Hidayat Ullah Health care clinic

Hidayat Ullah Health care clinic This page is providing a good qualities knowledge about your health care & medical awareness🥼🩺💉💊

بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹیڑھا پنبچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کو عموماً رِکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو زیاد...
10/03/2026

بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹیڑھا پن

بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کو عموماً رِکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو زیادہ تر وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی انسانی جسم میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے جسم کیلشیم اور فاسفورس کو بہتر طور پر جذب کرتا ہے۔ جب بچوں کے جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو ہڈیاں کمزور اور نرم ہونے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنی قدرتی سیدھی ساخت برقرار نہیں رکھ پاتیں اور آہستہ آہستہ ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں۔

یہ بیماری زیادہ تر اس عمر میں ظاہر ہوتی ہے جب بچوں کی ہڈیاں تیزی سے بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں ٹانگوں کا خم دار ہونا ایک نمایاں علامت ہے۔ بعض بچوں کی ٹانگیں باہر کی طرف مڑ جاتی ہیں جبکہ بعض میں گھٹنوں کے قریب اندر کی طرف جھکاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کلائیوں اور ٹخنوں کے جوڑ بھی معمول سے زیادہ چوڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ بعض اوقات سینے کی ہڈیوں کی بناوٹ میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے جس سے سینہ ابھرا ہوا یا بے قاعدہ محسوس ہو سکتا ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی کی ایک اہم وجہ بچوں کا دھوپ میں کم رہنا ہے۔ سورج کی روشنی انسانی جلد میں وٹامن ڈی بننے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب بچے زیادہ تر گھر کے اندر رہتے ہیں یا انہیں مناسب دھوپ نہیں ملتی تو جسم میں اس وٹامن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر خوراک میں وہ غذائیں شامل نہ ہوں جو ہڈیوں کے لیے ضروری اجزاء فراہم کرتی ہیں تو ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

اس بیماری میں مبتلا بچوں کی نشوونما عموماً سست ہو جاتی ہے۔ بعض بچوں میں چلنے میں دیر لگتی ہے یا چلتے وقت ٹانگوں میں کمزوری اور درد محسوس ہوتا ہے۔ ہڈیاں نرم ہونے کی وجہ سے معمولی دباؤ کے نتیجے میں بھی ان کی شکل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر اس حالت کو بروقت توجہ نہ دی جائے تو ہڈیوں کی ساخت میں مستقل بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

والدین کے لیے ضروری ہے کہ اگر بچے کی ٹانگوں یا جسمانی ساخت میں غیر معمولی خم، کمزوری یا نشوونما میں سستی محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی صورت میں کسی مستند معالج سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ معالج بچے کا معائنہ کر کے مناسب رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اور ضروری جانچ کے ذریعے اصل وجہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا اگر بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے

17/02/2026

اسلام علیکم دوستوں!
رمضان کا مبارک مہینہ آرہا ہے۔روزے رکھے،عبادات اور کلام پاک کی تلاوت کا اہتممام کیجئے۔الله تعالی ہم سے راضی ہوں اور ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔امین ثمہ امین۔

14/02/2026

حمل کے پہلے تین مہینوں میں ماں کو فولک ایسڈ 0.4 mg
اور وایٹمن ڈی 400 IU لازم دے ۔

پاکستان میں یہ گولی CAC تقریباً ہر میڈیکل اسٹور اور فارمیسی سے آسانی سے مل جاتی ہے۔ذائقہ بھی اچھا ہے۔پانی میں ڈالو تو حل...
13/01/2026

پاکستان میں یہ گولی CAC تقریباً ہر میڈیکل اسٹور اور فارمیسی سے آسانی سے مل جاتی ہے۔
ذائقہ بھی اچھا ہے۔
پانی میں ڈالو تو حل ہو جاتی ہے
اور سوڈا جیسا فلیور بھی آتا ہے۔

اسی لیے لوگ اسے بغیر سوچے سمجھے استعمال کرنے لگتے ہیں۔

یہ گولی عموماً پریگننٹ عورتوں کو دی جاتی ہے
کیونکہ اس میں وٹامن سی کے ساتھ کیلشیم بھی شامل ہوتا ہے۔

آج ذرا وٹامن سی کی بات کرتے ہیں۔
م

وٹامن سی ہمارے جسم کے لیے ضروری ہے،
لیکن
ضرورت سے زیادہ ہر چیز نقصان دیتی ہے۔

آسان مثال لے لیں:
چائے یا کافی۔
ایک کپ پیو تو بہترین۔
آٹھ دس کپ پی لو
تو دل تیز، ہاتھ کانپنے لگیں، متلی سی فیلنگ۔

بالکل یہی حال وٹامن سی کا ہے۔

یہ CAC گولی عام طور پر
1000 ملی گرام وٹامن سی پر مشتمل ہوتی ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
عورتوں کو روزانہ تقریباً 75 ملی گرام
مردوں کو تقریباً 90 ملی گرام
اور حاملہ عورتوں کو 85 ملی گرام وٹامن سی چاہیے ہوتی ہے۔

یعنی
ایک گولی میں
جسم کی روزانہ ضرورت سے
10 سے 12 گنا زیادہ وٹامن سی۔
وٹامن سی واٹر سولیوبل وٹامن ہے۔
جسم اسے اسفنج کی طرح استعمال کرتا ہے۔

جتنی ضرورت → استعمال
زیادہ ہوئی → پیشاب کے راستے باہر

سادھی زبان میں
جب ضرورت پوری ہو گئی
تو باقی وٹامن سی
آپ پیشاب کی صورت میں بہا رہے ہوتے ہیں۔

پیسہ بھی ضائع
فائدہ بھی صفر

لیکن مسئلہ صرف یہاں تک نہیں۔

زیادہ مقدار میں وٹامن سی
گردوں پر اضافی لوڈ ڈالتی ہے۔

لمبے عرصے تک استعمال کیا جائے
تو
گردے کی پتھری
معدے کی جلن
تیزابیت
متلی اور الٹی
بعض لوگوں میں بلڈ پریشر کا مسئلہ
بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر یہ فوارہ گولیاں
اکثر سوڈیم بھی رکھتی ہیں
جو بی پی کے مریضوں کے لیے اچھا نہیں۔

ایک اور بات
وٹامن سی آئرن کے جذب کو بڑھاتی ہے۔
جن لوگوں میں آئرن پہلے ہی زیادہ ہو
ان کے لیے یہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اس لیے ذہن میں رکھیں:
سپلیمنٹ کا مطلب یہ نہیں ہوتا
کہ جتنا زیادہ، اتنا بہتر۔

وٹامن سی
گولی سے لینے کے بجائے
قدرتی طریقے سے لیں۔

جیسے:
آملہ
امرود
سنگترہ
مالٹا
لیموں

روز ایک دو پھل
آپ کی پوری وٹامن سی کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔

اگر سپلیمنٹ لینا بھی ہو
تو
کسی اچھے ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ کے مشورے سے۔

بغیر ضرورت
روزانہ CAC پینا
کوئی ذہانت نہیں۔

خوش رہیں
خوش رکھیں

12/01/2026

A patient collapses after allergic reaction, no pulse, no breathing.
First intervention immediately?

03/01/2026

A patient with acute pancreatitis has severe epigastric pain radiating to back. Which enzyme is elevated?
A. AST
B. Lipase
C. ALP
D. LDH

19/10/2025

Tuberculosis spread through.
1. Mosquito
2. Water
3. Food
4. Air

بہت سے والدین اپنے بچوں کی نشوونما کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے بچے عمر کے مطابق گر...
17/08/2025

بہت سے والدین اپنے بچوں کی نشوونما کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے بچے عمر کے مطابق گروتھ کر رہے ہیں یا نہیں!!
میں اس پوسٹ میں کوشش کروں گا کہ بچوں کی عمر کے حوالے سے ان کی عام نشوونما کے اھم مراحل (Developmental Mile stones)کو مختصراً بیان کروں۔

قبل از وقت (Premature) پیدا ہونے والے بچے مکمل مدت کے بچوں سے نشونما کے یہ مراحل تھوڑی دیر بعد حاصل کر سکتے ہیں، لیکن زیادہ سے زیادہ دو سال کی عمر تک انکے برابر آجاتے ہیں۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی درست عمر کا حساب ان ہفتوں یا مہینوں کی تعداد کو گھٹا کر لگایا جاتا ہے جتنا وہ 37 ہفتوں یا نو مہینوں سے پہلے پیدا ہوا جو حمل کا نارمل دورانیہ ہے۔
لہذا اگر ایک نو ماہ کا بچہ جو تین ماہ قبل ازوقت پیدا ہوا تھا تو اس حساب سے اسکی عمر چھے ماہ بنتی ہے ,لہذا اس بچے سے توقع کی جائے گی کہ وہ مکمل مدت کے حمل والے چھے ماہ کے بچے جتنے کام کرلے۔

بچے کی عمر کے لحاظ سے اٹھنے ،بیٹھنے اور چلنے پھرنے کے مراحل !!

1. تین ماہ میں گردن سنبھالنا

2. سہارے جیسے تکیے کے ساتھ چھ ماہ کی عمر میں بیٹھنا

3. سات مہینے سے سہارے کے بغیر خود سے بیٹھنا

4. نو ماہ میں زمین پر رینگنا

5. دس ماہ کی عمر میں چیزیں پکڑ کر کھڑاہونا جیسے فرنیچر پکڑ کر

6. انگلی پکڑ کر چلنا ; گیارہ ماہ

7. ایک سال میں خود سے چلنا

8. دوڑنا اور ایک گیند کو کک مارنا ; دو سال پر

9. تین سال تک تین پہیوں والی سائیکل چلا لینا

10. ایک پاؤں پر کھڑا ہو لینا ; چار سال

11. پانچ سال پر رسی پھلانگنا

عمر کے لحاظ سے بول چال کے مراحل !!

1. آٹھ ماہ میں ماما دادا لالا بابا جیسے بولنا

2. ایک سال پر پہلا لفظ بولنا

3. دو الفاظ جوڑنا ہے جیسے ”ماما پانی“ :دوسال میں

4. تین الفاظ جوڑتا ہے جیسے ”مجھے پانی دو“ ؛تین سال

5. بعد میں بچے کی بول چال گھر سے باہر کے لوگوں کو سمجھ میں آنا شروع ہو
جاتی ہے۔ تین سال کا بچہ اپنا نام, عمر اور جنس جانتا ہے۔چار سے پانچ سال کی عمر میں بچہ کہانیاں بھی سنا سکتا ہے۔

باریک کام کرنے کی مہارتیں !!

1. نو ماہ میں تین انگلیوں کا استعمال کرتے ہوئے چیزیں پکڑنا

2. ایک سال میں انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو پکڑنا

3. پندرہ ماہ میں پنسل پکڑ کر لاٸنیں مارنا

4. دو سال میں ایک سیدھی لائن کاپی کرنا

🌿 نرسنگ پریکٹیشنر اور ڈاکٹر — مقابلہ نہیں، خدمت کا اتحاد! 🩺👨‍⚕️👩‍⚕️آج کل افسوس کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک عجیب "مقابلے" ک...
20/07/2025

🌿 نرسنگ پریکٹیشنر اور ڈاکٹر — مقابلہ نہیں، خدمت کا اتحاد! 🩺👨‍⚕️👩‍⚕️

آج کل افسوس کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک عجیب "مقابلے" کا ماحول بن رہا ہے —
کہیں ڈاکٹر نرسنگ پریکٹیشنرز کا مذاق اُڑا رہے ہیں، تو کہیں نرسز ڈاکٹرز پر طنز کر رہے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے:

🧠 نہ نرسنگ، ڈاکٹرز کی جگہ لے سکتی ہے
اور نہ ڈاکٹرز، نرسنگ کی جگہ لے سکتے ہیں۔
دونوں اپنی اپنی جگہ لازم و محترم ہیں!

💥 خاص طور پر Lady Reading Hospital Peshawar میں نرسنگ ڈائریکٹر کو Dean بنائے جانے کے بعد کچھ افراد بلاوجہ نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

تو گزارش ہے:

📌 یہ Dean کسی نرس نے خود سے نہیں بنایا، بلکہ آپ ہی کے ایک قابل و باعزت ڈاکٹر نے ان کی قابلیت اور تجربے کو دیکھ کر مقرر کیا ہے۔

یہ جنگ نہیں، عزت ہے!
یہ ضد نہیں، اعتماد ہے!
یہ ٹکراو نہیں، ٹیم ورک ہے!

👥 ڈاکٹرز سے مؤدبانہ گزارش ہے:
ہم نرسز آپ کے مخالف نہیں، بلکہ آپ کے ساتھ ہیں۔
ہم آپ سے سیکھتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ہم مل کر مریض کی خدمت کریں — جیسے ایک جسم کے دو ہاتھ۔

👥 نرسز سے بھی کہنا ہے:
ہمیں اپنی محنت، اخلاق اور علم سے مقام بنانا ہے — کسی کو نیچا دکھا کر نہیں۔

🤝 یاد رکھیں، مریض کی شفاء ہم سب کی مشترکہ کامیابی ہے۔
نہ ڈاکٹر اکیلا کچھ کر سکتا ہے، نہ نرس۔
جب تک دل، دماغ اور ہاتھ ایک ساتھ کام نہ کریں، علاج مکمل نہیں ہوتا۔

اتحاد ہی اصل طاقت ہے۔


✍️
(- خدمت میرا ایمان، نرسنگ میرا فخر)

🔖

کیا ماں کا دودھ پینے والے بچے کو گرمیوں میں پانی دینا چاہیے؟ ماں کا دودھ قدرتی طور پر بچے کی تمام غذائی ضروریات کو پورا ...
28/06/2025

کیا ماں کا دودھ پینے والے بچے کو گرمیوں میں پانی دینا چاہیے؟

ماں کا دودھ قدرتی طور پر بچے کی تمام غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے، خاص طور پر زندگی کے ابتدائی چھ ماہ میں۔ اس کا تقریباً 87 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جو بچے کی پیاس بجھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس لیے چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو علیحدہ سے پانی دینا نہ صرف غیر ضروری بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس عمر میں بچے کے گردے مکمل طور پر بنے نہیں ہوتے، اس لیے اگر بچہ اضافی پانی پیے تو وہ اسے مؤثر طریقے سے خارج نہیں کر پاتے۔ جس سے سوڈیم کی مقدار خون میں کم ہو سکتی ہے، جسے طبی زبان میں ہائیپو ناٹریمیا (Hyponatremia ) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک حالت ہے جس کے نتیجے میں بچے کو کمزوری، بے ہوشی، دورے یا یہاں تک کہ کومہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، پانی پینے سے بچے کا پیٹ بھر جاتا ہے جس کے باعث وہ ماں کا دودھ کم پیتا ہے، یوں اُس کی غذائیت متاثر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا عالمی ادارۂ صحت اور ماہرینِ اطفال متفقہ طور پر تجویز کرتے ہیں کہ پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ ہی بچے کو دیا جائے — نہ پانی، نہ کوئی اور مشروب۔

جب بچہ چھ ماہ کا ہو جائے اور اُسے نرم غذائیں دینا شروع کر دی جائیں، تو تھوڑی مقدار میں پانی دینا محفوظ ہوتا ہے۔ اس عمر میں بچے کی پانی کی ضروریات روزانہ تقریباً 120 سے 240 ملی لیٹر (4 سے 8 اونس) ہوتی ہیں، جو وقفے وقفے سے دی جا سکتی ہیں۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ بچے میں پانی کی کمی تو نہیں۔
اگر بچہ دن میں کم از کم 6 سے 8 بار پیشاب کر رہا ہے، اُس کا پیشاب ہلکے رنگ کا ہے، وہ کھیل رہا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اُس کے جسم میں پانی کی مقدار مناسب ہے۔

دوسری طرف اگر بچے کے ہونٹ خشک ہیں، وہ سست یا چڑچڑا ہے، پیشاب کم آ رہا ہے یا اُس کا رنگ گہرا ہے، یا رونے پر آنسو نہیں آ رہے، تو یہ پانی کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ شیر خوار بچوں میں سر کی نرم جگہ (fontanelle) اگر اندر دھنس جائے تو یہ بھی ایک خطرے کی علامت ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

زیابیطس جسکو عرف عام میں ہم لوگ شوگر کی بیماری(Diabetes mellitus) بولتے ہیں اسکے دو اقسام میں سے Type-1 Diabetes mellitu...
06/05/2025

زیابیطس جسکو عرف عام میں ہم لوگ شوگر کی بیماری(Diabetes mellitus) بولتے ہیں اسکے دو اقسام میں سے Type-1 Diabetes mellitus اور اسکے ساتھ بعض اوقات Type-2 Diabetes mellitus کے مریضوں میں بھی جب کہ زیابیطس کےلیے استمال ہونے والی گولیاں(Oral anti-diabetic medicines) خون میں شوگر کی مقدار کو مقررہ مقدار/احاطے میں لانے میں ناکام ہوجائے تو تب ان بیماروں کیلئے ڈاکٹرز انسولین(Insulin) تجویز کرتے ہیں۔ہمارے اکثر عام عوام کو انسولین(insulin) کے لگانے کے صحیح طریقے اور اس دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں بہت کم معلومات ہوتے ہیں۔لہذا اس پوسٹ میں انسولین (insulin)کے انجکشن کے لگانے کے صحیح طریقے اور استعمال کے بارے میں آگاہی کیلیے پیغام شیئر کیا جارہا ہے۔۔ بشکریہ MTI Mardan

"زکام میں کیلا؟ اوہ بھائی! وہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے، بچے کو اور بیمار کر دے گا!"یہ جملہ آپ نے بھی ضرور کسی نہ کسی خالہ، چچی ی...
05/05/2025

"زکام میں کیلا؟ اوہ بھائی! وہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے، بچے کو اور بیمار کر دے گا!"
یہ جملہ آپ نے بھی ضرور کسی نہ کسی خالہ، چچی یا محلے کی ڈاکٹر آنٹی سے سنا ہوگا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا واقعی کیلا زکام اور کھانسی میں نقصان دیتا ہے؟

سادہ جواب: ہرگز نہیں!

یہ صرف ایک پرانی غلط فہمی ہے، جو بغیر تحقیق نسل در نسل چلتی آ رہی ہے۔
یعنی وہی بات:
"دہی ٹھنڈا ہے، بند کر دو"
"کیلا ٹھنڈا ہے، نہ دو"
حالانکہ سائنس کچھ اور کہتی ہے۔

کیلا: زکام کا دشمن نہیں، دوست ہے!

یہ پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتا ہے
جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھتا ہے
نرم، ہلکی غذا ہے، جو ہضم بھی آسانی سے ہوتی ہے
توانائی سے بھرپور، کمزور جسم کو فوری طاقت دیتا ہے

خود بھی کھائیں اور اپنے بچوں کو بھی ضرور کھلائیں !

Address

District Bajaur
Bajaur

Telephone

+923049681102

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hidayat Ullah Health care clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category