Medical Laws & Ethics by Dr Shabbir

Medical Laws & Ethics by Dr Shabbir **Medical Laws & Ethics ** is a platform to educate doctors and the public on legal and ethical aspects of healthcare. Stay informed about Laws of healthcare

We cover medical negligence, patient rights, consent, ethical dilemmas & healthcare regulations.

گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کے بارے میں سخت اور بعض اوقات غیرمنصفانہ گفتگو عام ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرز کے فارما انڈ...
11/12/2025

گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کے بارے میں سخت اور بعض اوقات غیرمنصفانہ گفتگو عام ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرز کے فارما انڈسٹری سے کمیشن، تحائف، غیرضروری، غیر معیاری ادویات تجویزکرنا جیسے الزامات مسلسل دہرائے جاتے ہیں۔ میں ان باتوں کی مکمل تردید نہیں کرتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جو لوگ پیدائشی طور پر بدعنوان ہوتے ہیں وہ ڈاکٹر بنتے ہیں یا ہمارا بگڑا ہوا معاشرتی نظام، کرپشن کلچر اور مختلف دباؤ ایک محنتی اور مخلص نوجوان کو غلط راستوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں؟

یہ حقیقت ہے کہ میڈیکل میں آنے والے نوجوان علمی اور محنت کے اعتبار سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر اس پیشے کو مسلسل بدنام کیا جاتا رہا تو قابل اور محنتی طلبہ دیگر شعبوں کا انتخاب کر لیں گے، جس سے نقصان براہِ راست معاشرے کو ہوگا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جب پورا معاشرہ عدم شفافیت اور کرپشن کا شکار ہو اور کچھ شعبوں میں کرپشن کو نارمل لیا جاتا ہو تو کسی ایک پیشے سے یہ توقع کرنا کہ وہ تنہا پاکیزہ رہے گا، حقیقت پسندانہ نہیں۔ ادویات پر کمیشن بھی اسی نظامی خرابی کی پیداوار ہے۔ دواؤں کی پرنٹڈ قیمت (MRP) اصل لاگت سے کہیں زیادہ حکومت طے کرتی ہے، ڈاکٹر نہیں۔ جب قیمت میں غیرضروری اضافہ ہو تو فارما کمپنیاں اسی مارجن کو مراعات اور تحائف کی صورت میں مارکیٹنگ ہتھیار کے طور پراستعمال کرتی ہیں۔ اسے مکمل طور پر ڈاکٹرز کی غلطی قرار دینا درست نہیں۔ فارماکمپنیاں آفر کرتی ہیں ڈاکٹر نہیں ڈیمانڈ کرتا۔

یہ بھی سچ ہے کہ کچھ ڈاکٹرز اس عمل کا حصہ بنتے ہیں، مگر اکثریت ایسا نہیں کرتی۔ اس لیے چند افراد کی بنیاد پر پورے پیشے کو مشکوک بنانا نہ مناسب ہے نہ منصفانہ۔

میڈیکل پروفیشن بنیادی اور لازمی خدمت ہے، اور معاشرہ کسی صورت ڈاکٹرز سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے صرف تنقید یا بدنامی مسئلے کو حل نہیں کرتی بلکہ نفرت اور بداعتمادی بڑھاتی ہے، جس سے ڈاکٹر–مریض تعلق کمزور پڑتا ہے اور ہمدردانہ رویّہ متاثر ہوتا ہے
اس سارے مسئلے کے حل کےلئے ادویات کی قیمتیں حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کی جائیں اضافی مارجن کم کیا جائے تاکہ فارما کمپنیوں کے مارکیٹنگ ماڈل کی اصلاح ہو۔ مارکیٹ کمپیٹیشن دوا کی کوالٹی پر منحصر ہو اور ہسپتالوں اور کلینکس میں شفافیت کے ضابطے نافذ ہوں اور عوام کو صحیح آگاہی دی جائے، صرف تنقید نہ کی جائے اور یہ کہنا کہ صرف ڈاکٹر ذمہ دار ہیں حقیقت کا ایک پہلو تو ہوسکتا ہے لیکن پورا سچ نہیں۔ڈاکٹرز Conflict of Interests کا خاص خیال رکھیں اور دوا لکھتے وقت صرف اور صرف مریض کے Best intrests مد نظر ہوں ۔ ہمارے قانون میں فارما کمپنیوں کے ساتھ Relations کی Ethical Guidelines موجود ہیں ان پر عمل کرنا ڈاکٹر کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اور عوام سے التماس ہے لوگوں کے دلوں میں ڈاکٹرز کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ باتیں نہ پھیلائیں۔ اگر آپ عزت نہیں دیں گے تو Patient - Doctor Relation کو بہت نقصان پہنچتا ہے لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا ہے جو شفا کے لیے ضروری ہے۔

Dr Ghulam Shabbir
MBBS, FCPS, MRCP, FRCP, LLM (Med Laws & Ethics)

Mother and Child Hospital Chakwal  # best hospital in Chakwal
08/10/2025

Mother and Child Hospital Chakwal # best hospital in Chakwal

01/08/2025

🔹ڈاکٹرز کی اخلاقیات پر سوال🔹

آج کل سوشل میڈیا پر اکثر شکایات ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مہارت کی نہیں، بلکہ رویے، مالی دیانت، اور اخلاقیات کی ہوتی ہیں۔
لیبارٹریوں سے کمیشن، غیر معیاری اور غیر ضروری ادویات ، اور غیر ضروری طریقہ علاج — یہ سب واقعی افسوسناک ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے: ❓ کیا شروع سے ہی خراب کردار کے لوگ ڈاکٹر بنتے ہیں؟
یا ہمارا ماحول، نظام، اور معاشرتی رویے انتہائی قابل اور ایماندار نوجوانوں کو بھی وہی راستہ اپنانے پر مجبور کر دیتے ہیں جو باقی معاشرے میں عام ہے؟

جب ڈاکٹر سے کم تعلیم یافتہ سرکاری اہلکار "عہدے" کی بدولت لاکھوں کمائے، اور معاشرہ اسے کامیاب کہے اور اسکی عزت بھی کرے— تو ایک محنتی ڈاکٹر خود کو بے بس کیوں نہ سمجھے؟

ہمیں بطور قوم یہ ماننا ہوگا کہ: ⚖️ کرپشن صرف ڈاکٹروں کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کی بیماری ہے۔
🌱 اصلاح صرف فرد کی نہیں، نظام اور سوچ کی تبدیلی سے آئے گی۔

اور یاد رکھیں: اکثریت ڈاکٹرز اب بھی خلوص دل سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں، تاکہ وہ حق پر قائم رہیں۔

29/07/2025

🟤 نکتہ غور طلب 🟤
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے بعض ہوٹلز میں گدھے کا گوشت سپلائی ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، اور لوگ افسوس اور بےچینی کا اظہار کر رہے ہیں کہ شاید وہ انجانے میں حرام گوشت کھا چکے ہیں۔
یہ افسوس بجا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
❓ کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟
1️⃣ انجانے میں حرام جانور کا گوشت کھانا — چاہے کمائی حلال ہو؟
2️⃣ یا حلال جانور کا گوشت کھانا — مگر کمائی حرام ہو؟
📌 یاد رکھیے:
دونوں ہی صورتیں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہیں۔
ایک سے جسم ناپاک ہوتا ہے، اور دوسرے سے دل و نیت آلودہ ہو جاتے ہیں۔
اور اللہ کو صرف ظاہری حلال گوشت نہیں، بلکہ نیت، طریقہ اور کمائی کی پاکیزگی بھی مطلوب ہے۔
📖 نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ایسا جسم جو حرام سے پلا ہو، اُس کے لیے جنت نہیں۔"
— (مسند احمد)
💬 لہٰذا صرف گوشت کا حلال ہونا کافی نہیں، کمائی کا ذریعہ بھی پاک ہونا ضروری ہے۔
🤲 اللہ ہمیں ظاہر و باطن کی پاکیزگی عطا فرمائے، اور حرام سے بچنے کی توفیق دے — چاہے وہ ہماری پلیٹ میں ہو یا جیب میں۔

10/06/2025

*ڈاکٹرز کے لیے ایک اہم پیغام*
ڈاکٹر کی سب سے قیمتی متاع اُس کی ساکھ ہوتی ہے۔ یہی ساکھ اعتماد کا ذریعہ بنتی ہے، اور اسی بنیاد پر لوگ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو ہمارے پاس علاج کے لیے لاتے ہیں — کہ ڈاکٹر تو مائی باپ ہوتے ہیں۔
طب کے شعبے میں جنسی ہراسانگی Sexual Harassment کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی — اس کے لیے زیرو ٹالرنس Zero Tolerance ہے۔ لیکن بعض اوقات شر پسند عناصر ڈاکٹرز کو جھوٹی بدنامی کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے، اور یاد رکھیں: اگر ہم حق پر ہیں، تو ہمیں نظر بھی ایسا آنا چاہیے۔
لہٰذا، خود کو بدنامی سے بچانے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں:
1۔ کسی بھی مریض یا مریضہ کے نجی اعضا (پیٹ، سینہ، تولیدی اعضا وغیرہ) کا معائنہ ہم جنس یا مخالف جنس)Same Gender or Opposite Gender) ہو، ہمیشہ چپیرون (ساتھی)Chaperone کی موجودگی میں کریں۔
2۔ چپیرون Chaperone کوئی نرس، سٹاف یا میڈیکل اسسٹنٹ ہو سکتا ہے، جو معائنے کے دوران ڈاکٹر کے کمرے میں موجود ہو۔
3۔ اگر مریض/مریضہ چپیرون Chaperone کی موجودگی سے انکار کرے، تو یہ بات تحریری طور پر مریض سے دستخط لے کر فائل میں محفوظ کریں۔
یاد رکھیں: دستاویزی ثبوت کے بغیر آپ خود کو الزامات سے نہیں بچا سکیں گے۔
آئیے ہم سب اپنی ساکھ، اپنے مریضوں کے اعتماد، اور طب کے مقدس پیشے کی حرمت کی حفاظت کریں

17/04/2025

کیا آپ اپنے کلینک یا ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں؟
آج کے دور میں ایک مؤثر Continuous Quality Improvement (CQI) پلان کا ہونا صرف اہم نہیں، بلکہ ضروری ہے۔
اس مختصر ویڈیو میں میں آپ کو ایک سادہ اور عملی طریقے سے بتاوں گا کہ آپ اپنے ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کے لیے **ایک مؤثر CQI پلان کیسے بنا سکتے ہیں۔ چاہے آپ کا کلینک چھوٹا ہو یا ایک مکمل ہسپتال، یہ ویڈیو آپ کو بہتر، محفوظ اور Patient Cantered سروسز کی طرف لے جائے گی۔
آئیے! ہم سب مل کر صحت کی سہولیات کا معیار بلند کریں۔
ویڈیو دیکھیں اور اپنے ڈاکٹر دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

20/03/2025
20/03/2025

Address

MCH Rawalpindi Road
Chakwal
48800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medical Laws & Ethics by Dr Shabbir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram