11/08/2024
چوتھی خلط خون ہے یا خلط حمراء
خلط کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نیوٹرینٹ سے بنے
دوسری یہ ہے کہ خلط جگر مین بنے۔
تیسری شرط ہے خلط کا رنگ۔
چوتھی شرط ہے خلط کا اپنے ہم مزاج رکن سے تعلق ہونا۔
پانچوین شرط یہ ہے کہ خلط جسم مین توانائی فراہم کرتی ہے۔
چھٹی شرط یہ ہے کہ خلط جزو بدن ہوتی ہے۔
ساتوین شرط اخلاط کا قوام تر سیال ہوتا ہے۔
اب مندرجہ بالا تمام شرائط کو پہلے خون پر اپلائی کرتے ہین۔ پھر خلط حمراء پر اپلائی کرینگے۔ تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاۓ گا۔ کہ چوتھی خلط کون سی ہے
1۔ خون بطور خلط۔۔۔۔
خون جگر مین پیدا نہین ہوتا بلکہ تمام اعضائے بدنی مین اسکے اجزاء بنتے ہین۔
خون مکمل رطوبت نہین اس,کا اکثر حصہ دانہ دار خلوی اجسام پر مشتمل ہے۔
خون کسی ایک نیوٹرینٹس سے نہین بنتا۔ بلکہ یہ تمام نیوٹرینٹس کا مجموعہ ہے۔
خون مجموعہ ہے بہت سے اجزاء کا یہ کسی ایک عضو کی خوراک نہین بلکہ تمام اعضاء تک اخلاط پہنچاتا ہے۔
خون خلیات پر مشتمل ہے اور خلیات خلط نہین ہوسکتے۔
خون کا رنگ سرخ ہے۔ حالانکہ خون کی یہ سرخی بھی RBC مین خلط حمراہ کے دخول سے ہوتی ہے۔
2۔ اب زرا خلط حمرا پر غور کرلین۔
پہلی شرط کے مطابق یہ واقعی جگر مین بنتی ہے۔
دوسری شرط کے مطابق یہ نیوٹرینٹ پروٹین سے بنتی ہے۔ تیسری شرط یہ جسم کو توانائی دیتی ہے۔
چوتھی شرط یہ خلیات مین جزو بدن ہوتی ہے۔
پانچوین شرط اس کا رنگ سرخ ۔
چھٹی شرط اس کا تعلق رکن ھوا سے ہے۔ آکسیجن جذب کرنے سے ہے۔