️Achral Nursing Care

️Achral Nursing Care 🩺Achral Nursing Care🩺
Health is Wealth is our Motto.We Share Good Tips and secret of health for you
(1)

AL-Wahhab :  The Supreme BestowerAllah is Al Wahhab (in Arabic: ٱلْوَهَّابُ), which means the great giver whose blessing...
01/12/2023

AL-Wahhab : The Supreme Bestower

Allah is Al Wahhab (in Arabic: ٱلْوَهَّابُ), which means the great giver whose blessings are freely and perpetually given. He gives with no purpose and expects nothing in return. Allah سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ is truly the most liberal giver, He gives to the deserving and undeserving, to the good and the evil.




دیسی گھی ایک روایتی پاکستانی  گھی ہے جو گائے یا بھینس کے دودھ سے بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک صحت بخش چکنائی ہے جو وٹامنز، معدن...
29/11/2023

دیسی گھی ایک روایتی پاکستانی گھی ہے جو گائے یا بھینس کے دودھ سے بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک صحت بخش چکنائی ہے جو وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے۔
دیسی گھی کے کچھ اہم فوائد درج ذیل ہیں:
دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ دیسی گھی میں موجود صحت بخش چکنائیاں، جیسے کہ مونوسچوریٹڈ اور پالی ساسچوریٹڈ چکنائیاں، کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ اس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
دماغ کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ دیسی گھی میں موجود وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو دماغی خلیات کو آزاد ریڈیکلز سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے دماغی صحت کو بہتر بنانے اور الزائمر اور پارکینسن جیسے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جلد اور بالوں کو صحت مند بناتا ہے۔ دیسی گھی ایک مرطب ہے جو جلد کو نرم اور صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بالوں کو مضبوط اور چمکدار بنانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ دیسی گھی میں موجود وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اس سے انفیکشن اور بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دیسی گھی کے کچھ دیگر فوائد میں شامل ہیں:
آنتوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ دیسی گھی میں موجود صحت بخش چکنائیاں آنتوں کے صحت مند بیکٹیریا کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں۔ اس سے نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے اور ہاضمے کے مسائل کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزن میں کمی میں مدد کرتا ہے۔ دیسی گھی میں موجود صحت بخش چکنائیاں بھوک کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ اس سے وزن کم کرنے اور وزن کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دیسی گھی ایک صحت بخش چکنائی ہے جو بہت سے فوائد فراہم کرتی ہے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دیسی گھی میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، لہذا اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔
دیسی گھی کے استعمال کے کچھ طریقے درج ذیل ہیں:
کھانے کو تیار کرنے کے لیے۔ دیسی گھی ایک بہترین پکانے کا تیل ہے جو کھانے کو ایک لذیذ ذائقہ اور خوشبو دیتا ہے۔
سالن اور تڑکے میں۔ دیسی گھی سالن اور تڑکے کو ایک شاندار ذائقہ دیتا ہے۔
نان اور روٹی کے ساتھ۔ دیسی گھی نان اور روٹی کے ساتھ ایک لذیذ ڈپ ہے۔



بچوں میں آئرن کی کمی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ عام وجوہات میں شامل ہیں:      کم آئرن والی غذا: بچوں کو اپنی ضرور...
11/11/2023

بچوں میں آئرن کی کمی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ عام وجوہات میں شامل ہیں:
کم آئرن والی غذا: بچوں کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذائیں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں، تو انہیں آئرن کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔
جلد پیدائش: پیدائشی طور پر کم وزن یا لیبر یا ڈلیوری کے دوران خون کی کمی والے بچوں کو آئرن کی کمی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
خون کی کمی کی دیگر حالتیں: کچھ دیگر حالتیں، جیسے کہ ہاضمہ کے مسائل یا بار بار خون بہنا، بچوں میں آئرن کی کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
بچوں میں آئرن کی کمی کی کچھ عام علامات میں شامل ہیں:
تھکاوٹ
نیند کی خرابی
چڑچڑاپن
سر درد
پیشانی پر پسینہ
کمزوری
پتلا رنگ
اگر آپ کے بچے میں آئرن کی کمی کی علامات ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔ وہ آئرن کی کمی کی تشخیص کر سکتے ہیں اور آپ کے بچے کے لیے مناسب علاج تجویز کر سکتے ہیں۔
بچوں میں آئرن کی کمی کو روکنے یا علاج کرنے کے لیے، ان غذاؤں کو ان کی خوراک میں شامل کرنا ضروری ہے جو آئرن سے بھرپور ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
گوشت:۔
مرغی۔
مچھلی
دالیں۔
خشک میوہ جات: جیسے کہ کشمش اور اخروٹ،
سبزیاں

AL-QAHHAR   :  The Ever-DominatingThe One who prevails over all of creation. The One who overcomes all obstacles. The On...
10/11/2023

AL-QAHHAR : The Ever-Dominating
The One who prevails over all of creation. The One who overcomes all obstacles. The One who is victorious over any opposition. The One whose will is irresistible.




Iqbal Day Special!خيرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگسرمہ ہے ميری آنکھ کا خاک مدينہ و نجفKheera Na Kar Saka Mujhe Jalwa e...
09/11/2023

Iqbal Day Special!

خيرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے ميری آنکھ کا خاک مدينہ و نجف

Kheera Na Kar Saka Mujhe Jalwa e Danish e Farang
Surma Hai Meri Ankh Ka Khak e Madina o Najaf



پیٹ میں گیس ایک عام مسئلہ ہے جو ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔پاکستان میں لوگوں کے پیٹ میں گیس ہونے کی بہت سی وجوہ...
02/11/2023

پیٹ میں گیس ایک عام مسئلہ ہے جو ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان میں لوگوں کے پیٹ میں گیس ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ مسالے دار کھانوں کا زیادہ استعمال ہے۔ مسالہ دار غذائیں ہاضمے کو خراب کر سکتی ہیں اور کھانے کو ہضم کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔
پیٹ میں گیس کی ایک اور وجہ کاربونیٹیڈ مشروبات کا استعمال ہے۔ کاربونیٹیڈ مشروبات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہوتی ہے، جو مشروبات پینے پر ہاضمہ میں خارج ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، لوگ دیگر عوامل کی وجہ سے بھی پیٹ میں گیس کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسے:

1-بہت جلدی کھانا یا بہت زیادہ کھانا
2-کھانا ٹھیک سے نہ چبانا
اگر آپ پیٹ کی گیس میں مبتلا ہیں تو، علامات کو دور کرنے کے لیے آپ چند چیزیں کر سکتے ہیں:
آہستہ آہستہ کھائیں اور اپنے کھانے کو اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
1-کاربونیٹیڈ مشروبات
2- مسالہ دار کھانوں سے پرہیز کریں۔
3-چھوٹا، زیادہ کثرت سے کھانا کھائیں۔
4 پانی پیئے۔


آئرن کی کمی آئرن کی کمی جسے عام الفاظ میں خون کی کمی کہا جاتا ہے، انیمیا کی ایک قسم ہے۔ یہ پاکستان اور دنیا میں انیمیا ک...
01/11/2023

آئرن کی کمی

آئرن کی کمی جسے عام الفاظ میں خون کی کمی کہا جاتا ہے، انیمیا کی ایک قسم ہے۔

یہ پاکستان اور دنیا میں انیمیا کی سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔

آئرن کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

آئرن خون کے سرخ خلیے بنانے کے لئے بے حد اہم ہے ۔ ان خلیوں کا کام جسم میں ہیموگلوبن کی مدد سے آکسیجن پہنچانا ہے۔ آئرن کی کمی سے سرخ خلیوں میں موجود ہیموگلوبن مناسب مقدار میں نہیں بنتی جس کے نتیجے میں آئرن کی کمی یا "آئرن ڈیفیشینسی انیمیا" ہو جاتا ہے۔

علامات:

تھکن اور کمزوری محسوس کرنا
سانس پھولنا
سر درد
دل کی دھڑکن محسوس ہونا
رنگ پیلا ہونا
اندر کی طرف مڑے ہوئے کھردرے ناخن
بال گرنا
روزمرہ کے کاموں پر فوکس نہ کر پانا

ٹیسٹ:

Full blood count
اس ٹیسٹ میں اگر ہیموگلوبن یعنی Hb کم آئے اور اور اس کے ساتھ MCV بھی کم ہو تو اگلا ٹیسٹ Ferritin level کیا جاتا ہے ۔

اگر ٹیسٹ میں آئرن کی کمی ظاہر ہو تو ڈاکٹر آئرن کی کمی کی وجہ جاننے کے بعد علاج تجویز کرتے ہیں ۔

وجوہات:

بچوں میں عام طور پر خوراک ٹھیک نہ ہونا
خواتین میں حمل کے دوران خوراک کا ٹھیک نا ہونا یا ماہواری کا زیادہ آنا
مردوں میں اور 50 سے 55 سال کی عمر کی خواتین میں آئرن کی کمی معدے اور آنتوں میں سے خون نکلنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے جو کہ بروفن یا ڈسپرن جیسی ادویات (NSAIDS) استعمال کرنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے
اس کے علاوہ معدے میں السر
آنتوں کی سوزش
بواسیر
معدے یا آنتوں کا کینسر شامل ہیں

علاج:

آئرن کی کمی کے علاج کے لئے جو آئرن سپلیمنٹس تجویز کئے جاتے ہیں ان میں آئرن کی مقدار اور ڈوز خود میڈیکل سٹور سے خریدی ہوئی آئرن سے زیادہ ہوتی ہے۔
آپ کو یہ آئرن سپلیمنٹ 6 ماہ لینے ہوتے ہیں ۔
آئرن کے ساتھ اگر آپ مالٹے کا جوس یا وٹامن سی لیں تو آئرن کو خون میں جذب ہونا آسان ہو سکتا ہے۔

آئرن سپلیمنٹس کے سائڈ ایفیکٹس:

قبض یا ڈائیریا
پیٹ میں درد
متلی محسوس ہونا
سینے میں جلن
پاخانے کا رنگ کالا ہونا

آئرن کو کھانے کے ساتھ لیں تا کہ سائیڈ ایفیکٹس کم ہوں ۔

کچھ مہینے بعد آپ کے ڈاکٹر دوبارہ ٹیسٹ کرتے ہیں تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ آئرن لیول نارمل ہو چکا ہے۔

آپ آئرن کی کمی کو دور کرنے میں اپنی مدد خود کیسے کر سکتے ہیں ؟

خوراک جو زیادہ مقدار میں استعمال کریں:

ہرے پتوں والی سبزیاں
بغیر چھنے آٹے کی روٹی
آئرن فورٹیفائیڈ خوراک
گوشت
ڈرائی فرسٹ
دالیں ، چنے مٹر اور لوبیا

وہ خوراک جو ذرا کم لیں:
چائے ، کافی
دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء
ان چیزوں کا زیادہ استعمال جسم میں آئرن کو جذب نہیں ہونے دیتا

اگر آئرن کی کمی کا علاج نہ کیا جائے تو؟

آپ میں ہر طرح کے انفیکشن کا رسک بڑھ سکتا ہے۔
دل کی بیماری ہو سکتی ہے
حمل کے دوران پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں ۔

آئرن کتنی مقدار میں لینی چاہئے؟
خواتین ، عمر 18 سے 50 سال : 18mg روزانہ
مرد کسی بھی عمر میں: 8mg روزانہ

ہمارے ہاں اکثر ڈاکٹرز بھی اتنی کم ہیموگلوبن پر کہ جس پر مریض بس زندہ رہ سکتا ہو انہیں یہ کہہ دیتے ہیں کہ بھائی عام طور ہر پاکستانیوں کی Hb اتنی ہی ہوتی ہے ۔ یہ تسلی خاص طور پر خواتین کو ملتی ہے ۔ یہ تسلی بہت سے ڈاکٹرز خود کو بھی دیتے ہیں جن کی اپنی آئرن بھی کم ہی ہوتی ہے۔

لہذا آئرن کی کمی کو لازمی ٹھیک کریں ۔




⬅️ سفر کے دوران الٹی ، متلی ہونا یا سر چکرانا اس کے نتیجے میں متعدد افراد کو بس، گاڑی، ٹرین، طیارے، سمندری سفر یا امیوزم...
31/10/2023

⬅️ سفر کے دوران الٹی ، متلی ہونا یا سر چکرانا

اس کے نتیجے میں متعدد افراد کو بس، گاڑی، ٹرین، طیارے، سمندری سفر یا امیوزمنٹ پارک رائیڈ میں متلی بلکہ کئی بار تو قے کا سامنا بھی ہوتا ہے اور ایک تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تھری ڈی فلمیں بھی کچھ افراد کو اس کا شکار بناسکتی ہیں۔

⬅️ اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟

ایسا تب ہوتا ہے جب آپ کے اندرونی کان میں توازن کا مرکز جو آپ دیکھتے ہیں، اس سے کچھ مختلف محسوس کرتا ہے۔ ہمارا دماغ اس طرح کے ملے جلے سگنلز کو برداشت نہیں کر پاتا اور اس کے نتیجے میں لوگ سر چکرانے، متلی اور قے وغیرہ کی شکایت کرتے ہیں۔

⬅️ علامات

متلی ہونا

قے ہونا

پسینہ آنا

چہرے پر پیلاہٹ

سانس لینے میں مشکل

سر چکرانا

غنودگی طاری ہونا

بے چینی کا احساس

طبیعت خراب محسوس ہونا

سردرد

جماہیاں

مگر اچھی بات یہ ہے کہ یہ عارضہ اکثر زیادہ سنگین نہیں ہوتا اور اس سے بچنے کے لیے چند عام ٹوٹکے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

سامنے دیکھنا

ایک عام اور آسان حل تو یہی ہے کہ چلتی ہوئی گاڑی کی کھڑکی سے باہر اس سمت میں دیکھیں جس طرف یہ گاڑی سفر کررہی ہو، اس سے اندرونی حس کو توازن کے احساس کو بحال کرنے میں مدد مل سکے گی۔

آنکھیں بند کرکے کچھ دیر کی نیند

اگر رات کا وقت ہے یا کھڑکی سے سامنے دیکھنا مشکل ہے تو بہتر ہے کہ آنکھیں بند کرلیں یا اگر ممکن ہو تو کچھ دیر کے لیے سوجائیں۔ اس سے بھی آنکھوں اور کان کے اندرونی حصے کے درمیان تضاد پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

کچھ چبائیں

گاڑیوں میں سفر کے دوران متلی یا سرچکرانے سے بچنے کا ایک اور آسان طریقہ کچھ چبانا ہے، چیونگم اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے، مگر چیونگم ہی واحد ذریعہ نہیں، کچھ میٹھا کھانا یا کچھ بھی چبانا نظر اور توازن کے درمیان تصادم کے اثرات کو کم کردیتا ہے جیسے کہ ٹافی یا لوزینجز کا استعمال ۔

ادرک

ادرک سے بھی اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، ادرک کی کچھ مقدار چبانے سے طبیعت میں بہتری آسکتی ہے۔ ادرک فلیور کی کینڈیز بھی دستیاب ہیں۔

پودینے سے بھی مدد لیں

پودینے کو کھانا بھی جسم کو پرسکون بناسکتا ہے، اس کی مہک بھی ذہن کو پرسکون بنا دیتی ہے۔ پودینے کی کینڈیز بھی چوری جا سکتی ہیں۔

تازہ ہوا

تازہ ہوا میں گہری سانسیں لینے سے بھی سر چکرانے یا جی متلانے کے مسئلے میں کچھ کمی آجاتی ہے۔

بچنے کے چند طریقے

ہمیشہ ایسی پوزیشن میں بیٹھیں جس میں آنکھیں وہی حرکت دیکھیں جو جسم اور اندرونی کان محسوس کرے۔

گاڑی میں ایسے افراد کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر سامنے کی جانب دور کے منظر کو دیکھنا چاہیے۔

کشتی میں سفر کے دوران سامنے کی جانب دیکھیں۔

ٹرین اور ہوائی جہاز میں کھڑکی والی نشست پر بیٹھیں اور باہر دیکھیں، اگر ممکن ہو تو کھڑکی والی نشست لیں جو جہاز میں پروں کے ساتھ ہوتی ہے ۔اس سے بھی یہ اثر کم ہوسکتا ہے۔

اگر موشن سکنس کا سامنا ہوتا ہے تو سفر کے دوران کچھ پڑھنے سے یا وڈیوز دیکھنے گریز کریں یا ایسی نشست پر مت بیٹھیں جس میں آپ کا چہرے کا رخ حرکت کے مخالف سمت میں ہو۔

اگر یہ مسئلہ اکثر درپیش ہوتا ہے تو سفر سے پہلے اور اس کے دوران تیز خوشبو اور مصالحے دار یا چکنائی والی غذاﺅں سے گریز کریں۔

اگر ممکن ہو تو، لیٹنے، آنکھیں بند کرنے، سونے یا آسمان کو دیکھنے کی کوشش کریں۔

پانی زیادہ پیئیں۔

کیفین والے مشروبات کو محدود کریں۔

تھوڑی مقدار میں کھانا کھائیں۔

تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔

یہاں تک کہ تھوڑی دیر کے لیے رک جانے سے بھی مدد ملتی ہے۔

⬅️ ادویات کا استعمال

اس حوالے سے ادویات بھی موثر ثابت ہوسکتی ہیں مگر بہتر ہے کہ ان کا انتخاب ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جائے۔ ان میں سے بہت سی دوائیں غنودگی کا سبب بن سکتی ہیں۔

⬅️ بچوں کے لیے خصوصی خیال

2 سے 12 سال کی عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہے۔ کچھ دوائیں بچوں کے لیے تجویز نہیں کی جاتی صرف ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں دیں۔

اگرچہ یہ دوائیں لوگوں کو نیند میں مبتلا کر سکتی ہیں، لیکن اس کا کچھ بچوں پر الٹا اثر ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زیافہ ایکٹیو ہو جاتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ کیا آپ کو سفر سے پہلے اپنے بچے کو دوا دینا چاہیے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

عام طور پر یہ مسئلہ سفر ختم ہونے پر غائب ہوجاتا ہے، تاہم اگر سر چکرانے، سردرد، قے ہونے، سننے میں مشکل یا سینے میں درد کی شکایت ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔




Al-Ghaffar is the name of Allah, the Almighty, which means the One that forgives often, over and over again.  Allah does...
27/10/2023

Al-Ghaffar is the name of Allah, the Almighty, which means the One that forgives often, over and over again. Allah doesn't expect us to be perfect. He wants to see us trying our best. He is forgiving to His creatures as long as they are making a sincere effort to better themselves. Before you go to sleep every night, from the bottom of your heart ask Allah to forgive your sins, your families, and of the Ummah.




اینزائٹی   -   Anxiety (گھبراہٹ)  "گھبراہٹ" ایک عام انسانی احساس ہے۔  ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل...
26/10/2023

اینزائٹی - Anxiety
(گھبراہٹ)

"گھبراہٹ" ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گذرتے ہیں۔

کسی خطرے سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں بہت سے اہم کاموں سے بھی روک سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہماری زندگی مشکل یا تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔

⬅️ اینزائٹی کی وجوہات

انزائٹی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں

• ماضی یا بچپن کے تجربات
• آپ کی زندگی کی موجودہ صورتحال
• جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل
• تھکن یا تناؤ کا بڑھ جانا
• زندگی میں اچانک تبدیلی یا غیر یقینی صورتحال
• پڑھائی یا کام کے دوران دباؤ محسوس ہونا
• طویل کام کے گھنٹے
• جاب نہ ہونا یا نہ ملنا
• مالی مسائل
• رہائش کے مسائل اور بے گھر ہونا
• ماحولیات یا قدرتی آفات کے بارے میں فکر مند ہونا (جسے کبھی کبھی موسمیاتی اضطراب یا ماحولیاتی اضطراب کہا جاتا ہے)
• اپنے کسی قریبی عزیز کو کھونا
• تنہائی یا الگ تھلگ محسوس کرنا
• بدسلوکی، یا ہراساں کیا جانا، بشمول نسل پرستی ، تعصب ، مذہب پرستییا فرقہ پرستی کا سامنا کرنا۔
• کچھ نفسیاتی ادویات
• جسمانی صحت کے مسائل کے لیے کچھ ادویات
• منشیات اور الکحل۔

• حتیٰ کہ چائے کافی میں موجود کیفین بھی ہم میں سے کچھ افراد کو تکلیف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے لیے کافی ہے
تاہم دوسری طرف یہ واضح نہٰیں ہے کہ کوئی مخصوص شخص کیوں گھبراہٹ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ ان کی شخصیت ، ان پر گزرنے والے واقعات اور زندگی کی تبدیلیوں پر منحصر ہوتا ہے۔

⬅️ مدد طلب کرنا

اگر ہمیں بہت زیادہ دباؤ میں رہنا پڑے تو ہم بیشتر وقت پریشان اور خوفزدہ رہیں گے۔ ہم عام طور پر ان کیفیات کا مقابلہ کرلیتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی وجہ پتہ ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورتحال کب ختم ہوگی ۔مثلاً ڈرائیونگ ٹیسٹ سے قبل ہم میں سے بیشتر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں لیکن ہم اس پر قابو پالیتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ٹیسٹ ختم ہونے کے ساتھ ہی گھبراہٹ بھی ختم ہوجائے گی۔

لیکن بعض لوگ بہت زیادہ وقت کے لیے ان گھبراہٹ اور خوف کے احساسات کا شکار رہتے ہیں، انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں کس وجہ سے گھبراہٹ ہو رہی ہے اور یہ گھبراہٹ کب اور کیسے ختم ہوگی ۔ اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے اور اس سلسلے میں عام طور پر کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر اوقات لوگ اس سلسلے میں مدد نہیں حاصل کرنا چاہتے کیونکہ انھیں یہ لگتا ہے کہ لوگ انھیں پاگل سمجھیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ ش*ذ و نادر ہی کبھی شدید قسم کی دماغی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جتنی جلدی مدد حاصل کی جائے اتنا ہی بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ خاموشی سے تکلیف برداشت کی جائے۔

گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ ان احساسات کے بارے میں کسی سے حتیٰ کہ گھر والوں یا قریبی دوستوں سے بھی بات نہیں کرتے ۔ اس کے باوجود یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں ۔اس مسئلے میں مبتلا فرد پیلاہٹ اور تناؤ کا شکارنظر آئے گا اور معمول کی آوازوں مثلاً دروازے کی گھنٹی یا کار کے ہارن سے بھی بہت زیادہ چونک جائے گا۔ وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے قریبی افراد سے بحث مباحثہ ہوسکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ان کو یہ اندازہ نہ ہو کہ مریض کچھ مخصوص کام کیوں نہیں کر پا رہا۔ گو کہ دوست اور گھر والے گھبراہٹ کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو سمجھتے ہیں تاہم اکثر انھیں یہ تمام پریشانیاں بلا وجہ لگتی ہیں۔

بچوں میں گھبراہٹ اور فوبیا

اکثر بچے کبھی نہ کبھی کسی وجہ سے ڈر جاتے ہیں ۔ نشوونما کے دوران یہ معمول کی بات ہے۔ مثلاً چھوٹے بچے اپنی دیکھ بھال کرنے والےافراد سے مانوس ہوجاتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے وہ ان سے الگ ہوجائیں تو بچے بہت پریشان ہوجاتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔ بہت سے بچے اندھیرے یا فرضی وجود (جن بھوتوں)سے ڈرتے ہیں۔ یہ خوف عام طور پر بڑے ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اور بچوں کی زندگی یا ان کی نشوونما کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔ زیادہ تر بچے اسکول کے پہلے دن جیسے اہم واقعات کے بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں یہ خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس نئی صورتحال کے عادی ہو کر اس سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں۔

نوجونوں کا مزاج اکثر بدلتا رہتا ہے ۔ ان کی پریشانیوں کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں مثلاً وہ کیسے لگ رہے ہیں، دوسرے لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، عموماً لوگوں سے ان کے تعلقات کیسے ہوتے ہیں اور خصوصاً صنف مخالف کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں ۔ ان پریشانیوں کے بارے میں بات چیت کرکے ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر یہ پریشانیاں بہت بڑھ جائیں تو اور لوگ اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ اسکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے، ان کا رویہ بدل گیا ہے یا وہ جسمانی طور پر ٹھیک نہیں ہیں۔

اگر کوئی بچہ یا نوجوان یہ محسوس کرے کہ پریشانی، گھبراہٹ یا خوف اس کی زندگی تباہ کررہے ہیں تو اسے فیملی ڈاکٹر ، سائیکالوجیسٹ یا سائکاٹرسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔

⬅️ اینگزائٹی کا شکار لوگوں کی مدد

⬅️ مسئلے کے بارے میں گفتگو کرنا

یہ اس صورت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جب مسئلہ فوری نوعیت کا ہو مثلاً شریک حیات سے علیحدگی، بچے کی بیماری یا نوکری کا چھوٹ جانا، کسی عزیز کا فوت ہو جانا ۔

⬅️ کس سے بات کی جائے؟
ایسے دوست یا رشتے داروں سے بات کریں جن پر آپ اعتماد کرتے ہوں، جن کی رائے کو اہمیت دیتے ہوں اور جو آپ کی بات اچھی طرح سنتے ہوں۔ شاید وہ بھی ایسے مسائل سے گزر چکے ہوں یا ایسے کسی شخص کو جانتے ہوں جو ان ہی حالات کا شکار رہا ہو۔ بات کرنے کے موقع کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں نے ایسے مسائل کا سامنا کس طرح کیا تھا۔

⬅️ پرسکون رہنا سیکھیں

پرسکون رہنے کا کوئی مخصوص طریقہ سیکھنا گھبراہٹ اور پریشانی پر قابو پانے میں مفید ہوسکتا ہے۔ یہ گروپ کی صورت میں بھی سیکھا جا سکتا ہے، ماہرین کی مدد سے بھی، اور اس کے علاوہ کتابوں اور وڈیو ٹیپس کے ذریعے ہم خود بھی یہ طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اس عمل سے اس وقت صحیح فائدہ ہوتا ہے جب اسے باقاعدگی سے کیا جائے بجائے اس کے کہ صرف اس وقت کیا جائے جب انسان کسی مسئلے کا شکار ہو۔

⬅️ سائیکو تھیراپی

یہ بات چیت کا ایک زیادہ جامع طریقہ ہےجس سے ہمیں گھبراہٹ کی ان وجوہات کو جاننے میں مدد مل سکتی ہے جنھیں ہم اب تک خود پہچان نہیں پائے۔ اس طریقے پر عمل انفرادی یا گروپ کی صورت میں کیا جاسکتا ہے اور عام طور پر یہ ہفتہ وار بنیادوں پر کئی ہفتوں یا مہینوں تک کیا جاتا ہے۔ سائیکو تھیراپسٹ ڈاکٹر بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ لیکن ہر ڈاکٹر سائیکوتھراپی میں مہارت نہیں رکھتا۔

⬅️ ادویات

گھبراہٹ کو ختم کرنے میں کچھ ادویات بہت موثر ثابت ہوتی ہیں تاہم اس بات کا خیال رہے کہ صرف چار ہفتوں کے باقاعدہ استعمال سے انسان ان کا عادی بن سکتا ہے اور جب لوگ انھیں چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں ناخوشگوار علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکافی عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ گھبراہٹ کے لمبے عرصے کے علاج کے لیے ان ادویات کا استعمال مستند سائکاٹرسٹ کے مشورے سے ہی کرنا چاہیئے۔

⬅️ اینٹی ڈیپریسنٹ ادویات

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو گھبراہٹ اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن (جس کے لیے یہ عام طور پر تجویز کی جاتی ہیں) کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کچھ ادویات کسی مخصوص قسم کی گھبراہٹ پر مخصوص اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہ دو سے چار ہفتوں میں اثر کرتی ہیں اور ان کے نتیجے میں متلی، غنودگی، سر چکرانا، منہ کا خشک ہونا اور قبض جیسی شکایات ہوسکتی ہیں۔

⬅️ بیٹا بلاکرز

بیٹا بلاکرز عام طور پر ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ کم مقدار میں یہ گھبراہٹ سے ہونے والے جسمانی کپکپاہٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اور لوگوں سے ملاقات یا پبلک میں تقریر کرنے سے تھوڑی دیر پہلے انھیں لیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق استعمال کئے جاتے ہیں۔




زینتھیلیزما   - Xanthelasma اگر آپ کی ایک  یا دونوں آنکھوں کے گرد اس قسم کا سفید دانہ یا نشان یا ایک سے زیادہ نشان ہیں ت...
25/10/2023

زینتھیلیزما - Xanthelasma

اگر آپ کی ایک یا دونوں آنکھوں کے گرد اس قسم کا سفید دانہ یا نشان یا ایک سے زیادہ نشان ہیں تو آپ کو اپنا کولیسٹرول چیک کروا لینا چاہئے ۔

ٹیسٹ کا نام :
فاسٹ لیپڈ پروفائل (Fasting Lipid Profile)
ٹیسٹ سے پہلے 8 گھنٹے تک کچھ نہ کھائیں پیئیں سوائے سادہ پانی کے۔ صبح ناشتے سے پہلے ٹیسٹ کروانا بہتر ہے۔

یہ سفید نشان خون میں زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز ہونے کی وجہ سے آنکھوں کی جلد ہر ظاہر ہوتے ہیں۔

انہیں زینتھیلیزما(xanthelasma) کہتے ہیں۔

کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز نارمل ہونے پر یہ خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یہ نقصان دہ نہیں ہوتے ، اس لئے اگر ٹھیک نہ بھی ہوں تو کوئی نقصان نہیں دیتے ۔
کاسمیٹک علاج کروایا جا سکتا ہے ، جس میں کیمیکل پیل، لیکوئیڈ نائٹروجن (کرایوتھراپی) اور لیزر سے علاج شامل ہیں۔


قبض  -  Constipationقبض ایک عام مسئلہ ہے اور یہ ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ آپ عام طور پر اپنی خوراک اور طرز زندگی...
19/10/2023

قبض - Constipation

قبض ایک عام مسئلہ ہے اور یہ ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ آپ عام طور پر اپنی خوراک اور طرز زندگی میں سادہ تبدیلیوں سے اس کا علاج کر سکتے ہیں۔ یہ معلومات بالغوں میں قبض کے بارے میں ہے۔ بچوں میں قبض کے بارے میں الگ پوسٹ میں شیئر کیا جائے گا۔

⬅️ قبض کسے کہتے ہیں؟

• پچھلے ایک ہفتے کے دوران کم از کم 3 بار پاخانہ نہیں کیا ہو۔

• پاخانہ اکثر خشک، سخت یا گانٹھ والا ہوتا ہے جس کے ساتھ آپ کو پیٹ میں درد بھی ہو سکتا ہے ، پیٹ پھول سکتا ہے یا آپ بیمار بھی محسوس کر سکتے ہیں۔

⬅️ عام وجوہات:

• جسم کی ضرورت کے مطابق کافی فائبر یا ریشے دار غذا نہ کھانا، یہ ریشہ پھلوں، سبزیوں اور اناج میں پایا جاتا ہے۔
• کافی مقدار میں پانی نہ پینا
• زیادہ حرکت نہ کرنا اور لمبے عرصے تک بیٹھنا یا لیٹنا
• کم فعال ہونا اور ورزش نہ کرنا
• اکثر ٹوائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہونے کو نظر انداز کرنا

• خوراک یا روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی
• کسی دوا کا سائیڈ ایفیکٹ جیسے کی اوپیوئیڈز
• تناؤ، اضطراب یا ڈپریشن
• حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد 6 ہفتوں تک قبض بھی عام ہے۔

⬅️ ش*ذ و نادر ہی قبض کا مسئلہ کسی طبی حالت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑی عمر کے افراد میں اچانک پاخانہ کرنے کی عادات کا تبدیل ہونا کسی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ بیماریاں ہائپوتھائیرائڈزم میں بھی قبض عام ہے۔

⬅️ آپ خود قبض کا علاج اور روک تھام کیسے کر سکتے ہیں؟

اپنی خوراک اور طرز زندگی میں سادہ تبدیلیاں قبض کے علاج میں مدد کر سکتی ہیں۔

پاخانے کو نرم رکھنے اور آسانی سے گزرنے کے لیے:

• کافی مقدار میں پانی پیئیں۔ کم از کم آٹھ سے دس گلاس روزانہ پانی یا دوسرے لیکوئیڈز پیئیں
• اپنی خوراک میں فائبر بڑھائیں۔ سبزیاں ، سلاد ، پھل اس کا اچھا ذریعہ ہیں۔
• اپنی خوراک میں گندم کے علاوہ چوکر، جئی یا السی شامل کریں۔ بغیر چھنے آٹے کی روٹی یا ملٹی گرین آٹے کی بنی روٹی کھائیں۔

• اپنے بیت الخلا کے معمولات کو بہتر بنائیں ۔ روزانہ باقاعدگی سے ایک ہی وقت مقرر کیا جا سکتا ہے ۔ اپنے آپ کو بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے کافی وقت دیں۔
• اگر آپ کو پیاس لگی ہو تو دیر نہ کریں اور جلد پانی پیئیں۔
• روزانہ چہل قدمی یا دوڑ آپ کو زیادہ باقاعدگی سے پانی پینے میں مدد دے سکتی ہے۔

• اگر ان سے بہتری نہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں
وہ ایک مناسب laxative تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ وہ دوائیں ہیں جو آپ کو زیادہ باقاعدگی سے پاخانہ کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ انہیں صرف مختصر وقت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان میں شامل ہیں ادویات جیسے کہ لیکٹولوز، سوڈیم پیکوسلفیٹ ، لیکوئیڈ پیرافن، میکروگول، وغیرہ شامل ہیں اور ڈاکٹر سے تجویز کردہ دوا ہی لینا چاہئے ۔

⬅️ ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟

• قبض گھر پر علاج سے بہتر نہیں ہو رہی۔
• بار بار قبض ہونا اور یہ طویل عرصے تک رہتا ہو۔
•طویل مدت تک قبض رہے۔
• پاخانے میں خون آئے۔
• غیر ارادی طور پر وزن کم ہو جائے۔
• قبض کے ساتھ ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہو۔
• آپ ایسی دوا لے رہے ہیں جو قبض کا سبب بن رہی ہے – جیسے اوپیئوئیڈ درد کش ادویات۔ دوا لینا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

⬅️ طویل مدتی قبض کی پیچیدگیاں:

طویل مدتی قبض کی وجہ سے پاخانہ بڑی آنت (ملاشی) کے آخری حصے میں پھنس جائےتو اسے فیکل امپیکشن کہتے ہیں۔

فیکل امپیکشن کا علاج:

• سپپوزٹری - دوا جو آپ اپنے نیچے رکھتے ہیں۔
• اینیما – جہاں لیکوئیڈ نیچے سے آنت میں جاتا ہے۔ یہ آپ کو خود نہیں کرنا چایئے یہاں تک کہ آپ کو تجویز نہ کیا گیا ہو یا خود کرنے کی ہدایات اور طریقہ سمجھ کر کر سکتے ہوں۔


Address

Attock City

Telephone

+923495481489

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ️Achral Nursing Care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to ️Achral Nursing Care:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram