08/11/2025
🛑 ھائی بلڈ پریشر 🛑
یا ایک خاموش قاتل
بلند فشارِ خون جسے (Hypertension)
یا ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ یہ "خاموش قاتل" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اکثر اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
ہائی بلڈ پریشر کیا ہوتا ہے؟
خون کا دباؤ وہ قوت ہے جو آپ کا خون دل کے دھڑکنے کے دوران اور دھڑکنوں کے درمیان آپ کی شریانوں (Arteries) کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ جب یہ دباؤ مسلسل بہت زیادہ رہتا ہے، تو اسے ہائی بلڈ پریشر کہتے ہیں۔
بلڈ پریشر کو دو نمبروں میں ناپا جاتا ہے:
* سسٹولک (اوپر کا نمبر):
یہ دباؤ اس وقت ہوتا ہے جب دل سکڑتا ہے اور خون پمپ کرتا ہے۔
* ڈائیسٹولک (نیچے کا نمبر):
یہ دباؤ اس وقت ہوتا ہے جب دل دو دھڑکنوں کے درمیان آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔
| کیفیت | سسٹولک دباؤ (mmHg) ڈائیسٹولک دباؤ (mmHg)
| نارمل | 120 سے کم | اور 80 سے کم |
| ہائی بلڈ پریشر | 140 یا اس سے زیادہ | یا 90 یا اس سے زیادہ ۔
2. ہائی بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات کو عام طور پر دو اہم اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1. بنیادی ہائی بلڈ پریشر (Primary/Essential Hypertension)
یہ سب سے عام قسم ہے، اور اس کی کوئی ایک واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ یہ اکثر کئی سالوں کے دوران آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور مختلف عوامل کا مجموعہ ہو سکتا ہے:
* غیر صحت مند طرز زندگی:
* نمک (Sodium) کا زیادہ استعمال۔
* موٹاپا یا زیادہ وزن ہونا۔
* جسمانی سرگرمی کا فقدان (بیٹھنے والا طرزِ زندگی)۔
* شراب نوشی یا سگریٹ نوشی/تمباکو کا استعمال۔
* جینیاتی عوامل: خاندانی تاریخ میں اگر بلڈ پریشر موجود ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
* عمر: عمر بڑھنے کے ساتھ شریانیں سخت ہو جاتی ہیں، جس سے خطرہ بڑھتا ہے۔
* تناؤ (Stress): مستقل اور شدید ذہنی دباؤ۔
2. ثانوی ہائی بلڈ پریشر
(Secondary Hypertension)
یہ نسبتاً کم عام ہے اور کسی دوسری بنیادی بیماری یا دوا کے استعمال کی وجہ سے اچانک شروع ہوتا ہے، اور یہ اکثر بنیادی ہائی بلڈ پریشر سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔
* گردے کے امراض: گردوں کی خرابی خون کے دباؤ کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔
* تھائیرائیڈ کے مسائل: تھائیرائیڈ گلینڈ کی کم یا زیادہ سرگرمی۔
* نیند کی کمی: جیسے نیند میں سانس کا رک جانا (Obstructive Sleep Apnea)۔
* ایڈرینل گلینڈ کے ٹیومر۔
* بعض ادویات کا استعمال: جیسے درد کم کرنے والی کچھ دوائیں، یا پیدائش پر قابو پانے کی گولیاں۔
3. ہائی بلڈ پریشر کا جدید ہومیو پیتھک علاج
ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ہائی بلڈ پریشر کو صرف ایک علامتی بیماری کے بجائے ایک مجموعی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اسے مریض کے پورے نظام کو متوازن کر کے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ استعمال ہونے والی کچھ عام ادویات (جو صرف ماہر ہومیو پیتھ کے مشورے پر لینی چاہیے) میں شامل ہیں:
* Rauwolfia Serpentina:
* ایک مشہور ہومیو پیتھک دوا جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
* Nux Vomica:
* اگر بلڈ پریشر زیادہ ذہنی تناؤ، زیادہ کھانے، اور سست طرز زندگی سے منسلک ہو۔
* Glonoinum:
* اگر سر درد، چہرے کا سرخ ہونا اور دھڑکن کی شکایات ہوں۔
* Aurum Metallicum:
* اگر بلڈ پریشر دل کے مسائل یا ڈپریشن سے وابستہ ہو۔
احتیاط
طرز زندگی میں تبدیلی
بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کا سب سے جدید اور موثر "علاج" کسی بھی طریقہ علاج میں طرز زندگی میں تبدیلی ہے۔
* صحت مند غذا:
* نمک (Sodium) کا استعمال کم کریں، پھل، سبزیاں اور فائبر والی غذائیں زیادہ کھائیں۔
* ورزش:
* ہفتے میں کم از کم 5 دن 30 منٹ کی درمیانی شدت کی ورزش کریں۔
* وزن کنٹرول:
* موٹاپے کو کم کرنا بلڈ پریشر کو کم کرنے کی اہم کنجی ہے۔
* تناؤ کا انتظام:
* مراقبہ (Meditation)، اور مناسب نیند سے تناؤ کو کنٹرول کریں۔
Copy