23/02/2026
یہ واقعہ صرف ایک انسان کے قتل کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ضمیر کے قتل کی علامت ہے۔
ڈاکٹر مہوش نے صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کی تھی۔ انہوں نے شائستگی اور احترام کے ساتھ ایک مرد کو خواتین کے چیک اَپ ایریا سے باہر جانے کی درخواست کی تاکہ مریضات کی عزت، رازداری اور وقار محفوظ رہ سکے۔
مگر جواب میں انہیں سات گولیاں مار دی گئیں۔
کیا یہی انجام ہے اس فرض شناسی کا؟
کیا یہی بدلہ ہے اس خدمت کا جو ڈاکٹر دن رات عوام کے لیے انجام دیتے ہیں؟
ہم اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے خاتون ڈاکٹر کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مگر کیا ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بھی کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، کسی کی عزت ہوتی ہے؟
اگر ہسپتال جیسی محفوظ جگہ پر بھی ڈاکٹر محفوظ نہیں —
تو پھر یہ نظام واقعی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
یہ صرف ڈاکٹر مہوش کا قتل نہیں —
یہ ہر خاتون ڈاکٹر کے وقار، تحفظ اور پیشہ ورانہ احترام پر حملہ ہے۔
یہ سفید کوٹ کے تقدس کو لہو لہان کرنے کی کوشش ہے۔
ہم واضح الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں:
✔ ہسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی کا فوری نظام
✔ طبی عملے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین
✔ مجرموں کو فوری اور عبرتناک سزا
No Security, No Duty
تحفظ دو، ورنہ سروس بند ہوگی۔
خاموشی اب جرم ہے۔
آواز اٹھانا فرض ہے۔