09/11/2025
اسٹریس اور شوگر
ــــــــــــــــــــــــــ
شوگر صرف میٹھا کھانے سے نہیں بڑھتی بلکہ اسٹریس (ذہنی دباؤ) سے بھی بڑھتی ہے۔ جب انسان ذہنی دباؤ میں آتا ہے تو دماغ "اسٹریس ہارمون" یعنی کارٹی سول خارج کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ایڈرینالین ہارمون کا اخراج بھی ہوتا ہے۔
پہلا ہارمون کارٹی سول جسم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ خطرہ موجود ہے، لہٰذا توانائی یا شوگر بڑھاؤ تاکہ دفاع کیا جا سکے۔ اس پیغام کے نتیجے میں جگر اور پٹھے (Muscles) اپنے اندر موجود گلیکو جن (گلوکوز کا ذخیرہ) توڑ دیتے ہیں، اور یہ اضافی گلوکوز خون میں شامل ہو جاتا ہے۔
دوسرا ہارمون ایڈرینالین دل کی دھڑکن تیز کرتا ہے اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسم کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ انسولین مت بناؤ کیونکہ ابھی جسم "بقا کے موڈ" میں ہے۔ اس طرح انسولین کی پیداوار رک جاتی ہے اور شوگر خون میں موجود رہتی ہے۔
اگر مسلسل اسٹریس جاری رہے، یا معمولی باتوں پر بھی ذہنی دباؤ لیا جائے، تو یہ ہارمونی نظام تباہ کر دیتا ہے۔
خون میں شوگر کا زیادہ ہونا صرف شوگر (ذیابطیس) ہی نہیں پیدا کرتا بلکہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کے ساتھ فالج اور دل کے امراض کا بھی باعث بنتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹریس کی وجہ سے زیادہ لوگوں کو معدے میں جلن (ایسڈیٹی) ہو جاتی ہے، کیونکہ دونوں ہارمونی تیزابیت بڑھا دیتے ہیں۔ مسلسل اسٹریس معدے اور نظامِ ہاضمہ کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔
لہٰذا مجاہد ملت کا مشورہ ہے:
"ہر اُس شخص کو بلاک کر دو جو غلط کمنٹ کر کے تمہیں اسٹریس دیتا ہے — زندگی پُرسکون ہو جائے گی!" 😁