25/02/2026
رمضان اور دل کے مریض
کن مریضوں کے لیے روزہ محفوظ ہے اور کن کے لیے نہیں؟
رمضان المبارک میں روزہ رکھنے سے پہلے دل کے مریضوں کے لیے اپنی صحت کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ لازمی ہے
وہ مریض جو روزہ نہ رکھیں
جنہیں پچھلے 3 مہینوں کے اندر ہارٹ اٹیک ہوا ہو
جنہیں پچھلے 3 مہینوں کے اندر اسٹنٹ ڈالا گیا ہو
(چاہے ہارٹ اٹیک کے بعد یا بغیر ہارٹ اٹیک کے)
جن کے سینے میں بار بار یا شدید درد ہوتا ہو
جن کے دل کے پٹھے کمزور ہوں اور شدید سانس پھولتی ہو (ہارٹ فیلیر)
وہ مریض جو ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں
جنہیں ہارٹ اٹیک ہوئے 3 مہینے سے زیادہ ہو چکے ہوں اور وہ خود کو بہتر محسوس کر رہے ہوں
جنہیں اسٹنٹ لگے 3 مہینے سے زیادہ ہو چکے ہوں اور حالت مستحکم ہو
جن کے دل کے پٹھے کمزور ہوں لیکن سانس زیادہ نہ پھولتی ہو
جو نارمل روزمرہ زندگی بغیر شدید علامات کے گزار رہے ہوں
ضروری ہدایت
روزہ رکھنے سے پہلے اپنے معالج (Cardiologist) سے ضرور مشورہ کریں۔
احتیاطی تدابیر
سحری اور افطاری میں مناسب مقدار میں پانی پئیں (ایک ساتھ زیادہ نہ پئیں)
نمک اور چکنائی کا استعمال کم کریں
میٹھی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں
ادویات کا وقت ڈاکٹر کے مشورے سے سحری و افطار کے مطابق ترتیب دیں
افطار کے فوراً بعد زیادہ کھانا کھانے سے گریز کریں
فوری توجہ کب ضروری ہے؟
اگر روزے کے دوران درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً روزہ افطار کریں اور طبی امداد حاصل کریں:
سینے میں درد
شدید سانس پھولنا
چکر آنا یا بے ہوشی