Dr. Ayesha Amjad

Dr. Ayesha Amjad A dedicated Doctor works in Gyanecology & Obstetrics.Online consultation services available.

حاملہ خواتین کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت: ماں اور بچے کی حفاظت کا مکمل گائیڈحمل کا سفر ایک عورت کی زندگی کا سب سے خوبصورت ...
05/05/2026

حاملہ خواتین کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت:
ماں اور بچے کی حفاظت کا مکمل گائیڈ

حمل کا سفر ایک عورت کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور حساس مرحلہ ہوتا ہے۔ اس دوران جہاں خوشیاں دستک دیتی ہیں، وہاں اپنی اور اپنے آنے والے ننھے مہمان کی صحت کے حوالے سے فکر مندی بھی فطری ہے۔ ایک ماہر امراض نسواں اور غذائی ماہر ہونے کے ناطے، میں اکثر اپنے کلینک میں خواتین کو اس کشمکش میں دیکھتی ہوں کہ کیا حمل کے دوران انجکشن یا ویکسین لگوانا محفوظ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ویکسین صرف آپ کی حفاظت نہیں کرتی، بلکہ یہ آپ کے بچے کے لیے وہ پہلی ڈھال ثابت ہوتی ہے جو اسے دنیا میں آنے سے پہلے ہی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دے دیتی ہے۔ آج کے اس تفصیلی مضمون میں، ہم سائنسی بنیادوں اور عالمی طبی اداروں کے رہنما اصولوں کی روشنی میں یہ سمجھیں گے کہ حمل کے دوران ویکسینیشن کیوں ضروری ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے۔

حمل کے دوران ویکسینیشن کیوں ضروری ہے؟
جب آپ حاملہ ہوتی ہیں، تو آپ کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر کچھ تبدیلیاں اختیار کر لیتا ہے تاکہ وہ بچے کی نشوونما میں رکاوٹ نہ بنے۔ اس عمل کے دوران ماں کے لیے انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ماں کسی سنگین بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر براہ راست بچے کی صحت پر پڑ سکتا ہے۔ ویکسینیشن کا بنیادی مقصد ماں کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا کرنا ہے، جو نہ صرف ماں کو محفوظ رکھتی ہیں بلکہ نال کے ذریعے بچے تک بھی منتقل ہوتی ہیں۔ یہ عمل بچے کو پیدائش کے بعد ابتدائی چند مہینوں میں خطرناک بیماریوں سے بچاتا ہے، جب تک کہ بچہ اپنی پہلی باقاعدہ ویکسین لگوانے کے قابل نہ ہو جائے۔

پاکستان میں ٹیٹنس کا انجکشن اور اس کا شیڈول
پاکستان میں ٹیٹنس یعنی تشنج ایک سنگین خطرہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں زچگی کے دوران صفائی ستھرائی کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ٹیٹنس کا جرثومہ مٹی اور آلودہ اوزاروں میں پایا جاتا ہے۔ اگر زچگی کے دوران احتیاط نہ برتی جائے تو یہ ماں اور نومولود بچے دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیٹنس کی ویکسین جسے ہم عام زبان میں ٹی ٹی انجکشن کہتے ہیں، حمل کے دوران لگوانا انتہائی لازمی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور پاکستان کے قومی پروگرام کے مطابق اس کا ایک مخصوص شیڈول ہوتا ہے۔ اگر کسی خاتون نے پہلے کبھی یہ ویکسین نہیں لگوائی، تو حمل کی تصدیق کے فوراً بعد یا بیسویں ہفتے کے قریب پہلا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اس کے چار ہفتے بعد دوسرا ٹیکہ لگتا ہے۔ یہ دو خوراکیں بچے کو پیدائشی تشنج سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ تاہم، مکمل تحفظ کے لیے پانچ خوراکوں کا کورس مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے جو مستقبل کے حمل میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فلو یعنی نزلہ زکام کی ویکسین اور اس کی ضرورت
بہت سی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ نزلہ زکام ایک معمولی بات ہے، لیکن حاملہ خواتین کے لیے موسمی فلو پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حمل کے دوران فلو کی وجہ سے نمونیا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو ماں کے پھیپھڑوں اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق، حاملہ خواتین کے لیے فلو کی ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یہ ویکسین مردہ وائرس سے تیار کی جاتی ہے، اس لیے اس سے بیماری لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اسے حمل کے کسی بھی مہینے میں لگوایا جا سکتا ہے۔ یہ ویکسین نہ صرف ماں کو بخار اور جسمانی تکلیف سے بچاتی ہے بلکہ پیدائش کے بعد بچے کو بھی ابتدائی مہینوں میں سانس کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

کالی کھانسی اور دیگر اہم ویکسینز
کالی کھانسی ایک ایسی بیماری ہے جو شیر خوار بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بچے کی پیدائش کے بعد اسے حفاظتی ٹیکوں کے کورس میں شامل کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین اب یہ مشورہ دیتے ہیں کہ حمل کے ستائیسویں سے چھتیسویں ہفتے کے درمیان ماں کو یہ ویکسین لگوانی چاہیے۔ اس سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت براہ راست بچے میں منتقل ہوتی ہے اور اسے زندگی کے پہلے چند نازک مہینوں میں کھانسی اور سانس کی دشواری سے بچاتی ہے۔

کون سی ویکسینز حمل کے دوران نہیں لگوانی چاہئیں؟
یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔ تمام ویکسینز حمل کے دوران محفوظ نہیں ہوتیں۔ طبی اصولوں کے مطابق ایسی ویکسینز جو زندہ وائرس سے تیار کی گئی ہوں، حمل کے دوران ممنوع ہیں۔ ان میں خسرہ، کنپیڑے، اور روبیلا کی ویکسین شامل ہیں۔ اگر کسی خاتون کو ان بیماریوں کے خلاف ویکسین کی ضرورت ہو، تو اسے حمل سے کم از کم ایک ماہ پہلے یا زچگی کے فوراً بعد لگوانا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی ویکسین لگوانے سے پہلے اپنی ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ وہ آپ کی طبی تاریخ دیکھ کر صحیح فیصلہ کر سکیں۔

حمل میں متوازن غذا اور مدافعتی نظام
صرف ویکسینیشن ہی کافی نہیں ہے، بلکہ آپ کی غذا آپ کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک ماہر غذائیت کے طور پر، میں اپنی مریضات کو مشورہ دیتی ہوں کہ وہ اپنی خوراک میں ایسی چیزیں شامل کریں جو قدرتی طور پر بیماریوں کے خلاف لڑنے کی طاقت دیں۔

پروٹین کا استعمال: انڈے، دالیں اور گوشت آپ کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں اور قوت مدافعت بڑھاتے ہیں۔

وٹامن سی: مالٹے، لیموں اور ہری مرچ کا استعمال کریں تاکہ آپ کا جسم انفیکشنز کا مقابلہ کر سکے۔

فولاد اور کیلشیم: یہ نہ صرف خون کی کمی کو دور کرتے ہیں بلکہ ہڈیوں اور پٹھوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

پانی کا زیادہ استعمال: جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج کے لیے دن میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پیئیں۔

ہر حاملہ خاتون کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ بعض خواتین کو ذیابیطس یا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں ایک مخصوص ڈائٹ پلان پر عمل کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے تاکہ ماں اور بچہ دونوں صحت مند رہیں۔

ڈاکٹر سے مشورہ اور رہنمائی کی اہمیت
انٹرنیٹ پر موجود معلومات آپ کی آگاہی کے لیے تو اچھی ہیں، لیکن یہ آپ کے ڈاکٹر کے معائنے کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ ہر عورت کا حمل مختلف ہوتا ہے اور ہر ایک کی جسمانی ضروریات الگ ہوتی ہیں۔ حمل کے دوران باقاعدگی سے چیک اپ کروانا، بروقت الٹراساؤنڈ اور ضروری ٹیسٹ کروانا آپ کے بچے کی محفوظ پیدائش کی ضمانت ہے۔

نچوڑ اور پیغام
ویکسینیشن آپ کی ممتا کا پہلا تحفہ ہے جو آپ اپنے بچے کو دیتی ہیں۔ یہ ایک محفوظ، سستا اور موثر طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ کئی جان لیوا بیماریوں کا راستہ روک سکتی ہیں۔ اپنی ڈاکٹر سے ٹی ٹی اور فلو ویکسین کے بارے میں بات کرنے میں دیر نہ کریں۔ یاد رکھیں، ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ اپنی خوراک کا خیال رکھیں، مثبت سوچیں اور بروقت طبی مشورہ لینے کو اپنی ترجیح بنائیں۔

حمل کے دوران جلد میں تبدیلیاں: آپ کی رنگت کیوں بدل رہی ہے اور ان کا حل کیا ہے؟حمل ایک عورت کی زندگی کا وہ خوبصورت موڑ ہے...
04/05/2026

حمل کے دوران جلد میں تبدیلیاں: آپ کی رنگت کیوں بدل رہی ہے اور ان کا حل کیا ہے؟

حمل ایک عورت کی زندگی کا وہ خوبصورت موڑ ہے جہاں اس کے وجود کے اندر ایک نئی زندگی پروان چڑھ رہی ہوتی ہے۔ اس دوران جہاں جسم میں کئی جذباتی اور جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں، وہاں جلد میں ہونے والی تبدیلیاں اکثر خواتین کے لیے پریشانی اور الجھن کا باعث بنتی ہیں۔ بہت سی خواتین آئینہ دیکھ کر حیران ہوتی ہیں کہ اچانک ان کی گردن کالی کیوں ہو رہی ہے یا پیٹ پر نشانات کیوں پڑ رہے ہیں۔ میں ڈاکٹر سلمیٰ راشد، بطور ماہر امراضِ نسواں اور نیوٹریشنسٹ، آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ تمام تبدیلیاں آپ کے جسم میں ہونے والے ہارمونز کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہیں۔ یہ نہ صرف نارمل ہیں بلکہ ان میں سے اکثر کا علاج اور بچاؤ ممکن ہے۔ اس مضمون میں ہم ان تمام تبدیلیوں پر تفصیلی بات کریں گے تاکہ آپ اپنے حمل کے سفر کو اعتماد کے ساتھ گزار سکیں۔

حمل میں جلد کی تبدیلیوں کی بڑی وجوہات
حمل کے دوران انسانی جسم میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہارمونز براہ راست میلانن بنانے والے خلیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ میلانن وہ مادہ ہے جو ہماری جلد کو رنگت دیتا ہے۔ جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو جسم کے مختلف حصوں پر سیاہی مائل دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے بچہ دانی کا سائز بڑھتا ہے، پیٹ کی جلد میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے جو اسٹریچ مارکس کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بین الاقوامی طبی رہنما اصولوں یعنی اے سی او جی اور آر سی او جی کے مطابق یہ تبدیلیاں کسی بیماری کی علامت نہیں بلکہ ایک قدرتی عمل کا حصہ ہیں۔ تاہم، مناسب غذا اور جلد کی دیکھ بھال کے ذریعے ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

فرائس اور جھائیاں: حمل کا ماسک
حمل کے دوران سب سے زیادہ نمایاں تبدیلی چہرے پر نظر آنے والے سیاہ یا بھورے دھبے ہیں، جسے طبی زبان میں 'میلاسما' کہا جاتا ہے۔ اسے اکثر 'پریگننسی ماسک' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام طور پر گالوں، ماتھے اور ناک کے گرد ایک نقاب کی صورت میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ دھبے سورج کی روشنی میں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو معیاری سن بلاک کا استعمال کریں۔ یاد رہے کہ یہ دھبے مستقل نہیں ہوتے اور اکثر زچگی کے بعد خود بخود ہلکے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ آپ کی خوراک متوازن ہو۔

پیٹ پر اسٹریچ مارکس سے کیسے بچیں؟
حمل کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی میں جب پیٹ تیزی سے بڑھتا ہے تو جلد کے اندرونی ریشے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے پیٹ، رانوں اور چھاتی پر گلابی یا جامنی رنگ کی لکیریں بن جاتی ہیں۔ بہت سی خواتین یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا ان نشانات کو مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس کا تعلق آپ کی جلد کی لچک اور جینیات سے بھی ہے۔ لیکن آپ ان کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔

جلد کو ہمہ وقت نم یا ہائیڈریٹڈ رکھیں۔

ناریل کا تیل، ایلوویرا جیل یا معیاری مائسچرائزر کا روزانہ استعمال کریں۔

پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جلد اندرونی طور پر لچکدار رہے۔

وزن میں اچانک اضافے سے بچنے کے لیے ماہرِ غذائیت کے مشورے پر عمل کریں۔

لینیہ نائگرا: پیٹ کے بیچوں بیچ کالی لکیر
حمل کے دوران بہت سی خواتین اپنے پیٹ کے عین درمیان میں ناف سے نیچے کی طرف ایک گہری بھوری یا کالی لکیر دیکھتی ہیں۔ اسے 'لینیہ نائگرا' کہا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ لکیر پہلے سے ہی وہاں موجود ہوتی ہے جسے 'لینیہ البا' کہتے ہیں، مگر حمل کے ہارمونز اسے گہرا کر دیتے ہیں۔ اس لکیر سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد غائب ہو جاتی ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کی بلیچنگ کریم یا تیز کیمیکل لگانے سے گریز کریں، کیونکہ حمل میں جلد بہت حساس ہوتی ہے۔

گردن اور بغلوں کی رنگت کا گہرا ہونا
حمل میں اکثر خواتین کی گردن، بغلیں اور جسم کے دیگر جوڑ کالے پڑنے لگتے ہیں۔ اسے 'ہائپر پگمنٹیشن' کہتے ہیں۔ اکثر خواتین اسے صفائی کی کمی سمجھتی ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔ یہ خالصتاً ہارمونز کا کھیل ہے۔ ایک ماہرِ غذائیت کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ جن خواتین کے خون میں انسولین کی سطح غیر متوازن ہوتی ہے، ان میں یہ سیاہی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ اس لیے متوازن غذا کا استعمال اور نشاستہ دار اشیاء (چینی، میدہ) سے پرہیز اس مسئلے کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

حمل میں جلد کی خارش اور حساسیت
جیسے جیسے جلد کھینچتی ہے، پیٹ اور ہاتھوں پاؤں پر خارش کا ہونا ایک عام بات ہے۔ لیکن اگر خارش بہت زیادہ ہو اور خاص طور پر رات کے وقت ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر ہو، تو یہ جگر کے ایک مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے جسے 'کولیسٹیسس' کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر اپنے گائناکالوجسٹ سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ عام خارش کے لیے ٹھنڈے پانی سے غسل اور سوتی کپڑوں کا انتخاب بہترین رہتا ہے۔

غذا اور جلد کا تعلق: ایک ماہرِ غذائیت کا مشورہ
آپ کی جلد ویسبی ہی دکھے گی جیسا آپ کھائیں گی۔ حمل میں چمکدار اور صحت مند جلد کے لیے آپ کی پلیٹ میں درج ذیل اجزاء کا ہونا لازمی ہے:

وٹامن سی: یہ مالٹے، لیموں اور امرود میں پایا جاتا ہے جو جلد میں کولاجن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز: مچھلی، اخروٹ اور السی کے بیج جلد کی قدرتی نمی برقرار رکھتے ہیں۔

پروٹین: انڈے، دالیں اور گوشت جلد کے خلیات کی مرمت کے لیے ضروری ہیں۔

ہری سبزیاں: پالک اور ساگ میں موجود فولاد رنگت کو نکھارنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا آپ کو ماہرِ امراضِ نسواں سے مشورہ کرنا چاہیے؟
حمل کا ہر سفر منفرد ہوتا ہے۔ جو نسخہ ایک عورت کے لیے کام کر رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی ٹھیک ہو۔ اکثر خواتین ٹوٹکوں کے چکر میں اپنی جلد کو مزید نقصان پہنچا لیتی ہیں۔ حمل کے دوران کسی بھی نئی کریم یا دوائی کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا آپ کے اور آپ کے بچے کی صحت کے لیے اہم ہے۔ میں آپ کی ان تمام پریشانیوں کے حل کے لیے دستیاب ہوں۔ چاہے وہ حمل کی پیچیدگیاں ہوں یا حمل کے دوران وزن کو کنٹرول کرنے کا ڈائٹ پلان، آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آن لائن مشورہ کی فیس: صرف ۱۵۰۰ روپے

صحت مند ماں ہی ایک صحت مند بچے کو جنم دیتی ہے۔ اپنی جلد اور صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ آج ہی اپنی اپوائنٹمنٹ بک کروائیں تاکہ ہم مل کر آپ کے اس سفر کو مزید آسان اور خوبصورت بنا سکیں۔

حمل کے دوران ازدواجی تعلقات: کیا یہ محفوظ ہے؟ ایک ایسا سوال جو ہر عورت پوچھنا چاہتی ہے مگر ہچکچاتی ہےحمل کا دورانیہ ایک ...
04/05/2026

حمل کے دوران ازدواجی تعلقات: کیا یہ محفوظ ہے؟

ایک ایسا سوال جو ہر عورت پوچھنا چاہتی ہے مگر ہچکچاتی ہے
حمل کا دورانیہ ایک عورت کی زندگی میں خوشی، تجسس اور بہت سے سوالات لے کر آتا ہے۔ ان سوالات میں سے ایک سب سے اہم مگر وہ سوال جس پر ہمارے معاشرے میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس کی جاتی ہے، وہ حمل کے دوران میاں بیوی کے درمیان جسمانی تعلقات کی حفاظت سے متعلق ہے۔ بطور گائناکالوجسٹ، میں روزانہ ایسی خواتین سے ملتی ہوں جو اس حوالے سے بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہوتی ہیں۔ کچھ خواتین کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس سے بچے کو نقصان نہ پہنچ جائے، جبکہ کچھ اسے گناہ یا غیر فطری عمل سمجھنے لگتی ہیں۔ آج ہم طبی حقائق کی روشنی میں اس موضوع پر کھل کر بات کریں گے تاکہ آپ کا یہ سفر خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ گزرے۔

کیا حمل میں ازدواجی تعلق قائم کرنا محفوظ ہے؟
سب سے پہلا اور واضح جواب یہ ہے کہ جی ہاں، اگر آپ کا حمل نارمل ہے اور آپ کی ڈاکٹر نے آپ کو کسی خاص طبی پیچیدگی کی وجہ سے منع نہیں کیا، تو حمل کے نو مہینوں کے دوران جسمانی تعلق قائم کرنا بالکل محفوظ ہے۔ قدرت نے آپ کے رحم کے اندر بچے کی حفاظت کا ایک بہترین نظام بنا رکھا ہے۔ بچہ ایک پانی کی تھیلی (ایمنی اوٹک فلوئڈ) میں محفوظ ہوتا ہے اور رحم کا منہ ایک گاڑھے مادے (میوکس پلگ) سے بند ہوتا ہے جو اسے بیرونی جراثیم اور دباؤ سے بچاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا کہ تعلق قائم کرنے سے بچے کو چوٹ لگے گی یا اسے تکلیف ہوگی، محض ایک وہم ہے۔

پہلا سہ ماہی: احتیاط اور بدلتی کیفیات
حمل کے پہلے تین ماہ میں جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ہارمونز کا اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس دوران اکثر خواتین کو متلی، قے، شدید تھکاوٹ اور سینے میں جلن جیسی شکایات رہتی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر بہت سی خواتین کی جنسی رغبت کم ہو جاتی ہے، جو کہ ایک نارمل بات ہے۔

پہلے تین ماہ میں اگر آپ کو خون کے دھبے (اسپاٹنگ) لگ رہے ہوں یا پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد ہو، تو تعلق قائم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق، اگر حمل نارمل طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے تو پہلے سہ ماہی میں تعلق قائم کرنے سے اسقاط حمل (میس کیرج) کا خطرہ نہیں ہوتا۔ اسقاط حمل کی بڑی وجوہات عام طور پر کروموسومل خرابیاں ہوتی ہیں نہ کہ جسمانی سرگرمی۔

دوسرا سہ ماہی: راحت اور توانائی کا دور
دوسرے تین ماہ (چوتھے سے چھٹے مہینے تک) کو اکثر حمل کا "ہنی مون پیریڈ" کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر صبح کی سستی اور متلی ختم ہو جاتی ہے اور جسم میں خون کی گردش بڑھنے کی وجہ سے بہت سی خواتین پہلے سے زیادہ توانائی محسوس کرتی ہیں۔

اس دوران تعلق قائم کرنا نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

اس مرحلے پر پیٹ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، اس لیے ایسی پوزیشنز کا انتخاب ضروری ہے جن میں پیٹ پر براہ راست دباؤ نہ پڑے۔

تیسرا سہ ماہی: کیا یہ وقت سے پہلے زچگی کا باعث بن سکتا ہے؟
حمل کے آخری تین ماہ میں پیٹ کا وزن اور جسامت کافی بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسمانی طور پر کچھ دشواریاں پیش آ سکتی ہیں۔ ایک عام سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا آخری مہینوں میں تعلق قائم کرنے سے وقت سے پہلے دردِ زہ (لیبر پین) شروع ہو سکتے ہیں؟

تحقیق بتاتی ہے کہ ایک صحت مند حمل میں، تعلق قائم کرنے سے وقت سے پہلے زچگی کا خطرہ نہیں ہوتا۔

البتہ، منی (سیمن) میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو رحم کے منہ کو نرم کرنے میں مدد دیتے ہیں، اسی لیے نویں مہینے کے آخر میں اسے بعض اوقات لیبر شروع کرنے کے لیے مددگار سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ صرف تب ہوتا ہے جب جسم خود زچگی کے لیے تیار ہو۔

وہ صورتحال جب آپ کو تعلق قائم کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے
طبی نقطہ نظر سے (ACOG اور RCOG گائیڈ لائنز کے مطابق) کچھ ایسی مخصوص حالتیں ہیں جن میں ازدواجی تعلقات سے مکمل پرہیز لازمی ہے تاکہ ماں اور بچے کی جان کو خطرہ نہ ہو:

پلاسینٹا پریویا (Placenta Previa): اگر بچے کی آنول (پلاسینٹا) رحم کے نچلے حصے میں ہو اور اس نے رحم کے منہ کو ڈھانپ رکھا ہو، تو تعلق قائم کرنے سے شدید خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

وقت سے پہلے پانی کی تھیلی کا پھٹ جانا: اگر زچگی کا وقت آنے سے پہلے ہی پانی کا اخراج شروع ہو جائے، تو انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر تعلق قائم کرنا منع ہے۔

کمزور رحم (Incompetent Cervix): اگر رحم کا منہ وقت سے پہلے کھلنے کا خطرہ ہو یا اس پر ٹانکے لگے ہوں تو پرہیز ضروری ہے۔

خون کا اخراج: حمل کے دوران کسی بھی وقت اندام نہانی سے خون آنا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔

سابقہ ہسٹری: اگر آپ کا پہلے کبھی وقت سے پہلے بچہ پیدا ہوا ہو یا اسقاط حمل ہوا ہو، تو آپ کی ڈاکٹر آپ کو احتیاط کا مشورہ دے سکتی ہیں۔

حمل کے دوران غذائیت کی اہمیت اور مشورہ
حمل صرف ایک جسمانی حالت نہیں بلکہ یہ ایک ایسی بنیاد ہے جس پر آپ کے بچے کی آنے والی زندگی کی صحت کا انحصار ہے۔ ازدواجی خوشی کے ساتھ ساتھ، آپ کی غذا آپ کے مزاج اور جسمانی توانائی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اکثر خواتین حمل میں کمزوری یا خون کی کمی کی وجہ سے تعلقات میں دلچسپی کھو دیتی ہیں، جس کا حل صرف ایک متوازن ڈائٹ پلان ہے۔

بطور نیوٹریشنسٹ، میں حاملہ خواتین کے لیے مخصوص غذائی چارٹ ترتیب دیتی ہوں جو نہ صرف بچے کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں بلکہ ماں کو بھی ہشاش بشاش رکھتے ہیں۔ اگر آپ کو حمل کے دوران شوگر (Gestational Diabetes) یا ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے، تو آپ کو ایک خاص ڈائٹ کی ضرورت ہے۔

میری خدمات اور آپ کی صحت
ایک ماہر گائناکالوجسٹ اور نیوٹریشنسٹ ہونے کے ناطے، میرا مقصد آپ کے اس سفر کو آسان اور محفوظ بنانا ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں ازدواجی تعلقات، حمل کی پیچیدگیوں یا خوراک کے حوالے سے کوئی بھی سوال ہے، تو آپ مجھ سے رابطہ کر سکتی ہیں۔

آن لائن مشورہ: وہ خواتین جو گھر بیٹھے رازداری کے ساتھ بات کرنا چاہتی ہیں، ان کے لیے آن لائن کنسلٹیشن کی سہولت موجود ہے۔ فیس: پندرہ سو روپے۔

ڈائٹ پلانز: حاملہ خواتین کے لیے مکمل غذائی رہنمائی اور ڈائٹ چارٹ جو پچیس سو روپے سے شروع ہوتے ہیں۔

کلینک وزٹ: آپ اسلام آباد میں میرے کلینک آ کر تفصیلی معائنہ بھی کروا سکتی ہیں۔

یاد رکھیں، حمل کوئی بیماری نہیں ہے، یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ اپنے شریک حیات کے ساتھ اس بارے میں کھل کر بات کریں اور اگر کوئی طبی مسئلہ محسوس ہو تو فوری مشورہ لیں۔

(Adenomyosis) ایک طبی حالت ہے جس میں بچہ دانی کی اندرونی پرت (Endometrium) کے خلیات بچہ دانی کی پٹھوں کی دیوار (Myometri...
03/05/2026

(Adenomyosis) ایک طبی حالت ہے جس میں بچہ دانی کی اندرونی پرت (Endometrium) کے خلیات بچہ دانی کی پٹھوں کی دیوار (Myometrium) میں بڑھنے لگتے ہیں، جس سے بچہ دانی میں سوزش اور سوجن (Bulky Uterus) ہوتی ہے۔ یہ درمیانی عمر کی خواتین میں ماہواری کے دوران شدید درد، بھاری خون بہنے اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد کا سبب بنتا ہے۔ یہ کینسر نہیں ہے مگر روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایڈینومائیوسس کی اہم علامات اور تفصیلات:

شدید ماہواری (Heavy Periods):
بہت زیادہ اور طویل عرصے تک خون بہنا
(Menorrhagia)

۔دردناک ماہواری (Painful Periods):
پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد اور اینٹھن۔

بچہ دانی کا بڑھنا: بچہ دانی معمول سے بڑی اور بھاری ہو جاتی ہے۔

پیٹ میں درد اور سوجن: پیٹ کے نچلے حصے میں دائمی درد، پریشر، اور اپھارہ۔

تکلیف دہ جنسی تعلق: ج**ع کے دوران درد کا احساس

۔وجوہات اور تشخیص:
ایڈینومائیوسس کی حتمی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ ہارمونل تبدیلیوں (ایسٹروجن) یا سابقہ سرجریوں کی وجہ سے ہو سکتی ہے

۔ تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ یا MRI کا سہارا لیا جاتا ہے۔

علاج:یہ بیماری عام طور پر رجونورتی (Menopause) کے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔

ادویات: درد کم کرنے والی (NSAIDs) اور ہارمونل علاج (جیسے برتھ کنٹرول گولیاں یا ہارمونل آئی یو ڈی)

۔سرجری: شدید صورتوں میں، جب دوسری علامات کام نہ کریں، تو بچہ دانی کو ہٹانے کا عمل (Hysterectomy) کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: اگر آپ کو ان علامات کا سامنا ہو تو کسی ماہر امراض نسواں (Gynecologist) سے رجوع کریں

زچگی کا وقت ایک عورت کی زندگی کا سب سے جذباتی اور جسمانی طور پر تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس تصویر میں دکھای...
03/05/2026

زچگی کا وقت ایک عورت کی زندگی کا سب سے جذباتی اور جسمانی طور پر تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس تصویر میں دکھایا گیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کا جسم کسی بڑی آزمائش سے گزرا ہو، لیکن پھر بھی اپنوں کی خوشی کے لیے مسکرانا پڑتا ہے.

ایک ماں کی صحت ہی ایک صحت مند خاندان کی بنیاد ہے۔ اکثر مائیں بچوں کی دیکھ بھال میں اپنی خوراک اور آرام کو نظر انداز کر دیتی ہیں، جو کہ بعد میں کمزوری اور دیگر مسائل کا سبب بنتا ہے۔

Rh incompatibility: An acquired maternal anti-D IgG response targets fetal erythrocytes, producing a spectrum from neona...
03/05/2026

Rh incompatibility:

An acquired maternal anti-D IgG response targets fetal erythrocytes, producing a spectrum from neonatal jaundice to hydrops fetalis; severity escalates with successive exposures (Kassowitz law). Systematic screening and timely RhIg prophylaxis interrupt sensitization and prevent disease progression.

حمل کی خوشی اور ذہنی سکون: کیا آپ کی جذباتی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ جسمانی؟حمل ایک ایسا خوبصورت سفر ہے جو عورت کی...
02/05/2026

حمل کی خوشی اور ذہنی سکون:

کیا آپ کی جذباتی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ جسمانی؟

حمل ایک ایسا خوبصورت سفر ہے جو عورت کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ ایک ننھی سی جان کا وجود آپ کے اندر پروان چڑھنا بلاشبہ ایک معجزہ ہے، لیکن اس معجزے کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم اور دماغ میں بہت سی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں حاملہ خاتون کی خوراک اور جسمانی آرام پر تو بہت زور دیا جاتا ہے، لیکن اس کی ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حمل کے دوران آپ کے جذبات میں آنے والا اتار چڑھاؤ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک اہم طبی معاملہ ہے؟ میں بطور ماہر امراض نسواں اور غذائی ماہر، آج آپ کو اس پہلو سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں جو آپ کی اور آپ کے آنے والے بچے کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

حمل کے دوران ذہنی تبدیلیوں کی حقیقت

جب ایک عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس کے جسم میں ہارمونز کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو براہ راست دماغ کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتا ہے جو موڈ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کبھی بہت خوش محسوس کرتی ہیں اور اگلے ہی لمحے بلاوجہ اداسی یا غصہ آپ پر غالب آ جاتا ہے۔ طبی زبان میں اسے "موڈ سوئنگز" کہا جاتا ہے۔ عالمی طبی رہنما خطوط جیسے کہ اے سی او جی اور آر سی او جی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حمل کے دوران ذہنی صحت کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بلڈ پریشر یا شوگر چیک کرنا۔

حمل کی بے چینی اور اس کی علامات

حمل کے دوران تھوڑی بہت فکر ہونا فطری ہے، جیسے کہ بچے کی صحت کیسی ہوگی یا ولادت کا مرحلہ کیسا گزرے گا۔ لیکن جب یہ فکر حد سے بڑھ جائے اور آپ کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اسے "پریگننسی اینگزائٹی" یا حمل کی بے چینی کہا جاتا ہے۔ اس کی چند نمایاں علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں جنہیں پہچاننا بہت ضروری ہے:

ہر وقت کسی نامعلوم خوف کا شکار رہنا

نیند کی کمی یا بار بار آنکھ کھل جانا

دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہو جانا

ارتکاز یا توجہ مرکوز کرنے میں دشواری

ہر چھوٹی بات پر حد سے زیادہ چڑچڑا پن محسوس کرنا

اگر آپ ان علامات کا سامنا کر رہی ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ اکیلی نہیں ہیں۔ یہ ایک طبی صورتحال ہے جس کا حل ممکن ہے اور اس میں شرمانے یا چھپانے کی کوئی بات نہیں ہے۔

حمل میں ڈپریشن: محض اداسی یا کچھ اور؟

بہت سی خواتین حمل کے دوران شدید اداسی کا شکار ہو جاتی ہیں جسے اکثر "حمل کا بوجھ" سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حمل کے دوران ڈپریشن ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جو زچگی کے بعد کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی علامات میں ان کاموں سے دلچسپی ختم ہو جانا جو آپ کو پہلے پسند تھے، ہر وقت تھکن محسوس کرنا، خود کو مجرم تصور کرنا یا اپنے بچے سے لگاؤ محسوس نہ کرنا شامل ہیں۔ اگر یہ علامات دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں تو فوری طور پر طبی مشورے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ذہنی تناؤ کو سنبھالنے کے عملی طریقے

ذہنی تناؤ یا اسٹریس نہ صرف ماں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ بچے کی نشوونما پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تناؤ کو مینیج کرنے کے لیے کچھ سادہ مگر مؤثر طریقے یہ ہیں:

اپنی کیفیات کے بارے میں بات کریں:
اپنے شوہر، ماں یا کسی قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کہیں۔ خاموشی مسائل کو بڑھاتی ہے۔

بھرپور نیند لیں:
جسمانی تھکن ذہنی تناؤ کو جنم دیتی ہے، اس لیے آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی پوری کریں۔

ہلکی ورزش:
اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزانہ دس سے پندرہ منٹ کی چہل قدمی کریں، یہ خوشی کے ہارمونز پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

گہرے سانس لینے کی مشق:
جب بھی گھبراہٹ محسوس ہو، چند منٹ کے لیے گہرے سانس لیں، اس سے فوری سکون ملتا ہے۔

خوراک اور ذہنی صحت کا گہرا تعلق

میں اس بات پر بہت زور دیتی ہوں کہ ہم جو کھاتے ہیں، اس کا اثر براہ راست ہمارے دماغ پر ہوتا ہے۔ حمل کے دوران متوازن غذا نہ صرف بچے کی جسمانی ساخت بناتی ہے بلکہ ماں کے موڈ کو بھی مستحکم رکھتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز: یہ مچھلی، اخروٹ اور فلیکس سیڈز (السی کے بیج) میں پائے جاتے ہیں جو دماغی سکون کے لیے بہترین ہیں۔

فولک ایسڈ اور بی بارہ: ان کی کمی سے اداسی اور تھکن بڑھ سکتی ہے، اس لیے ہری سبزیاں اور انڈے اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔

پانی کا وافر استعمال: ڈی ہائیڈریشن سے چڑچڑا پن اور سر درد ہو سکتا ہے، اس لیے دن بھر میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پیئیں۔

کیفین سے پرہیز: چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بے چینی اور نیند میں خلل کا باعث بنتا ہے۔

خاندان اور معاشرے کا کردار

پاکستانی معاشرے میں حاملہ خاتون کو بہت سی نصیحتیں کی جاتی ہیں، لیکن اکثر اس کی جذباتی ضرورتوں کو سمجھنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ شوہر کا کردار اس مرحلے پر سب سے اہم ہے۔ ایک چھوٹا سا جملہ جیسے "میں تمہارے ساتھ ہوں" یا گھر کے کاموں میں تھوڑی سی مدد، حاملہ خاتون کے ذہنی تناؤ کو آدھا کر سکتی ہے۔ گھر والوں کو چاہیے کہ وہ خاتون کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اسے ایک پرسکون اور خوشگوار ماحول فراہم کریں۔

آپ کی صحت، ہماری ترجیح
خواتین اکثر اپنی تکلیف کو ثانوی سمجھتی ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند بچے کی ضامن ہے۔ اگر آپ حمل کے دوران اداسی، بے چینی یا کسی بھی قسم کے ذہنی بوجھ کا شکار ہیں تو آپ کو پیشہ ورانہ مدد لینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

یاد رکھیں، حمل صرف نو ماہ کا صبر نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی شروعات ہے جس کا آغاز آپ کی اپنی صحت اور خوشی سے ہوتا ہے۔

🌸 I had ten follicles and ended up with four mature eggs. Ever wonder why? Understanding Oocyte Retrieval: A Journey Thr...
02/05/2026

🌸 I had ten follicles and ended up with four mature eggs. Ever wonder why?
Understanding Oocyte Retrieval: A Journey Through Follicles 🌸

I had ten follicles and ended up with four mature eggs. Ever wonder why? 🤔 Let's dive into the fascinating world of follicle-to-oocyte retrieval efficiency!

🔍 The relationship between antral follicles and retrieved oocytes varies greatly among individuals. Here’s a quick breakdown:

- **Baseline AFC to mature oocyte ratio:** Generally, expect about one mature oocyte for every four antral follicles. For example:
- 8-10 antral follicles → expect 2-3 mature oocytes
- 12-16 antral follicles → expect 3-5 mature oocytes
- 20-24 antral follicles → expect 5-7 mature oocytes

- **Stimulated follicle to oocyte ratio:** On trigger day, for follicles ≥16 mm, the retrieval rate is about 100-105%! However, for those ≥12 mm, it drops to around 60-80%.

Remember, every journey is unique!

🚨 CORD PROLAPSE — A TRUE OBSTETRIC EMERGENCYOne sudden drop in fetal heart rate after rupture of membranes… and you have...
02/05/2026

🚨 CORD PROLAPSE — A TRUE OBSTETRIC EMERGENCY

One sudden drop in fetal heart rate after rupture of membranes… and you have only minutes to act.

Cord prolapse occurs when the umbilical cord descends below the presenting part → leading to cord compression → fetal hypoxia → risk of stillbirth.

🔍 Types
• Overt — cord visible/palpable
• Occult — hidden, suspected with CTG changes
• Cord presentation — cord ahead with intact membranes

⚠️ High-Risk Situations
Malpresentation (breech/transverse), prematurity, polyhydramnios, multiple pregnancy, high unengaged head, ARM

🚨 Key Clinical Clue
👉 Sudden fetal bradycardia after ROM (MOST IMPORTANT SIGN)

⚡ Management = TIME-CRITICAL
• Call for help immediately
• Knee-chest / Trendelenburg position
• Manually elevate presenting part (life-saving step)
• Avoid handling cord
• Oxygen + IV fluids
• Tocolysis (e.g., terbutaline) if delay anticipated
• 👉 Emergency C-section (definitive)

❗ Complications
Fetal hypoxia, birth asphyxia, stillbirth

💡 Exam Pearl
“Bradycardia after ROM = Think Cord Prolapse”

---

⚠️ Disclaimer:
This content is for educational purposes only and is not a substitute for professional medical advice or clinical judgment. Always follow institutional protocols and consult senior specialists in emergencies.

📌 PLACENTAL ABRUPTION (ABRUPTIO PLACENTAE)Placental abruption is an obstetric emergency characterized by premature separ...
02/05/2026

📌 PLACENTAL ABRUPTION (ABRUPTIO PLACENTAE)

Placental abruption is an obstetric emergency characterized by premature separation of a normally implanted placenta after 20 weeks of gestation and before delivery. It can present as revealed, concealed, or mixed hemorrhage, with concealed abruption often being more dangerous due to underestimation of blood loss.

🔑 Classic triad:
• Painful vaginal bleeding
• Tender, rigid “board-like” uterus
• Fetal distress or absent fetal heart sounds

⚠️ Major risk factors:
Hypertension/preeclampsia (most common), trauma, previous abruption, smoking, co***ne use, multiparity, thrombophilia, and sudden uterine decompression.

🩺 High-yield complications:
Maternal — Hemorrhagic shock, DIC, PPH, Couvelaire uterus, AKI
Fetal — Hypoxia, prematurity, IUFD

💡 Exam pearl:
Painful antepartum hemorrhage + tense tender uterus = Think placental abruption
(Contrast with placenta previa → painless bleeding)

🚑 Management focuses on rapid maternal stabilization, correction of coagulopathy, fetal monitoring, and timely delivery when indicated.

Disclaimer:
This post is for educational purposes only and intended for medical learning and exam preparation. It should not replace professional clinical judgment, institutional protocols, or specialist consultation in patient management.

Partial molar pregnancy Ultrasound findings and how to report?
02/05/2026

Partial molar pregnancy

Ultrasound findings and how to report?

30/04/2026

تھلیسیمیا آگاہی ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے جس کا مقصد لوگوں میں اس سنگین جینیاتی بیماری کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ تھلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس میں مریض کے جسم میں خون کے سرخ خلیے صحیح طریقے سے نہیں بنتے، جس کی وجہ سے انہیں بار بار خون لگوانا پڑتا ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ شادی سے پہلے ٹیسٹ کروانا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دونوں افراد تھلیسیمیا کے کیریئر تو نہیں ہیں۔ اگر معاشرے میں آگاہی بڑھائی جائے اور لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو اس بیماری کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تھلیسیمیا کے مریضوں کی مدد کریں، ان کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں اور خون کے عطیات دے کر ان کی زندگی آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ بنانے کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔
اسی سلسلے میں 5 مئی کو تھلیسیمیا آگاہی واک کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور اس اہم پیغام کو گھر گھر تک پہنچانا ہے۔ اس واک میں مختلف سماجی تنظیمیں، طلبہ، اساتذہ اور شہری شرکت کریں گے۔ تمام افراد کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس آگاہی مہم کا حصہ بنیں اور اپنی موجودگی سے اس مقصد کو کامیاب بنائیں۔ واک کے دوران بینرز، پلے کارڈز اور آگاہی مواد کے ذریعے تھلیسیمیا سے بچاؤ اور اس کے علاج کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ آئیں ہم سب مل کر اس نیک مقصد میں حصہ ڈالیں اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔




Address

CHINIOT CITY TOWN
Chiniot
35400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ayesha Amjad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ayesha Amjad:

Share