Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital, Bannu

  • Home
  • Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital, Bannu

Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital, Bannu Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital, Bannu is newly established Hospital which is related with Bannu Medical College, Bannu.

There are many Departments has been working smoothlycreated by Haji Muhammad Akram Khan Durrani Ex Chief Minister of NWFP.

28/10/2022
27/10/2022

بنوں ، شمالی وزیرستان اور لکی مروت و دیگر ملحقہ علاقہ جات کے عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کل 28 اکتوبر بروز جمعہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنوں میں بھی صحت سہولت کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سروسز کی فراہمی کا آغاز ہوجائے گا اپنے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے علاج کی مفت سہولیات حاصل کریں

Visit of Chairman Board of Governors MTI Bannu Prof. Dr. Saeed Ullah Shah sb
22/10/2022

Visit of Chairman Board of Governors MTI Bannu Prof. Dr. Saeed Ullah Shah sb

ابتدائی طبی امداد ( First Aid ) کیا ہے ؟ کیا آپ فرسٹ ایڈ سے واقف ہیں ؟
14/09/2022

ابتدائی طبی امداد ( First Aid ) کیا ہے ؟ کیا آپ فرسٹ ایڈ سے واقف ہیں ؟

Medical Officers test result
10/09/2022

Medical Officers test result

10/09/2022

بنوں خلیفہ گلنواز میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی بنوں میں علاج معالجہ کی سروسز کو مزید بہتر بنانے کیلئے ایک اور اکسیجن ٹینک نصب ،

اکسیجن ٹینک ملتان کیمیکل کی طرف سے بلکل مفت مہیا کیا گیا

اکسیجن ٹینگ میں مزید 10 ہزار لیٹر گیس ذخیرہ کیا جا سکے گا جس سے مریضوں کو بروقت آکسیجن کی فراہمی کی جا سکے گی

مذکورہ ٹینک نصب کرنے سے مریضوں کی علاج معالجہ کی سروسز میں بہتری آئیگی

بورڈ آف گورنرز اور ایم ٹی آئی بنوں انتظامیہ نے ملتان کیمیکل کے بنوں ڈویژن کے عوام خصوصاً مریضوں کیلئے اس کاوش کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے

30/08/2022

بنوں میڈیکل کالج بنوں کے پروفیسر ڈاکٹر سرجن دوست محمد خان کے ضلع ٹانک میں سیلاب زدگان کیلئے قائم فری میڈیکل کیمپ اختتام پذیر ہوگئے ، ضلع ٹانک کے مختلف علاقوں میں 11 سو سے زائد مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت معائنہ کرکے مفت ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا

حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریوں نے وبائی شکل اختیار کرلی ہے جس میں ملیریا ، سکین کی بیماریاں ، سانپ کے کاٹنے سمیت مختلف بیماریاں شامل ہیں اس میں شامل ضلع ٹانک بھی ہے جہاں پر سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں سیلابی پانی کے باعث کئی علاقوں کو آپس میں جوڑنے والے زمینی راستے منقطع ہوچکے ہیں جہاں پر ان بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجہ کی اشد ضرورت ہے

اس بنیاد پر بنوں میڈیکل کالج بنوں کے پروفیسر ڈاکٹر سرجن دوست محمد خان لاکھوں روپے کی ادویات لیکر ضلع ٹانک پہنچے جہاں پر انہوں نے اہل تشیع کے علاقہ گرہ بلوچ ، گرہ پتھر پرائمری سکول ، شیخ اوتار ہائ سکول سمیت کئی مختلف مقامات پر فری میڈیکل کیمپس قائم کرکے 1100 سے زائد مریضوں کا مفت معائنہ اور ادویات فراہم کی ، جبکہ ان علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی مہیا کیا گیا

اس کیمپ کی کامیابی میں ضلع ٹانک کی پولیس اور فوجی جوانوں نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ وہاں سیلابی پانی کے باعث آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہوچکی ہے لیکن محکمہ پولیس اور فوجی جوانوں کی بدولت ان علاقوں میں رسائی ممکن ہوئی

پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان نے لوگوں سے اپیل کی سیلاب زدگان کو انکے امداد کی ضرورت ہے ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق ان لوگوں کی مدد کریں ۔

16/08/2022

پاکستان میں ہر سال کئی افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوتے ہیں جو ڈینگی بخار کا سبب بنتا ہے ڈینگی بخار بھورے رنگ کے مادہ ایڈیس (Aedes Aegypti) نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ اِن مچھروں کی افزائش کھڑے پانی میں ہوتی ہے۔
ڈینگی وائرس کے شکار افراد کو ذیلی طبی بیماری (یعنی جب انفیکشن کے شکار افراد کو علامات ظاہر نہ ہوں) سے لئے کر شدید علامات ہو سکتی ہیں۔ گرم موسم اور ہوا میں نمی کے دوران ڈینگی وائرس کے پھیلاوٴ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ہر سال 100 سے زیادہ ممالک میں 400-100 ملین (40-10 کروڑ) افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔

پاکستان موسم، آبادی کی کثافت اور دیگر مختلف عوامل کی وجہ سے ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے سے ہر سال دو چار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے ایڈیس مچھروں کی موسمی افزائش کو روکنے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ تاہم اِس وائرس سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہم سب کے لئے ضروری ہے۔

اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں کے شعبہ میڈیسن سے تعلق رکھنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نافد اللہ خان نے شہریوں کو ایک آگاہی پیغام دیا ہے جس میں
ڈینگی بخار سے منسلک علامات، علاج، اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے جو کہ درج ذیل ہیں

ڈینگی بخار کی علامات
ڈینگی بخار کی علامات اکثر معتدل یعنی ایک جیسے ہوتی ہیں، تاہم شدید بیماری کی صورت میں ڈینگی بخارانتہائی خطرناک اور ممکنہ طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈینگی فلو جیسی علامات کا سبب بنتا ہے جو اکثر 7-2 دن تک مریض کو متاثر کرتی ہیں۔ مریض کو بخار ڈینگی کے مچھر کے کاٹنے کے 10-4 دن کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈینگی بخار کی علامات درج ذیل ہیں:
• تیز بخار
• سر میں شدید درد
• آنکھوں کے پیچھے درد
• پٹھوں، ہڈیوں یا جوڑوں کا درد
• جلد پر خارش
• متلی اور قے
اگر آپ کو انفیکشن کے تین سے سات دنوں کے دوران ڈینگی کی کوئی شدید علامات ظاہر ہوں تو ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہو سکتا ہے۔ ڈینگی کی شدید علامات یہ ہیں:
• پیٹ میں شدید درد
• مسلسل قے آنا
• سانس کے مسائل
• مسوڑھوں یا ناک سے خون بہنا
• قے میں خون کی موجودگی
• بے چینی یا تھکاوٹ

نوٹ: شدید علامات یا ڈینگی سے متعلق پیچیدگیوں کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ڈینگی بخار کا علاج
اگر آپ میں ڈینگی کی علامات ظاہر ہوں تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو ہلکی علامات ہیں، تو آپ کو گھریلو علاج کا مشورہ دیا جائے گا۔ شدید بیماری کی صورت میں آپ کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑھ سکتی ہے۔ علاج کے دوران زیادہ سے زیادہ آرام کریں
• صحت مند اور غذائیت سے بھرپور کھانا کھائیں۔
• نمکول یا او آر ایس کا استعمال کریں اور پانی زیادہ پئیں۔
نوٹ: ماہرین ڈینگی بخار کے دوران آئبوپروفین اور اسپرین جیسی ادویات لینے سے منع کرتے ہیں۔ تمام ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بعد استعمال کریں۔
ڈینگی سے بچاؤ کے لئے ہدایات
ڈینگی سے بچاؤ کے لئے آپ درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔
انفرادی طور پر اپنانے والی احتیاطی تدابیر
• طلوع آفتاب کے دو گھنٹے اور غروب آفتاب کے دو گھنٹے بعد باہر نہ نکلیں کیونکہ۔
• اِن اوقات میں ایڈیس مچھر کے کاٹنے کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
• ہلکے رنگ اور لمبے بازو والے کپڑے پہنیں۔ گہرے رنگ کے کپڑوں سے پرہیز کریں۔
• کیونکہ وہ مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
• جسم پر مچھر بھگاوٴ لوشن لگائیں۔
• دن کے وقت بھی مچھر دانی کے نیچے سوئیں۔
گھریلو سطح پر اپنانے والی احتیاطی تدابیر
• اپنے گھر میں کیڑے مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ یہ چھڑکاؤ اندھیرے کونوں میں۔
• خاص طور پر کریں، جیسے بستر کے نیچے، الماریوں کے پیچھے، درختوں کے نیچے، وغیرہ۔
• گھر کی کھڑکیوں اور دروازوں کو بند رکھیں۔
• مچھروں کو اندر آنے سے روکنے کے لئے گھر کے اندر مچھر بھگاوٴ کوائلز اور میٹ کا استعمال کریں۔
• اپنے گھر کے اندر یا اس کے اردگرد موجود پانی کو جمع ہونے نہ دیں۔
• مویشیوں کے برتن، فوارے، پودوں، وغیرہ میں باقاعدگی سے پانی نکالیں اور تبدیل کریں۔
• مچھروں کو داخل ہونے سے روکنے کے لئے پانی کے ٹینکوں کو ڈھانپیں۔
• چھت پر یا گھر کے ارد گرد ڈرین پائپوں کو صاف کریں تاکہ پانی کے بہاؤ کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنایا جا سکے۔

محلے کی سطح پر اپنانے والے اقدامات
• اپنی گلیوں کو صاف رکھیں اور اپنے گھر کے باہر ایسی چیز نہ رکھیں جس میں پانی جمع ہو سکے۔
• اپنے کوڑے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔
• اپنے محلے کے پانی کی نالیوں میں کچرا یا فضلہ نہ پھینکیں۔
• اپنے پڑوس کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور کھڑے پانی کو نکالیں۔

13/08/2022

Address

Kohat Road Bannu Township Near BISE Bannu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital, Bannu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram