پولیس آفیسر کے متعلق پوچھا اسے بتایا گیا کہ آپ نے اس کا تبادلہ کروا دیا ھے فیفی نے فون گھمایا سرکار نے پولیس آفیسر کو واپس ہوٹل رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔
‏پولیس آفیسر نے پولیس سے متعلقہ وزیر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ ان دنوں وجدی صالح وزیر ہوتے تھے وزیر نے حیرت سے پولیس آفیسر سے پوچھا کہ اس ہوٹل میں ڈیوٹی کرنے کیلئے پولیس آفیسر بڑی بڑی سفارشیں کرواتے ہیں آپ کو دوسرا موقع ملا لیکن آپ استعفیٰ پیش کر رھے ہیں؟
‏پولیس آفیسر نے تاریخی جواب دیا۔
‏‏"جس ملک میں ایک شرابی عورت کے اشارے پر ٹرانسفر اور ایک رقاصہ کے حکم پر واپسی ھو اس ملک میں کسی غیرت مند کا رہنا عار اور عیب ھے" ۔
‏چند ماہ بعد اس آفیسر نے مصر ھی چھوڑ دیا۔

‏یہ صرف ایک مصر کی کہانی نہیں ھے یہ میرے ملک کی بھی کہانی ھے۔ ہمارے موجودہ نظام اور حکمرانوں کی بھرپور کوشش سے ہماری انفرادی اور اجتماعی غیرت مر چکی ھے۔ افسران سیاستدانوں کرپٹ اشرافیہ کی کٹھ پتلیاں بنے ہیں۔ جس دن ہمیں قومی غیرت اور حمیت حاصل ھو گی تب ھم باکمال قوم بن جائیں گے۔

kmu cat date re extended 15 august
01/08/2022

kmu cat date re extended 15 august

اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر کریں for the protection of kidneysh*t thumb
25/07/2022

اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر کریں
for the protection of kidneys
hit thumb

mcqs options in KMU modular system 😊
23/07/2022

mcqs options in KMU modular system 😊

Address

Ayub Teaching Hospital
Abbottabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Dynamite Medico posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram