Dr Sadia Iqbal

Dr Sadia Iqbal I am Dr. Sadia Iqbal, a Ph.D.

in Applied Psychology with over 11 years of professional experience working with children with intellectual disabilities and 13 years of teaching experience in various renowned universities across Pakistan.

09/01/2026

ڈپریشن ایک ایسا خاموش عارضہ ہے جو انسان کو اندرونی طور پر توڑ دیتا ہے، جہاں چہرے پر مسکراہٹ کے باوجود دل میں گہرا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ انسان ہنستے ہوئے بھی تنہائی کا احساس کرتا ہے، الفاظ ناکافی لگتے ہیں اور درد باقی رہتا ہے۔ ڈپریشن کا اصل پہلو آنسوؤں میں نہیں بلکہ خاموشی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

07/01/2026

چائے محض ایک مشروب نہیں، یہ تھکن زدہ لمحوں کا سہارا ہے۔
اس کی خوشبو میں سکون اور ذائقے میں محبت بسی ہوتی ہے۔
ہر گھونٹ کے ساتھ دل جیسے کچھ ہلکا سا مسکرا اٹھتا ہے۔
چائے زندگی کے شور میں ایک خاموش سا وقفہ ہے۔ ☕

قلب کو نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی تناؤ سے بچانے کے طریقے۔ یہ عضو نہ صرف خون پمپ کرتا ہے بلکہ ہمارے جذبات، خیالات اور زند...
07/01/2026

قلب کو نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی تناؤ سے بچانے کے طریقے۔ یہ عضو نہ صرف خون پمپ کرتا ہے بلکہ ہمارے جذبات، خیالات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کا محافظ بھی ہے۔ جب انسان نفسیاتی مسائل، جذباتی انتشار اور جسمانی تھکن کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ اثر دل پر پڑتا ہے۔ اس لیے دل کی حفاظت صرف طبی علاج سے نہیں بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی سے بھی ہوتی ہے۔

نفسیاتی تناؤ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خیالات کو کنٹرول کریں۔ ماضی کی تلخیوں یا مستقبل کے خدشات میں الجھے رہنا دل کو بے چین کر دیتا ہے۔ مثبت سوچ، شکرگزاری اور خود اعتمادی دل کو اندرونی قوت بخشتی ہے۔ روزانہ چند لمحات خاموشی میں گہری سانسیں لیں، ذہن کو سکون اور دل کو اطمینان ملتا ہے۔

جذباتی دباؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے جذبات کو دباتے ہیں۔ انہیں کسی قابل اعتماد شخص سے شئیر کرنا، رو لینا، اور خود کو کمزور سمجھنے کے بجائے انسانیت کا مظاہرہ کرنا دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ معاف کرنا، خاص طور پر خود کو، دل کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔

جسمانی تناؤ سے نجات کے لیے توازن والی غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔ تیز چہل قدمی، ہلکی ورزش یا یوگا دل کی دھڑکن کو متوازن اور جسم کو توانائی دیتا ہے۔ نیند کی کمی دل کو خاموشی سے نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے آرام کو ترجیح دیں۔

آخر میں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دل کو سکون دینے کے لیے زندگی کو سادہ بنانا پڑتا ہے۔ غیر ضروری مقابلے، حد سے زیادہ توقعات اور بے جا دوڑیں چھوڑ کر اگر ہم قناعت، توازن اور اللہ پر بھروسہ سیکھ لیں تو دل خود بخود نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی دباؤ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ سکون دل کسی بیرونی چیز میں نہیں بلکہ اندرونی اطمینان میں پوشیدہ ہے۔

06/01/2026

سوال تھا
آپکے شوہر غصے میں آپکو تھپڑ رسید کر دیتے ہیں۔ایک اچھی بیوی کے طور پر آپ کیا کریں گی ؟
روبینہ یاسمین ✍️

کچھ سوال اوپن ڈسکشن کے لئے ہوتے ہیں۔ پتہ تو چلے کہ لوگوں کی رائے کیا ہے۔ میں نے پوسٹ میں نہیں بتایا تھا کہ کیا کریں ۔ اس لئے کہ میں آپکی آزادانہ رائے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتی تھی۔

میں اب بھی نہیں بتاوں گی کہ آپ کیا کریں۔

ہر شخص کی سچویشن منفرد ہوتی ہے اس لئے اسے سوچ سمجھ کر اپنے فیصلے لینے چاہیئیں۔

میں یہ بتانا چاہوں گی کہ اس موضوع پر ہمارے گھر میں کیا رائے یے۔

جب میری شادی ہوئی تو شادی کے شروعات میں ہی شوہر نے واضح کر دیا تھا کہ وہ چخ چخ بدتمیزی اونچا بولنا وغیرہ پسند نہیں کرتے۔ انکے خیال میں اگر بن نہیں رہی تو سمجھدار لوگوں کی طرح الگ ہو جاو بجائے اس کے کہ روز روز رون سیاپا کٹ کٹاپا ہو۔

میرے ہسبینڈ کا خیال ہے کہ ہاتھ اٹھانے سے بہتر ہے کہ علیحدگی اختیار کی جائے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ذلیل بھی ہوں اور ساتھ بھی رہیں۔

کچھ لوگوں نے کہا کہ مارنے کی وجہ جائز ہو مثال کے طور پر چیٹنگ تو مارنا جائز ہے۔

حیرت ہے جو شریک حیات جسمانی بے وفائی تک کر چکا ہے اسے مار پیٹ کر یہ سمجھنا کہ وہ تائب ہو جائے گا۔
مار پیٹ سے تو اسے ایک اچھا جواز ملے گا اس کے ضمیر پر بوجھ بھی نہیں رہے گا ۔

کچھ لوگوں نے جوابی تھپڑ مارنے کی بات کی ہے۔
میں خدانخواستہ ایسی سچویشن میں جوابی تھپڑ نہیں مار سکتی۔ جو چیز مجھے اپنے لئے پسند نہیں وہ میں کسی دوسرے کے ساتھ کیسے کر سکتی ہوں۔

میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ پہلے تھپڑ پر طلاق لے لیں۔

پہلے تھپڑ کو آخری تھپڑ ہونا چاہیے۔

اس کو اتنا ہی سنجیدہ لیں جتنا لیا جا سکتا ہے۔

اگر میں خدانخواستہ اس سچویشن میں ہوں تو اس وقت خاموشی اختیار کروں گی۔

اس وقت تک خاموش رہوں گی جب تک نارمل ماحول میں بات نہ ہو سکے۔

جب ماحول نارمل ہو جائے اس وقت بیٹھ کر پوری ذمہ داری سے واضح کروں گی کہ یہ چیز میرے لئے قابل قبول نہیں یے۔ ہیٹ آف دی مومنٹ میں پہلی بار یہ غلطی ہوئی ہے لیکن میں دوسرا موقع نہیں دوں گی اور یہ بات میں بالکل سوچ سمجھ کر کہہ رہی ہوں۔ میں اس موقعے پر اپنے گھر والوں کو بھی انوالو نہیں کروں گی۔

کچھ مردوں نے اپنے گھر میں اپنی ماوں کو اپنے باپوں سے تھپڑ کھاتے دیکھا ہوتا ہے۔ انکو یہ نارمل لگتا ہے کہ جہاں دلیل ختم ہو جائے وہاں تھپڑ مار کر خاموش کروا دو۔

انکے بچپن کے ٹراماز کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے۔ انکے گھر میں جو بھی ہوتا تھا ہمارے گھر میں یہ نہیں ہو گا۔

اول تو بیٹی کو ایک نارمل مکمل انسان کے طور پر پروان چڑھائیں تا کہ وہ بطور انسان عزت کی زندگی گزارنے کی اہمیت سمجھتی ہو۔

اگر کوئی کسر رہ گئی ہے تو پہلے تھپڑ پر اپنی خوش گمانیاں لپیٹ کر ڈسٹ بن میں ڈال دیں۔

سنجیدگی سے خود پر کام کریں۔
روٹی کپڑے کے عوض تھپڑ اور تذلیل کو نارمل سمجھنا چھوڑ دیں۔

جس اللہ نے پیدا کیا ہے رازق وہ ہے۔ رزق اللہ نے دینا ہے۔ جس کو بھی اللہ تعالٰی پیدا کرتے ہیں اس کا رزق بھیج دیتے ہیں۔

اب یہ بات کہ ضرور عورت نے کچھ کیا ہو گا۔ بدزبانی ، بدتمیزی تبھی تو تھپڑ پڑا۔

اب یہاں پھر وہی بات ہے کہ میچیور لوگوں کی طرح جس وقت نارمل ماحول ہو اس وقت بیٹھیں اور اپنی سائیڈ کی بات سنجیدگی اور ذمہ داری سے سامنے رکھیں۔ عورت ہو یا مرد اس کا حق ہے کہ گھر اس کے لئے سکون کی جگہ ہو۔

اگر سکون نہیں ہے تو اس معاملے کا مستقل حل نکالیں۔

اپنی باونڈریز بتائیں ۔ کہ میری برداشت یہاں تک ہے۔
شوہر بھی بیوی بھی۔

غصہ ایک عادت ہے۔ لوگ کہتے ہیں ہمیں غصہ بہت آتا ہے۔ غصہ وہیں آتا ہے جہاں اگلا آپکا غصہ سہہ جاتا ہے۔ جب پتہ ہوتا ہے کہ اس نے نہیں سہنا وہاں غصہ آئے بھی تو انسان اسے چینلائز کر لیتا ہے۔

اس موضوع پر بہت باتیں ہو سکتی ہیں لیکن اس وقت اتنی ہی بات کروں گی جتنی آپ جذب کر سکیں۔

Yasmeen

زندگی یعنی یاد گرفتنِ لبخند زدن، حتی وقتی دل خسته است۔یعنی زندگی میں اپ اس وقت بھی مسکرائیں جب اپ کا دل تھکا ہوا ہو
06/01/2026

زندگی یعنی یاد گرفتنِ لبخند زدن، حتی وقتی دل خسته است۔
یعنی زندگی میں اپ اس وقت بھی مسکرائیں جب اپ کا دل تھکا ہوا ہو

عربوں کی قدیم روایات میں، مرد اپنی غیرت کی وجہ سے کبھی بھی اس گھوڑے کو فروخت نہیں کرتا تھا جس پر اس کی بیوی سواری کرتی ت...
04/01/2026

عربوں کی قدیم روایات میں، مرد اپنی غیرت کی وجہ سے کبھی بھی اس گھوڑے کو فروخت نہیں کرتا تھا جس پر اس کی بیوی سواری کرتی تھی، بلکہ وہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ کوئی دوسرا مرد اس پر سوار نہ ہو۔

جب کسی عورت کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس کے اہل خانہ قبر کے کنارے پر ہجوم کر لیتے ہیں اور پورا مقام اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کوئی غیر خاندان والا اس کے قریب نہ آسکے۔ وہ سب آوازیں بلند کرتے ہیں: "جنازہ ڈھانپ دو، قبر کو چھپا دو!" یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے کرتے ہیں، حالانکہ وہ کفن میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔

کیا تمہارے زندہ خواتین اس غیرت کے زیادہ حق دار نہیں ہیں؟

عورت کے لباس سے اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی پاکیزگی، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کی جھلک نظر آتی ہے۔
ثقافت، آزادی اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی قدروں، حیا، اور اخلاقیات کو چھوڑ دیں۔

اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے ساتھ اللہ کا خوف رکھو اور ان کی عزت کا خیال رکھو۔
مداری نامہ

نیا سال ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ جو بیت گیا وہ سبق تھا، اور جو آنے والا ہے وہ موقع۔ کچھ خواب پورے ہوئے، کچھ ادھورے رہ گئ...
01/01/2026

نیا سال ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ جو بیت گیا وہ سبق تھا، اور جو آنے والا ہے وہ موقع۔ کچھ خواب پورے ہوئے، کچھ ادھورے رہ گئے، مگر حوصلہ اب بھی زندہ ہے۔ اس نئے سال میں دلوں کو نفرت سے خالی کریں، امید کو مضبوط تھامیں، اور خود پر یقین رکھیں، کیونکہ جو ہار ماننے سے انکار کر دے، نیا سال اس کے لیے نئی روشنی لے کر آتا ہے۔ 🌿✨

سال 2025 میری زندگی کا ایک ایسا باب رہا جو کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ یہ سال مشکلات، امتحانات اور مسلسل جدوجہد سے عبارت تھا...
29/12/2025

سال 2025 میری زندگی کا ایک ایسا باب رہا جو کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ یہ سال مشکلات، امتحانات اور مسلسل جدوجہد سے عبارت تھا۔ ہر دن ایک نئی بات سکھاتا تھا، کبھی صبر کی تعلیم دیتا، کبھی حوصلے کا امتحان لیتا۔ حالات بار بار مجھے توڑنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود میرا حوصلہ بلند رہا اور میری کوششیں جاری رہیں۔ اس سال نے مجھے یہ سکھایا کہ حقیقی کامیابی گر کر بھی دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے میں پوشیدہ ہے۔

دو ہزار پچیس میں، بہت سے لوگ ہم سے جدا ہو گئے۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کے جانے کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اور کچھ وہ تھے جو ہمارے درمیان ہوتے ہوئے بھی ہم سے دور ہو گئے۔ ان تجربات نے میرے دل کو مزید حساس بنا دیا۔ اب جب میں کسی سے بات کرتی ہوں، تو ایک خاموشی کا خوف ساتھ رہتا ہے کہ کہیں میں پھر سے دل نہ دکھا دیں، کہیں میرا اعتماد پھر سے ٹوٹ نہ جائے۔ یہ خوف دراصل کمزوری نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں دیے گئے زخموں کی نشانی ہے۔

ان تمام واقعات کے باوجود، میں ان لوگوں کی شکر گزار ہوں جو ہماری زندگی سے رخصت ہو گئے، کیونکہ انہوں نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔ انہوں نے ہمیں یہ بات سمجھائی کہ ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، لیکن ہر رشتہ ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے۔ انہوں نے ہمیں خود کو پہچاننا، اپنی قدر کرنا، اور مشکل وقت میں اللہ پر بھروسہ کرنا سکھایا۔

سال دو ہزار پچیس نے مجھے درد تو دیے، لیکن اس نے مجھے آگاہی بھی بخشی۔ اس نے میری آنکھوں سے نیند اور دل سے سکون چھین لیا، لیکن اس نے مجھے ایک مضبوط سوچ اور پختہ عزم سے نوازا۔ یہ سال جتنا مشکل تھا، اتنا ہی مجھے اندر سے مضبوط بنانے والا تھا۔

اب جب 2026 کا آغاز ہو رہا ہے، میری دعا ہے کہ یہ سال اپنے ساتھ خوشیوں کا پیغام لائے، امیدوں کو زندہ کرے، اور دلوں کو سکون عطا کرے۔ میری دعا ہے کہ یہ نیا سال مسکراہٹوں، اعتماد، اور نئے آغاز کا سال ہو۔ اللہ کرے کہ دو ہزار چھبیس ہماری زندگیوں میں روشنی، آسانیاں، اور حقیقی خوشیاں لے کر آئے۔

مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔۔۔۔یعنی جو کم بولتا ہے وہ اپنے اپ کو زیادہ پہچانتا...
26/12/2025

مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔۔۔۔یعنی جو کم بولتا ہے وہ اپنے اپ کو زیادہ پہچانتا ہے۔۔۔۔اج کے دور میں ہر شخص بول رہا ہے لیکن لفظوں میں اثر پھر بھی نہیں ہے۔۔۔دراصل زبان بول رہی ہے لیکن دل خاموش ہے اور یہی انسان کا سب سے بڑا تضاد ہے ۔۔۔۔کیونکہ الفاظ صرف زبان تک محدود ہیں۔۔۔۔دل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔۔

بعض اوقات حسن ظاہر نہیں ہوتا، وہ چند بادلوں کی چادر اوڑھ کر بھی دل پر اثر کرتا ہے۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے، ہر خوشی کھلے آس...
25/12/2025

بعض اوقات حسن ظاہر نہیں ہوتا، وہ چند بادلوں کی چادر اوڑھ کر بھی دل پر اثر کرتا ہے۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے، ہر خوشی کھلے آسمان تلے نہیں ملتی، کچھ لمحے پردوں میں چھپے ہوتے ہیں مگر ان کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ بس نظر کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے، چند بادلوں میں بھی ایک حسین منظر چھپا ہوتا ہے۔

انسانی خواہشات ایک مسلسل سفر ہے۔ جب ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری خواہش وجود میں آ جاتی ہے۔ ہماری سمجھ یہ ہے کہ کسی خا...
25/12/2025

انسانی خواہشات ایک مسلسل سفر ہے۔ جب ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری خواہش وجود میں آ جاتی ہے۔ ہماری سمجھ یہ ہے کہ کسی خاص چیز کے حصول سے ہم سکون حاصل کر لیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون مادی اشیاء میں نہیں بلکہ دل کی اطمینان میں پنہاں ہے۔

تمنائیں اگر اعتدال میں رہیں تو زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں، محنت کا حوصلہ بخشتی ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے راہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، جب یہی خواہشیں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں تو انسان کو بے چین، ناشکرا اور دوسروں سے موازنہ کرنے والا بنا دیتی ہیں۔

اکثر اوقات میں ہم ان نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں اور ان چیزوں کے حصول کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں جو ہماری قسمت میں نہیں ہوتیں۔ اصل خوشی قناعت، شکر اور خود آگاہی میں مضمر ہوتی ہے۔

خواہشات کا ہونا برا نہیں، مگر ان کا غلام بن جانا انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔ جو شخص اپنی خواہشات پر قابو پا لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں آزاد اور مطمئن ہوتا ہے۔

ہم اکثر اس حقیقت کو ماننے سے گریز کرتے ہیں، مگر حقیقت میں امید ہی انسان کو سب سے زیادہ تحلیل کر دیتی ہے۔ ہم مستقل انتظار...
24/12/2025

ہم اکثر اس حقیقت کو ماننے سے گریز کرتے ہیں، مگر حقیقت میں امید ہی انسان کو سب سے زیادہ تحلیل کر دیتی ہے۔ ہم مستقل انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی تبدیلی لائے گا، کوئی ہمیں سمجھے گا، کوئی واپس آئے گا، کوئی ہمارے جذبات کی قدر کرے گا۔ اور اسی امید کے تسلسل میں، ہم خود کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، اپنی عزت، اپنا سکون سب کچھ داو پر لگا دیتے ہیں۔ کبھی کبھی خود کو مضبوط کرنے کا مطلب امیدوں کو ترک کرنا ہوتا ہے، تاکہ انسان خود کو محفوظ رکھ سکے۔

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sadia Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram