10/04/2021
💠 *ہومیوپیتھی اور ہانیمن* 💠
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
*السلام عليكم*
ہومیوپیتھک لفظ دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے۔
ایک ہومیوس (Homoeos) جس کے معنی ہیں مساوی اور دوسرا پیتھوز (Pathos) یعنی مرض۔
علاج و ادویہ کا یہ طریقہ ایک جرمن ڈاکٹر سر سیموئیل کرسچن فریڈرک ہانیمن نے آج سے کم و بیش تقریباً 200 سال قبل شائع (پیش) کیا۔
یہ طریقہ علاج کہ "لوہے کو لوہا کاٹتا ہے" یعنی (Similia Similibus Curantur) کے قدرتی اصول پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر ہانیمن 10 اپریل 1755ع کو می سین کے مقام پر پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1779ع میں 24 سال کی عمر لیپ زک یونیورسٹی سے میڈیسن میں ڈاکٹریٹ کیا۔ وہ ایک نیک اور رحم دل شخص تھے اور اللّٰہ کی رحمت و عنایت پر انہیں پورا یقین تھا۔
ہانیمن کے عہد میں طریقہ علاج اکثر روکھا پھیکا تھا۔ جس میں *سیلان خون، دست اور پھپھولے* پیدا کرنے کے عمل شامل تھے۔ فریبی اور حیلہ ساز ڈاکٹروں کی وضع کردہ دقیانوسی ادویات کے فرضی اصول پر مبنی تھا۔ طریقہ علاج اور مریض دونوں کی اس قابل رحم حالت سے نجات پا کر انہوں نے اپنے پیشے کو ترک کر دیا۔ اور طبی کتب کا ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کر کے اپنی گزر اوقات کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس دوران 1790ع کے قریب انہوں نے کولین کی مٹیریا میڈیکا میں *سنکونا* (پیرو کے درخت کی چھال) کے متعلق یہ تشریح پڑھی کہ اس میں اس کے تیکھے پن کی وجہ سے ملیریا کے بخار کو شفاء کرنے کے عناصر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ہانیمن خود اس سے مطمئن نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے تجربے کے طور پر *سنکونا* کا ایک کاڑھا بنایا اور مسلسل وقفے پر اس کی خوراکیں لینا شروع کردیں ایک دو روز میں حیرت انگیز انداز سے اس میں ملیریا بخار کی تمام علامات ظاہر ہو گئیں یعنی سردی گرمی اور پسینہ۔ *سنکونا* اور دیگر ادویاتی عناصر کے ملتے جلتے اثرات کو اپنے کنبے کے افراد پر ظاہر کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دوا خود ایک صحت مند شخص میں مرضیاتی علامات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اس مریض کے علاج کے لئے اسی طرح کارگر ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ مرض کی علامات ان کے مطابق ہوں اسی کو انہوں نے اصول مساوات قرار دیا یعنی یہ علاج کہ "لوہے کو لوہا کاٹتا ہے" پر مبنی ہے۔ ہومیوپیتھی کے بنیادی اصولوں کی تشریح ان کی کتاب "آرگینن آف میڈیسن" میں کی گئی ہے۔
Homeopathic Dr.Atiq Ur Rehman Ghumman.