10/03/2026
بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹیڑھا پن
بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کو عموماً رِکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو زیادہ تر وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی انسانی جسم میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے جسم کیلشیم اور فاسفورس کو بہتر طور پر جذب کرتا ہے۔ جب بچوں کے جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو ہڈیاں کمزور اور نرم ہونے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنی قدرتی سیدھی ساخت برقرار نہیں رکھ پاتیں اور آہستہ آہستہ ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں۔
یہ بیماری زیادہ تر اس عمر میں ظاہر ہوتی ہے جب بچوں کی ہڈیاں تیزی سے بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں ٹانگوں کا خم دار ہونا ایک نمایاں علامت ہے۔ بعض بچوں کی ٹانگیں باہر کی طرف مڑ جاتی ہیں جبکہ بعض میں گھٹنوں کے قریب اندر کی طرف جھکاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کلائیوں اور ٹخنوں کے جوڑ بھی معمول سے زیادہ چوڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ بعض اوقات سینے کی ہڈیوں کی بناوٹ میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے جس سے سینہ ابھرا ہوا یا بے قاعدہ محسوس ہو سکتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کی ایک اہم وجہ بچوں کا دھوپ میں کم رہنا ہے۔ سورج کی روشنی انسانی جلد میں وٹامن ڈی بننے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب بچے زیادہ تر گھر کے اندر رہتے ہیں یا انہیں مناسب دھوپ نہیں ملتی تو جسم میں اس وٹامن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر خوراک میں وہ غذائیں شامل نہ ہوں جو ہڈیوں کے لیے ضروری اجزاء فراہم کرتی ہیں تو ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔
اس بیماری میں مبتلا بچوں کی نشوونما عموماً سست ہو جاتی ہے۔ بعض بچوں میں چلنے میں دیر لگتی ہے یا چلتے وقت ٹانگوں میں کمزوری اور درد محسوس ہوتا ہے۔ ہڈیاں نرم ہونے کی وجہ سے معمولی دباؤ کے نتیجے میں بھی ان کی شکل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر اس حالت کو بروقت توجہ نہ دی جائے تو ہڈیوں کی ساخت میں مستقل بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ اگر بچے کی ٹانگوں یا جسمانی ساخت میں غیر معمولی خم، کمزوری یا نشوونما میں سستی محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی صورت میں کسی مستند معالج سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ معالج بچے کا معائنہ کر کے مناسب رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اور ضروری جانچ کے ذریعے اصل وجہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا اگر بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے