11/02/2026
عورتوں کو بنسبت مردوں کے اچانک ایمرجنسی صورتحال میں راہگیروں یا قریب موجود افراد سے کم CPR ملتا ہے
وجہ جسمانی خدوخال بتائی گئی ہے
تحقیق
ڈیوک یونیورسٹی کی ایک تحقیق، جو امریکہ کی 47 ریاستوں پر محیط تھی، سے معلوم ہوا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم راہگیروں کی جانب سے CPR ملتا ہے۔
اسی طرح برطانیہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ کسی طبی ہنگامی حالت میں عورت کے سینے کو چھونے سے جھجھک یا بے آرامی محسوس کرتے ہیں۔
یہ محض سماجی جھجھک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی ہے، جس کی جڑیں طبی تربیت کے ماحول میں ہیں،
جہاں 95 فیصد CPR پریکٹس کے ماڈل (مینیکنز) چپٹے سینے والے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے طبی امداد دینے والے افراد خواتین کے حقیقی جسمانی خدوخال کے ساتھ ہنگامی صورتحال میں کام کرنے کے لیے بنیادی طور پر تیار نہیں ہوتے۔
اس جھجھک کے چکر کو توڑنے کے لیے طبی تعلیم کو جدید اور جامع بنانا ضروری ہے، تاکہ تربیت میں خواتین کے جسمانی خدوخال کو بھی شامل کیا جائے۔
اس طرح ایک زندگی بچانے کی کوشش کی جاۓ جو قیمتی ہے۔
ویسے یہاں پاکستان میں تو اکثر لوگ CPR کی اہمیت سے ہی آگاہ نہیں۔
🤔