Nayaab Nuskhay

Nayaab Nuskhay صرف ہومیوپیتھک اینڈ حکمت کے حوالے سے پوسٹ ایپرو ہوگی

08/11/2025

🛑 ھائی بلڈ پریشر 🛑
یا ایک خاموش قاتل

بلند فشارِ خون جسے (Hypertension)
یا ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ یہ "خاموش قاتل" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اکثر اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
ہائی بلڈ پریشر کیا ہوتا ہے؟
خون کا دباؤ وہ قوت ہے جو آپ کا خون دل کے دھڑکنے کے دوران اور دھڑکنوں کے درمیان آپ کی شریانوں (Arteries) کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ جب یہ دباؤ مسلسل بہت زیادہ رہتا ہے، تو اسے ہائی بلڈ پریشر کہتے ہیں۔
بلڈ پریشر کو دو نمبروں میں ناپا جاتا ہے:
* سسٹولک (اوپر کا نمبر):
یہ دباؤ اس وقت ہوتا ہے جب دل سکڑتا ہے اور خون پمپ کرتا ہے۔
* ڈائیسٹولک (نیچے کا نمبر):
یہ دباؤ اس وقت ہوتا ہے جب دل دو دھڑکنوں کے درمیان آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔
| کیفیت | سسٹولک دباؤ (mmHg) ڈائیسٹولک دباؤ (mmHg)
| نارمل | 120 سے کم | اور 80 سے کم |
| ہائی بلڈ پریشر | 140 یا اس سے زیادہ | یا 90 یا اس سے زیادہ ۔

2. ہائی بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات کو عام طور پر دو اہم اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1. بنیادی ہائی بلڈ پریشر (Primary/Essential Hypertension)
یہ سب سے عام قسم ہے، اور اس کی کوئی ایک واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ یہ اکثر کئی سالوں کے دوران آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور مختلف عوامل کا مجموعہ ہو سکتا ہے:
* غیر صحت مند طرز زندگی:
* نمک (Sodium) کا زیادہ استعمال۔
* موٹاپا یا زیادہ وزن ہونا۔
* جسمانی سرگرمی کا فقدان (بیٹھنے والا طرزِ زندگی)۔
* شراب نوشی یا سگریٹ نوشی/تمباکو کا استعمال۔
* جینیاتی عوامل: خاندانی تاریخ میں اگر بلڈ پریشر موجود ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
* عمر: عمر بڑھنے کے ساتھ شریانیں سخت ہو جاتی ہیں، جس سے خطرہ بڑھتا ہے۔
* تناؤ (Stress): مستقل اور شدید ذہنی دباؤ۔
2. ثانوی ہائی بلڈ پریشر
(Secondary Hypertension)
یہ نسبتاً کم عام ہے اور کسی دوسری بنیادی بیماری یا دوا کے استعمال کی وجہ سے اچانک شروع ہوتا ہے، اور یہ اکثر بنیادی ہائی بلڈ پریشر سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔
* گردے کے امراض: گردوں کی خرابی خون کے دباؤ کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔
* تھائیرائیڈ کے مسائل: تھائیرائیڈ گلینڈ کی کم یا زیادہ سرگرمی۔
* نیند کی کمی: جیسے نیند میں سانس کا رک جانا (Obstructive Sleep Apnea)۔
* ایڈرینل گلینڈ کے ٹیومر۔
* بعض ادویات کا استعمال: جیسے درد کم کرنے والی کچھ دوائیں، یا پیدائش پر قابو پانے کی گولیاں۔

3. ہائی بلڈ پریشر کا جدید ہومیو پیتھک علاج

ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ہائی بلڈ پریشر کو صرف ایک علامتی بیماری کے بجائے ایک مجموعی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسے مریض کے پورے نظام کو متوازن کر کے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ استعمال ہونے والی کچھ عام ادویات (جو صرف ماہر ہومیو پیتھ کے مشورے پر لینی چاہیے) میں شامل ہیں:

* Rauwolfia Serpentina:
* ایک مشہور ہومیو پیتھک دوا جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
* Nux Vomica:
* اگر بلڈ پریشر زیادہ ذہنی تناؤ، زیادہ کھانے، اور سست طرز زندگی سے منسلک ہو۔
* Glonoinum:
* اگر سر درد، چہرے کا سرخ ہونا اور دھڑکن کی شکایات ہوں۔
* Aurum Metallicum:
* اگر بلڈ پریشر دل کے مسائل یا ڈپریشن سے وابستہ ہو۔


احتیاط
طرز زندگی میں تبدیلی
بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کا سب سے جدید اور موثر "علاج" کسی بھی طریقہ علاج میں طرز زندگی میں تبدیلی ہے۔
* صحت مند غذا:
* نمک (Sodium) کا استعمال کم کریں، پھل، سبزیاں اور فائبر والی غذائیں زیادہ کھائیں۔
* ورزش:
* ہفتے میں کم از کم 5 دن 30 منٹ کی درمیانی شدت کی ورزش کریں۔
* وزن کنٹرول:
* موٹاپے کو کم کرنا بلڈ پریشر کو کم کرنے کی اہم کنجی ہے۔
* تناؤ کا انتظام:
* مراقبہ (Meditation)، اور مناسب نیند سے تناؤ کو کنٹرول کریں۔
Copy

01/10/2025

آج کا ٹوپک جس پے آج بات کریں گے گردوں کے بارے میں
آج کل آپ دیکھتے ہوں گے کہ بہت سے لوگ گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں کسی کی کڈنی فیل ہو جاتی ہے کسی کے گردے خراب ہو جاتے ہیں کسی کے ڈيلسز ہو رہے ہیں کسی کے گردوں میں پتھری آرہی ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے 🤔 سب سے پہلے ہم گردوں کے بارے میں بات کرتے ہیں
اللہ تعالی نے انسان کے جسم میں دو گردے پیدا کیے ہیں جن کا سائز چھوٹا ہوتا ہے گردے جسم میں پانی کی مقدار بلڈ پریشر خون کے لیول کو متوازن کرتا ہے یہ کچرا اور خون کئ صفائی کرتا ہے فلٹر کرنے کے بعد یہ یورن کے ذریعے ڈسچارج ہو جاتا ہے عام طور پر بکٹریا اور مثانے کی سوزش گردے کی انفیکشن ہوتی ہے
وجوہات :
E.coli
بکٹریا آنتوں جسم میں کسی قسم کے انفیکشن خون میں ہوتے ہوئے ہمارے گردوں میں چلا جاتا ہے E.coli یہ بکٹریا ہماری انتوں میں رہتا ہے قضائے حاجت میں رکاوٹ گردوں میں انفیکشن گردوں میں پتھری اور زیادہ پروٹین والی چیزیں استعمال کرنے کی وجہ سے زیادہ ڈسٹرٹ والا کام کرنے کی وجہ سے ہیں زیادہ سگریٹ پینے کی وجہ سے الکوحل کا زیادہ استعمال کی وجہ سے ہے بازاری چیز خانے کی وجہ سے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے وجوہات ہیں پیشاب کو روک دینا
علامات :
سانس میں دشواری سر درد پیشاب میں پس آنا پٹھوں کا کام نہ کرنا گھٹنوں پر سوج رہنا پیشاب کا زیادہ آنا مثانے میں غدود بن جانا جھاگ پیشاب میں آنا بدبودار پیشاب آنا بلڈ پریشر کا بڑھ جانا بخار ہو جانا منہ کا ذائقہ کڑوا رہنا نیند نہ آنا جسم پر خارش رہنا تھکاوٹ ہونا بے خوابی ہونا جسم پر سوجن محسوس کا نام اس کے علاوہ اور بھی بہت سی علامات پائی جاتی ہیں
پرہیز :
بازاری چیزوں سے پرہیز کرنا فاسٹ فوڈ تلی ہوئی چیزیں گرم چیزیں بیکری کی بنی ہوئی چیزیں ٹھنڈے پانی کا استعمال
خوراک :
آم شہد گاجر شلجم پالک گنے کا رس چکندر
اور دیگر پھل سبزی استعمال کر سکتے ہیں
انجیل کو اگر رات کو بھگو کر رکھ دیں پانی میں صبح اٹھ کر وہی انجیر کھالیں اور سورۃ اعراف 57کو پڑھ کر انجیر کھا لیں تو انشاءاللہ عزوجل گردوں کی کافی بیماریاں ختم ہو جائیں گے
کچھ لوگوں کو یہ فیملی کی ہسٹری میں ملتی ہے
بروقت اگر آپ گردوں کا علاج نہیں کرواتے تو آپ کی جان بھی جا سکتی ہے کیوں کہ اس کا کام فلٹر کرنا ہوتا ہے اگر آپ کے فلٹر خراب ہیں تو کوئی بھی چیز آپ کے اندر نقصان پہنچا سکتی ہے اس کی مثال اس طرح لے لیں جیسے آپ کے پاس ایک گاڑی ہے اگر اس کا فلٹر بلاک ہو جائے تو اس کی وجہ سے آپ کا انجن بھی خراب ہو جاتا ہے اور وہ مزید نقصان کر سکتا ہے لہذا آپ اپنا خیال رکھیں
صبح کے ٹائم جلدی اٹھیں نماز پڑھیں سورۃ الرحمن کا پانی دم کر کے خود پی لیں واک کریں اس کے بعد جو کے دلیے کا ناشتہ کریں دوپہر میں سلاد کا استعمال کریں رات کا مناسب کھانا کھا کر سو جایں جائیں
نوٹ :
جو لوگ مٹی سیمٹ مزدور ٹھیکیدار آٹا چکی کا اور اس کے علاوہ ڈسٹنگ والا کام زیادہ کرتے ہیں تو ان پر بھی یہ زیادہ ٹیگ کرتی ہیں
ان کو چاہئے گڑ کا استعمال کریں اور گرم پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں منہ کے آگے کپڑا لازمی رکھے ہیں

گردوں کے متعلق بیماریوں کے لئے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں
امید کرتا ہوں آپ کو بہت پسند آئے ہوں گے
دعاؤں میں یاد رکھیے گا
ڈاکٹر خرم لطیف مغل
+923008896186

گردے کی پتھری کی اقسام اور اس سے نجات کے طریقے

گردے انسانی جسم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں، جوجسم سے یورک ایسڈ جیسے مادوں کو نکال باہر کرنے کا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔گردوں کے امراض جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گردے کے مریض کے لیے دوا، غذا اور احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہوتی ہیں۔

گردے میں پتھری کی بہت سے وجوہات اب تک سامنے آچکی ہیں ، جن میں مورثی بیماری بھی قابل ذکر ہے ، یعنی خاندان میں اگر گردے کی پتھری کے مرض میں مبتلا افراد ہیں تو یہ کسی اور کو بھی ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر پہلی بار کسی کو یہ بیماری لاحق ہوجائے تو فوری علاج اس کو مورثی بیماری ہونے سے بچا سکتا ہے۔

گردے کے امراض میں مبتلا مریض کے لیے اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے ، تکلیف کی شدت اسے چین نہیں لینے دیتی جس کی وجہ سے اس کی طبیعت میں اکتاہٹ اور چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے، مستقل چڑچڑاہٹ متاثرہ شخص کو ذہنی مریض بھی بنا دیتی ہے۔

گردے کی پتھری کی مختلف اقسام اب تک سامنے آچکی ہیں جن کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے بروقت علاج کو ممکن بنایا جاسکے اور گردے کی پتھری سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔

گردے کی پتھری کی اقسام
گردے کی پتھری چار مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔جن میں کیلشیم اسٹون، یورک ایسڈ اسٹون، اسٹرووائٹ اسٹون، سسٹین اسٹون۔ان میں زیادہ تر افراد کیلشیم اسٹون کا شکار ہوتے ہیں۔

کیلشیم اسٹون
یہ اسٹون 80سے 85فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔اس کی بڑی وجہ پیشاب میں کیلشیم کی مقدار کا بڑھ جانا ہے۔کیلشیم اسٹون یعنی کیلشیم کی پتھری کیلشیم آکسلیٹ اور کیلشیم فاسفیٹ کی صورت میں بنتی ہے۔کیلشیم آکسیلٹ ایک مادہ ہےجب اس کی مقدار پیشاب میں بڑھ جاتی ہے تو پانی کی کمی کی وجہ سے یہ جسم سے خارج نہیں ہو پاتااور گردوں میں پتھری کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔

آکسیلٹ پھلوں کے علاوہ سبزیوں جن میں پالک، چقندر، آلو وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔چاکلیٹس ، چپس اور شکر قندی بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ کیلشیم اسٹون کے مریض کو چاہیے کہ وہ ان تمام چیزوں سے پرہیز کرے۔

یورک ایسڈ اسٹون
یہ تقریباً 10سے 12فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔پیشاب میں یورک ایسڈ کی مقدار کے بڑھ جانے سے یہ پتھری گردوں میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔یہ پتھری خواتین کے مقابلے میں مردوں کے زیادہ پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ پیورینس نامی مادہ ہوتا ہے جو حیواناتی پروٹین میں پایا جاتا ہے۔مچھلی کے علاوہ مختلف قسم کے گوشت جن میں گائے، بکری، بھینس اور مرغی شامل ہے ان میں یہ مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

اسٹرووائٹ اسٹون
یہ وہ قسم ہے جو بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے بلکہ 1سے 3 فیصد افراد گردے کی اس پتھری کا شکار ہوتے ہیں۔اسٹرووائٹ اسٹون کیلشیم، میگنیشم اور امونیم فاسفیٹ سے مل کر بنتا ہے۔اس کو انفیکشن اسٹون بھی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ گردوں میں انفیکشن ہونے کی صورت میں بھی بن سکتا ہے۔یہ اسٹون بہت ہی غیر محسوس طریقے سے گردے میں بڑھتا ہے۔اس میں مریض کو ہلکا ہلکا دردمحسوس ہوتا ہے۔

سسٹین اسٹون
یہ بھی بہت ہی کم افراد میں پایا جاتا ہے، اس کی وجہ موروثی بیماری ہوتی ہے۔اس مورثی بیماری کو سسٹین یوریا کہا جاتا ہے، اس میں پیشاب میں سسٹین لیول بڑھ جاتا ہے۔سسٹین دراصل غیر ضروری امینو ایسڈز ہوتے ہیں، سسٹین اسٹؤن بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ بنتے ہیں۔

گردے کی پتھری سے نجات کے طریقے
٭ اس کا سب سے بہتر علاج ہے پانی کا زیادہ سے زیادہ پینا، اگر پانی پینے سے طبیعت پر بھاری پن محسوس ہوتا ہو تو ایسے میں مشروبات کا استعمال فائدہ پہنچاتا ہے۔

٭ لیموں پانی کا استعمال گردے میںپتھری کے بننے کے عمل کو روکتا ہے اور اگر پتھری بن بھی جائے تو اس کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

٭ شہد ، لیموں کا رس اور زیتون کا تیل ایک ایک چمچ آدھے گلاس پانی میں حل کرلیں اور نہار منہ پئیں۔15سے 20دن میں گردے کی پتھری پیشاب کے راستے جسم سے خارج ہوجائے گی۔

٭ زیتون کا تیل، سیب کا سرکہ دو چمچ ملا کر دو اخروٹ کے پیس اور ایک چمچ کشمش چبا کر کھانے سے گردے کی پتھری ریزہ ریزہ ہو کر پیشاب کے راستے نکل جائے گی۔

٭ ہرے دھنیے کی تازہ گڈی اس کی ڈنڈی سمیت گرینڈر میں اچھی طرح پیس لیں۔پھر اس کو چھان کر بوتل میں بھر لیں۔اس کو ایک گلاس پانی میں ملا کر روز نہار منہ پئیں، گردے کی پتھری جادوئی انداز میں ختم ہوجاتی ہے۔

٭ گاجر کو چبا کر کھانے سے گردے اور مثانے کی پتھری باریک ذرات کی شکل میں جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔

٭ ایک گلاس کچے دودھ میں ایک گلاس پانی ملا کر پینے سے گردے کی پتھری ختم ہوجاتی ہے۔

٭ کچے پپیتے کو چینی یا نمک کے ساتھ ملا کر کھانے سے پتھری گردوں سے ایسے باہر آجاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

٭ گردے کی پتھری ختم کرنے کے لیے انار کا جوس بہت مفید ہے،یہ گردے میں موجود پتھری کو توڑنے میں مدد کرتا ہے،مریض کو دن میں کم از کم ایک بارایک گلاس انار کا رس پینا چاہئے۔

٭ تربوز طبی لحاظ سے بھی بہت زیادہ صحت بخش ہوتا ہے،یہ جسم میں کیلشیم اور پوٹاشیم بناتا ہے ،جس سے پیشاب میں تیزابیت ختم ہوتی ہے ،اس کے علاوہ تربوز میں قدرتی طور پر پانی موجود ہوتا ہے جو جسم میں پانی کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔

گردوں کے امراض کی 13 خاموش نشانیاں
گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں اس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔

کئی بار گردے لگ بھگ ختم ہونے والے ہوتے ہیں تو بھی علامات سامنے نہیں آتیں تو اس سے بچنے کے لیے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا سب سے بہترین حفاظتی تدبیر ہے۔
تاہم گردوں کے امراض کی خاموش علامات کو جان لینا بھی زندگی بچانے کا باعث بن سکتا ہے جن کے سامنے آتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

غیر معمولی خارش
اگر گردے درست طریقے سے کام کررہے ہو تو وہ دوران خون سے کچرا صاف کرتے ہیں جبکہ نیوٹریشن اور منرلز کا مناسب توازن برقرار رکھتے ہیں، مگر جب یہ توازن بگڑتا ہے تو اس کا اثر شخصیت اور جلد پر بھی مرتب ہوتا ہے، جو کہ خون میں جمع ہونے والے کچرے پر منفی ردعمل ظاہر کرتی ہے، ایسا ہونے پر سرخ نشانات اور خارش کی شکایت ہوسکتی ہے۔

منہ کا ذائقہ بدلنا
گردوں کے افعال میں خرابی سے دوران خون میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا اثر منہ کے ذائقے پر مرتب ہوتا ہے اور کھانا تلخ، کڑوا یا معمول سے ہٹ کر لگنے لگتا ہے، گوشت کھانے کا لطف ختم ہوجاتا ہے، اسی طرح سانسوں میں بو بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

دل خراب ہونا یا قے
اگر جسم میں کافی مقدار میں کچرا جمع ہوجائے تو دل متلانے یا قے کا تجربہ اکثر ہونے لگتا ہے، درحقیقت یہ جسم اپنے اندر جمع ہونے والے مواد سے نجات کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے، دل متلانے کے نتیجے میں کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے، اگر ایسا کچھ عرصے تک ہوتا رہے تو جسمانی وزن میں بہت تیزی سے کمی آتی ہے۔

زیادہ یا کم پیشاب آنا
چونکہ گردے پیشاب کے لیے ضروری ہیں، لہذا جب وہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر لوگوں کو پیشاب کی خواہش تو ہوتی ہے مگر آتا نہیں، جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو عام معمول سے ہٹ کر واش روم کے زیادہ چکر لگانے لگتے ہیں، متعدد افراد کو یہ مسئلہ راتوں کو جاگنے پر مجبور کرتا ہے۔

پیشاب میں تبدیلی
کم یا زیادہ پیشاب آنے سے ہٹ کر پیشاب میں بھی تبدیلی آسکتی ہے جیسے اس میں خون آسکتا ہے، اس کا رنگ عام معمول سے ہٹ کر گہرا یا ہلکا ہوسکتا ہے، جھاگ دار بھی ہوسکتا ہے۔

چہرے، ٹانگوں، پیر یا ٹخنوں کی سوجن
گردوں کا کام جسم سے کچرے کوسیال شکل یا پیشاب کی شکل میں خارج کرنا ہوتا ہے، اگر گردوں کے افعال سست یا کام نہ کریں تو یہ سیال جسم میں جمع ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کے کچھ حصوں جیسے پیروں میں سوجن مستقل رہنے لگتی ہے۔

بہت زیادہ تھکاوٹ
گردوں کے افعال میں کسی فرد کے ہیمو گلوبن کی سطح کو ریگولیٹ کرنا بھی شامل ہے، جب یہ عمل متاثر ہوتا ہے تو خون کی کمی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی کم ہوتی ہے اور آپ ہر وقت بہت زیادہ تھکاوٹ یا غنودگی محسوس کرتے ہیں۔

بلڈ پریشر میں اضافہ
ایک بار گردوں کو نقصان پہنچ جائے تو وہ بلڈ پریشر کو موثر طریقے سے کنٹرول نہیں کرپاتے، جس کے نتیجے میں شریانوں میں خون کا دباؤ بڑھتا ہے جو شریانوں کو کمزور کرکے گردوں کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔

دل کی دھڑکن میں خرابی
اگر گردوں کو نقصان پہنچے تو جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جو دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

مسلز اکڑنا
گردوں کی کارکردگی میں کمی آنے سے الیکٹرولائٹ عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، مثال کے طور پر کیلشیئم کی سطح میں کمی اور فاسفورس کا کنٹرول سے باہر ہونا مسلز اکڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

کھانے کی خواہش کم ہوجانا
یہ بہت عام علامت ہے ، جس کی وجہ گردوں میں خرابی کے نتیجے میں جسم میں زہریلے مواد کا اکھٹا ہوجانا ہے، جس کے باعث کچھ کھانے کو دل نہیں کرتا۔

آنکھیں پھولنا
گردوں کے نظام میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ایک آنکھوں کے ارگرد کا حصہ پھولنا ہوتا ہے، یہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گردوں سے بڑی مقدار میں پروٹین کا اخراج پیشاب کے راستے ہورہا ہے۔ اگر ایسا ہونے پر جسم کو مناسب آرام اور پروٹین ملے اور پھر بھی آنکھوں کے ارگرد پھولنے کا عمل جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سونے میں مشکل
جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے، اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا جانا چاہیے۔۔
گردوں کے امراض –

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ افعال گردہ (کلیہ) کا بنیادی فعل جسم میں موجود خون کی صفائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسم میں موجود غیر ضروری اور زہر یلے مادوں کا جسم سے اخراج بھی ہے ۔صحت مند گردہ (کلیہ) نہ صرف جسم انسانی میں پانی اور نمکیات کے تناسب کو برقرار رکھتا ہے، بلکہ خون میں موجود خلیوں کی ساخت کو بھی بحال رکھنے میں نہایت اہم کرادرادا کرتا ہے ۔
ہمارے جسم میں غیر ہضم شدا غذا کا اخراج اور فاسق اجزا (زہریلے مادّوں) کا انَخلاء ایک ہی وقت میں جاری رہتا ہے ۔انسانی جسم میں نظام اخراج چار راستوں سے ہو تا ہے جن میں گردہ کو نہایت اہمیت حاصل ہے ۔

۔1۔ ایک صحت مند گردہ (کلیہ ) ایک دن میں ایک سے دو لیٹر (URINE)پیشاب جسم سے مثانہ کے راستہ خارج کرتا ہے جس میں پانی ،نمکیات اوردیگرزہریلے مادے شامل ہو تے ہیں

2۔ مقصد کہ راستہ غیر ہضم شدہ غذا "غیر ضروری اجزا” کا اخراج بھی جسم سے ہو تا ہے ۔

3۔ بذریعہ سانس منہ کے راستے بخارات کا جسم میں داخلہ اور اخراج ہو تا ہے جس میں ہمارے پیپھڑے نہایت اہم فعل انجام دیتے ہیں اس عمل میں جسم سے CO2 کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو تا ہے اور ہمارے جسم میں آکسیجن داخل ہو تی ہے ۔

4۔ جلد کے راستے بذریعہ پسینہ ہمارے جسم سے نائٹروجنی مواد اور کچھ دیگر نمکیات کا اخراج ہو تا ہے۔

☜گردہ کے مریض کی کچھ بنیادی علامات

1۔مثانہ کے ذریعہ خون کا اخراج ہو نا۔

2۔چہرہ اور پاؤں پر سوجن کی علامات ۔

3۔پیشاپ کا نہ آنا یا دقت سے آنا(رکاوٹ ) ۔

4۔کمر کے پچھلے حصے میں پسلی کے نیچے کی جانب درد کا ہو نا۔

5۔پیشاپ کے رنگ میں تبدیلی یا جھاگ بننا۔

امراض گردہ کی اقسام اور علامات طب یونانی کی روشنی میں

بنیادی طور پردو مزاج گردہ (سوئ مزاج الکلیہ ) کی دو قسمیں ہیں

1۔سوئ مزاج حار

2۔سوئ مزاج بارد۔

1۔ حار علامات:

قادور (پیشاب ) رنگین (زرد یا سرخ) ہو جاتا ہے گردہ کا مقام "پشت کمر”گرم ہو تا ہے اور خواہش ج**ع قوی ہو تی ہے ۔

2۔ بارد علامات:

قادور (پیشاپ ) اور بدن کی رنگت سفید ہو تی ہے اور ج**ع کی خواہش زائل ہو جاتی ہے پشت کمزور اور جھکی ہو ئی ہو تی ہے ۔

علاج حار:

(منبرد شربت پلائیں) مثلا شربت انار ،شربت ذرشک ،شربت خشخاش ۔

علاج بارد:

گردوں کی برودت میں معجون کمونی سے بہت زیادہ نفع حاصل ہو تا ہے ۔

طب یونانی میں اس مرض کی مندرجہ ذیل اقسام بھی قابل ذکر ہے۔جن کا علاج بھی علامات اور منراج کے مطابق ہوجاتا ہے ۔
علی رضا جالندھری
1۔منصف کلیہ گردہ کی کمزوری WEAK KIDNEY

2۔ورم گردہ ،ورم الکلیہ NEPRITIS

3۔حعات الکلیہ ،گردہ کی پتھری KIDNEY STONE

4۔بول الدم ،پیشاپ میں خون آنا HEMATURIA

5۔عرالبول ،پیشاپ کا تنگی سے آنا URINARY RETENTION

6۔بول زلائی ،گدلاپیشاپ ALBUMIN IN URINE

7۔بول فی الفرامش ،بستر پر پیشاپ کرنا BED WETTING

پیشاپ کے ٹیسٹ سے ہمیں غذائی بے اعتدالی اور امراض کلیہ کو سمجھنے میں بہت حد تک مدد مل جاتی ہے ۔

پانی:

جیسا کہ میں پہلے ہی بیان کر چکا ہو ں کہ ایک صحت مند گردہ ایک دن میں ایک سے دولیٹر پیشاپ بذریعہ مثانہ ہمارے جسم سے خارج کرتا ہے جس میں دیگر فاصد مادہ بھی شامل ہوتے ہیں ۔

پروٹین:

ایک صحت مند گردہ کے URINE میں سے پروٹین کے اخراج کی مقدار مضر ہو تی ہے پیشاپ میں پروٹین کی موجودگی جسم میں موجود AMINO ACID میں بے اعتدالی کا پتہ دیتی ہے ۔

نمکیاتMINERALS/SALTS :

ایک صحت مند گردہ کے یو رین میں سے 16GM تک نمکیات کا اخراج ایک معمول کی بات ہے مگر اس کے تعداد میں کمی یا زیادتی جسم میں موجود بیماری کا نشاندہی کرتی ہے ۔

گلوکوزGLUCOSE:

ایک صحت مند گردہ کہ یورین میں گلو کوز /شکر کی مقدارصفرہوتی ہے۔اسکی موجودگی جسم میں diabetic کا پتہ دیتی ہے ۔

یوریا.

ایک صحت مند گردہ24 گھنٹوں میں 25گرام یوریا کا خراج کرتا ہےاسکی کمی یازیادتی سے جسم میں نائٹروجن کے اضافے کا علم ہوتا ہےجو کہ گردہ کیلئے نہایت خطرناک ہوتا ہے

یورک ایسڈ:

پیشاب میں یورک ایسڈ کی مقدار صفر اعشاریہ8 گرام ہونی چاہیئے اسکی مقدار میں اضافہ بھی جسم میں نائٹروجنی اجزاء کا جسم میں اعتدال سے زیادہ ہونے کا پتہ دیتی جو کہ نہایت حطرناک ہوتا ہے اور کئی امراض کی وجہ بنتے ہیں

کریٹا نائن

پیشاب میں کریٹانائن کی مقدار1اعشاریہ4 گرام ہونی چاہیئے اور اسکی مقدار میں اضافہ جسم میں فاسق مادوں کی موجودگی کا پتہ دیتی ہےجوکہ محتلف قسم کی انفیکشن کا باعث بنتی ہے

چند بنیادی غذائی اصول

گردے کی مریض کوجہاں بستر پر آرام کا مشورہ دیاجاتا ہے وہاں غذائی احتیاط کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مریض جلدی شفایاب ہوسکے

پروٹین:

غذا میں پروٹین کی نارمل رہےاور جس میں تمام حیوانی ونباتاتی لحمیات کم استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے تاکہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کم رکھی جا سکے ۔

سوڈیم:

گردہ کے مریضوں کی عمومی غذا میں سوڈیم کی مقدار ایک سے دو گرام روزانہ ہونی چاہیے یاد رہے یہ سوڈیم کا درجہ ہے نمک کی مقدار نہیں ہے

پوٹاشیم :

مریض کے خون میں پوٹاشیم کی کمی بیشی کو خوراک کے ذریعے بحال رکھنا چاہیے ۔

انرجی (طاقت):

مریض کی خوراک کو کاربو غذاؤں سے عموما بھرپور رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنا جسمانی وزن مناسب حد تک بحال رکھ سکیں

کولیسٹرول :

اگر خون میں کولیسٹرول کا درجہ بلند ہو اور اس کی وجہ سے گردہ کی شریانیں سخت ہو رہی ہو تو غذا میں کولیسٹرول کی مقدار کو خاصا کم کرنا پڑے گا ، ایسے حالات میں غذا میں چکنائی کی مقدار کو کم کریں مثلا دیسی گھی ،حیوانی چربی ،مکھن ، دودھ کی بالائی ، سری پائے ، نہاری ، سموسے ، پکوڑے ، کھوپڑا ، آئس کریم اور بیکری مصنوعات وغیرہ

وٹامنز اور پھلوں کا استعمال:

امراض گردہ کے مریض زیادہ تر کمزوری محسوس کرتے ہیں اور خصوصا پیشاب آور ادویات ان میں مزید نقاہت کا باعث بنتی ہیں اس لیے ان مریضوں کو مجموعی غذا سے ہٹ کر پھلوں کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے

احتیاط :

درد گردہ کے مریضوں کو چاول ، گوبھی ، آلو ، بھنڈی ، کیلا ، ماش کی دال اور لیس دار غذاؤں کے استعمال میں احتیاط سے کام لیناچاہیے

گردہ کے مریض کے لیے موافق غذائیں

جو غذائیں امراض گردہ میں مریض کے لیے نہایت مفید ہوتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں سرد غذائیں تخم کھیرا ، ککڑی ،تخم کاسنی ، کاکنج، تخم جو کائی ، تخم حرفہ،لوکی، کھیرا ،تربوز ، کاسنی ،آش جو ، عرق لیموں ، شورہ گوکھرو اس طرح گرم غذائیں تخم گاجر ، پرسباؤشان ، املتاس ، تخم کرفس ، سونف ، کباب چینی ، برنجاسف ،خشک زوفا، اجمود ، اجوائن دیسی ، تخم خباری ، پودینہ ، کلونجی اور بلسان وغیرہ نہایت مفید ہیں۔
داعی الخیر

ريمڈی ہومیوپتھک

دو سیر لسی ( چاٹی والی ) میں دس عدد لیموں نچوڑ کر دوپہر کے وقت ایک گھنٹہ میں وقفے وقفے سے پی کر ختم کر لیں : -
تین دن استمال کریں اگر پتھری بیضہ مرغ ( مرغی کے انڈے ) جتنی بھی ھو گی ریزه ریزه ھو کر نکلے گی -
مجرب المجرب ھے -
استعمال پر قدر معلوم ھو گی -
کہ اکسیر اتنی آسان بھی ھوتی ھے -

کاپی پیسٹ

گردے کی پتھری کا مکمل علاج
۔گردے کی پتھری
۔۔۔1 ۔۔۔کلکیریا رینی
۔2۔۔۔۔کینتھرس۔۔
۔ 3۔۔۔بربریس۔
4۔۔ہائیڈرینجیا ۔ ۔
۔ 5۔۔۔۔کلکریا کارب
۔ 6سولیڈیگو
۔ 7 اسٹگ میٹا میڈس
۔۔8۔لائیکوپوڈیم ۔۔
۔9۔پیریرابراوا ۔۔۔
۔۔10۔۔۔سارساپریلا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔11 یواارسی
12سیپیا۔۔۔۔۔۔
۔۔13اسپیریگس آف
14 تھلاسپی بی پی
15 اوسیمم کینم
16 ویسی کیریا کمیونس
17 آرٹیکا یورنس
۔ ۔۔1)کلکیریا رینی"""""'''"
یہ پتھری کے حوالے سے نہایت ہی مفید دوا ہے یہ مثانے سے نکلی ہوئی پتھر سے تیار کی جاتی ہے اگر کسی فرد کو بار بار پتھری بننے کا روجھان ہو اخراج کے بعد پتھری بار بار بن جاتی ہے تو ایسی حالت میں مفید دوا ہے ابتدا میں اگر گردے کے مریض کو یہ دوا دی جائے تو یہ پتھری کو توڑنے کی طاقت رکھتی اس کے استعمال سے بار بار پتھری بننے کے عمل کو رک جاتا ہے پتھری نکالنے والی میڈسن دینے سے پہلے دی جاہے تو یہ پتھری کےساہز کو کم کرتی ہے یا تو توڈ دیتی ہے جس کی وجہ سے پتھری کا احراج آسانی سے ہوتا ہیں
طاقت 1x سے200 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 2. کینتھرس۔
۔۔۔علامات پیشاب کی مسلسل حاجت جھلیاں خارج ہوتی ہیں پیشاب جیسے چوکر ملا ہوا ہیں جھلی کی طرح ریزوں کا اخراج ناقابل برداشت حاجت اور گردوں کی سوزش پیشاب خون ملا پشاب کی سارے راستے جلن ولی درد ہوتی پشاب کی پُردرد حاجت ہوتی ہے خون ملا پیشاب قطرہ قطرہ یہ دوا بھی پتھری خارج کرنے کی طاقت رکھتی ہے
طاقت 3سے 200 ۔۔۔
۔۔3۔۔۔۔۔بربیرس ولگارس؛؛؛؛؛؛؛؛ گردے کی پتھری کی ایک خاض دوا یےگردے کے مقام پر درد ہوتا ہےاس کی خاض علامات پیشاب کرنے کے بہد احساس ہوتا ہےکے پیشاب ابھی باقی ہےپیشاب میں گاڑی کف آتی اور سرخ چمک دار مواد تہ نشین ہوتا ہے
طاقت Q

ہائیڈرنجیا ۔۔۔۔۔۔۔ گردے کی خاص میڈیسن ہے جلن اور پیشاب کی بار بار حاجت اخراج پر مشکل شروع ہوتا ہے کمر میں شدید درد خصوصن بائین طرف شدید پیاس اور پیٹ کی علامات بھی ایم ہوتی ہیں پشاب میں ریت اور نمکیات ہوتی ہے یہ گردے کی نالی پر اثر کرتی ہے گردے اور مثانے کے درمیان نالی میں اگر پتھری پھانسی ہےاس کو نکالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے
طاقت Q
5۔۔۔۔کلکیریا کارب ۔
۔گردے میں پتھری اگر کلشیم کی تیہ نشین ہونے کی وجہ سے بنی ہے تو یہ اس کو توڑنے میں بڑی معاون ثابت ہوتی ہے
طاقت 200
6سولیڈیگو۔ ۔۔۔۔۔
۔۔ پشاب مقدار میں کم سرخی مائل بھورا گاڑھا پشاب کی بندش ریت آتی ہےگردوں میں درد جو آگہے پیٹ ا ور مثانےتک آتا ہےصاف بدبودار پیشاب بعض اوقات کیتھڑ کے بغیر پشاب نہیں آتا یہ دوا گردے میں سے پتھری کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے
طاقت Q
اسٹگ میٹا میڈس ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میڈیسن گردے کے لحاظ سے بہت خاص میڈیسن مانی جاتی ہے یہ گردے کی پتھری کو خارج کرتی ہے پشاب میں خون اور ریت آتی ہے پشاب بند ہو جاتا ہے یہ مکئ کی چھلی کے بالوں سے تیار کی جاتی ہے انڈیا کے اندر اس میڈیسن کا استعمال خوب کیا جاتا ہے اس کا استعمال اگر سال میں دو دفعہ کیا جائے تو یہ گردوں کو صاف کردیتی ہے
طاقت Q
8۔۔۔۔۔۔ لائیکو پوڈیم۔۔۔۔
دائیں جانب سے گردے کی پتھری سے بڑا کام کرتی ہے دائیں جانب اگر گردے میں پتھری ہے جس کو نکالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے پشاب سے قبل کمر کے دائیں جانب درد ہوتا ہے اخراج کیساتھ ہی درد رک جاتا ھے پشاب آہستہ آہستہ اترتا ہے اخراج کے ساتھ ہی درد ختم ہو جاتا ہے رات کو بار بار پشاب آتا ہے بچہ پشاپ سے پہلےچیخ مارتا ہے
طاقت6سے1M

9۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاریرابراوا ۔۔۔
۔۔۔یہ میڈیسن گردے کے درد میں بہت مفید ہے پشاب میں سے خون آتا ہے مسلسل حاجت زور لگانا پڑتا ہے نیچے رانوں میں درد دوران پشاب ہوتاہےمثانہ جیسے پھول گیا ہوپیشاب کی نالی میں سوزش ہوتی ہے امراض گردہ میں یہ درد کی دوا مانی جاتی ہے
طاقت Q

10 سارساپریلا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔یہ بھی گردے کی پتھری میں مفید ہے گردے کی پتھری کو خارج کرنے میں مدد گار ثابت ہو پشاب مقدار میں کم چکنا زرات نظر آتے پشاب کے بعد شدید درد ہوتا ہےداہیں گردے کی پتھری میں کام کرتی ہے
طاقت1xسے30
11یواار سی ۔
۔۔اس میڈیسن کی پشاب کی علامات اہم ہیں پیشاب میں پیپ چھیچھڑے پتھری کے باعث سوزش پشاب کی بار بار حاجت
طاقتQ
12سیپیا۔ ۔۔۔
۔ پیشاب میں ریت آتی ہے پہلی نیند میں غیر ارادی طور پیشاب نکل جاتا ہے یہ میڈیسن عورتوں میں پتھری کی نکالنے کے کام آتی ہے
طاقت30 سے200
13اسپیریگس آف ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ یہ پیشاب لانے والے نظام پر اثر کرتی اور پیشاب لاتی ہے پیشاب کی نالی میں درد ہوتا ہے یہ پتھری بننے کے عمل کو روکتی ہے اور پتھری کو خارج کرتی یے
طاقت
6سے 30
14۔۔۔۔۔۔۔۔تھلاسپی ۔
۔۔۔یہ گردے اور مثانے کی بہترین دوا ہے اگر یورک ایسڈ کے مریض کو گردے میں پتھری ہے تو یہ خارج کرتی ہے بار بار پیشاب کی حاجت پیشاب خون ملااینٹ کے رنگ کی طرح پیشاب فوارے کی طرح خارج ہوتا ہے
طاقت Q سے 30
15 اوسیمم کینم۔۔۔۔
۔۔۔ یہ دوا گردوں کی خاص دوا ہے یوریک ایسڈ کے مریضوں کو گردے میں پتھری بننا درد گردہ دائیں جانب کے گردے کی پتھری پیشاب میں ریت آنا اس کی خاص علامات ہیں یہ گردے کی پتھری کو خارج کرتی ہے
طاقت
30 اور 200
16۔۔۔۔۔۔ویسی کیریا کمیونس ۔۔
۔۔۔۔جرمنی میں اس دوا کا استعمال گردے کی تکلیف اور پتھری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے پیشاب کی بار بار حاجت اور پشاب کی نالی میں رکاوٹ اس دوا کو طلب کرتی ہےیہ دوا گردے کی پتھری کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے
طاقت Q
آرٹیکا یورینس۔۔۔۔Q
۔۔۔۔یہ دوا بھی گردے میں پتھری کیلئے بہت مفید دوا ہے یوریک ایسڈ کے مریضوں کو اگر گردے میں پتھری ہے تو یہ مفید ثابت ہوتی ہے اور گردے کی پتھری کو خارج کرتی ہے اس کی علامات میں پشاب بلا ارادہ نکل جاتا ہے

گردے اور پیشاب کے مسائل اور ان کی میڈیسن ۔
Canthris
"جلن " کینتھرس کے تمام کیسوں میں پائی جاتی ہے اور خاص طور پر مثانہ اور پیشاب کی نالی میں نمایاں ہوتی ہے . سوزاک . جلن دار پیشاب کا قطرہ قطرہ خارج ہو
بعض اوقات پیشاب میں خون آتا ہے

Apis mellifica
پیشاب کرتے ہوئے آخری قطروں میں جلن اور ٹیس ،پیشاب میں البیومن اور کاسٹس ،فوطوں میں پانی اترنا ،خصیوں میں ورم

Barosma crenata
یہ آلات بول وتناسل کی پرانی تکلیفات میں جب مواد زیادہ مقدار میں آرہا ہو اور پیپ کے ساتھ جھلی کے ٹکڑے یا بلغمی ٹکڑے ملے ہوں ،مذی کی تکالیف ،جلق اور کثرت مباشرت کے بعد
Berberis vulgaris
پیشاب میں پہلے زرد ،ہلکے شفاف لیس دار رسوب یا پیشاب میں میلا گاڑھا جس میں لئی کا سا مقدار میں زیادہ آؤں کا یا سفیدی مائل مٹیالا یا سرخ

Equisetum
پیشاب میں کثیر مقدار میں کف کا اخراج ہوتا ہے البیومن آتی ہے

Copaiva off Q
پیشاب میں پیپ کے لئے ایک مؤثردوا ہے. بنقشہ جیسی بو آتی ہے گند کے ساتھ ایک سبز، ٹربائڈ رنگ کا مادہ. دردناک پیشاب

Chemaphilla umbellata
شراب کے نقصانات کے لئے
پیشاب گدلا ،بدبودار ،ریشہ دار بلغم یا خون آتا ہے پیشاب جلتا ہوا ،زور لگانا پڑتا ہے
Sarsa Parilla
خون ملی منی کا اخراج ،آلات تناسل سے ناقابل برداشت بو آتی ہے ،پیشاب چکنا ،ذرات نظر آتے ہیں اور خون ملا ،پیشاب کے بعد شدید درد ہوتا ہے بیٹھنے پر قطرہ قطرہ نکلتا ہے
Clematis erecta
فوطوں کے آس پاس عصبی درد ،فوطوں میں سختی اور کچلے جانے کا احساس ہوتا ہے فوطوں کی تھیلی کی سوجن ،زبردست شہوت اور پیشاب کی نالی میں سوئیاں چبتی ہیں

MERC COR.
- یو آر آئی کی وجہ سے مریض میں پیر کور کے لئے ایک مؤثر دوا ہے. یہ دوا ان صورتوں میں سوچا جا سکتا ہے جب بہت سے کوششوں میں کرنا پڑتا ہے. پیشاب بہت کم ہے اور اکثر مریض نے پیشاب میں مکھن کے ٹکڑے ٹکڑے جیسے سیاہ گوشت گزرتے ہیں. پیشاب بہت گرم ہو اور ڈراپ اور درد کے ساتھ ہو مرض کے مریض کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیشاب کو گزرنے کے بعد فورا ہی بہت سارے پسینے کا تجربہ کرتے ہیں. یہ عام طور پر ہوتا ہے کیونکہ مریض کو پیشاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے.
خون ملا سبزی مائل اخراج ،البیومن آتی ہے

Solidago Virga
پیشاب میں البیومن، خون اور پیس.
پیشاب بھورے رنگ اور ترش بو والا

Nitric ACID
پیشاب میں پس کے خلیوں کے لئے ایک بہترین دوا ہے. پیشاب بھی رنگ میں گندا اور سیاہ ہے. تمام اخراجات بدبودار
خصوصاً پیشاب ،پاخانہ اور پسینہ
Pareira brava
Uti
کے لئے بہت مؤثر ہے.
پیشاب سیاہ ،خون ملا ،گاڑھا کف آتا ہے
مسلسل حاجت ،زور لگانا پڑتا ہے ،نیچے رانوں میں درد جو دوران پیشاب ہوتا ہے . مجرل البول کی سوزش اور غدہ مذی کی شکایت
Uva ursi

پیشاب میں خون اور پیپ کا اخراج ،کف خارج ہوتا ہے ،غیرارادی طور پر سبز رنگ کا پیشاب خارج ہوتا ہے ،پیشاب کی رکاوٹ
وغیرہ وغیرہ

Stigmata maydis

سرخ ریگ اور چھوٹے کنکر پیشاب میں خارج ہوتے ہوں
پتھری کی وجہ سے حوض گردہ کی پرانی سوزش
پیشاب رک گیا ہو
پیشاب دقت سے آتا ہو
پیشاب کر چکنے کے بعد مروڑ پڑتا ہو

Epigea repens

اگر گردہ ومثانہ میں پتھری ہو یا سنگریزہ ہو

Urtica urens
مجھے ایک بار یہ تکلیف ہوئی تھی تقریبا دس سال سے زائد عرصہ ہوگیا میں گردے کی تکلیف کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا تھا تو میں نے( ارٹیکا یورنس) استعمال کیا تھا
الحمدلله دوبارہ یہ مسئلہ نہیں ہوا

Calcarea renalis

بار بار پتھری بننے کے رجحان کو ختم کرتی ہے


Pareira brava
گردے کے درد کے لئے غدہ مذی کی خرابیاں ،مثانہ کا نزلہ ،پیشاب قطرہ قطرہ خارج ہوتا پیشاب کی نالی کی سوزش اور سختی

Oxydendron

استسقاء عام اور جلندھر ،پیشاب کی بندش ،غدہ مذی بڑھی ہوئی مثانہ کی پتھری ،مثانہ کی گردن کا ورم ،شدید تنگی تنفس

Cantharis

گردوں کی سوزش اور پیشاب خون ملا
پیشاب کے سارے راستے میں اینٹھن جلن اور کٹن والی درد مسلسل حاجت پیشاب قطرہ قطرہ جلتا ہوا اور جھلسا دینے والا

ہومیو پیتھک میں اور بہت سی ادویات ہیں جو اس بیماری میں استعمال ہوتی ہیں .

Muhammad Gulzar Khan.

*گردہ مثانہ کی سوزش پتھری*
Kidneys Stone

✍️🌐*تحریر۔ ڈاکٹر محسن چدھڑ*🌐

👇علاج Treatment

👇*بیربیریس ولگارس۔ Berberis Vulgarise Q*

درد۔ سوزش۔ پتھری کی سب سے مفید دوا۔ گردہ کی پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے پیشاب کے ذریعے خارج کرتی ھے۔
درد گردہ میں جادو اثر کام کرتی ھے۔

👇*ہائیڈرینجیا۔Hydrangea* Q

گردہ کی پتھری کو توڑ کر خارج کرتی ھے۔ پیشاب کی نالی میں جلن اور پیشاب کی بار بار حاجت۔ پیشاب میں خون اور ریت آئے۔ کمر کے نچلے حصہ میاں تیز درد۔

👇*سارسپریلا۔ Sarsaprilla* Q

پتھری۔ پیشاب کرنے کے بعد شدید درد۔ بچے پیشاب کے دوران اور بعد میں چیخ ماریں۔ پیشاب چکنا لیسدار اور خون آئے۔ پیشاب قطرہ قطرہ۔

👇*پریرا بریوا۔Parrots Brava* Q

گردہ مثانہ کی پتھری۔ مثانہ میں سوزش درد۔ پیشاب میں سیاھی مائل خون آئے۔ پیشاب کرتے زور لگانا پڑے جس کے ساتھ درد ھو جو رانوں تک جائے۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پیشاب خاک کرنا پڑے۔

👇*کینتھریس۔ Cantharis*30*

گردہ مثانہ کی پتھری و سوزش
پیشاب قطرہ قطرہ خون ملا گرم جلتا ھوا
پیشاب کی نالی میں جلن۔ ناقابل برداشت درد۔ پیشاب کے دوران اور بعد میں جلن۔ کٹن اور درد

👇*کلکیریا کارب 30۔ Calcarea Carb*

گردہ مثانہ کی پتھری
پیشاب مقدار میں زیادہ گہرا۔ بھورا تُرش بو والا۔ پیشاب می تلچھٹ اور خون آئے۔
یہ دوا کیلشیئم سے بنی پتھری کو توڑ کر ریت بناتی ھے اور پیشاب کے ذریعے خارج کرتی ھے۔

👇*لائیکو پوڈیم۔ Lycopodium 30*

دائیں گردہ کی پتھری کی دوا
گردہ سے سرخ رنگ کی ریت کا اخراج
پیشاب ذور لگانے سے آئے۔ پیشاب کرنے سے پہلے درد۔ پیشاب آتے ھی درد ختم ھو جاتا ھے۔ گردوں کے مقام پر کمر میں درد۔

👇*اوسیمم کین۔Ocimum Can Q-3x*

گردہ۔ مثانہ کی پتھری۔ کنکریشن
پیشاب میں سرخ ریت کا اخراج
پیشاب میں یورک ایسڈ خارج ھوتا ھے
پیشاب گدلا۔ گاڑھا۔ پیپ اور خون ملا۔سرخ زرد رنگ کا۔ گردے کی نالی میں درد

👇*آرٹیکا یورینس۔Urtica Urens Q*

گردہ کی پتھری۔ یورک ایسڈ کی زیادتی
پیشاب بلا ارادہ نکل جاتا ھے۔

👇*سولیڈیگو۔Solidago Q*

پتھری و درد گردہ
پیشاب میں دشواری کم مقدار میں آئے۔ البومن آئے۔ پیشاب کی رنگت بھوری۔ تلچھٹ اور ریت آئے۔ گردوں سے درد شروع ھو کر پیٹ کی طرف آئے۔

👇*کلکیریا رینیلس۔Calcarea Renalis 1x*

یہ دوا مثانہ سے نکلی ھوئی پتھری سے بنائی جاتی ھے۔ گردہ مثانہ کی پتھری کے بار بار بننے کے رجحان کو ختم کرتی ھے۔ پتھری کے خارج ھونے کے بعد اس کا استعمال دوبارہ پتھری بننے سے روکتا ھے۔

📚*میرا مقصد آسان ہومیوپیتھی*📚

گردے فیل ھونے (Renal Failure) کا ھومیوپیتھک علاج

ان دواؤں کے استعمال سے گردے دوبارہ کام کرنا شروع کردیتے ھیں

ضرورت مندوں سے شیئر کریں

اللہ نے انسان کو دو گردوں سے نوازا ھے یہ اصل میں غدود ھوتے ھیں پسلیوں کے نیچے، پیٹ کی طرف، کمرمیں دائیں اور بائیں طرف واقع ھوتے ھیں گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا، کم و بیش7 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 یا 3 سینٹی میٹر موٹا ھوتا ھے ھر گردہ میں 10 لاکھ سے زائد نالی دار غدود، نیفران، یا فلٹر(جھلی) ھوتے ھیں، گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1500 لیٹر خون گزرتا ھے۔

گردوں کا کام جسم سے فاسد، نقصان دہ، ضرورت سے زائد مادوں کو خارج کرنا ھے گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ھیں مثلاََ جسم میں کیلشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رھنا ضروری ھوتا ھے اس کی کمی و بیشی سے بہت امراض جنم لیتے ھیں انسان زندہ نہیں رہ سکتا گردوں کا کام ان مادوں نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ھے گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ھارمون پیدا کرتےھیں اگر یہ ھارمون جسم میں کم ھو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ھوجاتی ھے

گردے فیل ھونے کی بہت سی وجوہا ت ھیں جن میں چند اھم درج ذیل ھیں گردے کی جھلی کی سوزش، جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ھوتے ھیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹرکرنا ھے، یہ جھلی اگر کام نہ کرے، کسی وجہ سے خراب ھو جائے تواس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ھونا شروع ھوجاتیں ھیں جس سے گردہ کام کرنا چھوڑ دیتا ھے اس سے پیشاپ کے اندرچربی یا خون آنا شروع ھوجاتا ھے گردہ فیل ھونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ھی بنتی ھے دوسری وجہ شوگراورھائی بلڈ پریشرھے، اگر شوگر کا مرض ھو تو اس کے عموماََ 10 تا 15 سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ھوجاتا ھے اس لیے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ھرممکن کوشش کرنی چاہیے اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے بھی گردے خراب ھوجاتے ھیں، بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا ھے حد ضروری ھے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ھوسکتا ھے

موسم گرما میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ھوتی ھے کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ھو جاتی ھے اور موسم سرما میں سردی کی وجہ سے کم پانی پیا جاتا ھے، جس سے جسم میں پانی کی کمی ھو جاتی ھے جو گردوں میں پتھری کا سبب بنتا ھے، یہ پتھری پیشاب کے ذریعہ خارج نہیں ھوسکتی گرودوں کی جھلی میں زخم بنتے ھیں، جو سوزش کا باعث بن جاتے ھیں جو رفتہ رفتہ گردوں کے فیل ھونے کی طرف بھی لے جاتے ھیں ۔یعنی پانی کی کمی گردوں کے فیل ھونے کا تیسرا بڑا سبب ھے جھلی کی سوزش، شوگر، بلڈ پریشر، پانی کی کمی وغیرہ دیکھا جائے تو یہ سب پانی کی کمی کی وجہ سے ھوتا ھے علاوہ ازیں پانی کا صاف نہ ھونا بھی اس میں شامل ھے

یہ تومختصر ذکرگردوں کے فیل ھونے کی وجوہات کا تھا اسی طرح گردوں کے فیل ھونے کی اقسام بھی ھیں مثلاََ اچانک گردوں کا فیل ھوجانا اس کی وجہ شدید گرمی میں پانی کی شدید کمی، خواتین میں زچگی کے دوران خون اور پانی کی کمی، ھائی بلڈ پریشرکا شدید دورہ اور سانپ کے کاٹ لینے اوربہت زیادہ مشقت کرنے وغیرہ سے اچانک گردے فیل ھوسکتے ھیں ایک اھم نقطہ یہ بھی قابل توجہ ھے کہ شوگر، ھائی بلڈ پریشر، جھلی کی سوز ش وغیرہ سے مریض کے گردے پہلے سے کمزورھوتےھیں اس پر ذرا سی اونچ نیچ، مثلاََ ناموافق دواکھا لینا، بلڈ پریشرکا گرجانا یا بڑھ جانا، بہت زیادہ پسینے کا آجا نا اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر اچانک گردے فیل ھوسکتے ھیں گردوں کے فیل ھونے کی دوسری قسم ھے مستقل گردوں کی خرابی اس میں 50 فیصد تو گردے پہلے خراب ھوتے ھیں، جن کے مناسب علاج، پرھیزسے ان کو زیادہ دیر تک کارآمد رکھا جا سکتا ھےا ور اگر ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ گردے فیل ھوجاتے ھیں

یہ بات بہت قابل توجہ ھے کہ جب تک گردے 80 یا 90 فیصد تک تباہ نہ ھوچکے ھوں مریض کو اس کا علم ھی نہیں ھوتا وہ اپنا روزمرہ کا کام کرتا رھتا ھے، ایک گردہ ناکارہ بھی ھوجائے تو بھی دوسرا کام کرتا رھتا ھے اسی طرح یہ بات بھی توجہ چاہتی ھے کہ جب گردے ایک بار مکمل ناکارہ ھوجائیں تو ڈائلایسس (dialysis) ھی سے علاج کی ابتدا ھوتی ھے

اگر کسی کو درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس ھو تو ٹیسٹ کروا کر بیان کردہ علاج کو ابتدائی طور پرآزمانے میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ بیان کردہ علاج غذائی ھے اورایک سے زیادہ مریضوں نے اس کے نتائج کی تصدیق کی ھے، کھانے کی خواہش کا ختم ھوجانا، یاداشت کی کمزوری، متلی اور قے کا آنا، چڑچراپن، تھکاوٹ کا محسوس ھونا، چہرے کا رنگ پیلا ھونا، خشک جلد، رات کو بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں رکاوٹ وغیرہ کا ھونا، شوگر کا مرض ھونا، بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی کا ھونا وغیرہ

گردوں کی بیماری کا علاج اس کی اقسام اور اسٹیج کے مطابق کیا جاتا ھے عام طور پر50 فیصد گردوں کے فیل ھونے کا سبب شوگر، بلڈ پریشر، گردوں کا انفیکشن وغیرہ بنتا ھے اگر ان کا علاج کیا جائے تو اس سے گردوں کو مزید خراب ھونے سے بچایا جا سکتا ھے گردوں میں پتھری ھو تو اس کا علاج ھومیو پیتھک دوا بربیرس مدر ٹنکچر ھے لیکن مکمل طور پر گردوں کے فیل ھونے کی صورت میں گردوں کی پیوندکاری ھی اس کا علاج بتایا جاتا ھے جس میں گردہ دینے والے اور لینے والے کا بلڈ گروپ ایک ھونا ضروری ھے گردہ دینے والے کاجتنا قریبی تعلق ھو گا اس کی پیوندکاری اتنی کامیاب بتائی جاتی ھے

ایسی تمام غذائیں جن میں فولاد زیادہ پایا جاتا ھے ان سے پرہیزکریں مثلاََ گوشت، چاول، مکئی وغیرہ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی، کولا کے مشروبات، شراب نوشی وغیرہ سے پرھیز کریں موٹاپا زیادہ دیر تک بیٹھے رھنا، ورزش نہ کرنے والے افراد پر دیگر امراض کی طرح گردوں کے فیل ھونے کے چانس زیادہ ھوتے ھیں اس لیے صبح دو گلاس تازہ اور صاف پانی پینا، ہلکی پھلکی ورزش کرنا، دن میں بھی پانی پینا ،کھانا کھانے کے فوراََبعد پانی نہ پینا چاھیے، رات کو سونے سے گھنٹا بھر پہلے دو گلاس پانی پینا چاھیے، قبض نہ ھونے دیں ،اسی طرح دیگر حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے بہت سی امراض سے بچا جا سکتا ھے مختصر صاف پانی کا زیادہ استعمال، ھر قسم کے نشہ سے پرھیز، متوازن غذا، موٹاپے پر کنٹرول کرنے سے کافی حد تک اس مرض سے بچا جا سکتا ھے

ھومیوپیتھک علاج :-

1- ھومیوپیتھک دوا میڈو رینم (medorrhinum 200) دو دن میں ایک بار یعنی ھر 48 گھنٹوں میں اس دوا کے دو قطرے پانی میں ملا کر (ایک چائے کا چمچہ ھی پانی کیوں نہ ھو) استعمال کرنا ھے

2- ھومیوپیتھک دوا لائیکو پوڈیم (lycopodium 30) اور کینتھرس (cantharis 200) کے دو دو قطرے ھر تین گھنٹوں کے وقفے سے باری باری

یہاں باری باری سے مراد یہ ھے کہ ایک وقت میں ایک دوا استعمال ھوگی اور دوسری دوا اگلے تین گھنٹوں کے وقفے سے

یعنی 12 بجے اگر cantharis استعمال کی تو 3 بجے lycopodium اور پھر 6 بجے cantharis اسی طرح دواؤں کا استعمال جاری رھے گا ایک چمچہ پانی میں دوا کے دو قطرے ملا کر استعمال کرنے ھیں

3- ھومیوپیتھک دوا اکونائیٹم نیپیلس مدر ٹنکچر (aconitum napellus Q) کے تین قطرے ایک ٹیبل اسپون پانی میں ملا کر روزانہ ایک بار ایک استعمال کریں

4- اگر جسم میں خارش ھے تو (ورنہ نہیں) ھومیوپیتھک دوا اینٹی مونیم کروڈ (antimonium crude 6) کے دو قطرے صبح شام استعمال کریں

5- اگر گردے فیل ھونے کی وجہ پانی کی تھیلی نما رسولیاں (cysts) یا polycystic kidney disease ھے تو (ورنہ نہیں) ھومیوپیتھک دوا کونیم میکولیٹم (conium maculatum 3) کے دو دو قطرے ایک چائے کا چمچہ پانی کی مقدار میں ملا کر صبح شام استعمال کریں

نوٹ:- جب گردوں کے فعل، کارکردگی یا function میں بہتری شروع ھوجائے تو

1- ھر 48 گھنٹوں پر استعمال ھونے والی دوا (medorrhinum) کا استعمال ھفتے میں دو بار کردیں

2- ھر تین گھنٹے سے باری باری استعمال ھونے والی دونوں دوائیں (cantharis) اور (lycopodium) دن میں صرف ایک ایک بار استعمال کریں

3- روزانہ ایک بار استعمال ھونے والی دوا (aconitum napellus Q) کا استعمال بالکل بند کردیں

روزانہ ایک اخروٹ دیسی پنیر کے ساتھ ملا کر استعمال کریں
ELL SERIUM
SOLADIGO
TUBERCULINUM
Cortison
Morphinum
Vesicaria
Kali chloricum
Syphlinum
Cuprum ars
Kali ars
Berbers vulg
Many other remdies usfull in case to case

گردے کی پتھری کی اسباب

١۔ گردے کی پتھری کی کوئی واحد وجہ نہیں ہوتی متعدد عوامل پتھری بننے کے رجحان کوبڑھا سکتے ہیں۔
گردے کے پتھراس وقت بنتے ہیں کہ جب پیشاب میں زیادہ سے زیادہ کرسٹل بنانے والے مادے ہوتے ہیں جیسے کیلشیم ، آکزیلیٹ اور یورک ایسڈ۔ ایک ہی وقت میں ، پیشاب میں ایسی مادوں کی کمی ہوسکتی ہے جو کرسٹل کو ایک ساتھ چپکنے سے روکتے ہیں ، جس سے گردے کی پتھری بننا شروع ہوتے ہیں۔
٢۔ وراثت۔
٣۔ڈی ہائڈریشن۔
٣۔ ایسی غذا جو کیلشیم۔سوڈیم۔لحمیات اور کاربوہائڈریٹس سے بھر پور ہو۔
٤۔ گرم آب ہوا۔
٥۔ یورک ایسڈ کی زیادتی۔
٦۔ہائپو تھراڈیزم۔
٧۔ پیشاب میں رکاوٹ۔
٨۔ انفیکشن۔

گردے خراب ہونے کی 10 علامات

ہم آپکو ایک فہرست دے رہے ہیں جس میں کچھ نشانیاں موجود ہیں کہ آپکو معلوم ہو سکے کہ آپکے…
ہر روز ہمارا دماغ کروڑوں پیغامات ہمارے جسم کو بھیجتا ہے تاکہ ہم ہزاروں کام سر انجام دے سکیں۔اس مصروف زندگی میں ہم کبھی کبھی دماغ کے بھیجے ہوئے پیغامات نظر انداز بھی کر دیتے ہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ہمیں کسی سنگین مسئلے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

10. نیند کا نہ آنا:
جب آپ کے گردے گردے ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہوتے تو آپ کے جسم سے فاسد مادوں کا اخراج نہیں ہوتا اور یہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ خون میں ان فاسد مادوں کی ذیادتی نیند میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ اور اس طرح جب آپ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو آپکے گردوں کے کام کرنے کی صلاحیت مزید کم ہو جاتی ہے۔

خبردار: وہ لوگ جو گردوں کے کسی موزی مرض کا شکار ہوتے ہیں ان میں نیند کی کمی بہت عام سی بات ہے۔ اسے سلیپ افینیا بھی کہتے ہیں۔

سلیپ افینیا ایک ایسا عرضہ ہے کہ جس میں مریض کا سوتے ہوئے سانس بند ہونے کا خدشہ بہت ذیادہ ہوتا ہے۔ ایسا صرف کچھ سیکنڈ یا پھر کچھ منٹ کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ پھر جیسے ہی سانس بحال ہوتا ہے تو ایک بہت بلند آواز کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ عارضہ بہت حد تک خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔۔ اگر آپ میں ایسی کوئی نشانی موجود ہے تو آج ہی اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

9. سر درد، بےچینی اور جسمانی کمزوری:
صحتمند اور توانا گردے ہمارے جسم کو وٹامن ڈی مہیا کرتے ہیں جو ہماری ہڈیا٘ں مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ہار.
TALB E DUA❤️ NAVEED REHMAN
https://www.facebook.com/naveedrehmantanha/
My page Link

https://www.facebook.com/groups/1861056280786020/?ref=share
My Facebook group link

Address

Sponi Khel
Bannu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayaab Nuskhay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Nayaab Nuskhay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category