Dr Sadia Iqbal

Dr Sadia Iqbal I am Dr. Sadia Iqbal, a Ph.D.

in Applied Psychology with over 11 years of professional experience working with children with intellectual disabilities and 13 years of teaching experience in various renowned universities across Pakistan.

01/03/2026

حالیہ افغانستان اور پاکستان جھڑپوں کے حوالے سے، غزہ کے ایک بھائی لکھتے ہیں:
"تمہیں اپنے آپ پر شرم آنی چاہئیے، اور اپنے اس طرزِ عمل پر ندامت محسوس کرنی چاہیے۔ تم نے کئی طویل مہینوں تک غزہ کو تنہا چھوڑے رکھا، اور جب کہ اس کا خون اب بھی بہہ رہا ہے اور ابھی تک خشک نہیں ہوا، تو تم سب اب اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہو، اپنے ہتھیار تیار کر رہے ہو، اور ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو۔
اللہ کی قسم! یہ ذلت اور رسوائی کی انتہا ہے!
"لا إله إلا الله" کے کلمے کی عزت رکھو، جو تمہیں متحد کرتا ہے!!!
مبارک مہینے رمضان کی حرمت کا خیال رکھو!!!
اس بات پر غور کرو کہ تمہارے درمیان فساد کی آگ بھڑکانے سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے، اور کون تمہاری سرزمینوں میں انتشار اور تباہی چاہتا ہے۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمہارا خون بہانا بند کر دے، تمہیں آپس میں صلح و صفائی عطا فرمائے، اور تم میں سے جو جارح ہے اس کی سازشوں کو ناکام بنا دے۔"
منقول۔۔۔

Stand with Iran
01/03/2026

Stand with Iran

15/02/2026
ہمارے معاشرے میں مرد کی نظر میں عزت کا مفہوم بہت محدود ہے۔وہ عزت صرف اپنی بیٹی، اپنی بیوی، اپنی بہن اور اپنے گھر کی عورت...
08/02/2026

ہمارے معاشرے میں مرد کی نظر میں عزت کا مفہوم بہت محدود ہے۔
وہ عزت صرف اپنی بیٹی، اپنی بیوی، اپنی بہن اور اپنے گھر کی عورتوں تک محدود رکھتا ہے۔
اُن کے لیے یہ عورتیں پاکیزہ ہیں، باحیا ہیں، قابلِ احترام ہیں—
اور باقی ساری عورتیں؟
باقی ساری عورتیں اس کی نظر میں بے حیا، بے شرم اور قابلِ تذلیل ہیں۔
یہاں عورت کو اس کے کردار سے نہیں پرکھا جاتا،
بلکہ اس بات سے پرکھا جاتا ہے کہ وہ کس کی ملکیت ہے۔
اگر وہ “اپنی” ہے تو اس کی حفاظت غیرت ہے،
اور اگر وہ “غیر” ہے تو اس پر الزام لگانا، نظریں گاڑنا اور زبان درازی کرنا
معاشرتی حق سمجھا جاتا ہے۔
یہ مرد اپنی بیٹی کے لیے دنیا سے لڑ سکتا ہے،
مگر کسی اور کی بیٹی کی تذلیل پر خاموش رہتا ہے۔
یہ اپنی بہن کے لیے غیرت کا اظہار کرتا ہے،
مگر کسی اور کی بہن کو سڑک پر رسوا ہوتا دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے۔
یہ اپنی بیوی کو عزت کا تاج پہناتا ہے،
مگر دوسری عورت کو صرف ایک “کردار” سمجھتا ہے۔
ہمارے ہاں مرد کے نزدیک
مظلوم صرف وہ عورت ہے جو اس کے اپنے گھر سے تعلق رکھتی ہو۔
باقی عورتیں یہاں پیدائشی مجرم ہیں.
جن پر الزام لگانا آسان ہے،
جن کی عزت اچھالنا جائز ہے،
اور جن کے درد کو نظر انداز کرنا مردانگی سمجھا جاتا ہے۔
یہ معاشرہ عورت کو انسان نہیں مانتا،
یہ اسے صرف رشتہ مانتا ہے۔
جب تک وہ کسی مرد کی بیٹی، بہن یا بیوی ہے تب تک قابلِ احترام،
اور جیسے ہی وہ “غیر” ہوئی—
وہ بے حیا، بے شرم اور بدکردار قرار دے دی گئی۔
اصل بے حیائی عورت کے وجود میں نہیں،
اصل بے حیائی اُس سوچ میں ہے
جو اپنی عورتوں کو عزت دے کر
دوسری عورتوں کو ذلت کے حوالے کر دیتی ہے۔
کیونکہ عزت اگر صرف اپنی عورتوں کے لیے ہو
تو وہ عزت نہیں،
صرف منافقت ہے۔

05/02/2026
جب زندگی کی اصل سمجھ آتی ہے تو اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے، لوگ بدل چکے ہوتے ہیں، اور کچھ ف...
25/01/2026

جب زندگی کی اصل سمجھ آتی ہے تو اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے، لوگ بدل چکے ہوتے ہیں، اور کچھ فیصلے ایسے بن چکے ہوتے ہیں جنہیں پلٹا نہیں جا سکتا۔ تب انسان کے پاس بس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے نصیحت چھوڑ جائے، اپنے تجربات کو لفظوں میں سمیٹ دے، تاکہ شاید کوئی اور وہ درد نہ سہے جو اس نے خود سہا تھا۔

مگر بدقسمتی یہ ہے کہ نصیحت سننا انسان کی فطرت میں نہیں۔ اللہ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ جب تک وہ خود آگ سے نہ گزرے، جلنے کی تپش کا یقین نہیں کرتا۔ کتابوں کے لفظ، بزرگوں کی باتیں، اور چاہنے والوں کی دعائیں بھی تب تک بے اثر رہتی ہیں، جب تک زندگی خود سبق نہ پڑھا دے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ مختلف ہے، اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا، مگر انجام اکثر وہی ہوتا ہے جو پہلے بہتوں کا ہوا ہوتا ہے۔

یہی زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ تجربہ سب سے مہنگا استاد ہے، مگر سبق پختہ دیتا ہے۔ جب زخم خود کے ہوتے ہیں تو آنکھیں کھلتی ہیں، دل نرم ہوتا ہے، اور غرور خاموشی میں بدل جاتا ہے۔ تب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ جو باتیں کبھی فضول لگتی تھیں، وہی دراصل سب سے قیمتی تھیں۔

اور شاید یہی اللہ کی حکمت ہے۔ اگر ہر نصیحت فوراً سمجھ آ جاتی تو نہ صبر جنم لیتا، نہ برداشت، نہ عاجزی۔ زندگی ہمیں توڑتی ہے تاکہ ہمیں سنوار سکے، ہمیں گراتی ہے تاکہ ہمیں اپنے رب کی طرف جھکا سکے۔ آخرکار انسان یہی سیکھتا ہے کہ سمجھ نصیحت سے نہیں، بلکہ تجربے سے آتی ہے—اور جب آتی ہے تو خاموشی کے ساتھ، آنکھوں میں نمی اور دل میں شکر کے ساتھ۔

Dr Sadia Iqbal fans

زندگی ایک ایسا غیر متوقع سفر ہے جس کا کوئی نقشہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ہم راستے میں کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقات کر...
25/01/2026

زندگی ایک ایسا غیر متوقع سفر ہے جس کا کوئی نقشہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ہم راستے میں کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں، ان میں سے کچھ ہمارے ساتھی بن جاتے ہیں اور کچھ صرف چند قدم ساتھ چل کر جدا ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے جب ہم کسی شخص سے بے حد توقعات وابستہ کر لیتے ہیں تو دل کو ٹھیس لگنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ لوگ تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن توقعات تبدیل نہیں ہوتیں۔ جب ہم یہ حقیقت سیکھ لیتے ہیں کہ زندگی میں ہر چیز ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوگی، تو دل میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہم ان لوگوں کا شکر ادا کریں جو ہمارے ساتھ خلوص سے رہتے ہیں، اور جو چھوڑ جاتے ہیں انہیں دل پر بوجھ نہ بنائیں۔ ہر جدائی میں کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا ہے، اور ہر خاموشی ہمیں خود سے جوڑنے آتی ہے۔ کسی سے کچھ مانگنے کے بجائے اگر ہم خود کو مضبوط بنا لیں، تو ٹوٹنے کا خوف کم ہو جاتا ہے۔ جب امیدیں انسانوں سے ہٹ کر اللہ سے جڑ جاتی ہیں، تو مایوسی راستہ بھول جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ کی عطا میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، مگر ناانصافی نہیں۔ یاد رکھیں، زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم بغیر توقع کے محبت کریں، بغیر شکوے کے صبر کریں، اور بغیر گلے کے آگے بڑھتے رہیں۔ یہی رویہ انسان کو باوقار بناتا ہے، اور یہی غیر متوقع سفر کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔

fans

ہم کچھ چاہتے ہیں، اور اللہ ہمارے لیے کچھ اور چاہتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہی غم کہلاتا ہے۔ جب دل اپنی خواہ...
22/01/2026

ہم کچھ چاہتے ہیں، اور اللہ ہمارے لیے کچھ اور چاہتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہی غم کہلاتا ہے۔ جب دل اپنی خواہشوں کو ہی سب کچھ سمجھ لے اور تقدیر کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کر دے، تو غم دل میں گھر کر لیتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ جو ہم نے چاہا وہی بہتر تھا، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ وہ جانتا ہے جو ہم نہیں جانتے۔ ہماری نظر صرف لمحے تک ہوتی ہے، اور اس کی حکمت پوری زندگی کو محیط ہوتی ہے۔ غم دراصل نقصان نہیں، ایک امتحان ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خواہش سے اوپر یقین کو رکھیں۔ جس دن ہم اپنی چاہت کو اللہ کی مرضی کے حوالے کر دیتے ہیں، اسی دن غم عبادت میں بدل جاتا ہے، اور دل کو وہ سکون ملتا ہے جو کسی خواہش کے پورا ہونے سے بھی نہیں ملتا۔ تقدیر کو مان لینا ہار نہیں، بلکہ اللہ پر کامل بھروسا ہے۔ اور جہاں بھروسا آ جائے، وہاں غم ٹھہر نہیں پاتا۔

اگر کوئی شخص آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا ہے، تو آپ کیوں اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ کیا آ...
21/01/2026

اگر کوئی شخص آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا ہے، تو آپ کیوں اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ کیا آپ کی خاموشی اتنی معمولی ہے کہ اسے مسترد کیے جانے کے بدلے قربان کر دیا جائے؟

خاموشی کبھی کمزوری نہیں ہوتی، یہ خودداری کی مضبوط علامت ہوتی ہے۔ بار بار خود کو کسی کے سامنے پیش کرنا جو آپ کی قدر نہ کرے، اپنی عزت نفس کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ وضاحتیں دینا اور توجہ کی امید رکھنا اپنے مقام کو گھٹانے کے برابر ہے۔

یاد رکھیں، جو دل آپ کو محسوس ہی نہ کرے، اس پر اصرار کرنا وقت اور احساس دونوں کا ضیاع ہے۔ جہاں اپنائیت نہیں ہوتی وہاں اصرار بے معنی ہو جاتا ہے، اور جہاں توجہ زبردستی مانگنی پڑے، وہ تعلق اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔

عزت وہاں ہوتی ہے جہاں سوال نہیں ہوتے، جہاں موجودگی بوجھ نہیں بلکہ خوشی سمجھی جاتی ہے۔ خاموشی کا مطلب ہار نہیں، یہ خود سے وفاداری ہے، جو انسان کو غلط دروازوں پر جھکنے سے بچا لیتی ہے۔

خودداری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم صرف وہیں ٹھہرنا چاہتے ہیں جہاں ہمیں خوشی سے قبول کیا جائے، اور وقار یہ کہتا ہے کہ جو ہمیں چھوڑ دے، اسے جانے دیا جائے بغیر شکوے، بغیر فریاد، بس خاموشی کے پورے احترام کے ساتھ۔

اپنی قدر کو اتنا مضبوط بنا لیں کہ جو آپ کو نظر انداز کرے، وہ آپ کی زندگی میں خود بخود بے معنی ہو جائے۔

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sadia Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram