Medicare Institute of Medical Sciences 18-Hazari

Medicare Institute of Medical Sciences 18-Hazari A Institute of Comprehensive Medical Education

عورتوں کو بنسبت مردوں کے اچانک ایمرجنسی صورتحال میں راہگیروں یا قریب موجود افراد سے کم CPR ملتا ہے وجہ جسمانی خدوخال بتا...
11/02/2026

عورتوں کو بنسبت مردوں کے اچانک ایمرجنسی صورتحال میں راہگیروں یا قریب موجود افراد سے کم CPR ملتا ہے
وجہ جسمانی خدوخال بتائی گئی ہے

تحقیق

ڈیوک یونیورسٹی کی ایک تحقیق، جو امریکہ کی 47 ریاستوں پر محیط تھی، سے معلوم ہوا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم راہگیروں کی جانب سے CPR ملتا ہے۔
اسی طرح برطانیہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ کسی طبی ہنگامی حالت میں عورت کے سینے کو چھونے سے جھجھک یا بے آرامی محسوس کرتے ہیں۔
یہ محض سماجی جھجھک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی ہے، جس کی جڑیں طبی تربیت کے ماحول میں ہیں،
جہاں 95 فیصد CPR پریکٹس کے ماڈل (مینیکنز) چپٹے سینے والے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے طبی امداد دینے والے افراد خواتین کے حقیقی جسمانی خدوخال کے ساتھ ہنگامی صورتحال میں کام کرنے کے لیے بنیادی طور پر تیار نہیں ہوتے۔

اس جھجھک کے چکر کو توڑنے کے لیے طبی تعلیم کو جدید اور جامع بنانا ضروری ہے، تاکہ تربیت میں خواتین کے جسمانی خدوخال کو بھی شامل کیا جائے۔
اس طرح ایک زندگی بچانے کی کوشش کی جاۓ جو قیمتی ہے۔

ویسے یہاں پاکستان میں تو اکثر لوگ CPR کی اہمیت سے ہی آگاہ نہیں۔
🤔



1920 میں کینسر کا علاج آج کے جدید اور محفوظ طریقوں سے بالکل مختلف تھا۔ اُس دور میں نہ جدید امیجنگ موجود تھی، نہ کمپیوٹرا...
01/02/2026

1920 میں کینسر کا علاج آج کے جدید اور محفوظ طریقوں سے بالکل مختلف تھا۔ اُس دور میں نہ جدید امیجنگ موجود تھی، نہ کمپیوٹرائزڈ ڈوزیمیٹری، اور نہ ہی یہ واضح سائنسی سمجھ کہ تابکاری انسانی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ علاج تجربات، مشاہدات اور شدید خطرات پر مبنی تھا۔

اس دور کی ایک دستاویزی مثال ایک خاتون مریضہ کی ہے جو رحمِ مادر کے منہ (سروائیکل کینسر) کے آخری مرحلے میں مبتلا تھیں۔ بہار 1920 تک معالجین نے ان کا کیس ناقابلِ علاج قرار دے دیا تھا۔ مروجہ طریقے ناکام ہو چکے تھے، وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا، اور جسمانی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ایسے میں ڈاکٹروں نے ایک انتہائی غیر معمولی اور خطرناک طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا جسے اُس وقت انٹرا ویجائنل ایکس رے تھراپی کہا جاتا تھا۔

مریضہ کو ہسپتال کے بستر پر لٹایا جاتا، اس کی ٹانگیں کپڑے کے بنے ہوئے جھولوں میں معلق کی جاتیں تاکہ اندرونی حصے تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔ چھت سے برقی تاریں لٹک رہی ہوتیں اور ایکس رے ٹیوب کو ہاتھ سے مخصوص فاصلے پر رکھا جاتا۔ کوئی حفاظتی شیلڈ، کوئی خودکار کنٹرول، اور کوئی درست پیمائش کا نظام موجود نہ تھا۔ ہر سیشن تقریباً دو گھنٹے جاری رہتا اور تابکاری براہِ راست اندام نہانی کے ذریعے رحم کے منہ پر ڈالی جاتی۔

یہ طریقہ اس قدر نیا تھا کہ ڈاکٹروں نے علاج کے ہر لمحے کو تحریری شکل میں محفوظ کیا۔ مریضہ کی ٹانگوں کی پوزیشن، ایکس رے سورس کا فاصلہ، ٹیوب کا ایمپریج، اور علاج کا دورانیہ—سب کچھ تفصیل سے لکھا گیا، کیونکہ یہ سب کچھ پہلی بار ایجاد اور آزمایا جا رہا تھا۔

حیرت انگیز طور پر، علاج کے چند ہی ہفتوں بعد غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔ رسولی سکڑنے لگی، سرطان زدہ خلیات تیزی سے ختم ہونے لگے، مریضہ کا وزن دوبارہ بڑھنے لگا، خون کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے، اور خود مریضہ نے جسمانی بہتری اور ذہنی سکون کا اظہار کیا—ایسا احساس جو وہ کئی مہینوں سے کھو چکی تھیں۔

لیکن اس کامیابی کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ مریضہ شدید متلی، کمزوری اور اُس کیفیت میں مبتلا ہوئیں جسے اُس زمانے میں “ایکس رے سکنس” کہا جاتا تھا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ تابکاری کے زہریلے اثرات تھے، مگر اُس وقت یہ خطرات پوری طرح سمجھے نہیں جاتے تھے۔ نہ تابکاری سے بچاؤ کے اصول موجود تھے اور نہ ہی طویل المدتی نقصانات کا کوئی واضح ادراک۔

سالبیوٹامول (البیوٹیرول): سانس، سائنس اور قومی سلامتی کا بنیادی سوالسالبیوٹامول (جسے امریکہ میں البیوٹیرول کہا جاتا ہے) ...
31/12/2025

سالبیوٹامول (البیوٹیرول): سانس، سائنس اور قومی سلامتی کا بنیادی سوال

سالبیوٹامول (جسے امریکہ میں البیوٹیرول کہا جاتا ہے) پاکستان میں
سانس کی بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی انتہائی ضروری اور جان بچانے والی دوا ہے۔

یہ روزانہ استعمال ہوتی ہے:

شدید دمہ (Acute Asthma) کے دوروں میں

دائمی سانس کی بیماری (COPD) میں

بچوں اور ایمرجنسی مریضوں میں سانس کی تکلیف کے وقت

اس دوا کے بغیر انسان کا دم گھٹ جاتا ہے۔

سالبیوٹامول کب منظور ہوئی؟

سالبیوٹامول کو 1960 کی دہائی کے آخر میں طبی استعمال کے لیے منظور کیا گیا۔
امریکہ میں اسے 1968–1969 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے باضابطہ طور پر منظور کیا
اور بعد میں اسے البیوٹیرول کے نام سے مارکیٹ کیا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

یہ دوا 55 سال سے زیادہ پرانی ہے

اس پر کوئی پیٹنٹ نہیں

اس کی کیمسٹری، تیاری اور اثرات نصابی کتابوں کی سطح کے ہیں

یہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر تیار کی جا رہی ہے

پھر پاکستان اسے مکمل طور پر کیوں نہیں بنا سکتا؟

آئیے دیانت داری سے بات کریں۔
یہ مسئلہ اس لیے نہیں کہ سالبیوٹامول مشکل دوا ہے۔

سالبیوٹامول:

ایک چھوٹا اور سادہ مالیکیول ہے

سیفٹریاکسون جیسے اینٹی بایوٹکس سے کہیں آسان ہے

بہت سی درد کی دواؤں سے بھی آسان ہے

وہ API ہے جو انڈرگریجویٹ کیمسٹری میں پڑھائی جاتی ہے

اس کے باوجود پاکستان:

انہیلرز

نیبولائزر سلوشن

اور سیرپ
کے لیے API درآمد کرنے پر انحصار کرتا ہے۔

اصل وجوہات (تلخ مگر سچ)
1. بنیادی پروسیس کیمسٹری پر عدم ملکیت

ہم ردِعمل (reactions) پڑھاتے ہیں۔
ہم صنعتی سطح پر یکسانیت اور تسلسل نہیں سکھاتے۔

طلبہ میکانزم سیکھتے ہیں، مگر یہ نہیں سیکھتے:

یِیلڈ کو بہتر کیسے بنایا جائے

امپیوریٹیز کو کیسے روکا جائے

سالونٹس کو کیسے دوبارہ استعمال کیا جائے

لاگت فی کلوگرام کیسے کم کی جائے

2. تعلیمی انعامی نظام کی غلط سمت

جامعات انعام دیتی ہیں:

نیا پن (novelty)

مقالے

حوالہ جات (citations)

مگر انعام نہیں دیتیں:

ایک پرانی مگر ضروری دوا پر مہارت حاصل کرنے پر

قومی سپلائی مسئلہ حل کرنے پر

درآمدی انحصار کم کرنے پر

اس لیے سالبیوٹامول “اپنانے” سے کوئی جیتتا نہیں۔

3. اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان کمزور ربط

سالبیوٹامول کو پی ایچ ڈی کی نئی تھیسس کی ضرورت نہیں۔

🥜 مونگ پھلی — سادہ نہیں، سپر فوڈ ہے!اکثر ہم مونگ پھلی کو ایک عام سی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ...
27/12/2025

🥜 مونگ پھلی — سادہ نہیں، سپر فوڈ ہے!
اکثر ہم مونگ پھلی کو ایک عام سی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں،

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قدرت کا ایک طاقتور تحفہ ہے 💪

کچھ لوگ اسے خشک میوہ کہتے ہیں، کچھ پھل…

لیکن غذائیت کے لحاظ سے مونگ پھلی واقعی لاجواب ہے۔

🔬 100 گرام مونگ پھلی میں کیا ہے؟

✔ تقریباً 567 کیلوریز

✔ 25–26 گرام اعلیٰ معیار کا پروٹین

✔ صحت مند فیٹس، فائبر

✔ وٹامن B کمپلیکس، میگنیشیم

✔ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس

🧠 2025 کی لیٹس نیوٹریشن ریسرچ کے مطابق

اگر مونگ پھلی صحیح مقدار میں استعمال کی جائے تو یہ:

✔ دل کی صحت بہتر کرتی ہے ❤️

✔ مسلز بنانے اور ریکوری میں مدد دیتی ہے 💪

✔ بلڈ شوگر کو آہستہ آہستہ بڑھاتی ہے (Low GI)

✔ دماغی فوکس اور انرجی بہتر کرتی ہے ⚡

✔ دیر تک پیٹ بھرا رکھتی ہے، جس سے فضول اسنیکنگ کم ہوتی ہے

اسی لیے اسپورٹس نیوٹریشن اور میڈیکل فیلڈ میں مونگ پھلی کو

🌱 Plant-Based Protein کا بہترین ذریعہ مانا جاتا ہے۔

⚖️ روزانہ کتنی مقدار مناسب ہے؟

👉 صرف 20 سے 30 گرام (ایک چھوٹی مٹھی) کافی ہے

✅ بہترین طریقہ استعمال:

✔ بھنی ہوئی (Roasted)

✔ بغیر نمک

✔ بغیر تیل

⚠️ زیادہ مقدار کے نقصانات:

❌ کیلوریز زیادہ ہونے سے وزن بڑھ سکتا ہے

❌ نمکین یا تلی ہوئی مونگ پھلی بلڈ پریشر اور معدے کے مسائل بڑھا سکتی ہے

❌ کچھ افراد میں الرجی ہو سکتی ہے

📌 صحیح مقدار میں مونگ پھلی:

✔ وزن نہیں بڑھاتی

✔ انرجی بڑھاتی ہے

✔ مسلز اور دل کو مضبوط بناتی ہے

تعارف:Baclin Gel ایک طبی جیل ہے جو چہرے اور جسم پر موجود کیل مہاسوں (Acne) کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جیل می...
27/12/2025

تعارف:
Baclin Gel ایک طبی جیل ہے جو چہرے اور جسم پر موجود کیل مہاسوں (Acne) کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جیل میں دو اہم اجزاء شامل ہیں:

Clindamycin (ایک اینٹی بایوٹک جو بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے)

Benzoyl Peroxide (جو جراثیم مارنے کے ساتھ ساتھ جلد کی صفائی کرتا اور سوزش کم کرتا ہے)

یہ دونوں اجزاء مل کر جلد کے اندر موجود جراثیم کو ختم کرتے ہیں اور جلد کے مسامات کو صاف کرتے ہیں، جس سے کیل مہاسے کم ہوتے ہیں اور جلد صاف اور صحت مند نظر آتی ہے۔

استعمالات:
Baclin Gel مندرجہ ذیل مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:

چہرے پر کیل مہاسے (Acne Vulgaris)

بلیک ہیڈز اور وائٹ ہیڈز

چکنی جلد کے مسائل

جلد پر سوزش یا سرخی جو کیل مہاسوں کے باعث ہو

طریقہ استعمال:

استعمال سے پہلے چہرے کو ہلکے کلینزر سے دھو کر خشک کریں۔

دن میں ایک یا دو بار، متاثرہ حصے پر ہلکی سی مقدار میں جیل لگائیں۔

جیل لگانے کے بعد ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔

سورج میں نکلتے وقت سن اسکرین استعمال کریں، کیونکہ Benzoyl Peroxide سے جلد دھوپ میں حساس ہو سکتی ہے۔

فوائد:

جلد میں موجود ایکنی بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے۔

مسامات کو کھول کر جلد کی صفائی کرتا ہے۔

سوزش اور سرخی کو کم کرتا ہے۔

مستقبل میں نئے کیل مہاسوں کے بننے سے بچاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:

جیل کو آنکھوں، منہ، ناک کے اندر یا کٹی پھٹی جلد پر نہ لگائیں۔

جیل لگانے کے بعد دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں، سن اسکرین ضرور استعمال کریں۔

حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

جلد پر زیادہ خشکی، چٹخنے یا جلن کی صورت میں استعمال کم کریں یا معالج سے رجوع کریں۔

ممکنہ مضر اثرات:

جلد پر ہلکی جلن، خشکی یا سرخی (ابتدائی دنوں میں)

خارش یا جلن

نایاب صورتوں میں الرجی

نتیجہ:
Baclin Gel ایک مؤثر علاج ہے ان افراد کے لیے جو بار بار کیل مہاسوں سے پریشان رہتے ہیں۔ باقاعدہ استعمال سے جلد صاف، صحت مند اور ایکنی فری بن سکتی ہے، بشرطیکہ استعمال صحیح طریقے سے کیا جائے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

اس طرح کی مزید انفارمیشن کے لیے نیچے دیے کے لنک پر کلک کری followe for more information plz

Samsung’s biomedical research team has unveiled a breakthrough wearable skin patch that monitors glucose levels using sw...
27/12/2025

Samsung’s biomedical research team has unveiled a breakthrough wearable skin patch that monitors glucose levels using sweat instead of blood. The patch sits directly on the skin and continuously tracks biomarkers, sending real-time glucose readings straight to a smartphone. In clinical testing, it achieved about 97.3 percent accuracy compared with standard blood-based measurements, offering a far less invasive alternative to traditional monitoring.
The technology is built around graphene-based sensors combined with microscopic fluid channels that collect and analyze sweat as it forms. Rather than relying on occasional samples, the system provides continuous data, allowing users to see trends and fluctuations throughout the day without finger pricks or implanted devices.
To stay accurate in everyday conditions, machine-learning algorithms automatically adjust readings based on factors such as hydration, temperature, and individual sweat chemistry. This adaptive approach helps maintain reliability across different environments and activity levels.
If further studies confirm its long-term performance, this patch could mark a major shift toward painless glucose monitoring and point to a future where wearable health technology works seamlessly with the body instead of breaking the skin.

17/12/2025

‏حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پروگرامز کی تفصیل اور آن لائن لنکس 👇🏻👇🏻

مینارٹی کارڈ: mcard.punjab.gov.pk‎
(اقلیتوں کیلئے مختص پروگرام)

دھی رانی پروگرام: cmp.punjab.gov.pk‎
(یتیم و بے سہارا بچیوں کی مالی مدد کیلئے)

مریم کی دستک: dastak.punjab.gov.pk‎
(اس پروگرام کے ذریعے آپ گھر بیٹھے لائسنس بنوا سکتے ہیں، چلان ادا کر سکتے ہیں، فیسز ادا کر سکتے ہیں، ایف آئی آر کی کاپی حاصل کر سکتے ہیں، ب فارم، ڈومیسائل، اسٹامپ پیپر ، گاڑی کا ٹرانسفر لیٹر، ڈپلیکیٹ شناختی دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں نیز پراپرٹی ٹیکس، ٹوکن ٹیکس اور کاشتکار اپنی گورنمنٹ فیسز وغیرہ ادا کر سکتے ہیں)

آسان کاروبار کارڈ: akc.punjab.gov.pk‎
(چھوٹے کاروباری افراد جو اہنے کاروبار کو بڑھانا چاہتے ہیں)

فری سولر پینل سکیم: cmsolarscheme.punjab.gov.pk‎
(کم ماہانہ آمدنی والت افراد جو بجلی کے بل بھی ادا نہیں کر سکتے ان کیلئے سولر پینلز پروگرام)

زرعی ٹیوب ویل سولرائزیشن: cmstp.punjab.gov.pk‎
(کاشتکاروں کیلئے ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقلی کا پروگرام)

سکل ڈویلپمنٹ پروگرام: portal.tevta.gop.pk/admission.aspx‎
(کم پڑھے لہ ہونے کے سبب تعلیم جاری نہ رکھنے والے افراد اس سے آن لائن اور ٹیکنیکل پروگرامز میں حصّہ لے سکتے ہیں)

گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن: certifications.pitb.gov.pk‎
(آئی ٹی یا آن لائن اسکلز رکھنے والے افراد کیلئے جو باقاعدہ ڈگری یا ڈپلومہ نہیں رکھتے لیکن کام جانتے ہیں)

اپنی چھت اپنا گھر پروگرام: acag.punjab.gov.pk‎
(ایسے افراد جن کے پاس پلاٹ، زمین وغیرہ ہے لیکن اس پہ گھر بنانے کیلئے پیسے نہیں یہ پروگرام ان کیلئے ہے)

گرین ٹریکٹر پروگرام: agripunjab.gov.pk‎
(کم وسائل والے کاشتکار/کسان جو اپنا ٹریکٹر افورڈ نہیں کر سکتے وہ اپلائی کر سکتے ہیں)

ایگریکلچر انٹرنشپ پروگرام: agripunjab.gov.pk/jobs‎
(ایگریکلچرل ایجوکیشن اور تحقیق کیلئے مختص پروگرام)

پی ایس ای آر: pser.punjab.gov.pk‎
(کم آمدن والے گھرانوں کیلئے مالی امداد کا پروگرام)

ہونہار اسکالرشپ: honhaarscholarship.punjabhec.gov.pk‎
(ایسے طلباء و طالبات جو ذہین اور پڑھنے لکھنے میں تیز ہیں لیکن مالی مشکلات کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے یہ پروگرام ان کیلئے ہے)

آسان کاروبار فنانس: akf.punjab.gov.pk‎
(کاروباری قرضہ جات کیلئے مختص پروگرام

07/12/2025

بارویں صدی کے اخر میں برطانوی بادشاہ رچرڈ بازو میں تیر لگنے سے جاں بحق ہوا
دو ہفتوں کے مسلسل علاج اور تکلیف کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا اور اس کی بنیادی وجہ جراثیم کش ادویات کا میسر نہ ہونا تھا

تیرویں صدی میں بادشاہ ایڈمنڈ (ون) اور اس کی اہلیہ ملکہ ایلینور کے ہاں سولہ اولادیں ہوئیں
جن میں سے محض پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا بلوغت کی عمر تک پہنچ پائے
اس سے پہلے تمام بچے پیدائش کے فورا بعد یا تو شروع کے چند ماہ اور سال میں ہی مر گئے

یہ حالات اج سے اٹھ صدیاں قبل بادشاہوں کے تھے جنھیں اپنے وقت کے بہترین معالج دستیاب تھے پھر بھی محض چھوٹے سے زخم سے جانبر نہ ہو پاتے تھے
جن کے بچے زچگی میں ہی مر جاتے جبکہ آج صحت و علاج کے کیا حالات ہیں
کتنی امواتیں زچگی میں ہوتی ہیں؟ ماں کی زندگی کو کتنا خطرہ ہوتا ھے؟
کتنے بچے بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں یہ تخمینہ آپ لگائیں

موجودہ بائیو سائنس آیندہ چند سالوں میں ایک بائیونک امیون سسٹم پہ کام کر رہی ھے
جس میں نینو ٹیکنولوجی کے ایکسپرٹ ایسے نینو ربوٹس بنائیں گے
جو لاکھوں کی تعداد میںجسم میں داخل ہو کر بند والز کھولیں گے
شریانوں میں جمی تہہ کو ختم کریں گے، بیکٹریا اور وائرس کے خلاف جنگ میں مدافعتی نظام کے ساتھ اشتراک اور لمبی عمر کے پانے کے عمل کو تیز کریں گے

یہ محض سفر نہیں تھا، یہ انسانی جسم کی آخری حد اور ارادے کی ناقابلِ تسخیر طاقت کا گیارہ روزہ ٹرائل تھا۔ ذرا تصور کیجیے: آ...
16/11/2025

یہ محض سفر نہیں تھا، یہ انسانی جسم کی آخری حد اور ارادے کی ناقابلِ تسخیر طاقت کا گیارہ روزہ ٹرائل تھا۔ ذرا تصور کیجیے: آپ ایک متحرک قبر پر بیٹھے ہیں، جہاں پناہ کے لیے کوئی دروازہ نہیں، پینے کے لیے پانی کی ایک بوند نہیں، اور سونے کے لیے جسم کا کوئی حصہ سیدھا نہیں ہوتا۔ ہر لہر ایک دیوہیکل ہاتھ بن کر آپ کو کھینچنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ رات کا درجہ حرارت آپ کے وجود کو منجمد کرنے پر تُلا ہے۔ نائیجیریا کے یہ تین مرد، غربت کی زنجیریں توڑنے کی ایک اندھی خواہش میں، ایک سمندری جہاز کے رَڈر پر گیارہ دن تک موت اور زندگی کے درمیان معلق رہے—کھلے بحرِ اوقیانوس پر ایک ایسا ناممکن "آرام گاہ" جہاں صرف ایک غلط سانس، ایک پلک جھپکنے کی غفلت، یا بھوک سے نڈھال ہو کر پڑا ہوا ایک بے جان ہاتھ انہیں ہزاروں فٹ گہری تاریکی میں غرق کر سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ، کیا وہ کوئی عام انسان تھے؟ ان کے پاس نہ خوراک تھی، نہ پانی، لیکن ایسی کیا خفیہ قوت تھی جو سمندر کی بے رحمی کو شکست دے کر انہیں لاس پالماس کے کنارے تک لے آئی؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی مشکلات میں، انسانی عزم ہی سب سے بڑی کشتی بنتا ہے۔

05/11/2025
In a medical first, a diabetic man has begun producing his own insulin again after receiving a gene-edited pancreatic ce...
31/10/2025

In a medical first, a diabetic man has begun producing his own insulin again after receiving a gene-edited pancreatic cell transplant. This breakthrough could change the future of diabetes treatment.

Doctors used CRISPR technology to modify donor cells, enabling them to survive in the patient’s body without immune rejection. Once transplanted, the cells functioned like healthy pancreas cells, restoring natural insulin production.

This success means freedom from daily insulin injections for patients, and it raises hopes for a long-term cure rather than lifelong management. Early trials show promising results that could one day help millions of people living with type 1 diabetes.

This achievement demonstrates how gene editing and regenerative medicine are bringing us closer to ending chronic diseases once thought incurable.

عنقریب جھنگ کے سرکاری ہسپتال یعنی ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی شروع ہو جائے گی🤲🤲🤲متعلقہ سٹاف ...
31/10/2025

عنقریب جھنگ کے سرکاری ہسپتال یعنی
ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی شروع ہو جائے گی
🤲🤲🤲
متعلقہ سٹاف کی بھرتی کا عمل شروع ہو چکا ہے !!!

Address

Leyyah Muzaffar Garh Road 18-Hazari Near Allied Bank 18-Hazari District Jhang
Atharan Hazari

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 16:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medicare Institute of Medical Sciences 18-Hazari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram