01/06/2026
حقیقت
دو دن پہلے میں نے فیس بک پر "عطائیت (Quackery)" کے عنوان سے ایک پوسٹ کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ پوسٹ تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگوں تک پہنچی اور اس پر 500 سے زائد تبصرے آئے۔ ان تبصروں کو پڑھ کر ایک بات واضح طور پر محسوس ہوئی کہ عوام کے ایک بڑے طبقے میں ڈاکٹروں کے بارے میں ناراضی اور بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔
لوگ اپنی رائے میں جن وجوہات کا بار بار ذکر کر رہے تھے، ان میں یہ نکات نمایاں تھے:
🔹 ڈاکٹروں کا رویہ مناسب نہیں ہوتا، اکثر تکبر محسوس ہوتا ہے۔
🔹 مریضوں کو مناسب وقت اور توجہ نہیں دی جاتی۔
🔹 کمیشن والی دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔
🔹 غیر ضروری یا زیادہ مقدار میں اینٹی بائیوٹکس لکھی جاتی ہیں۔
🔹 مریض کی صحت سے زیادہ مالی فائدے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
🔹 بعض اوقات کم معیار کی دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔
🔹 غیر ضروری ٹیسٹ لکھے جاتے ہیں۔
🔹 بعض مریض ڈاکٹروں کی غفلت کو اپنی یا اپنے عزیزوں کی تکلیف اور اموات کی وجہ سمجھتے ہیں۔
یقیناً تبصرے اس سے کہیں زیادہ تھے، لیکن مجموعی طور پر عوام کے ذہنوں میں یہی خدشات اور شکایات نظر آئیں۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ چند افراد کی غلطیوں کی بنیاد پر پوری ڈاکٹر برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔
میری نظر میں اگر کوئی شخص تقریباً 25 سال تعلیم حاصل کرنے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے ڈاکٹر بنتا ہے، لیکن پھر بھی حرام کمائی یا غیر اخلاقی طریقوں کا انتخاب کرتا ہے، تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ اصل چیز ڈگری نہیں، بلکہ زندہ ضمیر ہے۔ جب ضمیر مر جائے تو حلال اور حرام، صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مریض ڈاکٹر کے پاس خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری میں آتا ہے۔ بعض اوقات وہ علاج کے لیے قرض تک لیتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ:
✅ مریض کو مناسب وقت دیں۔
✅ اس کی بات غور سے سنیں۔
✅ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔
✅ غیر ضروری دواؤں اور ٹیسٹوں سے گریز کریں۔
✅ مریض کی بھلائی کو مالی فائدے پر ترجیح دیں۔
یاد رکھیں، رزق اللہ دیتا ہے۔ تنخواہ ہو یا فیس، جو مقدر میں ہے وہ مل کر رہے گا۔ لیکن ایک مطمئن مریض کی دعا، اعتماد اور احترام وہ دولت ہے جو کسی بھی فیس سے زیادہ قیمتی ہے۔
اگر ہم مریض اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد، احترام اور خلوص کو فروغ دیں تو یقیناً یہ بڑھتا ہوا فاصلہ کم ہو سکتا ہے، اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔