05/02/2022
ایک عابد الله کے دیدار کےلیے 40 دن كا چلہ کاٹنے لگا۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا ۔ خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا رھا ۔
-36 ویں رات اس عابد نے آواز سنی : مجھ سے ملنے والے فلاں تانبہ کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
-
عابد تانبے کے بازار میں پہنچ گیا اور مارکیٹ میں اس تانبہ ساز کی دوکان کو ڈھونڈنے لگا اسی دوران ۔ "اس نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی
بیچنا چاہتی تھی, وہ جس کے پاس جاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
-آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
-
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے اپنی ضرورت بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بہت بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
-
تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں جی یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!
-
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 25 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
-
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھتارہا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبے والے سے کہا:
لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟!!
-بازار میں سبھی اس دیگچی کے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھے اور آپ نے 25 ریال میں اسے خرید لیا ہے...
-
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا: بھائی
میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا دوائی خریدی ھے۔ میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے یہ قیمت اس لئے دی کہ یہ گھر کا باقی سامان نہ بیچے
- عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اس کو دیکھتا رہ گیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی او میرے بندے
"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا، جاؤ گِرتوں کو تھامو اور ڈوبتے کو کنارے لگاؤ ۔۔۔۔ میں خود تمہارے پاس آوں گا "۔ اللہ کریم ھمیں سمجھ اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کی توفیق عطاء فرمائےایک عابد الله کے دیدار کےلیے 40 دن كا چلہ کاٹنے لگا۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا ۔ خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا رھا ۔
-36 ویں رات اس عابد نے آواز سنی : مجھ سے ملنے والے فلاں تانبہ کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
-
عابد تانبے کے بازار میں پہنچ گیا اور مارکیٹ میں اس تانبہ ساز کی دوکان کو ڈھونڈنے لگا اسی دوران ۔ "اس نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی
بیچنا چاہتی تھی, وہ جس کے پاس جاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
-آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
-
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے اپنی ضرورت بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بہت بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
-
تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں جی یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!
-
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 25 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
-
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھتارہا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبے والے سے کہا:
لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟!!
-بازار میں سبھی اس دیگچی کے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھے اور آپ نے 25 ریال میں اسے خرید لیا ہے...
-
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا: بھائی
میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا دوائی خریدی ھے۔ میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے یہ قیمت اس لئے دی کہ یہ گھر کا باقی سامان نہ بیچے
- عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اس کو دیکھتا رہ گیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی او میرے بندے
"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا، جاؤ گِرتوں کو تھامو اور ڈوبتے کو کنارے لگاؤ ۔۔۔۔ میں خود تمہارے پاس آوں گا "۔ اللہ کریم ھمیں سمجھ اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کی توفیق عطاء فرمائے