Annhmc

Annhmc The Scientific World of Nature
Healthy Nutrition & Natural Medicine News,
Dr Farhan Ghuman

07/09/2022
24/05/2020
چہرے کے کیل مہاسے دانے قابل علاج ہیں ۔💞❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣یہ ایک ایسی جلد کی بیماری ہے جس میں چہرے پر کیل مہاسے اور سرخی دار ...
21/01/2020

چہرے کے کیل مہاسے دانے قابل علاج ہیں ۔💞
❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣
یہ ایک ایسی جلد کی بیماری ہے جس میں چہرے پر کیل مہاسے اور سرخی دار دانے بن جاتے ہیںاس میںریڈ ہیڈز،وائٹ یا بلیک ہیڈز بھی شامل ہیں۔ وجوہات: ۱۔ عمر کے مختلف حصوں میں جب ہارمونز کی تبدیلیاں ہوتی ہیں جیسے بلوغت سے پہلے یا بعد میں،حمل کے دوران،پیدائش میں وقفے کی گولیاں استعمال کرتے ہوئے یا بہت زیادہ پریشانی اور ذہنی دباو کی وجہ سے ایکنی ہوتی ہے۔ ۲۔بہت سی ادویات کی وجہ سے جن میں سٹیرائیڈز ہوں۔ ۳۔ جن دنوں ہوامیں بہت زیادہ نمی ہو یا بہت زیادہ پسینہ آتا ہو۔ ۴۔ ایسی خوراک جس میں بہت زیادہ شوگر ہوجسے چاکلیٹ یا کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے ۔ ایکنی کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں۔ ۱۔ معمولی ایکنی،۲۔ درمیانی سٹیج،۳۔ سنجیدہ ایکنی علامات ۔بلیک ہیڈز،وائٹ ہیڈز، خارش، مختلف رنگوں کے باریک دانے، سرخی مائل دانے روک تھام:۱۔ اپنے چہرے کو ایسے صابن سے دھوئیں جو جلد کو خشک نہ کرے، زیادہ بہتر ہے کہ کوئی اچھا فیس واش استعمال کریں کیونکہ صابن میں کچھ ایسے تیزکیمیکلز ہوتے ہیں جو جلد کے لیے نقصان دہ ہو جاتے ہیں صابن چونکہ رگڑنے کے بعد جھاگ بناتا ہے تو رگڑ سے بھی جلد کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔اس کے برعکس فیس واش انتہائی نرمی سے جلد کو صاف کرتا ہے کیونکہ لیکوئیڈ ہونے کی وجہ سے اس کو رگڑنانہیـں پڑتا اور اس کے اجزاء بھی جلد کے لیے نقصان دہ نہیں ہو تے ۔ ۲۔موسم میں نمی کے تناسب اور ٹمپریچر کو مد نظر رکھتے ہوئے کم از کم دن میں 2 سے 3 بار منہ دھوئیں۔ ۳۔ اپنی جلد پر موجود ایکنی کو دبا کر توڑنے سے اور ختم کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے یہ مستقل داغ چھوڑ جاتے ہیں۔ ۴۔ اپنے ہاتھوں اور ناخنوں سے بار بار چہرے کو نہ کھرچیں۔ ۵۔کوئی چکنی کریم اورمیک اپ کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ ۶۔ رات کو سونے سے پہلے میک اپ ضرور صاف کرکے سوئیں۔ اگر ان ہدایات پر عمل کر نے کے بعد بھی ایکنی ٹھیک نہ ہو تو ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کے بعد ادویات کا استعمال کریں۔ علاج:۱۔ قدرتی نیچرل ہومیوپیتھک اینٹی بائیو ٹک ادویات استعمال کریں۔ ۲۔ہومیوپیتھک ۔ اینٹی بائیو ٹک کریم اور لوشن استعمال کریں۔ ۳۔ میڈیکیٹیڈ فیس واش کا استعمال کریں۔ ۴۔ پانی کا بہت زیادہ استعمال کریں۔ ۵۔ باقائیدگی سے ورزش کریں۔ ۶۔ اپنی روز مرہ زندگی میں پانی کا استعمال زیادہ کریں۔ درمیانی سٹیج ایکنی کی اس قسم کی علامات در ج زیل ہیں۔ .1 پیپ والے دانے،.2 سرخی مائل دانے، .3نیل والے دانے، .4 مہاسے، .5 یہ زیادہ تر ان جگوں پر ہوتی ہے جہاں آئل پیدا کرنے والے گلینڈز زیادہ ہوں۔جیسے چہرے پر چھال کے اُوپر والے حصیّ پراور کمر پر۔ .6 بعض اوقات ان حصوّں پر ایکنی کی وجہ سے درد شروع ہو جاتا ہے۔ تشخیص :ایکنی کی تشخیص ڈاکٹر کے معائنے سے ہی ہو جاتی ہے لیکن بعض اوقات درج ذیل اوقات میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ ۱۔ ایسی عورتیں جن کے کسی بھی وجہ سے ہارمونز نارمل نہ ہوں،یا چہرے پر بال آرہے ہوں تو ان کے لیے ہارمونز کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔ ۲۔ ایسی عورتیں جن کو ادویات کے استعمال کے بعد ایکنی سے چھٹکارہ نہ مل رہا ہو تو Caltuse Skin Resior کرواتے ہوں۔ روک تھام: 1 دن میں کم از کم2 سے 3 بار اچھے فیس واش کا استعمال کریں۔ 2 باقائدگی سے ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ 3 تلی ہوئی، مرچ مسالے والی چیزوں سے پرہیز کریں۔ 4 کچی سبزیوں،پھلوں اور تازہ جوس کا استعمال بڑھادیں۔ 5 چاکلیٹ ، کافی اور چائے کا استعمال کم سے کم کریں۔ علاج :(۱) اینٹی بایٹک ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے شروع کریں۔(۲) ایسے لوشن اور کریموں کا استعمال کریں جن میں ہومیوپیتھک نیچرل اینٹی بایٹک شامل ہوں۔(۳) بازار کی مختلف کریموں کا استعمال ختم کردیں۔(۴) میڈیکیٹیڈفیس واش کا استعمال کریں۔ سنجیدہ ایکنی :۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں چہرے کی جلد سرخی مائل دانوں کی وجہ سے بھری دکھائی دیتی ہے اور سوزش محسوس ہوتی ہے ۔یہ زیادہ تر گورے رنگ والے لوگوں پر ہوتی ہے۔زیادہ تر عمر 30-50 سال ہوتی ہے۔ علامات:۔۱۔ جلد کا سرخ ہو جانا،۲۔ جلد کا جلتی محسوس ہونا ،۳۔ آنکھوں سے پانی بہنا،۴۔ سرخ دانے بننا روک تھام:۱۔ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ تیز دھوپ سے بچیں۔۲۔ ذہنی دباو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔۳۔ ایسی ادویات کا استعمال نہ کریں جو ایکنی کو بڑھاتی ہیں۔۴۔ یہ مرچ مسالے والی چیزوں ، الکوحل ، چاکلیٹ،اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال نہ کریں۔ اگران ایکنی کی روک تھام نہ کی جائے تو مریض احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے
اور جلد تمام عمر کے لیے بے رونق ہو جاتی ہے ۔ علاج: ایسے مریضوں کوہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے کے بعد علاج شروع کرنا چاہئے۔ النقیب نیچرل ہیلتھ میڈیکل سنٹر بلمقابل جاز آفس سکٹر 3شریف پلازہ ڈڈیال آزاد کشمیر میں 1970 سے نسل در نسل ہومیوپیتھک نیچرل ریسرچ ٹریٹمنٹ کی سہولت سے سیکڑوں مریضوں کو شفا سے ہمکنار کیا گیا ہے ۔اپنے چہرے کی حفاظت کی جئے اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج سے بغیر سائیڈ افیکٹ کے لائف کو صحت مند اور توانا رکھیں ۔
03015800056

30/10/2019

معلومات ۔

مردانہ نظام تولید..

منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔
یہ ایک سفیدی مائل گاڑھی رطوبت ہے اس کی مخصوص بو ہوتی ہے جسے seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہوتے ہیں۔
اول سیال مواد۔ liqour seminalis یہ انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہوتی ہے۔
دوئم۔ دانے دار مواد۔ granules seminal یہ چھوٹے چھوٹے دانے نما ذرات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی پائے جاتے ہیں۔
انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ مادہ تولید میں۔ درجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ گلیسیتھن
4۔ کولیسٹرین
5۔ البیومی نینیٹ
6۔ روغنی اجزاء۔

مادہ تولید میں سب سے اہم جزو حونیات منی s***ms ہے۔

منی کی اقسام۔۔۔۔۔
مباشرت کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ ناقص منی۔
اس میں گاڑھا پن اور حونیات منی کم ہوتے ہیں۔ ایسی منی کپڑے پر خشک ہونے کے بعد اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔

2۔ خون آمیز منی۔
اس منی میں ہلکی سرخی پائی جاتی ہے۔ منی میں خون شامل ہونے کی وجہ احتلام۔ جلن۔ اغلام بازی۔ اور کثرت مباشرت کی وجہ سے متعلقہ اعضاء اور نالیوں کی سوزش و ورم ہونا ہے۔ کثرت مباشرت سے منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں کو منی تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا تو منی کے ساتھ خون خارج ہونے لگتا ہے۔
3۔ بیکار منی۔
یہ منی پتلی۔ پانی جیسی اور کپڑے پر فورا خشک ہوجاتی پے۔ اس منی میں پس سیلز بھی پائے جاتے ہیں۔

بہترین منی۔
یہ منی کی وہ قسم ہے جو ایک تندرست انسان کے عضو سے خارج ہوتی ہے۔ ایسی منی کپڑے پر دیر سے خشک ہوتی ہے۔ اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ کپڑے کو اکڑا دیتی ہے۔

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

عموما نوجوان منی سے متعلق کچھ مغالطوں کا شکار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت پیش کی جاتی ہے۔

1۔ ایک صحت مند مرد کا مادہ تولید کپڑے پر گرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے اور کپڑے میں سختی پیدا کرتا ہے۔

2۔ اخراج منی کی مقدار اور گاڑھے پن کا عضو تناسل کی ایستادگی پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

3۔ عموما لوگوں کو مغالطہ ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے ستر یا سو قطروں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ قیاس بےبنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منی کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ لعاب دہن کی۔ دونوں کا بدل فوری طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔

4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ج**ع کے بعد عورت کے اندر منی ٹھہرتی نہیں اور خارج ہوجاتی ہے جبکہ ج**ع کے بعد عضو تناسل کو باہر نکالا جائے تو ف*ج vegina کی اگلی پچھلی دیواریں ملنے سے منی کی کچھ مقدار ف*ج سے باہر نکل آتی ہے لیکن ف*ج کے بالائی حصے میں پہنچی ہوئی منی اندر ہی چپک جاتی ہے۔

5۔ پروسٹیٹ گلینڈ کے آپریشن کے بعد کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ج**ع کے بعد منی مثانے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں یہ کیفیت retrograde ej*******on کہلاتی ہے۔ جو کہ عموما آپریشن کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دراصل آپریشن کے دوران پیشاب کی نالی کے پچھلے حصے کا اندرونی عضلہ internal sphincter مجروح ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے منی کی تھیلیوں سے آنے والی اخراجی نالیوں کا رخ پیشاب کی نالی کے بیرونی سوراخ کی سمت ہونے کے بجائے مثانے کی طرف ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق برقرار رکھنے سے خارج شدہ منی مثانے سے پیشاب کرتے وقت باہر خارج ہوجاتی ہے۔

کرم منی۔۔۔ S***mmatozoa

کرم منی یا سپرم 0.05cm لمبا ہوتا ہے۔ یہ تولیدی خلیات منی کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اور منی کا دانے دار حصہ ہوتے ہیں۔ یہ خصیئوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس نطفے یا کرم کی شکل مینڈک کے لاروا سے بہت ملتی ہے۔ یہ نطفے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر 500 ملین سپرمز کو ایک قطار میں سر اور دم ملا کر کھڑا کردیا جائے تو صرف ایک انچ لمبی لکیر بنتی ہے۔ یہ بلوغت کی عمر سے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اور مرتے دم تک بنتے رہتے ہیں۔ سپرم فیرس ٹیوبلز میں پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کا عمل follicle stimulating harmone اور testosterone کے زیر اثر تکمیل پاتا ہے۔ سپرم جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو انزال کی صورت خارج ہوجاتے ہیں۔ اگر سپرم خارج نہ ہوں تو دوبارہ ری جنریٹ ہوکر جسم میں تونائی کا باعث بنتے ہیں۔ مرد کے مباشرت کرنے سے یہ بڑی تعداد میں خارج ہوجاتے ہیں ایک وقت کے انزال میں ان کی تعداد دو سے پانچ سو ملین ہوتی ہے۔
ہر سپرم کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ سر Head اس کی مدد سے سپرم بیضہ میں داخل ہونے کیلیئے راستہ بناتا ہے۔ اس کا سر نیزے کی شکل کا ہوتا ہے
2۔ جسم۔ body
یہ سپرم کا درمیانی حصہ ہے جو جسم کہلاتا ہے۔ اس حصے سے حاصل کردہ توانائی کی وجہ سے سپرم کی دم حرکت کرتی ہے۔ اور سپرم تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
3۔ دم۔ Tail
دم کی حرکت سے سپرم تیرتا ہے اور بیضہ میں چھید کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

کرم منی s***m کے افعال۔۔۔۔
1۔ یہ اندام نہانی میں خارج ہونے کے ڈیڑھ منٹ بعد رحم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ سپرم کی نارمل رفتار دو سے تین ملی میٹر فی منٹ ہوتی ہے۔
3۔ یہ عورت کے بیضہ سے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں۔ اور حمل قرار پاتا ہے۔
4۔ سپرم کو پختہ ہونے میں تقریبا دس ہفتے لگ جاتے ہیں۔
5۔ ہر جرثومہ میں 23 کروموسومز پائے جاتے ہیں مگر صرف ایک جرثومہ بچہ بناتا ہے۔
6۔ ایک خصیئہ 1500 سپرمز فی سیکنڈ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذہنی پریشانی اور ٹینشن کا شکار شخص میں یہ شرح نہایت کم ہوجاتی ہے۔
7۔ ایک صحت مند بالغ مرد ایک دن میں تقریبا 500 ملین سپرمز پیدا کرتا ہے۔
8۔ سپرمز کی زندگی تقرئبا 72 گھنٹے ہوتی ہے۔ اگر اندام نہانی کا ماحول تیزابی ہوتو اس کی زندگی فقط چھے گھنٹے رہ جاتی ہے۔

مرد کے کرم منی s***ms کا صحت مند ہونا صحت مند اولاد کی بنیادی شرط ہے۔ اگر مرد تمباکو نوشی شراب نوشی۔ تھکن کا شکار۔ وائرسی امراض میں مبتلاء ہوتو سپرمز نہایت کمزور ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قدرتی اور تازہ غذائیں کھانے والے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا پائے گئے ہیں۔ بچے کی پلاننگ کیلیئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کیفین ملے مشروبات اور ایسی چیزیں نہ کھائیں پیئیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر ضرر رسان اثرات کی حامل ہوں۔ خیال رہے کہ کرم منی مرد کی صحت کا آئینہ ہوتا ہے۔ صحت اچھی ہوگی تو کرم منی بھی صحت مند و تندرست ہونگے۔ کیفین ملی اشیاء کا استعمال سپرمز کو کمزور کردیتا ہے۔

منی کا لیبارٹری تجزیہ۔۔۔۔
Semen Analysis

سیمن اینالائسز یعنی منی کا لیبارٹری تجزیہ مردانہ بانجھ پن کا پتہ لگانے والا بنیادی ٹیسٹ ہے۔ کسی تشخیص سے پہلے یہ ٹیسٹ کرلینا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کیلیئے مرد کو ہاتھ کے زریعے اپنا مادہ منویہ نکالنا پڑتا ہے اس مادے کا آدھے گھنٹے کے اندر اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرلیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان مرد کی منی کے سپرمز کی طبعی مقدار و تعداد ذیل ہوگی۔ ۔۔

منی کی طبعی مقدار Normal values...

1۔ مقدار volume
اس کی نارمل مقدار 1.5 سے 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ نارمل سے زیادہ یا کم مقدار اثرانداز ہوتی ہے۔

2۔ لیس دار viscosity
نارمل منی انڈیلی جائے تو قطرہ قطرہ گرتی ہے۔ زیادہ گاڑھی یا پتلی منی نامل تصور نہیں کی جاتی۔

3۔ مائع حالت۔ liquification
تازہ منی دس سے پندرہ منٹ میں مائع حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تیس منٹ تک منی کو مائع میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔

4۔ مائیکروسکوپک معائنہ Microscopic Exam
اس معائنہ میں سپرم کی تعداد اور حرکت نوٹ کی جاتی ہے۔ جو کہ درج زیل ہے۔
تعداد. S***m count
نارمل سپرم کی تعداد 60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتی ہے اس سے کم سپرم کی تعداد ہو تو اولیگو سپرمیا oligos***mia کہتے ہیں جبکہ سپرم کی تعداد سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایزو سپرمیا azoos***mia کہا جاتا ہے

طبعی حرکت.. motality
نارمل حالت میں سپرم کا حرکت کرنا ضروری ہوتا ہے عمومی طور پر 60 تا80 فیصد سپرم حرکت کرنے چاہیے اگر سپرم کی حرکت 60 فیصد سے کم ہو تو یہ صحت مندی کی علامت نہیں ہے

طبعی شکل.. shape
نارمل منی میں 20 تا 30فیصد سے کم سپرم کی شکل نارمل سے مختلف ہوتی ہے اس سے زیادہ مقدار میں نارمل سے مختلف شکلیں بانجھ پن کا باعث ہو سکتی ہیں۔

خون کے سفید و سرخ زرات. WBC & RBC.......
نارمل منی میں خون کے سفید و سرخ زرات موجود نہین ہوتے اگر یہ موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں حسب علامات سوزش و ورم کے لئے ادویہ کا استمعال ضروری ہوتا ہے۔

عموما شادی کے ایک دو سال بعد تک حمل نہ ٹھہرے تو میاں بیوی دونوں کے ٹیسٹ کرا لینے چاہیئے تاکہ کسی کمی کمزوری کے ظاہر ہونے پر فوری علاج کرایا جا سکے اکثر مرد اپنا ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں حالانکہ مردانہ ٹیسٹ نہایت آسان ہوتا ہے عمومی طور پر منی کا تجزیہ درج ذیل کفیات مین معاون ثابت ہوتا ہے.
ہومیوپیتھک میں اولاد نہ ہونے کے ہر مسائل کا مکمل اور تفصیلی علاج موجود ہے ۔۔۔۔
ہمارا ادارہ عرصہ 50سال سے نسل در نسل ہزراوں مریضوں کو شفا سے ہمکنار کر چکا ہے ۔
اپنے اردگرد موجود ایسے مریض جو بے اولادی جیسی مرض میں مبتلا ہیں ان کی راہ نمائی کریں انہیں نیچرل ریسرچ ٹریٹمنٹ کی طرف راغب کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔
النقیب نیچرل ہیلتھ میڈیکل سنٹر ڈڈیال آزاد کشمیر۔
ڈاکٹر محمد فرحان گھمن ۔
03015800056

27/03/2019

خواتین میں بانجھ پن کی وجہ دماغ ہے بیضہ دانی کی خرابی نہیں،
تحقیق

نئی تحقیق کے مطابق خواتین کے بیضہ دان کے افعال کو نقصان پہنچانے والی پچیدہ بیماری ’پولی سسٹک اووریز سنڈروم‘ کا تعلق اووری سے نہیں بلکہ دماغ سے ہوتا ہے۔ ماہرین امراض زچہ و بچہ کے مطابق خواتین میں بانجھ پن کی ایک وجہ بیضہ دانی میں خرابی ہے جسے (Polycystic O***y Syndrome) کہا جاتا ہے اس بیماری کے باعث اووری میں بیضہ نہیں بن پاتا ہے اور بیضے کی رحم میں غیر

موجودگی کے باعث خواتین حاملہ نہیں ہو پاتیں۔ کہا جاتا تھا کہ یہ بیماری اووری میں گلٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ میں موجود ایک ہارمون ’اینڈروجن‘ ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے مادہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے۔ سائنس دانوں

نے چوہیا کے رحم میں اینڈروجن ہارمون کو وصول کرنے والے ریسیپٹر کو آپریشن کرکے ہٹا دیا تا کہ دماغ سے خارج ہونے والے اینڈروجن ہارمون کو وصول نہیں کیا جاسکے اس طرح پولی سسٹک اووری سنڈروم نہیں ہو پائے گی لیکن حیرت انگیز طور پر اینڈروجن ریسپیٹرز کو نکالنے کے باوجود چوہیا کو یہ مرض لاحق ہو گیا۔سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے لیے مادہ چوہوں کو چار گروپ میں تقسیم کیا۔ پہلے گروپ میں نارمل چوہیا، دوسرے گروپ میں ایسی چوہیا تھیں جن میں اینڈروجن ریسیپٹرز جسم کے کسی حصے میں موجود نہیں تھے،

تیسرے گروپ میں ایسی مادہ تھیں جن کے دماغ میں اینڈروجن ریسیپٹرز نہیں تھے جب کہ چوتھے گروپ میں شامل مادہ میں اینڈروجن ریسیپٹرز اووری میں موجود نہیں تھے۔سائنس دانوں نے چاروں گروپ کو اینڈروجن کی ہائی ڈوز فراہم کیں جس کے بعد دیکھا گیا کہ نارمل چوہیا توقع کے مطابق پولی سسٹک کا شکار ہوگئیں اسی طرح جن میں اینڈروجن ریسیپٹرز اووری میں موجود نہیں تھے وہ بھی پولی سسٹک اووری کا شکار ہوگئیں لیکن صرف جن چوہیا کے دماغ میں اینڈروجن ریسیپٹرز نہیں تھے وہ اس بیماری سے محفوظ رہیں۔اس نتائج سے دو باتیں ثابت ہوئیں اول یہ کہ پولی سسٹک اووریز کا تعلق اینڈروجن ہارمون سے ہے، دوم بات یہ کہ صرف دماغ میں موجود اینڈروجن ریسیپٹرز اس بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ

اگر کسی طرح دماغ میں موجود اینڈروجن ریسیپٹرز تک رسائی حاصل کرلی جائے تو پولی سسٹک اووریز سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔سربراہ تحقیقی ٹیم کرسٹی والٹرز کا کہنا ہے کہ مادہ چوہے کا نظام تولیدی انسانی نظام کی طرح ہوتا ہے اس طرح چوہوں پر کی گئی اس تحقیق کو خواتین پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے جس کے نتائج میں دیکھا گیا ہے کہ صرف اووری میں موجود اینڈروجن ریسیپٹرز اس بیماری کا ماخذ نہیں بلکہ دماغ میں موجود ہارمون ہیں جب کہ اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ اینڈروجن کی زیادتی پولی سسٹک اووری سینڈروم کی وجہ بنتے ہیں لیکن یہ کہاں اپنا اثر دکھاتے ہیں

اس حوالے سے ہم اندھیرے میں تھے۔واضح رہے کہ ’پولی سسٹک اووری سنڈروم‘ خواتین میں پایا جانے والا وہ عام مرض بن گیا ہے جس کے باعث خواتین بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتی ہیں۔ بانجھ پن کے اس مرض میں خواتین کے بیضہ دان میں سسٹس بن جاتی ہیں جن کی وجہ سے بیضہ دان بیضہ نہیں بنا پاتے اور یوں خواتین حاملہ نہیں ہوپاتیں اس بیماری کی علامات میں ماہواری میں بے ترتیبی، پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد رہنا، وزن کا بڑھنا اور چہرے پر بالوں کی افزائش ہے۔
حاصلِ مطالعہ

Address

Main Bazar Dadyal, Sector Number 3, Sharif Palaza
Azad Kashmir

Telephone

+923015800056

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Annhmc posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Annhmc:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram