Dr Masihullah Salarzai

  حقیقتدو دن پہلے میں نے فیس بک پر "عطائیت (Quackery)" کے عنوان سے ایک پوسٹ کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ پوسٹ تقریباً ڈی...
01/06/2026

حقیقت

دو دن پہلے میں نے فیس بک پر "عطائیت (Quackery)" کے عنوان سے ایک پوسٹ کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ پوسٹ تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگوں تک پہنچی اور اس پر 500 سے زائد تبصرے آئے۔ ان تبصروں کو پڑھ کر ایک بات واضح طور پر محسوس ہوئی کہ عوام کے ایک بڑے طبقے میں ڈاکٹروں کے بارے میں ناراضی اور بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔
لوگ اپنی رائے میں جن وجوہات کا بار بار ذکر کر رہے تھے، ان میں یہ نکات نمایاں تھے:

🔹 ڈاکٹروں کا رویہ مناسب نہیں ہوتا، اکثر تکبر محسوس ہوتا ہے۔
🔹 مریضوں کو مناسب وقت اور توجہ نہیں دی جاتی۔
🔹 کمیشن والی دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔
🔹 غیر ضروری یا زیادہ مقدار میں اینٹی بائیوٹکس لکھی جاتی ہیں۔
🔹 مریض کی صحت سے زیادہ مالی فائدے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
🔹 بعض اوقات کم معیار کی دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔
🔹 غیر ضروری ٹیسٹ لکھے جاتے ہیں۔
🔹 بعض مریض ڈاکٹروں کی غفلت کو اپنی یا اپنے عزیزوں کی تکلیف اور اموات کی وجہ سمجھتے ہیں۔

یقیناً تبصرے اس سے کہیں زیادہ تھے، لیکن مجموعی طور پر عوام کے ذہنوں میں یہی خدشات اور شکایات نظر آئیں۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ چند افراد کی غلطیوں کی بنیاد پر پوری ڈاکٹر برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔
میری نظر میں اگر کوئی شخص تقریباً 25 سال تعلیم حاصل کرنے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے ڈاکٹر بنتا ہے، لیکن پھر بھی حرام کمائی یا غیر اخلاقی طریقوں کا انتخاب کرتا ہے، تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ اصل چیز ڈگری نہیں، بلکہ زندہ ضمیر ہے۔ جب ضمیر مر جائے تو حلال اور حرام، صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مریض ڈاکٹر کے پاس خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری میں آتا ہے۔ بعض اوقات وہ علاج کے لیے قرض تک لیتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ:

✅ مریض کو مناسب وقت دیں۔
✅ اس کی بات غور سے سنیں۔
✅ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔
✅ غیر ضروری دواؤں اور ٹیسٹوں سے گریز کریں۔
✅ مریض کی بھلائی کو مالی فائدے پر ترجیح دیں۔

یاد رکھیں، رزق اللہ دیتا ہے۔ تنخواہ ہو یا فیس، جو مقدر میں ہے وہ مل کر رہے گا۔ لیکن ایک مطمئن مریض کی دعا، اعتماد اور احترام وہ دولت ہے جو کسی بھی فیس سے زیادہ قیمتی ہے۔
اگر ہم مریض اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد، احترام اور خلوص کو فروغ دیں تو یقیناً یہ بڑھتا ہوا فاصلہ کم ہو سکتا ہے، اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

عطائیت (Quackery) — خاموش زہر 🚨حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب بہت سی منہ سے کھانے والی دوائیاں اپنا اثر کھوتی جا رہی ہ...
29/05/2026

عطائیت (Quackery) — خاموش زہر 🚨

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب بہت سی منہ سے کھانے والی دوائیاں اپنا اثر کھوتی جا رہی ہیں۔ ہمارے دیہاتوں میں آج بھی اکثر لوگ بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر بیماری کا علاج عطائیوں سے کرواتے ہیں۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ عطائی ہر مرض کے “ماہر” بنے بیٹھے ہیں۔
چاہے پیٹ درد ہو، بخار ہو، اُلٹی ہو، سینے کی تکلیف ہو، دل کی بیماری ہو، سر درد ہو یا کوئی خطرناک مرض… ہر مریض کو صرف انجیکشن، ڈرپس اور اینٹی بائیوٹکس لگا دی جاتی ہیں۔
اور عوام وقتی آرام کو “شفا” سمجھ بیٹھتی ہے…
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
بغیر ضرورت اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ پوری انسانیت کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
ایک وقت ایسا آئے گا جب اینٹی بائیوٹکس مکمل طور پر اثر چھوڑ دیں گی، اور عام انفیکشن بھی جان لیوا بن جائیں گے۔ پھر انسان بیماری سے تڑپتا رہے گا، مگر دوائیاں کام نہیں کریں گی۔
بیماری کو پہچاننا اور اس کا صحیح علاج کرنا کوئی آسان کام نہیں۔
اگر ڈاکٹر بننا اتنا آسان ہوتا تو پھر:
5 سال MBBS نہ کرنا پڑتا،
ہاؤس جاب نہ کرنی پڑتی،
اور نہ ہی سالوں کی سپیشلائزیشن کی ضرورت ہوتی۔
صرف چند مہینے دوائیوں کی پریکٹس کر کے ہر شخص ڈاکٹر بن جاتا۔
لیکن افسوس…
نہ عوام کو یہ شعور ہے کہ کس سے علاج کروانا چاہیے،
اور نہ ہی عطائیوں کو یہ احساس ہے کہ وہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کتنا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔
⚠️ یاد رکھیں:
غلط علاج وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر مستقبل میں پوری زندگی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
عطائیت سے بچیں — اپنی اور اپنے بچوں کی صحت بچائیں۔




In 2013, surgeons at Xiangya Hospital in Hunan, China temporarily attached a factory worker’s severed hand to his ankle/...
28/05/2026

In 2013, surgeons at Xiangya Hospital in Hunan, China temporarily attached a factory worker’s severed hand to his ankle/leg to keep the tissues alive using the leg’s blood supply. After about a month, they performed a long microsurgery operation to reattach the hand to his arm. �
China Daily Africa +2
The patient was a 25-year-old man named Xiao Wei (sometimes written Xie Wei in reports). His hand had been badly crushed in an industrial accident, so doctors could not immediately reconnect it to the arm because the arm tissues were too damaged. �
China Daily +1
This technique is called a “temporary ectopic implantation” or “ectopic banking” procedure:
The detached body part is attached to another well-vascularized area of the body.
Blood vessels are connected there to keep the tissue alive.
Later, once the original injury site heals enough, the part is moved back and reattached.

ایوا ویډیو کې مخي نہ تیرا شوہ… یو بوډا بابا خپل ساروے میلے تہ راوستی وو، شاید سوچ به یې کاوہ چے نن بہ خرڅ شی نو کور تہ ب...
26/05/2026

ایوا ویډیو کې مخي نہ تیرا شوہ… یو بوډا بابا خپل ساروے میلے تہ راوستی وو، شاید سوچ به یې کاوہ چے نن بہ خرڅ شی نو کور تہ بہ د اختر دپارہ اوڑہ، غوړي، د ماشومانو جامې او لږ خوشحالي یوسم…
خو د بابا حالت چے سړی وګوري، زړہ پرې چوي… زاړہ، خیرن او څو څو ځایہ ګنډلي کالي، کمزورے وجود، رپېدونکي لاسونہ او د سترګو نہ یې داسې معلومېدل چے ژوند ترې هرہ خوشحالي اخیستې دہ…
بابا بہ شاید پہ زړہ کې دومرہ خوشحالہ وو چے نن بہ زما کور کې هم اختر راشی… بچي بہ مې خوشحال شي… خو افسوس…
ہغہ کس چے پیسې ورکړې، جعلي وې… بابا چے پیسې مشین تہ ونیولې نو مشین یې نہ را اخستې… هماغہ وخت د بابا پر مخ یو داسې درد ښکاره شو چے قسم دے که د کاڼي زړہ هم اوبہ نہ شی…
ہغہ خاموشي، ہغہ ماتې شوې سترګې، ہغہ بے وسه حالت… داسې معلومېدل لکه یو سړي چے د ژوند وروستی امید هم بایلودلی وي… 💔
یار… مونږ دومرہ بے حسه شوو؟
مونږ خو ځانونه مسلمانان او پښتانہ وایو… خو نن سبا انسان تہ انسان هم انسان نہ ښکاري… د مجبورۍ احساس مو ختم شو… صرف دومرہ سوچ پاتې دے چے:
"زہ چے پہ خیٹہ موړ یم، نور دې هر څومرہ غریب او وږي وي."
چا چے دا دوکہ کړې، یو ځل یې هم خپل ضمیر نہ و پوښتلی؟
دا یې نہ سوچ کول چے شاید دا د بابا د کور د اختر آخري امید وي؟
شاید کور کې یې واړہ بچي ناست وي چے:
"بابا بہ راشی، زمونږ دپارہ بہ څه راوړ‎ي…"
خو بابا بہ کور تہ څنګہ تللی وي؟
پہ کوم مخ بہ خپلو بچو تہ کتلي وي؟
څنګہ بہ یې ویلی وي چے:
"زما سرہ دوکہ وشوہ…" 😔
واللہ… کله کله خو ځناور هم د بل درد احساس کوي… خو مونږ انسانان بیا دومرہ سخت زړہ شوي یو چے د غریب اوښکې، مجبوري او مات زړہ هم نہ احساسوو…
اللّٰہ دې مونږ ته لږ رحم، انسانیت او نرم زړونه راکړي…
ځکہ غریب سړی صرف د پیسو محتاج نہ وي…
کله کله ہغہ صرف د یو رښتیني انسان محتاج وي… 💔

25/05/2026

📌ساروی ذبحہ کاولو ٹائم کیے اختیاط ضروری دے ۔

📍 لگا بے اختیاطی د غٹے بیماریی سبب گرزیدے شی ۔۔

An English version of this video is also available on my Youtube channel 👇👇

https://youtu.be/vOzPlot7seg?si=9JP_7qLxjDaN87lQ






19/05/2026

ڈ اکٹر کی تنخواہ 40 سے ہزار ہے اور ان کی ایم بی بی ایس کی سالانہ فیس 25 سے 30 لاکھ ہے، مطلب آپ کو اپنے لگائے ہوئے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے بھی 20 سال چاہیے اور اس کے بعد آپ کی کمائی شروع ہوگی۔۔۔۔

16/05/2026

خیبر پختونخوا میں اساتذہ، نرسز اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کی نوکریاں مستقل ہیں، لیکن ڈاکٹروں کی نہیں۔
آخر کیوں؟

پہ پاکستان کیی چے چا سرا ھم واک اختیار دے اغوی د زان نہ فرعون جوڑ کڑے وی، د زان نہ لاندے طبقہ باندے ہر قسم ظلم  کا وی او...
12/05/2026

پہ پاکستان کیی چے چا سرا ھم واک اختیار دے اغوی د زان نہ فرعون جوڑ کڑے وی، د زان نہ لاندے طبقہ باندے ہر قسم ظلم کا وی او دا سوچ بِلکُل نہ کیے چے زہ بہ ایوا وراز مرام او اللّٰہ تعالیٰ تہ بہ مخامخ کیگم آغا لا بہ د ہر ظلم جواب ورکوم ، ظمونگ ڈاکٹر کمیونیٹی کیی دا مثلا ڈیرا پہ عروج دا، ہر یو غٹ ڈاکٹر د زان نہ لاندے ڈاکٹر تہ پہ سپک نظر گوری او کوشش کا وی چے آغا د پارا مسئلے پیدا کی ، يا یہ د مریض پہ مخکیے بے عزتہ کا وی یا تے تنخواہ نہ پیسے کٹ کا وی او یا ورتہ پرچے فیلا وی ، خو دی دا سوچ نہ کا وی چے زما سرا اختیار لگ ٹائم پورے دے او زما نہ بہ دا اختیارات یو ذل دی راروان جونیئر ڈاکٹرز تہ پاتیکیگی, خو نہ داغہ سوچ بِلکُل نہ کیی ۔ د داسے خلكو عزت بیا د اوعہدے پورے خاص وی چے اوعہدہ تے کلا لاڑہ شی بیا ورتہ سوک سلام جواب ہم نہ ورکي او زلیلا وی ، د خپل اختیاراتو غلط استعمال مہ کاوے،خپل جونیئرز د پارا آسانی پیدا کاوے، د خپل ملگرو ،مریض او د اغا سرا چے کوم خلک راغلی وی اغوی تہ عزت ورکا وے او لگ سوچ کا وے چے اللّٰہ تہ ورراوان یم آغا تہ به د ہر سہ جواب وارکوم ۔۔۔

ہاوس آفیسرز اور ٹی ایم اوز کے اسٹائپنڈ میں صرف 15 فیصد اضافہ موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور نوجوان ڈاکٹروں کی سخ...
11/05/2026

ہاوس آفیسرز اور ٹی ایم اوز کے اسٹائپنڈ میں صرف 15 فیصد اضافہ موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور نوجوان ڈاکٹروں کی سخت ڈیوٹی کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔

ہاوس آفیسرز اور ٹی ایم اوز دن رات ایمرجنسی، وارڈز، آئی سی یوز اور او پی ڈیز میں مسلسل خدمات انجام دیتے ہیں۔ طویل ڈیوٹیاں، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور مریضوں کی بھاری ذمہ داری کے باوجود 2016-17 کے بعد آج تک ہماری تنخواہوں اور اسٹائپنڈ میں کوئی مناسب اور حقیقی اضافہ نہیں کیا گیا۔

یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزراء کے رینٹ الاؤنس میں تقریباً 300 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ عوام کی جانیں بچانے والے نوجوان ڈاکٹروں کے لیے صرف 15 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ترجیحات میں واضح عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹی ایم اوز اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ اسٹائپنڈ میں نوجوان ڈاکٹر اپنی بنیادی ذاتی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں، خاندان کی کفالت تو بہت دور کی بات ہے۔

نوجوان ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر حکومت واقعی صحت کے نظام اور مریضوں کی خدمت کو اہمیت دیتی ہے تو صرف علامتی اضافہ نہیں بلکہ مہنگائی اور ورک لوڈ کے مطابق کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ ڈاکٹروں کو مالی اور ذہنی طور پر کچھ ریلیف مل سکے۔

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاوس آفیسرز اور ٹی ایم اوز کے اسٹائپنڈ میں حقیقی اور خاطر خواہ اضافہ، بہتر ورکنگ کنڈیشنز اور نوجوان ڈاکٹروں کی خدمات کا عملی اعتراف کیا جائے۔

copied





15% raise in   salaries  is expected for House officers (HOs) and Trainie Medical officers(TMOs) in new budget of kpk......
11/05/2026

15% raise in salaries is expected for House officers (HOs) and Trainie Medical officers(TMOs) in new budget of kpk...

15% raise is included in new budget minutes..






Address

03059787747
Bajauri Koruna
30597

Telephone

+923059787747

Website

https://youtu.be/50_JxbE8Oro?si=IxMydSzctRxotb9H

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Masihullah Salarzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.


Parse error: syntax error, unexpected '}', expecting end of file in /home/multisite/volt/findhealthclinics/%%home%%multisite%%apps%%geosite%%views%%unify01%%partials%%item_sidebar.volt.php on line 287