21/02/2026
افطار کے فوراً بعد سستی کیوں؟ وہ حقیقت جو اکثر لوگ نہیں جانتے۔.....
رمضان میں اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ جیسے ہی افطار کرتے ہیں، جسم پر سستی طاری ہو جاتی ہے، آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں اور کسی کام کا دل نہیں کرتا۔ عام طور پر اس کی وجہ زیادہ کھانا سمجھ لی جاتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ سائنسی اور گہری ہے۔
پورا دن روزہ رکھنے کے بعد جسم کا میٹابولزم ایک خاص توازن میں ہوتا ہے۔ بلڈ شوگر لیول نسبتاً کم مگر مستحکم ہوتا ہے اور انسولین کی مقدار بھی کم رہتی ہے۔ جیسے ہی افطار میں کھجور، شربت، فروٹ چاٹ، سفید آٹے کی اشیاء یا میٹھے مشروبات استعمال کیے جاتے ہیں تو خون میں گلوکوز کی مقدار تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس اضافے کے جواب میں لبلبہ بڑی مقدار میں انسولین خارج کرتا ہے۔ یہ انسولین خون میں موجود شوگر کو خلیوں میں منتقل کرتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ عمل تیزی سے ہوتا ہے جس سے شوگر لیول اچانک نیچے آ سکتا ہے۔ اس کیفیت کو ری ایکٹو ہائپوگلائسیمیا کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کمزوری، چکر اور نیند جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ بہت سی ریسرچز سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ گلیسیمک انڈیکس والی غذا کے بعد غنودگی کا احساس نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
دوسری اہم وجہ ہاضمے کے دوران خون کی تقسیم میں تبدیلی ہے۔ جب ہم افطار میں زیادہ مقدار یا زیادہ چکنائی والی غذا کھاتے ہیں تو جسم ہاضمے کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے معدے اور آنتوں کی طرف زیادہ خون بھیجتا ہے۔ اس عمل کو پوسٹ پرانڈیئل ہائپریمیا کہا جاتا ہے۔ نتیجتاً دماغ کی طرف خون کی روانی نسبتاً کم ہو سکتی ہے، جس سے ذہنی چستی کم اور نیند کا احساس زیادہ ہو جاتا ہے۔
تیسرا عنصر ہارمونل تبدیلیاں ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال سے سیروٹونن کی تیاری بڑھتی ہے، جو سکون اور ریلیکس ہونے کا احساس دیتا ہے۔ بعد ازاں یہی سیروٹونن میلاٹونن میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو نیند کو منظم کرنے والا ہارمون ہے۔ اسی طرح ٹرپٹوفین نامی امینو ایسڈ کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ مل کر دماغ میں زیادہ آسانی سے داخل ہوتا ہے اور سیروٹونن کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ میٹھی یا کارب سے بھرپور افطار کے بعد غنودگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
چوتھی اہم وجہ پانی کی کمی ہے۔ روزے کے دوران ہلکی ڈی ہائیڈریشن ہو سکتی ہے، جو خود بھی تھکن، سر درد اور کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ اگر افطار میں پانی کی مناسب مقدار نہ لی جائے اور اس کی جگہ میٹھے مشروبات پیے جائیں تو سستی مزید بڑھ سکتی ہے۔
پانچواں پہلو سرکیڈین ردھم یعنی جسمانی گھڑی کا بگڑنا ہے۔ رمضان میں سونے اور جاگنے کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ سحری کے لیے جلدی اٹھنا اور رات دیر تک جاگنا نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔ نیند کی کمی کارٹیسول اور انسولین حساسیت پر اثر انداز ہوتی ہے، جس سے جسم افطار کے بعد زیادہ تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔
یوں افطار کے فوراً بعد سستی صرف زیادہ کھانے کا نتیجہ نہیں بلکہ انسولین کے اتار چڑھاؤ، ہارمونل تبدیلیوں، خون کی تقسیم، ڈی ہائیڈریشن اور نیند کی کمی کا مجموعی اثر ہوتی ہے۔ اگر افطار متوازن ہو، پہلے پانی لیا جائے، کھجور محدود مقدار میں کھائی جائے، پروٹین اور فائبر شامل کیے جائیں اور میٹھے مشروبات سے پرہیز کیا جائے تو اس سستی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
رمضان جسم کو نظم و ضبط سکھانے کا مہینہ ہے۔ اگر افطار سائنسی اصولوں کے مطابق کی جائے تو نہ صرف سستی کم ہو گی بلکہ توانائی، ہارمون بیلنس اور وزن میں بہتری بھی ممکن ہو گی۔
Heal through meals with
Faiz Health care Center