City Medicine & Health Care

City Medicine & Health Care Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from City Medicine & Health Care, Medical and health, City Medicine & Health Care Clinic Near Qurtuba Univ, Dera Ismail Khan.

Share it plz.
13/12/2020

Share it plz.

09/07/2020

پانی پینے کے بہانے پورے سکول میں گھوم کر آنا
😅
یہ کون کون کرتا تھا😂😜😂
Mine ✋

قرنطیہ(Quarantine) مسلمان سائنسدان کی ایجاد اور مسلمان سائنسدانوں کے دیگر کارنامے:آج کے دور میں کورونا کے مریضوں کی علیح...
04/07/2020

قرنطیہ(Quarantine) مسلمان سائنسدان کی ایجاد اور مسلمان سائنسدانوں کے دیگر کارنامے:

آج کے دور میں کورونا کے مریضوں کی علیحدگی(Isolation) اور قرنطیہ(Quarantine) جیسی اصطلاحات کو ہم لوگ روزانہ کی بنیاد پر سن رہے ہیں. اگر تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو سب سے پہلے یہ کام مسلمان ماہرِ طب اور سائنسدان "ابنِ سینا" نے کیا.

ابنِ سینا کو "بو علی سینا" بھی کہا جاتا ہے. آپ انگریزی زبان میں "Avicenna" کے نام سے بھی مشہور ہیں. آپ نے طب پر بے شمار کتب لکھی ہیں.

ابن سینا نے گیارویں صدی میں ایک پھیلنے والی بیماری سے بچنے کے لئے ایک طریقہ نامزد کیا۔ انہوں نے اس میں 40 دن کے لیئے سماجی فاصلے (Social Distance) کو فروغ دیا. جس میں چالیس دن کے لیئے لوگ محدود اور مریض علیحدہ کیئے گئے.

اس طریقہ کو ابنِ سینا نے "العربینیہ" (چالیسواں) کہا ، ابتدائی وینیشیا کی زبان میں اس کا ترجمہ "Quarantine" کیا گیا.

"جذام" کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام مسلمان ممالک کے اسپتالوں میں قرنطیہ ایک لازمی عمل تھا، یہ ایک متعدی بیماری ہے جو جلد کے زخموں کو بدنما کرنے کا سبب بنتی ہے۔

بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے قرنطین کے استعمال کے لئے پہلے دلائل ابن سینا کی کتاب "قانون فی الطب" (Canon of Medicine) میں شائع ہوئے، جس میں ایک پانچ جلدوں کا طبی انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا گیا تھا.

چودہویں اور پندرھویں صدیوں میں "کالی موت طاعون" (Black Death Plauge) کے دوران اور اس کے بعد، خاص طور پر وینس کے مقامات میں اور یورپ میں قرنطیہ کا رواج عام ہوگیا۔ اصطلاح "قرنطینا" نے چالیس دن کی مدت متعین کی تھی کہ مسافروں اور عملے کے ساحل جانے سے پہلے ہی تمام جہازوں کو الگ تھلگ کیا جاتا تھا.

اسلامی دنیا میں صابن کا استعمال:

عالمی سطح پر COVID-19 پھیلنے کے آغاز سے ہی صابن کو ایک نجات دہندہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور ماہرینِ صحت اینٹی بیکٹیریل صابن سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں.

اگرچہ 2800 قبل مسیح میں صابن جیسے مادے کے استعمال کی موجودگی کے ثبوت موجود ہیں، لیکن باتھ روم کے صابن کی ٹکیا جو آج ہم جانتے ہیں کہ پہلی بار دسویں صدی عیسوی کے دوران مشرقِ وسطی میں تیار کیا گیا تھا، ہمارے عروج کے ابتدائی ایام, جس کو عام طور پر اسلامی دنیا کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔

مسلمان معالج، کیمیا دان ، اور فلاسفر "ابوب

Heart failure.. very important
04/07/2020

Heart failure.. very important

ڈیرہ اسماعیل خان  انگریز محققین کی نظر میں میجر ہربرٹ ایڈورڈز اپنی کتاب A  year  on  the   frontier  Punjab 1848-49  میں...
25/06/2020

ڈیرہ اسماعیل خان انگریز محققین کی نظر میں
میجر ہربرٹ ایڈورڈز اپنی کتاب A year on the frontier Punjab 1848-49 میں ڈیرہ کے متعلق لکھتے ہیں:
”میں اپنی کتاب کے اِس باب میں آگ، دھوئیں اور توپ خانوں کا ذکر کرنے کی بجائے اپنے قارئین کو ڈیرہ اسماعیل خان کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کروں گا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ ڈیرہ جات کا صدر مقام ہے۔ میں نے پہلے اس شہر کو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن جب 1847ء کو مجھے اسے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو یہ معقول آبادی کا شہر لگا۔ دریائے سندھ کے مغربی دائیں کنارے پر واقع یہ شہر ڈیرہ فتح خان کے شمال میں پچاس میل دور، ٹانک کے جنوب مشرق میں چھیالیس میل اور لکی مروت کے جنوب میں ستر میل کی دوری پر واقع ہے۔ قارئین کیلئے یہ بات زیادہ حیران کن نہیں کہ دریائے سندھ کا پاٹ (ڈیرہ سے بھکر تک) تقریباً پندرہ میل چوڑا ہے اور یہاں پر دریا کی تین شاخیں ہوجاتی ہیں۔ڈیرہ سے بھکر تک کشتیوں کے ذریعے تین دنوں میں پہنچا جاتا ہے۔مئی کے مہینے میں جب مجھے دریا کو پار کرنے کا موقع ملا تو اس کی تین شاخیں دیکھنے کو ملیں۔مشرقی اور مغربی طرف کی دو چھوٹی شاخیں اور بیچ میں سمندر جیسی لمبی شاخ۔
درہ گومل کے پار یہ شہرموسم سرما میں پاوندہ سوداگروں کیلئے بہت بڑی چراگاہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ کابل و پنجاب کے درمیان اسے ایک اہم تجارتی مرکز مانا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ ڈیرہ مناسب آبادی کا شہر ہے۔اس کی زیادہ تر عمارتیں کچی اینٹوں کی بنی ہوئی ہیں، جس کے اردگرد مٹی کی تقریباً دس فٹ اونچی شہر پناہ ہے۔شہر کی گلیاں دوسرے شہروں کی نسبت کافی چوڑی اور کشادہ ہیں۔ گھروں کے اندر درخت لگانے کا رواج عام ہے۔ شہر میں رونق صرف سردیوں کے دوران ہوتی ہے جب پاوندہ تاجریہاں سے گزر کر ہندوستان کا رخ کرتے ہیں۔ اس شہر کو اپنی آبادی کے لحاظ سے کافی بڑا بنایا گیا ہے، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سردیوں میں آنے والے تجارتی قافلوں کیلئے شہر میں قیام کیلئے آسانی ہو۔ میں جب مئی 1847 ء کے موسم گرما میں یہاں آیا تو اس وقت یہ شہر کم آبادی کے باعث مجھے ویران ویران سا لگا۔
شہر ِپناہ کے مشرق میں دو بارہ دریاں بنائی گئی ہیں۔ ایک بارہ دری نواب ڈیرہ اور دوسری نونہال سنگھ نے بنوائی تھی، جہاں پر موسم گرما کے دنوں میں حکمران قیام کیا کرتے تھے،مگرجنرل کارٹ لینڈ نے ان بارہ دریوں کو گورنر ہاؤس اور سرکاری رہائشی گاہوں میں تبدیل کر دیا۔برطانوی حکومت کی طرف سے محصول کی تجدید سے پہلے تک یہاں کے تاجروں سے سالانہ ایک لاکھ تیس ہزار روپے سالانہ محصول وصول کیا جاتا تھا۔
ڈیرہ کا معزول نواب شیر محمد خان ڈیرہ میں ہی رہتا ہے اور اسے برطانوی حکومت کی طرف سے سالانہ ساٹھ ہزار روپے پنشن کی مد میں اد اکئے جاتے ہیں۔نوب شیر خان اپنی صحت کے بارے میں کافی فکرمند رہتا ہے،وہ تاؤ کا دائمی مریض ہے جو سردیوں میں اپنے ملازموں سے پنکھے چلواتاہے، جبکہ گرمیوں میں کمر تک گہرے تالاب میں ڈوبا رہتا ہے۔
شہر سے چوتھائی میل کی دوری پر شمال مشرق کی جانب قلعہ اکال گڑھ واقع ہے جسے نونہال سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔مربع شکل کا یہ قلعہ پکی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا جس کے اردگرد مٹی کا پشتہ ہے مگر گہری کھائی نہیں ہے۔زمانہ امن میں یہ قلعہ جیل خانے کا کام دیتا ہے اور جنگ میں حفاظت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں باقاعدہ فوج اور ہتھیار نہیں رکھے جاتے۔
ڈیرہ اسماعیل خان ایک صحت افزا مقام ہے اور چھاونی کیلئے مناسب جگہ ہے۔ ا س کے اطراف دامان اور ڈیرہ جات میں کھیتی باڑی کا انحصار زیادہ تک بارشوں پر ہے، اسی لئے کہیں پر زمین سے کافی زیادہ فصل اگتی ہے اور کہیں پر دور دور تک بنجر زمین پھیلی ہوئی ہے۔ اب چونکہ پبجاب برٹش حلومت کے زیر کنٹرول ہے اسی لئے مجھے یقین ہے کہ یہاں کے زمینداروں میں نہری آب پاسی کا نظام متعارف کروایا جائے گا جس طرح ڈیرہ غازی خان میں متعارف کروایا گیا ہے۔ہپاڑ پور کے قریب دریا کے پرانے راستوں کے نشانات ابھی بھی باقی ہیں اور ان آبی راستوں کو تھوڑے سے خرچے پر نہری راستوں میں تبدیل کرکے یہاں کے لوگوں کی قسمت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کا موجودہ لینڈ ریونیو (زمینوں کی مد میں لگائے گئے ٹیکسوں سے حاصل شدہ آمدنی) تِرنی، چراہ گاہ ٹیکس اور کاروباری افراد سے حاصل شدہ آمدنی تقریبا ایک لاکھ روپے سالانہ ہے“۔

جب مسٹر الفنسٹوں نے 1808ء میں اس شہر کا دورہ کیا تو اُس نے اپنی کتاب: ”اِنٹروڈکشن ٹو الفنسٹونز کابل“ صفحہ39 میں لکھاکہ: ”ڈیرہ اسماعیل خان دریا ئے سندھ سے چند سو گز کے فاصلے پر کجھوروں کے ایک بہت بڑے جُھنڈ میں آباد ہے۔ اس شہر کے گرد کچی اینٹوں کی ایک شکستہ حال فصیل بھی دکھائی دیتی ہے۔ شہر کی زیادہ تر مقامی آبادی بلوچوں پر مشتمل ہے جبکہ کچھ ہندو اور افغانی بھی یہاں بستے ہیں۔ شہر کے اندر ہندوؤں کا ایک قدیم مندر بھی موجود ہے۔ڈیرہ شہر کے باہر دریا کے کناروں پر سرکنڈوں اور جنگلی گھاس کی بہتات نظر آتی ہے،جہاں پر نایاب نسل کے پاڑہ ہرن، کا لے تیتر، جنگلی سور اور تیندوے بکثر ت د کھائی دیتے ہیں۔ شہر ڈیرہ کے ارد گرد پانی کی بہتات کی وجہ سے اکثریتی آبادی کا زریعہ معاش کھیتی باڑی ہے،جبکہ یہاں پر کئی نسل کے کجھوروں کے درختوں کی بھی بہتات نظر آتی ہے“۔

انگریز محقق چارلس میسن 1826ء کے موسم خزاں میں اپنی یاداشت قلم بند کرتے ہوئے اس شہر کے متعلق لکھتے ہیں۔
”کچھ سال ہوئے کہ دریائے سندھ اس بد نصیب شہر پر چڑھ دوڑا اور سیلابی ریلے نے ہنستے بستے شہر کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ تباہی کا یہ عالم تھا کہ وسیع و عریض رقبے پر پھیلے اس شہر کا نام و نشان تک باقی نہ بچا اور کوئی ایسی نشانی باقی نہ رہی جس سے پرانے شہر ڈیرہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی۔ پرانے شہر کے گرد پھیلے کجھوروں کے لا تعداد باغات میں سے صرف تین چار درخت ہی باقی بچ پائے ہیں جو اپنے ارد گرد پھیلی تباہی کے درمیان نہایت ہی استقامت کے ساتھ سینہ تانے کھڑے دکھائی دیتے ہیں“
1837ء میں برطانوی سفیر سر الیگزینڈر برنز Alexander Burnes جب یہاں سے گزرا تو ا س نے اپنی کتابBurn's Kabul صفحہ92 پر لکھا۔ ”نیا شہر ڈیرہ اسماعیل خان دریائے سندھ کے مغربی کنارے سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔پرانا شہر بارہ سال پہلے دریابرد ہو گیا تھا۔ پرانے شہر کی دریا بردی کے بعد نیا شہر باقاعدہ ترتیب اور منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی گلیاں کافی ہوادار اور بازار نہایت ہی کشادہ ہیں، شہر ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔اس شہر کے زیادہ تر گھر سورج کی تپش پر پکائی گئی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں۔ جوشہر میں نے دیکھا ہے وہ کافی صاف ستھرا، کشادہ اور خوبصورت توہے مگر کم آبادی کے باعث یہ تقر یباً بے رونق سا نظر آتا ہے۔ مقامی آبادی کا کہناہے کہ جب سردیوں میں افغانستان سے خراسانی پوندے اس شہر کے تاریخی تجارتی راستے سے گزرتے ہیں توشہر بھر میں رونق ہوجاتی ہے۔ ڈیرہ شہر میں پوندہ تاجروں کیلئے ایک سرائے بھی بنائی گئی ہے جہاں پر وہ قیام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا مال بھی فروخت کرتے ہیں،جس کے باعث موسم سرما میں یہاں ہر قسم کا کابلی میوہ اور خراسانی گھی عام دستیاب ہوتا ہے۔ اس وقت شہر کے بازار میں پانچ سو آٹھ تجارتی دکانیں ہیں“۔

Be awear its serious dont take it easy
30/01/2020

Be awear its serious dont take it easy

19/01/2020

دل کی بات !
امریکہ جیسے ملک میں جہاں FDA کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت فعال ہے، وہاں سالانہ تقریباً سات لاکھ اسٹینٹس دل کو خون لے جانے والی نالیوں میں ڈال دئیے جاتے ہیں اور پھر وہیں کے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ان میں سے دو تہائی اسٹینٹس کا ڈالنا غیر ضروری تھا۔
امریکہ جیسے ملک میں جہاں FDA اتنی متحرک ہے وہیں اگست 2013 میں امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دل کی نالی میں غیر ضروری اسٹینٹ ڈال دیا گیا تو کلیولینڈ کلینک ، اوھائیو کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسر سٹیون نسسان نے کہا کہ آج امریکہ میں شعبہ طب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔
اگر امریکہ میں اسٹینٹ بنانیوالی کمپنیاں اتنی طاقتور ہیں تو ترقی پذیر ممالک میں ان کا کتنا اثر و رسوخ ہو گا اس پر کمینٹس دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
دنیا میں جو بھی ایجاد ہوتی ہے وہ انسان کےفائدےکے لئے ہوتی ہےلیکن اس کا غیر ضروری استعمال انسان کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔ لاھور ۔ پاکستان

17/01/2020
17/01/2020
"A POISON IN A SAFE HAND BECOME MEDICINE & A MEDICINE IN AN UNSAFE HAND BECOME POISON". .
25/09/2019

"A POISON IN A SAFE HAND BECOME MEDICINE & A MEDICINE IN AN UNSAFE HAND BECOME POISON".
.

A bad pain SCIATICA (Sciatic) Nerve Compression Pain.In the case of longstanding history of sciatica, the pain may gradu...
16/09/2019

A bad pain SCIATICA (Sciatic) Nerve Compression Pain.

In the case of longstanding history of sciatica, the pain may gradually become localized to the buttocks and back of the leg. In this situation, the patient may have a vague aching pain that does not reach all the way to the lower leg or foot, though it may have done so earlier in the course of the disease

If you suddenly start feeling pain in your lower back or hip that radiates to the back of your thigh and into your leg, you may have a protruding (herniated) disk in your spinal column that is pressing on the roots of the sciatic nerve. This condition is known as sciatica.
•Sciatic nerve happens to be the longest nerve in our body. It starts from our spinal cord in the lower back and passes down through the hip into the back area of the lower leg When we say ‘Sciatica’ we refer to the pain in this sciatic nerve. As this nerve passes down through the pelvis, hip and to the backside of the lower leg, the sciatica pain whenever it occurs, is felt in the areas through which it passes. This nerve controls many muscles of the lower leg and also controls the sensation of thigh, leg and feet.
Pain that travels from the lower back or from the hip through the back part of the thigh to the lower part of the leg or to the foot is usually very indicative of sciatica.
Sciatica pain can range from a simple dull ache to severe electric like shocks. The pain can at times be so severe that the patient may hardly be able to move out of bed. Usually patients complain of pain while walking or standing but at times reverse of this happens, the pain is worse while lying down in a normal sleeping or lying posture and patient has no other option other than to stand or walk or lie in certain uncomfortable posture
Patients with sciatica may suffer from additional symptoms such as numbness and weakness along the course of nerve, tingling and pins and needles feeling (mostly in the foot or toes) and loss of bladder and bowel control ( this an emergency medical condition).
Sciatica is not a disease in itself but a symptom of the sciatic nerve being irritated or compressed (‘pinched’ as one may call it in a layman?s language) along its course. The most common place for this to occur is the lower part of the spine where the nerve roots of the sciatic nerve are compressed by a pr*****ed (slipped) disc. Pinching of the nerve due to a Disc prolapse is the most common cause. Other medical conditions including trauma to the spine, spinal tumors, and spondylolisthesis (slipping of one vertebra over the other) and lumbar vertebral canal stenosis can cause sciatica
Dr.Saif
CITY MEDICINES & HEALTH CARE
GRID ROAD D.I.K

Address

City Medicine & Health Care Clinic Near Qurtuba Univ
Dera Ismail Khan
29050

Telephone

+923459870403

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when City Medicine & Health Care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram