Home Health Care Provider

Home Health Care Provider Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Home Health Care Provider, Medical and health, Attock City.

04/05/2026

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ محترم احباب
الحمدللہ کل میں حج پہ روانہ ہو رہا ھوں حدیث مبارکہ کا مفہوم ھے حاجی اپنے لئے اور جس کے لیے مغفرت کی دعا کرے وہ قبول ھوتی ھے
اے اللہ پاک میں اپنے لئے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی معافی چاہتا ھوں اور اپنے گھر والوں خاندان والوں دوست احباب محلے دار علاقے والوں اپنے ملک کے رھنے والوں جاننے والوں اور جنہوں نے دعا کا کہا جنہوں نے نہیں کہا آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام اہل ایمان مومنین مومنات مسلمین مسلمات جن سے میرا تعلق ھے جنہیں میں جانتا ہوں جنہیں نہیں جانتا اور وہ ایل ایمان ہیں جنہوں نے میرے ساتھ اچھا کیا اور وہ بھی جنہوں نے برا کیا جو مجھے جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب کے لیے مغفرت مانگتا ھوں ھم نادان ہیں جلد باز ہیں ناشکرے ہیں اے اللّہ ھم سب کو معاف فرما کر اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو خوش فرما تمام امت کو معاف فرما ھمیں ایسا بنا دے کہ تجھے پسند آ جائیں تو ھم سے راضی ہو جا اور ھمیں اپنی عطا سے مغفرت سے راضی کر دے ھم تیرے بندے ہیں تجھ پہ ہی ایمان رکھتے ہیں ھمیں اپنے دین پہ چلنے والا بنا دے
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین

30/04/2026

السلام علیکم محترم احباب آج جمعہ مبارک ھے سورہ کہف کی تلاوت اور درود شریف کی کثرت کا اہتمام فرمائیں اور مجھے بھی اپنی مخلص دعاؤں میں یاد رکھیں۔

23/04/2026

السلام علیکم محترم احباب آج جمعہ مبارک ھے سورہ کہف کی تلاوت اور درود شریف کی کثرت کا اہتمام فرمائیں۔

16/03/2026

بچپن سے سنتے آئے کہ نجف کی مٹی میں اور ہماری مٹی میں بہت فرق ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے نجف بھی تو اسی زمین کا حصہ ہے۔
اپریل 2014 میں امیر المومنین کی ضریع مطاہر میں‌تھا ۔ صحن امیر میں پردا لگا ہوا تھا اور کام ہو رہا تھا۔ میں نے پردے سے اندر جھانکا تو ایک خدام کرسی پر کام کروا رہا تھا اور مزدور بڑی کرین سے نیچے سے مٹی نکال رہے تھے اس وقت تک کرین 120 فٹ نیچے چلی گئی تھی۔ میں نے جب مٹی دیکھی تو آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں کہ کمال ہے اتنی خوبصورت مٹی۔ میں نے خدام سے گذارش کی کہ میں ایک گلاس مٹی کا بھر لوں تبرک کے طور پر وہ مسکرایا اور کہا نعم ( ہا ں)
میں نے سبیل سے ڈسپازیبل گلاس لیا.
(گلاس لینے کےلئے بھی میں نے اجازت لی کہ مجھے ایک گلاس چاہیے)
اور فل کر کے قبر امیر پر لے گیا تھوڑی سی مٹی نکالی اور ضریع مطاہر سے مس کر کے دوبارہ اندر رکھ دی۔۔۔۔
آج وہ مٹی میرے گھر میں در نجف میں تبدیل ہو رہی ہے۔
اور یہ بات اب میری سمجھ میں آئی ہے کہ جس امیر کی قبر مطاہر کی مٹی ہم جیسی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس امیر المومنین کے بارے میں کہنا کہ ہم جیسے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

16/03/2026

اگر یہ لڑکا پڑھا لکھا نہ ہوتا اور تمام قوانین کو نہیں جانتا تو اس کا منہ بھی تھپڑوں سے لال کیا ہوتا ۔
یہ جو سوال کرتا نوجوان نظر آرہا ہے اس کا نام فیصل محبوب ہے ۔
جب یہ گھر جارہا تھا تو وارڈن والے نے روکا کہ بیٹا اپنا آئی ڈی کارڈ دیکھائیں اس کو معلوم نہیں تھا کہ لڑکا پڑھا لکھا ہے
وارڈن والے فوراً آئی ڈی کارڈ درج کیا نمبر دیکھا اور دو ہزار کا چالان کردیا اور کہا کہ جاکر بھر آؤ

بائیک لے جانا ۔۔۔۔۔ لڑکا حیران ہوگیا کیونکہ اس کے پاس لائسنس بھی تھا ۔
آئی کارڈ بھی ، نمبر پلیٹ اوریجنل ، بائیک پہ شیشے لگے ہوئے ہیملنٹ پہنا ہوا
اشارے بالکل صحیح ، ہارن بجتا ہوا سپیڈ بالکل سلو ، سنگل سواری تھی

اس کے بعد بھی چالان کردیا جب ایک عام پڑھا لکھا شہری جس کے پاس مکمل چیزیں ہوں اور قانون کی پاسداری بھی کرے
تو بتائیں اس کا کیا قصور ہے ؟ لڑکے نے صحیح کہا کہ آپ نے چالان اپنا کوٹہ پورا کرنے کے لیئے کیا ہے ؟ اب وارڈن والے کے پاس کوئی جواب نہ تھا

وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور اپنی وردی کا رعب دکھانے کے لیئے اس کی بائیک کو بند کردیا ۔
میری کبیر والا ڈی پی او صاحب سے گزارش ہے کہ پلیز اس پہ ایکشن لیں کیا پاکستان میں رہنا اور پیدا ہونا ہی جرم ہوگیا ہے ؟
نیچے خود ویڈیو دیکھ لیں آواز اٹھائیں زرا یہ وارڈن صاحب کچھ عرصہ تو معطلی کا مزا چکھیں ۔

16/03/2026

ابھی ابھی یہ ویڈیو سامنے آئی ہے غالباً کسی قبائلی علاقہ کی ہے جہاں
پہ ایک مجذوب شخص کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

بندے کا ذہنی توازن درست نہیں ہے لیکن اگلا انسان جو خود کو کچھ سمجھ رہا ہے وہ بار بار پوچھ رہا ہے کہ کونسے علاقہ کے ہو

ایک شخص جس کے کپٹرے پٹھے ہوئے ہیں جو مار کھا کر ہنس رہا ہے وہ مجذوب نہیں ہے تو کیا ہے ؟

اگر وہ راستہ بھٹک کر آپ کے علاقہ میں آگیا ہے تو دو روٹی کے ٹکڑے دینے کی بجائے سوٹیوں سے مار رہے ہو ؟

حد ہوتی ہے سمجھ سے باہر ہے کہ انسان بس خود کو انسان سمجھتا ہے باقی سب کے لیئے جانور بن جاتا ہے ۔

پلیز وائرل کریں تاکہ جو بھی ملزمان ہیں وہ پکڑے جائیں صرف چند ویوز کی خاطر کسی پہ تشدد کرنا کہاں جی انسانیت ہے ؟

اس ویڈیو میں موجود افراد کی گفتگو اور لہجے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے کسی علاقے یا اس سے ملحقہ پٹی کا ہو سکتا ہے

کیونکہ ویڈیو میں موجود شخص سے اس کے اصل علاقے (جیسے ملتان، لاہور، سیالکوٹ یا افغانستان) کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں۔

باقی اگر آپ کو شناخت ہوسکے تو بتائیں کہاں کے یہ بندے ہیں

ویڈیو پہلے کومنٹ میں پوسٹ ہے پلیز ساتھ دیں

😓😓😓😪😓😓


15/03/2026
اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا۔  میں نے کہا کہ بھائی، دیکھ بھال کر دینا چاہیے، یہ فراڈ لوگ ہوتے ہیں ...
18/02/2026

اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا۔
میں نے کہا کہ بھائی، دیکھ بھال کر دینا چاہیے، یہ فراڈ لوگ ہوتے ہیں اور عام انسان کے جذبۂ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ہیں!
فرمانے لگے: آپ نے بجا فرمایا، میں پہلے ایسا ہی کیا کرتا تھا، پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی۔

میں دھرم پورہ، لاہور میں اپنے گھر سے سائیکل پر نکلا تھا کہ ٹھیکیدار سے اپنے بقایاجات وصول کر لوں۔ میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے، مگر ٹھیکیدار آج کل پر ٹرخا رہا تھا۔
میں سائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ مانگ رہا تھا۔

وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ہاتھ جوڑ دیتا:
"میرا بچہ بچا لیں، مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں"،
تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ہاتھ دے کر روکتا، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے۔
کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا۔ جو رکتا، وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ سوچ کر اسے ڈانٹتا، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا۔

میں جو سائیکل سائیڈ پر روک کر ایک پاؤں زمین پر ٹیکے یہ تماشا دیکھ رہا تھا، اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی، اور اس نے میری سائیکل کا ہینڈل پکڑ لیا۔
"بھائی جان، خدا کے لیے میرے بچے کی زندگی بچا لیں۔ اس کو سخت بخار ہے۔ آپ نیچے اتر کر اسے دیکھ تو لیں، آپ کو یقین آ جائے گا۔ آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے۔"

مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رہا تھا۔ پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ہینڈل پکڑ رکھا تھا، لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کر بھاگ جائے گا۔
میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی، اور پچھلے جمعے میں سنی ہوئی حدیث بھی اسے سنا دی کہ:
"الکاسب حبیب اللہ" — کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
اور اپنا ہینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ہوا آگے چل پڑا:
"حرام خور ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں!"

دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایاجات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رہا تھا۔
اب بچے کو وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لیے مانگ رہا تھا۔

میں نے سائیکل روکی، پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا۔
پھول کی طرح معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جیب میں جو کچھ تھا، بقایاجات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باہر پھینکا، اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ہو، سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاہور کی بلائیں میرے پیچھے لگ گئی ہوں۔

میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا۔ بخار بھی کچھ ایسا تھا، گویا میرے سارے گناہوں کا کفارہ اسی بخار سے ہونا تھا۔
گھر والے مجھے اسپتال لے جانے لگے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا۔ مجھے اسپتال نہیں جانا تھا، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاہتا تھا۔

دو تین دن کے بعد بخار تو اتر گیا، مگر میں ذہنی مریض بن گیا۔ مجھے لگتا، گویا میرا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا، وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔
میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا۔ بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو نہ اسکول جانے دیتا تھا، نہ دروازہ کھولنے دیتا تھا۔

چالیس دن گزر گئے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا۔
وائف نے اپنے بھائی سے بات کی، جو دبئی ایک کمپنی میں کیشیئر تھا۔ اس نے مجھے باہر بلانے کے لیے پاسپورٹ بنانے کو کہا، مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ بچے کی میت پر پھینک آیا تھا، دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باہر نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے۔

چالیسویں دن، دس بجے کے لگ بھگ ہمارے گھر کا دروازہ بجا۔
دروازہ میں نے خود کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آ گئے۔
مجھے لگا جیسے ہم دونوں آمنے سامنے خلا میں چکر کاٹ رہے ہیں، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا۔

میری کیفیت سے بے خبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ وہ کچھ کہنے کے بجائے میری ٹھوڑی کو ہاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا۔
اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ہے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ہے۔

میں اس بچے کے باپ کو سختی سے سینے سے لگائے یوں رو رہا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ہو۔
ہمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ آہستہ آہستہ چالیس دنوں کا غبار نکلا۔
میں اسے گھر میں لے آیا۔ محلے والے بھی آ گئے، جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا:
"آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے۔ شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ہو گئے۔ سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے، ان میں سے کچھ میں نے ادھار لے کر ڈالے ہیں۔ یہ آپ قبول کر لیجیے، باقی میں بہت جلد واپس کر دوں گا۔"

میں نے پیسے واپس لینے سے سختی سے انکار کر دیا، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔

اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا۔ میں جی جان سے کام کرتا رہا، چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا۔
تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی، اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا۔ آج وہ میری کمپنی میں فورمین ہے۔
اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔

میں اسے آپ سے ملواؤں گا، مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجیے گا۔ وہ آج تک نہیں پہچان سکا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا۔
وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ہے، جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کر دے دیا!

قاری صاحب! اس دن کے بعد میں کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ہوتا ہے اور نہ میں غریب ہوتا ہوں۔ بس دل کو تسلی ہوتی ہے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رہا ہوں۔

رہی لوٹنے کی بات، تو قاری صاحب، ہمیں کون نہیں لوٹتا؟
جوتے والا ہمیں لوٹتا ہے، کپڑے والا ہمیں لوٹتا ہے، سبزی اور گوشت والا ہمیں لوٹتا ہے۔
اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ہمیں اللہ کے نام پر لوٹ لے، تو شاید حشر میں ہماری نجات کا سامان ہو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پر لٹتا رہا ہے!

https://www.facebook.com/share/p/1BkmqaYFoy/
23/01/2026

https://www.facebook.com/share/p/1BkmqaYFoy/

خانپور روڈ پر، خانپور ڈیم سے پہلے ترناوا اسٹاپ آتا ہے۔ یہاں سے دائیں جانب اندر کی طرف تقریباً پانچ کلومیٹر سفر کریں تو آپ نجف پور پہنچتے ہیں۔
یہ ایک نہایت خوبصورت اور پرسکون علاقہ ہے، جہاں سے آپ کو قدرت کا ایسا دلکش نظارہ ملتا ہے کہ دل خوش ہو جاتا ہے 🌿💧
یہی صاف و شفاف پانی آگے جا کر خانپور ڈیم میں گرتا ہے۔
فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے یہ جگہ ایک زبردست پکنک پوائنٹ ہے۔
اگر آپ قدرت، سکون اور خوبصورتی ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس سفر کو ضرور اپنی لسٹ میں شامل کریں 😊

18/01/2026

*‏﷽*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
*یااللہ*! ہمیں دنیا وآخرت کی سلامتی، عافیت اور خوشیاں عطا فرما۔
*الہی*! ہمیں اور ہم سے جڑے تمام احباب کے لئے آسانیاں عطا فرما اور لامحدود خزانوں سے حلال رزق عطا فرما۔
*یارحیم*! ہمیں ہر نیا دن سابقہ دن سے اچھا اور خیر وبرکت والا عطا فرما اور ذہنی، قلبی اور جسمانی سکون عطا فرما۔
*آمین*
*یارب العالمین*

31/12/2025

"اے اللہ رب العالمین!
آج 2025 کی آخری رات ہے…
سارے گزشتہ سال کے گناہوں کو معاف فرما دے
آنے والے 2026 کو ہمارے لیے برکت، رحمت، صحتِ کاملہ اور ایمان کی مضبوطی والا سال بنا دے
ہمارے گھروں میں سکون، دلوں میں اطمینان اور رزق میں اضافہ عطا فرما
آمين يا رب العالمين 🤲
نیا سال سب کیلئے خیر و برکت والا ہو
آمین

21/12/2025

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ محترم احباب رجب المرجب کا چاند مبارک

Address

Attock City

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Home Health Care Provider posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share