Dr. Sami Ullah Khan Saddozai

Dr. Sami Ullah Khan Saddozai Dr. Sami Ullah Khan Saddozai - (Children Specialist)
Assistant professor
Gomal medical college
children ward mufti mehmood teaching hospital

share if you like this message انگریزی کا ایک خوبصورت محاورہ ہے“Kids don’t do what you tell them to do, kids do what the...
22/05/2026

share if you like this message

انگریزی کا ایک خوبصورت محاورہ ہے

“Kids don’t do what you tell them to do, kids do what they see you do.”

بچے نصیحتوں سے کم اور ماحول سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
گھر کا لہجہ، والدین کا اندازِ گفتگو، ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ، صبر، محبت اور احترام ہی وہ چیزیں ہیں جو بچوں کی شخصیت کی بنیاد بنتی ہیں۔

اگر گھر میں سکون ہوگا تو بچے نرم مزاج بنیں گے۔
اگر گھر میں عزت ہوگی تو بچے باادب بنیں گے۔
اگر گھر میں سچائی ہوگی تو بچے ایمانداری سیکھیں گے۔

بچوں کو اچھا انسان بنانے کے لیے صرف انہیں سمجھانا کافی نہیں بلکہ ایسا ماحول دینا ضروری ہے جہاں اچھائیاں خود بخود ان کی عادت بن جائیں۔

کیونکہ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم کہتے ہیں بلکہ وہ بنتے ہیں جو وہ روز اپنے گھر میں دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر سمیع اللہ خان سدوزئی













سرائیکی کا ایک بہت گہرا محاورہ ہے“اگو دوڑ، پچھو چوڑ”یعنی انسان ساری زندگی بھاگتا رہتا ہے…کبھی رزق کی تلاش میں، کبھی دولت...
20/05/2026

سرائیکی کا ایک بہت گہرا محاورہ ہے
“اگو دوڑ، پچھو چوڑ”

یعنی انسان ساری زندگی بھاگتا رہتا ہے…
کبھی رزق کی تلاش میں، کبھی دولت کے پیچھے، کبھی سہولتوں کے پیچھے۔

مگر یہ دوڑ اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ انسان اپنے اصل خزانے کو ہی بھول بیٹھا ہے۔
خوشیاں اب موبائل کی اسکرین میں تلاش کی جاتی ہیں،
سکون مہنگی چیزوں میں ڈھونڈا جاتا ہے،
اور گھر کے اندر گھومتے، ہنستے، بولتے اپنے بچے وقت کی کمی کا شکار ہیں۔

بچہ مہنگے کھلونوں سے نہیں،
ماں باپ کے وقت سے خوش ہوتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کماتے کماتے، اُن کے بچپن سے ہی انہیں محروم کر دیتے ہیں۔

یاد رکھیں…
رزق دوبارہ مل سکتا ہے،
پیسہ واپس آ سکتا ہے،
مگر بچے کا گزرا ہوا بچپن کبھی واپس نہیں آتا۔

دو سال عمر اور صرف چھ کلو وزن…یہ بچی تین ماہ قبل انتہائی کمزور حالت میں میرے پاس لائی گئی۔ چہرہ مرجھایا ہوا تھا، جسم پر ...
18/05/2026

دو سال عمر اور صرف چھ کلو وزن…
یہ بچی تین ماہ قبل انتہائی کمزور حالت میں میرے پاس لائی گئی۔ چہرہ مرجھایا ہوا تھا، جسم پر گوشت نہ ہونے کے برابر تھا اور کولہوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں۔

تفصیلی معائنے اور ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ بچی سیلیک ڈیزیز یعنی گندم کی الرجی کا شکار ہے۔

تشخیص ہونے کے بعد مناسب ڈائٹ اور علاج شروع کیا گیا۔
صرف تین ماہ کے اندر بچی میں حیران کن بہتری آئی۔ وزن تقریباً دگنا ہو گیا، چہرے کی رونق واپس آ گئی اور بچی دوبارہ نارمل انداز میں کھیلنے کودنے لگی۔

یہ کیس ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ:
صحیح تشخیص ہی صحیح علاج کی بنیاد ہوتی ہے۔

بچوں میں کمزوری، وزن نہ بڑھنے یا بار بار بیماری کی صورت میں خود علاج اور ٹوٹکوں کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع ضرور کریں۔

نوٹ:
بچی کی تصاویر اور ویڈیوز والدین کی باقاعدہ اجازت سے صرف عوامی آگاہی کے مقصد کے لیے شیئر کی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹر سمیع اللہ خان سدوزئی
اسسٹنٹ پروفیسر ا مفتی محمود ٹیچنگ ہاسپٹل
جناح ون میڈیکل سینٹر ڈیرہ اسماعیل خان
رابطہ نمبر اصف 03330617007

17/05/2026

کچھ لوگ کہتے ہیں ڈاکٹر کو صرف سنجیدہ ہونا چاہیے

مگر کیا مسکرانا گانا یا اپنے شوق جینا انسان ہونے کا حق نہیں؟

اپ کی رائے میرے لیے قیمتی ہے

سو سو اور پانچ پانچ سو کی گڈیاں اور بچی کا معصوم دل ایک ننھی سی بچی، جو الحمدللہ اب مکمل ٹھیک ہو چکی تھی، ڈسچارج ہونے کی...
15/05/2026

سو سو اور پانچ پانچ سو کی گڈیاں اور بچی کا معصوم دل

ایک ننھی سی بچی، جو الحمدللہ اب مکمل ٹھیک ہو چکی تھی، ڈسچارج ہونے کی خوشی منا رہی تھی۔
گھر والے اور رشتہ دار آتے رہے، اور محبت سے اسے سو سو اور پانچ پانچ سو کے نوٹ دیتے رہے۔

وہ بڑی سنجیدگی سے سارے نوٹ اکٹھے کرتی رہی، پھر انہیں ربڑ لگا کر خوبصورت گڈیوں کی شکل دے دی۔
جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ جمع کر لیا ہو۔

پھر اچانک اس نے ان میں سے ایک گڈی میری طرف بڑھا دی…
اور اس کے چہرے پر ایسی معصوم محبت تھی کہ دل بھر آیا۔
اسے واقعی محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کوئی قیمتی چیز دے رہی ہے…
کیونکہ بچوں کے دل حساب نہیں کرتے، صرف محبت بانٹتے ہیں۔

مگر اس کی اصل خوشی نوٹوں میں نہیں تھی…
بلکہ اس بات میں تھی کہ اب وہ ہسپتال سے نکل کر اپنے گھر جا رہی تھی۔

سچ تو یہ ہے کہ بچے ہسپتالوں میں نہیں، گھروں میں اچھے لگتے ہیں…
ہنستے کھیلتے، شرارتیں کرتے، اور اپنی معصوم باتوں سے سب کے دل روشن کرتے ہوئے۔

اللہ تعالیٰ ہر بچے کو صحت و عافیت عطا فرمائے،
اور کسی ماں باپ کو اپنے بچے کی تکلیف نہ دکھائے۔
آمین۔

فیس بک پر ڈاکٹر تاج محمد صاحب کے بارے میں پوسٹ دیکھ کر بے حد افسوس ہوا۔پہلا دکھ اس بات کا ہوا کہ سوشل میڈیا کو اس حد تک ...
13/05/2026

فیس بک پر ڈاکٹر تاج محمد صاحب کے بارے میں پوسٹ دیکھ کر بے حد افسوس ہوا۔
پہلا دکھ اس بات کا ہوا کہ سوشل میڈیا کو اس حد تک بے لگام کر دیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی کی شخصیت پر بغیر تحقیق کچھ بھی لکھ دیتا ہے۔ اس پر چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ میں خود ڈاکٹر تاج محمد صاحب کے ساتھ کام کرتا ہوں اور فخر سے خود کو ان کا شاگرد کہتا ہوں۔ قابلیت شاید بہت لوگوں میں ہو، مگر مریض کے درد کو اپنا درد سمجھنے والے ڈاکٹر بہت کم ہوتے ہیں۔ وارڈ کا ہر ڈاکٹر، ہر نرس اور ہر سٹاف ممبر ان کی محنت، اخلاص اور انسان دوستی کا گواہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک اکیلے شخص کے لیے، جہاں سینکڑوں مریض لائن میں موجود ہوں، یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ہر مریض کو بھرپور وقت دے سکے یا ہر ایک کی توقعات کے مطابق اسے دیکھ سکے۔ جو لوگ مفتی محمود ہسپتال کے ماحول سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارا راؤنڈ اگر صبح 10 بجے شروع ہو تو اکثر دوپہر 2 بجے سے پہلے ختم نہیں ہوتا۔ مسلسل کام، تھکاوٹ اور شدید پریشر بھی اسی پیشے کا حصہ ہیں۔

اس سب کے باوجود ڈاکٹر تاج محمد صاحب اپنی پوری استطاعت کے ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ کسی مریض کے ساتھ کمی کوتاہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس پوسٹ کے نیچے بھی اکثریت نے ان کی شخصیت، اخلاق اور خدمت کے بارے میں اچھے الفاظ ہی لکھے۔

کسی ایک واقعے کی بنیاد پر ڈاکٹر تاج محمد صاحب جیسی مخلص شخصیت پر تنقید کرنا مجھے ہرگز مناسب نہیں لگا۔ میرے نزدیک وہ شعبۂ طب کا ایک خوبصورت چہرہ ہیں۔

ان کا ایک ادنیٰ سا شاگرد ہونے کی حیثیت سے، میں اپنے اس پیج کے ذریعے اس طرح کی پوسٹس اور اس طرزِ عمل کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں۔ باقی ہر معاملہ ہم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں، کیونکہ بہتر فیصلہ وہی ذات کرتی ہے۔

ایک باپ اپنی بچی کو چیک اپ کے لیے لایا۔بچی بار بار بیمار ہو جاتی تھی کیونکہ باہر کی چیزیں، چپس، ٹافیاں اور کولڈ ڈرنکس بہ...
11/05/2026

ایک باپ اپنی بچی کو چیک اپ کے لیے لایا۔
بچی بار بار بیمار ہو جاتی تھی کیونکہ باہر کی چیزیں، چپس، ٹافیاں اور کولڈ ڈرنکس بہت کھاتی تھی۔

میں نے سوچا معمول کی بات ہوگی…
مگر اچانک اس نے خاموشی سے ایک پرچی میرے ہاتھ میں تھما دی۔

اس پر لکھا تھا:

“ڈاکٹر صاحب! ذرا آپ سختی سے منع کر دیں… میں اسے ڈانٹ نہیں پاتا…”

یہ پڑھ کر چند لمحوں کے لیے میں خاموش ہو گیا۔

ایک باپ…
جو شاید پوری دنیا سے لڑ سکتا ہے
مگر اپنی بیٹی کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا۔

وہ چاہتا تھا بچی صحت مند بھی رہے
مگر اس کی ننھی سی خوشی بھی قائم رہے۔
اسے اپنی بیٹی کے چہرے کی اداسی سے خوف آتا تھا۔

کتنی خوبصورت ہوتی ہے یہ پدرانہ محبت…
باپ اکثر اظہار نہیں کرتے
مگر اپنی بچیوں کے لیے ان کے دل سمندر سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔

وہ بیٹیوں کو ہاتھوں سے نہیں…
دعاؤں، محبتوں اور دھڑکنوں سے سنبھالتے ہیں۔

اور پھر وقت آتا ہے جب یہی بیٹیاں رخصت ہو جاتی ہیں…
مگر باپ کے دل میں ان کے لیے فکر کبھی کم نہیں ہوتی۔

آج اس پرچی نے مجھے پھر یاد دلایا
کہ بیٹیاں واقعی باپ کے دل کا سب سے نرم حصہ ہوتی ہیں۔

باپ اور بیٹی کی محبت بہت خاص ہوتی ہے
آپ اپنی لاڈلی کے ساتھ محبت کا اظہار کس انداز میں کرتے ہیں؟

10/05/2026

واقعی سدا بادشاہت میرے سوہنڑے رب دی ہے

یہ ویڈیو میرے ایک سٹو ڈنٹ نے بنائی اور ایڈٹ کر کے مجھے بھیجی
مگر ویڈیو سے زیادہ اس کے بیک گراؤنڈ میں ڈائیلاگز میرے دل کو چھو گئے
اس لیے شیئر کر دی

بچہ پیدا ہوا تو گھر میں خاموشی چھا گئیکسی نے کہا پاؤں ٹیڑھے ہیں شاید کوئی سایہ ہےکسی نے کہا یہ جنات کی نشانی ہوتی ہےاور ...
09/05/2026

بچہ پیدا ہوا تو گھر میں خاموشی چھا گئی
کسی نے کہا پاؤں ٹیڑھے ہیں شاید کوئی سایہ ہے
کسی نے کہا یہ جنات کی نشانی ہوتی ہے
اور ماں باپ خوف اور پریشانی میں ڈوب گئے
لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے
یہ نہ کسی جنات کا سایہ ہے
نہ کسی گناہ کی سزا
نہ کوئی پراسرار چیز
یہ ایک پیدائشی مسئلہ ہے جسے میڈیکل زبان میں Clubfoot یا CTEV کہتے ہیں
اس میں بچے کے پاؤں پیدائش کے وقت اندر اور نیچے کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں کافی عام مسئلہ ہے
سب سے خوبصورت اور امید دینے والی بات یہ ہے کہ اگر اس کا علاج وقت پر شروع کر دیا جائے تو یہ مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے
جی ہاں
بالکل ٹھیک
زیادہ تر بچے علاج کے بعد نارمل بچوں کی طرح چلتے ہیں دوڑتے ہیں کھیلتے ہیں اور عام زندگی گزارتے ہیں
اس کے علاج میں مخصوص طریقے سے پاؤں سیدھے کیے جاتے ہیں
مختلف casts یا plasters لگائے جاتے ہیں جسے Ponseti casting کہتے ہیں
اور آہستہ آہستہ بچے کے پاؤں اپنی نارمل پوزیشن میں آ جاتے ہیں
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ ایسے بچوں کے بارے میں عجیب باتیں کرتے ہیں اور توہمات پھیلاتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ ایک قابل علاج medical condition ہے
اس لیے اگر کسی بچے کے پاؤں پیدائش کے وقت ٹیڑھے ہوں تو ڈرنے یا چھپانے کے بجائے جلد از جلد Pediatric Orthopedic specialist سے رجوع کریں
بروقت علاج ایک بچے کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔

✨ صحیح معلومات — بروقت علاج — بہتر مستقبل





08/05/2026

بعض لوگ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس بتانے اور دکھانے کو پیسے اور دولت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا
A thought to ponder

اس نومولود کی ناف کو دیکھیںیہ ہے شاخسانہ ہر صورت دادی، نانی یا ساس کی طرف سے نارمل ڈلیوری کروانے کے اصرار کا۔دورِ حاضر م...
04/05/2026

اس نومولود کی ناف کو دیکھیں
یہ ہے شاخسانہ ہر صورت دادی، نانی یا ساس کی طرف سے نارمل ڈلیوری کروانے کے اصرار کا۔
دورِ حاضر میں سی سیکشنز پر بہت تنقید کی جاتی ہے، مگر جب ہم نرسری میں ایسے نومولود کو ریسیو کرتے ہیں جو رحمِ مادر میں شدید اسٹریس کے دوران پیشاب بھی کر دیتا ہے، اور جس کی حالت ہی نازک ہو رہی ہوتی ہے، تو دل میں یہی سوال اٹھتا ہے کہ بروقت سی سیکشن کیوں نہیں کیا گیا؟

ایسے بچے اکثر
Meconium Aspiration Syndrome
جیسے خطرناک حالات کے قریب ہوتے ہیں، جہاں زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اکثر یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ “ہمارے زمانے میں تو سب نارمل ہی پیدا ہوتے تھے”، مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آج کل کے کیسز میں رسک فیکٹرز، فٹیل اسٹریس اور مانیٹرنگ کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
اسی لیے جب ڈاکٹرز (گائ ناکالوجسٹ )کسی بھی خطرے کو محسوس کرتے ہیں تو وہ بروقت سی سیکشن کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ جلد بازی نہیں بلکہ ماں اور بچے دونوں کی حفاظت کے لیے ایک ذمہ دارانہ قدم ہوتا ہے۔
اس پوسٹ کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ بڑھتے ہوئے سی سیکشنز کی ایک اہم وجہ ماں اور بچے کو پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
یاد رکھیں:
ضد نارمل ڈلیوری پر نہیں، بلکہ محفوظ ماں اور صحت مند بچے پر ہونی چاہیے۔

اگاہی کے لیے اس پوسٹ کو شیئر کریں
ڈاکٹر سمیع اللہ خان سدوزئی

Address

Jinnah 1 Medical Centre Near Hayat Medical Complex Dera Ismail Khan
Dera Ismail Khan
29050

Telephone

+923330617007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Sami Ullah Khan Saddozai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Sami Ullah Khan Saddozai:

Share