Dr Imran Tahir, Laproscopic & Laser Surgeon

Dr Imran Tahir, Laproscopic & Laser Surgeon Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Imran Tahir, Laproscopic & Laser Surgeon, Surgeon, Rai Ali Nawaz Foundation Hospital Chichawatni, Chichawatni.

Dr Imran Tahir is Consultant Laparoscopic laser & Cancer Surgeon from Services Hospital Lahore Working in THQ Hospital/Rai Ali nawaz Foundation Hospital Chichawatni/Saeed Medicare Mian Channu.Page Is To Share Experience/advances
of Surgery&2Help Patients

چھاتی کا کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کی کوئی ایک واحد وجہ نہیں ہوتی۔ یہ عام طور پر جینیاتی (Genetic)، ہارمونل (Hormona...
24/11/2025

چھاتی کا کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کی کوئی ایک واحد وجہ نہیں ہوتی۔ یہ عام طور پر جینیاتی (Genetic)، ہارمونل (Hormonal)، اور ماحولیاتی عوامل کے مجموعی اثر سے ہوتا ہے۔
​چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بڑھانے والے اہم وجوہات اور عوامل درج ذیل ہیں:
​👩‍🔬 غیر قابلِ ترمیم خطرے کے عوامل (Unchangeable Risk Factors)
​یہ وہ عوامل ہیں جنہیں آپ تبدیل نہیں کر سکتے:
​جنس (Gender): خواتین میں مردوں کے مقابلے میں چھاتی کا کینسر ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
​عمر (Age): عمر کے ساتھ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔ زیادہ تر کیسز 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں دیکھے جاتے ہیں۔
​جینیات اور خاندانی تاریخ (Genetics & Family History):
​اگر آپ کے خاندان میں (والدہ، بہن، بیٹی) کسی کو چھاتی یا ڈمبگرنتی (Ovarian) کا کینسر ہوا ہو۔
​جینز میں تبدیلیاں: خاص طور پر BRCA1 اور BRCA2 جینز میں وراثتی تبدیلیاں (Mutations) خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہیں۔
​پہلے چھاتی کا کینسر: اگر آپ کو پہلے کسی ایک چھاتی میں کینسر ہو چکا ہو۔
​رجونورتی کا وقت (Menopause Timing):
​جلد حیض کا آغاز (12 سال سے پہلے)۔
​دیر سے رجونورتی (55 سال کی عمر کے بعد)۔ یہ دونوں صورتیں ہارمون ایسٹروجن کے زیادہ دیر تک جسم میں رہنے کی وجہ بنتی ہیں۔
​🩺 ہارمونل اور طبی خطرے کے عوامل (Hormonal & Medical Factors)
​ہارمونل ریپلیسمنٹ تھراپی (HRT): رجونورتی کی علامات کے لیے طویل عرصے تک ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کا مجموعہ لینا کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
​بچہ نہ ہونا یا دیر سے بچہ ہونا: جن خواتین کی پہلی حمل 30 سال کی عمر کے بعد ہوئی ہو یا جن کے بچے نہ ہوں، ان میں خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
​چھاتی کی کثافت (Breast Density): جن خواتین کی چھاتی کا ٹشو زیادہ گھنا (Dense) ہوتا ہے ان میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور میموگرام پر کینسر کا پتہ لگانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
​🍎 طرز زندگی کے عوامل (Lifestyle Factors)
​یہ وہ عوامل ہیں جنہیں آپ اپنی روزمرہ کی عادات سے تبدیل کر سکتے ہیں:
​موٹاپا/زیادہ وزن (Obesity): خاص طور پر رجونورتی کے بعد موٹاپا، کیونکہ چربی والے خلیے (Fat Cells) ایسٹروجن بناتے ہیں، جو کینسر کے خلیوں کی نشوونما میں مدد دے سکتا ہے۔
​شراب کا استعمال (Alcohol Consumption): زیادہ مقدار میں شراب پینے سے چھاتی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
​جسمانی سرگرمی میں کمی (Lack of Physical Activity): باقاعدہ ورزش کی کمی خطرے کو بڑھاتی ہے۔
​تمباکو نوشی (Smoking): سگریٹ نوشی کو بھی چھاتی کے کینسر کے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔
​دودھ نہ پلانا (Not Breastfeeding): دودھ پلانا چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
​یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان عوامل میں سے ایک یا ایک سے زیادہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو یقینی طور پر کینسر ہو جائے گا۔ اسی طرح، جن لوگوں میں کوئی خطرے کا عنصر نہیں ہوتا انہیں بھی کینسر ہو سکتا ہے۔
​ابتدائی تشخیص کے لیے باقاعدگی سے خود معائنہ (Self-Exams) اور ڈاکٹر کے مشورے پر میموگرام کرانا بہت ضروری ہے۔
​کیا آپ چھاتی کے کینسر کی علامات یا روک تھام کے طریقوں کے بارے میں جاننا چاہیں گے؟
بہت اچھا۔ یہاں چھاتی کے کینسر کی اہم علامات اور روک تھام (Prevention) کے طریقوں کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں:
​⚠️ چھاتی کے کینسر کی علامات (Symptoms)
​ابتدائی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن سب سے عام علامات درج ذیل ہیں جن پر آپ کو فوری توجہ دینی چاہیے:
​گٹھلی یا سختی (Lump or Mass): چھاتی یا بغل (Armpit) میں ایک نئی گٹھلی کا محسوس ہونا، جو عموماً بے درد ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات درد بھی ہو سکتا ہے۔
​چھاتی کے سائز یا شکل میں تبدیلی: ایک چھاتی کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا یا اس کی شکل بدل جانا۔
​جلد میں تبدیلیاں (Skin Changes):
​چھاتی کی جلد پر کھادڑ پن (Dimpling) یا گڑھے پڑنا (جیسے سنگترے کے چھلکے جیسا ہونا)۔
​سرخی، سوجن، یا جلد کا موٹا ہو جانا جو ٹھیک نہ ہو رہا ہو۔
​نپل کی تبدیلیاں (Ni**le Changes):
​نپل کا اندر کی طرف کھنچ جانا (Inversion)۔
​نپل سے غیر معمولی مادہ یا رطوبت (Discharge) کا اخراج، خاص طور پر خونی رطوبت۔
​نپل کے ارد گرد یا چھاتی کی جلد کا چھلنا، خشکی، یا زخم جو ٹھیک نہ ہو رہا ہو۔
​بغل یا ہنسلی کی ہڈی کے قریب سوجن: لمف نوڈز (Lymph Nodes) کے سوجنے کی وجہ سے بغل یا ہنسلی کی ہڈی (Collarbone) کے پاس گٹھلی یا سوجن کا محسوس ہونا۔
​اہم بات: اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی تبدیلی نظر آئے تو گھبرائیں نہیں، بلکہ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ یہ علامات ضروری نہیں کہ کینسر ہی ہوں، لیکن تشخیص کروانا لازمی ہے۔
​💪 روک تھام کے طریقے (Prevention and Risk Reduction)
​اگرچہ آپ کچھ خطرے کے عوامل (جینیات، عمر) کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن طرز زندگی میں تبدیلیوں سے خطرہ کم کیا جا سکتا ہے:
​صحتمند وزن برقرار رکھیں: خاص طور پر رجونورتی کے بعد، زیادہ وزن یا موٹاپے سے بچیں کیونکہ فیٹ سیلز ایسٹروجن بناتے ہیں۔
​باقاعدگی سے ورزش کریں: ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ایروبک سرگرمی (جیسے تیز چلنا) یا 75 منٹ کی سخت ورزش کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
​شراب کے استعمال کو محدود کریں: شراب کے استعمال سے پرہیز کریں یا اسے کم سے کم رکھیں۔
​تمباکو نوشی سے گریز کریں: تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کر دیں۔
​دودھ پلائیں: اگر ممکن ہو تو، بچے کو دودھ پلائیں۔ دودھ پلانے والی ماؤں میں کینسر کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
​ہارمونل تھراپی کو محدود کریں: اگر آپ رجونورتی کے علاج کے لیے ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (HRT) لے رہی ہیں، تو اسے کم سے کم وقت کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں ڈاکٹر سے بات کریں۔
​صحت مند غذا کھائیں: سبزیوں، پھلوں اور فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں۔ ریڈ میٹ اور پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال کم کریں۔
​ابتدائی تشخیص کے لیے اہم اقدامات:
​خود معائنہ (Self-Exam): ہر ماہ خود اپنی چھاتیوں کا معائنہ کریں تاکہ آپ کو ان کی معمول کی شکل کا اندازہ ہو جائے۔
​کلینیکل معائنہ (Clinical Exam): ڈاکٹر یا ماہر سے وقتاً فوقتاً چھاتی کا معائنہ کروائیں۔
​میموگرام (Mammogram): 40 سال کی عمر کے بعد باقاعدگی سے میموگرام (ایکسرے) کروائیں، یا اگر خاندان میں کینسر کی تاریخ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے پر جلد شروع کریں۔
​کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ BRCA1 اور BRCA2 جین ٹیسٹنگ کن لوگوں کے لیے ضروری ہے؟

صحت کارڈ پے علاج کیلے علاقہ کا  واحد ہسپتال . بہترین سہولیات مہیا کرنے کے عظم کے ساتھ #الحمداللہ   #سرجن  #ڈاکٹر  #عمران...
06/09/2025

صحت کارڈ پے علاج کیلے علاقہ کا واحد ہسپتال . بہترین سہولیات مہیا کرنے کے عظم کے ساتھ

#الحمداللہ #سرجن #ڈاکٹر #عمران #طاہر
#سروسز #ہسپتال #لاہور سے تربیت یافتہ
چیچہ وطنی کے واحد #ایف۔ #سی۔ #پی۔ #ایس #لیپروسکوپک اینڈ #لیزر #سرجن
#سرور فاؤنڈیشن راۓ علی نواز ہسپتال چیچہ وطنی
#روزانہ #دوپہر 3 سے رات 8 بجے,
#بروز #اتوار 9Am 2Pm تک مریضوں کا معائنہ کرینگے اور جدید جراحی طریقہ علاج (لیپروسکوپک سرجری) بذریعہ کیمرہ #صحت #کارڈ پر مریضوں کے آپریشن بھی کرینگے ۔

صحت کارڈ/ شناختی کارڈ پر
اپنڈیکس
ہرنیا کا جالی والا آپریشن
پتہ کی پتھری کا لیزر آپریشن
چھاتی کی گلٹی
آنت کے آپریشن
بواسیر، بھگندر، فیشر بذریعہ لیزر
نیز کے ہر قسم کے آپریشن کی سہولت موجود ہے
Care with

Invasive Solutions for a Quicker Recovery

Are you seeking a skilled and experienced laparoscopic surgeon in ,
Pakistan? Look no further than . , a renowned expert in minimally invasive surgical procedures.

:

- Laparoscopic surgery for gallstones, hernias, and appendicitis
- Minimally invasive procedures for weight loss and metabolic disorders
- Single-incision laparoscopic surgery (SILS)
- Card Fascility Available for all The Procedures

Choose Dr. Imran Tahir?

- 8+Years of experience in laparoscopic surgery
- Fellowship-trained in minimally invasive surgery
- Compassionate and patient-centered care
- State-of-the-art equipment and facilities

𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐲𝐨𝐮𝐫 𝐚𝐩𝐩𝐨𝐢𝐧𝐭𝐦𝐞𝐧𝐭

Contact us at
+92 318 8168597
+92 300 6902297 to schedule a consultation with Dr. Imran Tahir. Take the first step towards a healthier, happier you!
Sarwar Foundation
Rai Ali Nawaz Hospital
Chichawatni
Timing Daily 4pm 7pm
Sunday 9Am 1Pm









’’ تیری دو ٹکے کی نوکری میرا لاکھوں کا ساون جائے‘‘
15/07/2025

’’ تیری دو ٹکے کی نوکری میرا لاکھوں کا ساون جائے‘‘

آپ سرکاری ہسپتالوں میں آئندہ کچھ سالوں میں بدترین حالات دیکھیں گے ۔ 15 سے 20 ادویات دے کر ڈاکٹروں کو تمام علاج اسی میں س...
15/07/2025

آپ سرکاری ہسپتالوں میں آئندہ کچھ سالوں میں بدترین حالات دیکھیں گے ۔ 15 سے 20 ادویات دے کر ڈاکٹروں کو تمام علاج اسی میں سے کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کا نیا بیانیہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ مریض ٹھیک ہو نہ ہو ہم صرف اس کی اینٹری ڈال کر جو گنی چنی ایک دو ادویات ہیں ہاتھ میں تھما کر بس مریض کو بھیج دیں، ہمیں کیا پڑی ہے کہ مریض کی صحت یابی کے لیے۔ کیوں کہ باہر کی دوائ لکھیں گے تو یہ چیز اس ڈاکٹر کے اپنے ہی گلے پڑ جائے بعد میں۔
سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ اگر ہسپتال میں پیٹ خراب کی دوا موجود ہے تو چاہے سر درد ہو جوڑوں کا درد ہو مثانے کا انفیکشن ہو یا پھر گردن توڑ بخار سب میں ڈاکٹر وہی دوائی دے کر اپنے سر سے مریض اتارے گا کیونکہ جو دوا چاہیے وہ تو سرکاری کھاتے میں موجود نہیں اور باہر کی لکھنے سے اس کی اپنی ہی نوکری کو خطرہ ہے۔
ڈاکٹر ڈیوٹی ٹائم پورا کرے گا اس کو مریض کی صحت یابی سے زیادہ اپنی نوکری کی فکر ہو گی۔
اگر مریض "حقیقی علاج " کروانا چاہے گا تو اسے پرائیویٹ کلینکس آنا پڑے گا تاکہ وہاں پر اس کو صحیح دوا تجویز کی جا سکے۔

اب اس سے ہوگا کیا؟
مریض تین چار دن ذلیل ہونے کے بعد بھی جب ٹھیک نہیں ہوگا تو اس کو مجبورا پھر کسی پرائیویٹ ہسپتال میں ہی جانا پڑے گا، وہی ڈاکٹر یا پھر کوئی اور ڈاکٹر مریض کو بغیر کسی ڈر کے وہ دوا تجویز کر سکے گا جو اس کے لیے ضروری ہے۔ مگر وہ غریب جو غربت کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتال کے اندر بھی نہیں گھس سکتا وہ کدھر جائے گا؟

سرکار محکمہ صحت کے بارے میں بھی اتنی ہی سچائ ہے جتنا مہنگائی کم کرنے ،دوسرے کسی بھی محکمے میں کرپشن ختم کرنے ،آزاد عدلیہ اور قابل بیوروکریٹس کے معاملے میں سچی ہے۔
اپنی نااہلی کا نزلہ ڈاکٹرز پر گرا کر میڈیا
کمپین کے ذریعے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اگر کوئی اس کے خلاف صدا بلند کرتا ہے تو اس کو فوراً سزا دے کر یا نوکری سے برخاست کر کے عبرت کا نشان بنایا جا رہا ہے۔

13/06/2025

پنجاب کے تقریبا" تمام اضلاع میں #ایڈز اور #ہیپاٹائیٹس (کالا اور پیلا یرقان) کے پھیلاوء کی سب سے بڑی وجہ۔۔۔
#عطائیوں (بغیر کسی ڈگری کے ڈاکٹری کرنے والوں) کے انجیکشنز ،
دانتوں کا گندے آلات سے علاج،
بغیر سکرینگ کے بلڈ ٹرانسفیوژن اور
تحصیل اور ضلعی کی ایمرجنسی ٹراما سنٹرز ہیں جہاں بغیر کسی سٹرلائزیشن کے ایک یا دو مائنر سرجیکل سیٹس سے ہی پوری تحصیل کے زخم سی دیئے جاتے ہیں۔

آپ کسی بھی کے ایمرجنسی ٹراما سنٹر چلے جائیں ، وہاں آپکو زیادہ سے زیادہ 2 سرجیکل(مائنر) سیٹس موجود ملیں گے، اور ان آلات کے بھی آدھے حصے یا تو ٹیڑھے ہونگے یا ٹوٹے ہونگے اور ان تمام آلات جراحی پہ آپکو خون کے دھبے بھی لازمی ملیں گے۔ اسکا مطلب کہ ان آلات کی سٹرلائزیشن تو دور کی بات ہے انکو اچھی طرح دھویا بھی نہیں جاتا اور اسی طرح اگلے مریض پر استعمال کر دئیے جاتے اور پھر اس سے اگلوں پر بھی۔
اب صبح پہلا زخمی مریض ہی اگر ہیپاٹائٹس یا ایڈز کا آگیا اور اسکے زخم کی صفائی اور ٹانکے ان آلات سے لگے پھر اگلے 24 گھنٹے میں آنے والے تمام زخمی مریض (خواہ وہ بڑے ہوں یا بچے) یہ بیماریاں لازمی لے کر جائیں گے۔

اگر محکمہ کا کوئی اعلی سطحی آفیسر یا مانیٹرنگ اسسٹنٹ چیک کرنے آ بھی جائے تو اسے پوچھنے پر اسی ٹراما سنٹر کے ایک گندے سے کونے میں پڑا ہوا ایک دقیانوسی "بوائلر" دکھا دیا جاتا ہے کہ جی ایک مریض کے زخم سینے کے بعد ہم ان آلات کو اس میں بوائل کرتے ہیں اور پھر اگلے مریض پر استعمال کرتے ہیں۔

چونکہ محکمہ صحت کے سیکرٹری لیول کے تمام مینجرز اکثر نان پروفیشنل (نان میڈیکل) لوگ ہوتے ہیں (اور اسی طرح عوامی نمائندے بھی)۔
اب ایک تو سیکرٹری صاحب کا پروٹوکول اور پھر انکی رعونت اور پھر صرف میڈیا کے کیمرے میں فوٹو بنوانے اور جلدی نکلنے کی جلدی اور اصل میں انکا میڈیکل کے لوکل حقائق سے نابلد ہونا کہ انہوں نے ان آلات کو سٹرلائزیشن کوالٹی چیک کیلئے کبھی لیب میں نہیں بھیجا اور نہ اس نام نہاد گندے سے بوائلر کو کبھی نہ تو خود ہاتھ لگایا اور نہ ہی کبھی چلوا کر دیکھا۔ حالانکہ اس میں دور سے ہی فنگس لگی نظر آرہی ہوتی ہے۔
لہذا اگلے وزٹ تک کیلئے ایڈز، ہیپاٹائٹس اور دوسری مہلک بیماریاں پھیلانے کا سرکاری لائسنس مل جاتا ہے، کیونکہ "All Ok" کی رپورٹ بن گئی ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ تقریبا" تمام تحصیل و ضلعی ہسپتالوں میں ٹراما ایمرجنسی سنٹرز میں کام کرنے والے کوالیفائیڈ پیرا میڈیکل #سٹاف کی شدید کمی ہے۔ اکثر ہسپتالوں میں تو آپکو ہومیوپیتھک ڈسپنسر یا وارڈ بوائے یا سویپر کی سیٹ پہ بھرتی کیا ہوا بندا لوگوں کے زخم سیتا نظر آتا ہے۔ اب ان لوگوں کو سٹرلائزیشن کا سرے سے علم ہی کوئی نہیں ہوتا تو یہ انکا قصور ہی نہیں۔
بیس سال پہلے ایک تحصیل کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے جتنا میڈیکل و پیرا میڈیکل سٹاف تھا آج آبادی میں شدید اضافے کے بعد بھی انکی اتنی ہی سیٹیں ہیں۔ جہاں پہلے ان سنٹرز میں دس زخمی مریض آتے تھے وہاں اب 200 آتے ہیں ، لیکن سٹاف پہلے جتنا ہی، اور ہے بھی غیر تربیت یافتہ۔
ایسا نہیں ہے کہ ہسپتالوں کے ایم ایس ، ضلعی چیف ایگزیکٹوز اور دوسرے ہیلتھ پروفیشنلز کو اسکا علم نہیں ہے بلکہ اصل میں مریضوں کا شدید لوڈ اور سٹاف کی کمی، بے ہنگم ایمرجنسی (ایک مریض کے ساتھ دس ،دس لواحقین) اور اسے پیدا شدہ روزانہ کے پھڈے، ٹاپ ہیلتھ مینجرز کا ایم ایس حضرات کو فضول کی ڈاکومینٹیشن اور اپڈیٹس میں الجائے رکھنا، اور ان سب ایم ایس حضرات کی اپنی ڈنگ ٹپاوء پالیسی اسکی ذمہ دار ہے۔
فی الوقت صورت حال یہ ہے کی کوئی مرتا ہے تو مر جائے اپنا وقت نکالو بس۔ بے مقصد انڈیکٹرز پورے کرو بس۔

پاکستانی قوم کے ہر پڑھے لکھے اور باعقل نوجوان کو چاہئے کہ اپنے گھر والوں اور قریب کے سب لوگوں کو سٹرلائزیشن کی معلومات دے اور بچنے کے طریقے سمجھائے۔ اس ملک میں محکمہ صحت کی ترجیحات شاید کہ کبھی تبدیل نہ ہوں، شاید عوام چاہتی بھی نہیں ہے (کیونکہ ہسپتال میں ہر بندہ جلدی بلکہ فوری علاج چاہتا ہے، انجام چاہے کچھ بھی ہو۔ ) ہر ذہ شعور آدمی پہلے سٹرلائزیشن کی اہمیت کو سمجھے اور پھر سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال کے ٹراما سنٹر جا کر لازمی دیکھے کہ کہاں غلط ہو رہا اور پھر نوٹس میں لائے۔ تحریر مفاد عامہ کیلئے حقائق دیکھنے کے بعد لکھی گئی۔

صحت کارڈ پے علاج کیلے علاقہ کا  واحد ہسپتال . بہترین سہولیات مہیا کرنے کے عظم کے ساتھ #الحمداللہ   #سرجن  #ڈاکٹر  #عمران...
01/05/2025

صحت کارڈ پے علاج کیلے علاقہ کا واحد ہسپتال . بہترین سہولیات مہیا کرنے کے عظم کے ساتھ
#الحمداللہ #سرجن #ڈاکٹر #عمران #طاہر
#سرور فاؤنڈیشن راۓ علی نواز ہسپتال چیچہ وطنی
#روزانہ #دوپہر 3 سے رات 8 بجے,
#بروز #اتوار 9Am 2Pm تک مریضوں کا معائنہ کرینگے اور جدید جراحی طریقہ علاج (لیپروسکوپک سرجری) بذریعہ کیمرہ #صحت #کارڈ پر مریضوں کے آپریشن بھی کرینگے ۔

صحت کارڈ/ شناختی کارڈ پر
اپنڈیکس
ہرنیا کا جالی والا آپریشن
پتہ کی پتھری کا لیزر آپریشن
چھاتی کی گلٹی
آنت کے آپریشن
بواسیر، بھگندر، فیشر بذریعہ لیزر
نیز کے ہر قسم کے آپریشن کی سہولت موجود ہے
Care with

Invasive Solutions for a Quicker Recovery

Are you seeking a skilled and experienced laparoscopic surgeon in ,
Pakistan? Look no further than . , a renowned expert in minimally invasive surgical procedures.

:

- Laparoscopic surgery for gallstones, hernias, and appendicitis
- Minimally invasive procedures for weight loss and metabolic disorders
- Single-incision laparoscopic surgery (SILS)
- Card Fascility Available for all The Procedures

Choose Dr. Imran Tahir?

- 8+Years of experience in laparoscopic surgery
- Fellowship-trained in minimally invasive surgery
- Compassionate and patient-centered care
- State-of-the-art equipment and facilities

𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐲𝐨𝐮𝐫 𝐚𝐩𝐩𝐨𝐢𝐧𝐭𝐦𝐞𝐧𝐭

Contact us at 0318 8168597 to schedule a consultation with Dr. Imran Tahir. Take the first step towards a healthier, happier you!
Sarwar Foundation
Rai Ali Nawaz Hospital
Chichawatni
Timing Daily 4pm 7pm
Sunday 9Am 1Pm









"سات سالہ بچی کو انگوٹھا چوسنے کی عادت تھی۔ اسے کسی  اتائی کے پاس لے جایا گیا کہ کوئی دوائی دیں،  اس نے انگوٹھے پہ پلستر...
03/02/2025

"سات سالہ بچی کو انگوٹھا چوسنے کی عادت تھی۔ اسے کسی اتائی کے پاس لے جایا گیا کہ کوئی دوائی دیں، اس نے انگوٹھے پہ پلستر چڑھا دیا۔ ایک ہفتے بعد پلستر اتارا تو انگوٹھے کی یہ حالت تھی۔"
ایک فیس بک گروپ میں کسی نے اپنا مسئلہ بیان کیا تھا۔

اب اصولی طور پہ پلستر اتنا سخت نہیں چڑھانا ہوتا کہ خون کی فراہمی میں کمی آئے لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے اس اتائی نے پلستر اتنا سخت کر کے چڑھایا کہ انگوٹھے میں موجود مسلز کو خون کی فراہمی رک گئی۔ ایک ہفتے بعد پلستر اتارا گیا تو خون اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے پلستر کے نیچے والے مسلز تباہ ہو کر کالے ہو چکے تھے۔ اب یہی حل بچا تھا کہ انگوٹھا کاٹ دیا جائے۔

علم کی کمی ہونے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن علم کی کمی کو قبول کرنے کے بجائے بڑے بڑے دعویٰ کرنا قابلِ قبول نہیں۔ اتائی صرف تجربے کر رہے ہوتے ہیں، اس میں نقصان ان کا ہوتا ہے جو ان کی بات مان رہے ہوتے ہیں لیکن جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا۔

اصولی طور پہ اس بچی کے والدین اور پلستر چڑھانے والا اتائی دونوں مجرم ہیں، انھیں سزا ملنی چاہیے جن کی وجہ سے بچی اس تکلیف سے گزری اور اس کو ساری عمر کے لیے اپنے جسم کے ایک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

یاد رکھیں ہمارے جسم کے ہر ایک حصے میں مسلسل خون کی فراہمی ضروری ہے۔ جسم کے جس حصے میں خون کی فراہمی رک جائے، وہاں کے مسلز تباہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جسم کا وہ حصہ اپنی موت آپ مرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی بلاوجہ زیادہ دیر کے لیے جسم پہ کہیں کوئی سخت رسی، کپڑا، پلستر وغیرہ باندھ کر خون کی فراہمی نہ روکیں۔

اگر ڈاکٹر کسی مریض کو ہاتھ پہ پلستر کرتے ہیں تو انگلی، انگوٹھا یا ناخن والی جگہ خالی چھوڑتے ہیں، تاکہ وہاں سے دیکھتے رہیں کہ کہیں خون اور آکسیجن کی فراہمی میں کمی تو نہیں ہو رہی۔ کہیں وہاں جسم کا رنگ کالا تو نہیں ہو رہا، ایسا ہو رہا ہو تو پلستر کو فوری طور پہ کھولنا ضروری ہے ورنہ وہاں کے پٹھے مرنا شروع ہو جائیں گے۔ اسی طرح جسم کے کسی اور حصے میں بھی پلستر کریں تو اس بات کا خیال لازمی رکھا جاتا ہے۔

کسی ماہر سے مشاورت کے بغیر کسی کو اپنے جسم پہ یا اپنے بچوں کے جسم پہ تجربات کرنے کی اجازت مت دیا کریں۔ یہ چھوٹے موٹے تجربات عمر بھر کا روگ یا معذوری بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نوید خالد تارڑ
༺نͩــͤــͤــͮــᷲــᷡــوید خͩــͥــᷝــᷲــͪــᷜـــالد༻

    Care with       Invasive Solutions for a Quicker RecoveryAre you seeking a skilled and experienced laparoscopic surg...
17/11/2024

Care with

Invasive Solutions for a Quicker Recovery

Are you seeking a skilled and experienced laparoscopic surgeon in ,
Pakistan? Look no further than . , a renowned expert in minimally invasive surgical procedures.

:

- Laparoscopic surgery for gallstones, hernias, and appendicitis
- Minimally invasive procedures for weight loss and metabolic disorders
- Single-incision laparoscopic surgery (SILS)
- Card Fascility Available for all The Procedures

Choose Dr. Imran Tahir?

- 8+Years of experience in laparoscopic surgery
- Fellowship-trained in minimally invasive surgery
- Compassionate and patient-centered care
- State-of-the-art equipment and facilities

𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐲𝐨𝐮𝐫 𝐚𝐩𝐩𝐨𝐢𝐧𝐭𝐦𝐞𝐧𝐭

Contact us at 0318 8168597 to schedule a consultation with Dr. Imran Tahir. Take the first step towards a healthier, happier you!
Sarwar Foundation
Rai Ali Nawaz Hospital
Chichawatni
Timing Daily 4pm 7pm
Sunday 9Am 1Pm

الحمداللہ سرجن ڈاکٹر عمران طاہر
#سرور فاؤنڈیشن راۓ علی نواز ہسپتال چیچہ وطنی
روزانہ دوپہر 3 سے رات 8 بجے تک مریضوں کا معائنہ کرینگے اور جدید جراحی طریقہ علاج (لیپروسکوپک سرجری) بذریعہ کیمرہ #صحت #کارڈ پر مریضوں کے آپریشن بھی کرینگے ۔

صحت کارڈ/ شناختی کارڈ پر
اپنڈیکس
ہرنیا کا جالی والا آپریشن
پتہ کی پتھری کا لیزر آپریشن
چھاتی کی گلٹی
آنت کے آپریشن
بواسیر، بھگندر، فیشر بذریعہ لیزر
نیز کے ہر قسم کے آپریشن کی سہولت موجود ہے







13/09/2024

Address

Rai Ali Nawaz Foundation Hospital Chichawatni
Chichawatni

Opening Hours

Monday 15:00 - 20:00
Tuesday 15:00 - 20:00
Wednesday 15:00 - 20:00
Thursday 15:00 - 20:00
Friday 15:00 - 20:00
Saturday 15:00 - 20:00

Telephone

+923188168597

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Imran Tahir, Laproscopic & Laser Surgeon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Imran Tahir, Laproscopic & Laser Surgeon:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category