Dr Hafiz Usman-Child specialist

Dr Hafiz Usman-Child specialist Dr by profession and Muslim by Faith

1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ س...
25/09/2025

1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ سے روک لیا گیا،
لیکن چارلٹن ٹیم کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے سامنے موجود رہے کیونکہ اُس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہُجوم ‏کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی، وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کر کے گول پوسٹ پر کھڑا رہا، غور سے آگے دیکھتا رہا اور پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اُس کے پاس پہنچا اور اُسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے تو سیمے بارٹرم نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،

‏”کتنے افسوس کی بات ہے کہ جِن کے دفاع کے لیئے میں کھڑا ہوا تھا وہ مُجھے ہی بُھول گئے 😰“

‏زندگی کے میدان میں کتنے ہی ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کیلیئے ہم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دُھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں،

‏رشتے دار، دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ایک اعلٰی ظرف انسان کی طرح ہمیشہ اُنہیں یاد رکھ کر ساتھ لے کر چلنا چاہیئے

16/09/2025
جسم میں پانی کی کمی کے نقصاناتانسان کا جسم بھی 70 فیصد پانی کا پر مشتمل ہے اس کے علاوہ دماغ 73 فیصد، پھیپھڑے 83 فیصد، جل...
10/09/2025

جسم میں پانی کی کمی کے نقصانات

انسان کا جسم بھی 70 فیصد پانی کا پر مشتمل ہے اس کے علاوہ دماغ 73 فیصد، پھیپھڑے 83 فیصد، جلد 64 فیصد، پٹھے اور ہڈیاں 31 فیصد بھی پانی پر مشتمل ہیں۔
پانی کی کمی کی وجہ سے بیماریاں پیدا ہوں تو اس کے ساتھ انسانی جسم بھی بگڑنے لگتا ہے اور سب سے پہلے ڈی ہائڈریشن کی کمی ہوتی ہے، اس کے سات مزید اور بھی بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں، جیسے کہ گردوں اور معدے کی بیماریاں بہت عام ہیں۔

پانی کی مقدار جسم میں صحیح طرح سے نہ پہنچنے سے گردوں میں پتھر جیسی شکایات جنم ہونے لگتی ہیں۔ گردوں کی روزانہ کی بنیاد پرصفائی ہونا بے حد ضروری ہے، ایسا نہ کرنے پر گردوں کے کینسر تک ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

۔1 ڈی ہائیڈریشن
پانی کی کمی کی وجہ سے جسم میں ڈی ہائیڈریشن ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جسم کے سب سے خاص آرگنز گردے اور مثانے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے یو ٹی آئی جسے یورینری ٹریک انفیکشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کے خطرے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

۔2 قبض کی شکایت ہو سکتی ہے
قبض بے شمار بیماریوں کی جڑ ہے، قبض کی شکایت کی بڑی وجہ پانی ہی کی کمی ہے۔ دن میں اتنا پانی لازمی لیں جتنی ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہے لیکن اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہمارے جسم کا پسینہ پانی کی شکل میں بہ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہماری آنتوں اور معدے کو پانی کی مناسب مقدار مل نہیں پاتی اور اسی طرح سے ہمیں قبض جیسے گندی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

۔3 ہائپرٹینشن کی شکایت ہو سکتی ہے
پانی کی کمی کی وجہ سے اعصابی تناؤ سمیت ہائپرٹینشن کی شکایت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ پانی کی کمی کے سبب انسانی جسم ویسوپریسن نامی ایک ہارمون خارج کرتا ہے جی کی وجہ سے خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہائپرٹینشن کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
یہ ایک خطرناک بیماری ہے جس کے نتیجے میں فالج، دل کا دورہ پڑنے سمیت آنتوں میں سوجن کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ہائپرٹینشن سے ڈیمینیشیا نامی بیماری کے خطرات بھی ساتھ میں بڑھ جاتے ہیں۔

۔4 جوڑوں میں درد کی شکایت
پانی کی کمی کہ وجہ سے جوڑوں میں درد کی شکایت عمر سے پہلے ہی ہونے لگتی ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ جوڑوں کے درد میں اضافہ ہونے ہوجاتا ہے۔
پانی کی کمی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں موجود کارٹیلیج یعنی کہ مرمری موئسچیرائزر جو ہمارے جسم میں موجود ہوتا ہے پانی کی کمی اسے آہستہ آہستہ ختم کرنے لگتی ہے، اس لیے پانی کا استعمال دن میں تقریبا 8 سے 12 گلاس لازمی کرنا چاہیے تا کہ جسم میں موجود ہڈیوں کو پانی کی صحیح مقدار مل سکے اور ہڈیاں کمزور ہونے سے بچ سکیں۔

۔5 دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے
پانی کی کم مقدار کے سبب انسانی دماغی صلاحیتیں کم ہونے لگتی ہیں۔ ڈی ہائیدریشن کے سبب انسانی جسم میں الیکٹرولائیٹس، پوٹاشیم اور سوڈیم کی مقدار غیر متوازن ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
اپنی روزمرہ کی زندگی میں پانی کی مقدار کم کرنے کے نتیجے میں آپ کے سر میں درد ہونے لگتا ہے، ہر وقت جسم پر ایک ایک غنودی سی طاری رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ڈاکٹر ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ جب سر درد ہو تو پانی پئیں اور اگر سر درد کی دوا کھا رہے ہوں تو اس دوا کو لینے سے پہلے بھی پانی لیں جس سے سر درد کم ہونے لگے گا۔

۔6 پانی کی کمی پیشاب کی کمی کا باعث ہو سکتی ہے
جسم میں پانی کی کمی کے باعث نہ صرف پیشاب کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے بلکہ پیشاب کا رنگ بھی گہرا پیلا ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ایک شخص کو دن بھر میں چھ سے سات مرتبہ پیشاب کی حاجت محسوس ہو جاتی ہے مگر پانی میں کمی اس معمول میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، کیوں کہ پانی کی کمی کے سبب گردے میں موجود فضلے کی پیشاب میں ملاوٹ ہو جاتی ہے۔

۔7 پانی کی کمی معدے میں جلن کر سکتی ہے
پانی کی کمی کی وجہ سے سینے یا معدے میں جلن کی شکایت بھی ہو سکتی ہے اور معدے میں چھوٹی آنت میں ذخم کے ساتھ ساتھ جگر اور لبلبہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس حالت سے دور رہنے اور مزید پچیدگیوں سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بے حد ضروری ہے۔

۔8 زیادہ پیاس کا لگنا بھی پانی کی کمی ہے
زیادہ پیاس کا لگنا بھی جسم میں پانی کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اکژ افراد میں پانی کی کمی کی وجہ سے منہ خشک ہو جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق منہ زیادہ تر خشک رہنے کے باعث منہ میں موجود بیکٹریا بدبودار ہو جاتے ہیں جو سانس میں بدبو کا باعث بنتے ہیں۔
پانی کی کمی سے سانس میں بو کی وجہ تھوک میں موجود اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہوتی ہیں اور جب پانی میں کمی کے باعث منہ میں تھوک یا لعاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بیکٹیریا پھیلنے لگتے ہیں اور سانس میں بدبو کا باعث بنتے ہیں۔

۔9 پانی کی کمی اور جگر کی شکایت
انسانی جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے جگر کی شکایت ہو سکتی ہے کیوں کہ جگر جسے اپنے افعال کو جاری رکھنے کے لیے پانی کی مناسب مقدار کی ضرورت ہوتی ہے وہ دماغ کو کھانے کی ضرورت کے پیغامات ارسال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان ایسی خوراک وقت بروقت لیتا رہتا ہے جس سے وہ موٹاپے اور مختلف جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

۔10 پانی کی کمی کی وجہ سے پسینہ خارج ہوتا ہے
جو لوگ پانی کا استعمال کم کرتے ہیں ان کے جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے گرمی کے موسم میں پسینے کا اخراج رک جاتا ہے جو ایک پچیدہ صورتحال ہوتی ہے۔ پانی جسم میں پسینہ خارج کر کے جسم کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتا ہے۔

مگر جسم میں پانی کی کمی کے باعث پسینہ جسم کے خارج ہی نہیں ہو پاتا جس کے باعث جسم کو ٹھنڈا کرنے والا عمل بھی درست طریقے سے انجام نہیں ہو پاتا اور وہ حرارت جسم میں بند ہو کر درجہ حرارت کو بڑھانے میں کا سبب بنتی ہے۔

۔11 جلد کا خشک ہو جانا
سردیوں کے موسم میں ہماری جلد خشک ہو کر پھٹنے لگتی ہے جو کہ پانی کی کمی کہ وجہ ہے لیکن اگر ہم پانی کا استعمال زیادہ کردیں تو اس مسلے سے بچا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی کی وجہ سے جلد نہ صرف خشک بلکہ ان پر جھڑیاں بھی آنے لگتی ہیں، بلکہ سر یا جسم کے کسی اور حصے میں بھی خشکی کے اثرات جسم میں پانی کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔

موبائل سکرین کا نشہ کیسے ختم کریں
08/09/2025

موبائل سکرین کا نشہ کیسے ختم کریں

01/09/2025

آپ کے بچے کو توانا اور صحت مند بنانے کا آسان حل کیا ہے؟

23/08/2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بھائیو اور بہنو! سلام علیکم!
آج ہم ایک اہم صحت کے معاملے پر بات کرنے والے ہیں: ہیپاٹائٹس بی اور سی، جو ہمارے دیہاتی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ آئیے، ان سے بچاؤ کے چند آسان طریقے جانتے ہیں۔
ہیپاٹائٹس بی اور سی کیسے پھیلتا ہے؟
یہ بیماری کسی متاثرہ شخص کے خون کے ذریعے ایک دوسرے میں منتقل ہوتی ہے۔
* استعمال شدہ سرنج یا بلیڈ دوبارہ استعمال کرنا۔
* ناقص انداز میں کان چھدوانا یا حجامت بنوانا۔
* دندان ساز کے غیر sterile آلات۔
* انتقالِ خون کے دوران احتیاط نہ برتنا۔
بچاؤ کے آسان گُر:
1. ٹیکہ لگواتے وقت یقینی بنائیں کہ نئی اور sterile سرنج استعمال ہو رہی ہے۔
2. حجامت بنواتے یا کان چھدواتے وقت اپنا خود کا بلیڈ اور آلہ استعمال کریں۔
3. کسی کا استعمال کیا ہوا ٹوتھ برش، بلیڈ یا ناخن کاٹنے کا آلہ ہرگز استعمال نہ کریں۔
4. ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کا محفوظ اور مؤثر ویکسین موجود ہے۔ اپنے قریبی صحت مرکز سے ضرور رجوع کریں۔
5. اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کو یہ بیماری لگی ہے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ابتدائی تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے۔
احتیاط ہی علاج سے بہتر ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھیں۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہمارا معاشرہ صحت مند رہے۔
رفیق میڈیکل کمپلیکسیکس کھوجہ
اللہ حافظ

"اپنے بچوں کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں"ان کو سکھائیں کہ اگر اسے کسی کے گھر دعوت پر بلایا جائے:1. وہ خالی ہاتھ نہ جائے...
23/08/2025

"اپنے بچوں کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں"
ان کو سکھائیں کہ اگر اسے کسی کے گھر دعوت پر بلایا جائے:
1. وہ خالی ہاتھ نہ جائے، اور اپنے ساتھ کسی غیر مدعو شخص کو نہ لے جائے۔
2. وقت پر پہنچے، نہ بہت جلدی اور نہ بہت دیر سے۔
3. اچھے کپڑے پہنے اور اس کی خوشبو اچھی ہو تاکہ میزبان کو احساس ہو کہ وہ اس کی عزت اور قدر کرتا ہے۔
4. قالین جوتے یا چپل پہن کر داخل نہ ہو، چاہے میزبان نے اجازت دی ہو۔
5. گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو جائے تاکہ میزبانوں کو تکلیف نہ ہو۔
6. جو موجود ہو اسے کھائے، اور کوئی خاص ڈش نہ مانگے، چاہے اچار ہی کیوں نہ ہو۔
7. کھانا کھاتے وقت شور نہ مچائے، اور چبانے کے دوران منہ بند رکھے۔
8. جب کوئی کھانا سرو کرتا ہے تو سر جھکائے موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ یا ویسے ہی توجہ نہیں کرتے ۔ کھانا لگانے والے کو یہ اچھا نہیں لگتا اس لیے کوشش کریں کہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور کوئی ہلکی پھلکی بات چیت کریں تاکہ اسے ریسپیکٹ محسوس ہو.
9. بیٹھنے کی جگہ خود منتخب نہ کرے، بلکہ میزبان جہاں بٹھائے وہیں بیٹھے، کیونکہ ہر کوئی اپنی جگہ کی خصوصی ضروریات جانتا ہے۔
10. بغیر کسی جھجک کے آرام سے کھانا کھائے، اور اگر کسی چیز میں دلچسپی نہ ہو تو خاموشی سے اسے نہ کھائے اور صرف پسندیدہ چیزیں کھائے۔
11. میزبان کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے مزید نعمتوں کی دعا کرے، اور باورچی (ماں یا بیوی) کو بھی شکریہ کہے اور بتائے کہ کھانا کتنا مزیدار تھا۔
12. بغیر اجازت کے ہاتھ دھونے نہ جائے، اور اگر میزبان اجازت دے تو یقینی بنائے کہ اس نے سنک صاف کر دی ہے اور کوئی کھانے کے باقیات نہ چھوڑے، اور تولیہ استعمال کرنے کے بعد اسے اچھی طرح پھیلائے۔
13. گھر کی تفصیلات پر نظر نہ ڈالے۔
14. اگر کسی اور کے ساتھ گیا ہو اور وہ ہاتھ دھونے اٹھے تو اس کی جگہ نہ بیٹھے کیونکہ یہ کسی اور کا حق ہے۔
15. اگر گھر میں نماز پڑھنی ہو تو امامت نہ کرے جب تک کہ میزبان درخواست نہ کرے۔
16. اگر داخل ہوتے وقت لوگ کسی موضوع پر بات کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کو اچانک نہ بدل دے، اور نہ ہی کسی کی بات کاٹ کر خود بولنا شروع کرے، کیونکہ یہ اس کی عزت کو کم کرتا ہے۔
17. روانگی سے پہلے اجازت لے، اور اگر میزبان اسے رکنے کی تاکید کرے تو کچھ وقت اور رکے اور میزبان کی خواہش کا احترام کرے۔
18. جب باہر نکلے تو بلند آواز میں اعلان کرے تاکہ میزبان روانگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
19. گھر سے نکلتے وقت میزبان کے لیے برکت اور کشادگی کی دعا کرے۔
20.میزبان کا شکریہ ادا کرے اور ان کے کھانے اور مہمان نوازی کی تعریف کرے۔

اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک  ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر ...
20/07/2025

اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر شام گندم کی روٹیاں کھا رہے ہیں۔ لیکن آپ کا ڈاکٹر کے آگے دعوی صرف یہ ہے کہ میں میٹھا نہیں کھا رہا۔۔تو یہ بے فضول ہے۔۔اصل شوگر تو آپ کی گندم کی روٹی ، چاول اور آلو بڑھا رہے ہیں۔

اس کی بجائے آپ صبح ناشتے میں جو white oats کا دلیہ کھائیں۔ اور دوپہر کو یہ تصویر میں نظر آ رہا ایک meal ہے۔ اس کو آپ سلاد نا بولیں۔ اس کے اجزاء، ابلا ہوا راجمہ(لال لوبیا)، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، زیتون، حسب ذائقہ نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس ، یہ سب ملا کر آپ دوپہر کے لنچ کے طور ایک پلیٹ پیٹ بھر کے کھائیں۔

آپ لال لوبیے کی جگہ، سفید ابلے چنے، یا کالے چنے، سفید یا براون لوبیا ابال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو plant based پروٹین ، کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ بہترین antioxidant اور وٹامنز کے ساتھ محفوظ انرجی ملے گی۔

رات کو آپ ملٹی گرین آٹے کی 100 گرام کی پکی چپاتی کے ساتھ کوئی بھی ایسا سالن کھا سکتے ہیں جس میں آلو نا ہوں۔ چاول بھی آپ لے سکتے ہیں لیکن پکے ہوئے صرف 120 گرام۔

اس کے ساتھ سالن یا سلاد کی مقدار زیادہ رکھ لیں ، تا کہ پیٹ بھر جائے۔ رات کا یہ کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھا لیں۔ اور کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد 30 سے 45 منٹ واک یا کوئی فزکل ایکٹیویٹی کریں۔

صرف دو دن میں آپ کی شوگر دھڑم سے نیچے آ گرے گی۔
آپ کو شوگر کی ادویات کم یا بالکل چھوڑنا پڑ جائیں گی۔

کیونکہ آپ کے لبلبے کے beta cells پر سے گندم کے ہیوی glycemic کا لوڈ انتہائی کم کر دیا گیا ہے۔ beta cells ریلیکس ہوتے ہیں اور دوبارہ اتنی انسولین بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کی خوارک کو انرجی میں بدل کر آپ کے جسم میں دوبارہ پہنچنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ایسا دو ماہ کر لیتے ہیں تو آپ کی diabetes ریورس ہو سکتی ہے۔ آپ ایک نارمل انسان کی طرح سو فیصد تندرست ہو جائیں گے۔

پاکستان diabetes میں بد ترین پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔۔لوگ 30 سال میں ہی ڈائیبیٹک ہو رہے ہیں۔۔اور کچھ پتا نہیں کیا کھانا ہے کیا نہیں اور 50 تک جاتے جاتے امراض دل و گردوں کے عارضوں میں مبتلا ہوکر فوت ہو جاتے ہیں۔

پری میچور ڈیتھ سے ایک پورا خاندان اجڑ جاتا ہے۔
اپنے اردگرد بہت سے لوگوں کو کھانے پینے کا لائف سٹائل دیکر ان کی جانیں بچائیں ہیں۔ جو اپنے taste buds ہر سمجھوتہ نہیں کرتے تو ان کو اپنی صحت تباہ کرکے قیمت چکانی ہوتی ہے۔
باقی آپ کا جسم آپ کی مرضی
منقول

بچوں کی صحت کے لیے مزیدار ٹپس! 🍼1. **سبزیوں کو ہیرو بنائیں!** 🥦   بچوں کو بتائیں کہ سبزیاں سپر ہیرو ہیں جو انہیں مضبوط ا...
25/02/2025

بچوں کی صحت کے لیے مزیدار ٹپس! 🍼

1. **سبزیوں کو ہیرو بنائیں!** 🥦
بچوں کو بتائیں کہ سبزیاں سپر ہیرو ہیں جو انہیں مضبوط اور طاقتور بناتی ہیں۔ پالک کھانے سے وہ پوپے دی سیلر مین جیسے طاقتور بن سکتے ہیں! 💪

2. **پانی کی "واٹر پاور"!** 💧
بچوں کو پانی پینے کی ترغیب دیں کہ یہ ان کی "واٹر پاور" ہے جو انہیں سپر ہیرو بناتی ہے۔ کہیں کہ "زیادہ پانی پیو، ورنہ سپر پاور غائب ہو جائے گی!" 🌊

3. **نیند کا "ری چارج" ٹائم!** 😴
بچوں کو بتائیں کہ نیند ان کا "ری چارج" ٹائم ہے، جیسے موبائل فون چارج ہوتا ہے۔ اگر وہ اچھی طرح سوئیں گے تو صبح اٹھ کر "فُل بیٹری" کے ساتھ کھیل سکیں گے! 🔋

4. **چینی کو "ولن" بنائیں!** �
بچوں کو بتائیں کہ زیادہ چینی "ولن" ہے جو ان کے دانتوں کو کمزور کرتی ہے۔ کہیں کہ "چینی کے ولن کو ہرا کر کے اپنے دانتوں کو سپر ہیرو بناؤ!" 🦷

5. **کھیل کود کو "ایڈونچر" بنائیں!** 🏃‍♂️
بچوں کو کھیلنے کے لیے کہیں کہ یہ ان کا "ایڈونچر ٹائم" ہے جہاں وہ دوڑ کر، کود کر اور کھیل کر اپنی طاقت بڑھا سکتے ہیں۔ کہیں کہ "زیادہ سے زیادہ ایڈونچر کرو، ورنہ سپر پاور کم ہو جائے گی!" 🏞️

6. **ہاتھ دھونے کو "میجک رٹیول" بنائیں!** 🪄
بچوں کو ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں کہ یہ ایک "میجک رٹیول" ہے جو جراثیم کو بھگا دیتا ہے۔ کہیں کہ "ہاتھ دھو کر جراثیموں کو بھگاؤ اور اپنے آپ کو محفوظ رکھو!" 🧼

7. **دودھ کو "پاور ڈرنک" بنائیں!** 🍼
بچوں کو دودھ پینے کی ترغیب دیں کہ یہ ان کا "پاور ڈرنک" ہے جو انہیں لمبا اور مضبوط بناتا ہے۔ کہیں کہ "دودھ پیو اور سپر ہیرو بنو!" 🦸‍♂️

8. **موبائل کو "ٹائم آؤٹ" دیں!** 📵
بچوں کو بتائیں کہ موبائل اور ٹیبلیٹ کو زیادہ دیر تک استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ ان کی آنکھوں کو تھکا دیتا ہے۔ کہیں کہ "موبائل کو ٹائم آؤٹ دو اور باہر کھیلو!" 🌳

9. **ڈاکٹر کو "ہیلو ہیرو" بنائیں!** 🩺
بچوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے سے ڈرنے نہ دیں۔ کہیں کہ ڈاکٹر ان کا "ہیلو ہیرو" ہے جو انہیں صحت مند رکھتا ہے۔ کہیں کہ "ڈاکٹر سے مل کر اپنی سپر پاور کو مضبوط بناؤ!" 🦸‍♀️

10. **مسکراہٹ کو "سپر پاور" بنائیں!** 😄
بچوں کو بتائیں کہ مسکرانا ان کی سب سے بڑی سپر پاور ہے جو انہیں خوش اور صحت مند رکھتی ہے۔ کہیں کہ "ہر روز مسکراؤ اور دنیا کو جیتو!" 🌟

یہ ٹپس اپنائیں اور بچوں کو صحت مند اور خوش رکھیں! 😊

‎چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو پانی پلانے کے نقصانات:۔‎✿⊱•┈• بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ•┈•⊰✿‎نوزائیدہ اور چھ ماہ ...
14/02/2025

‎چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو پانی پلانے کے نقصانات:۔
‎✿⊱•┈• بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ•┈•⊰✿
‎نوزائیدہ اور چھ ماہ سے کم عمر بچوں کی صحت و نشوونما والدین کے لیے ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ اکثر والدین لاعلمی یا غلط معلومات کی بنیاد پر اپنے شیر خوار بچوں کو پانی پلانے لگتے ہیں، جو کہ ان کی صحت کے لیے کئی سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس مضمون میں سائنسی و طبی حقائق کی روشنی میں یہ وضاحت کی جائے گی کہ چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو پانی پلانا کیوں نقصان دہ ہے اور اس کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
‎1. ماں کے دودھ میں پانی کی مناسب مقدار
‎ماں کے دودھ میں تقریباً 80-60 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جو بچے کی پانی کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اضافی پانی پلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ماں کے دودھ میں موجود پانی نہ صرف جسم میں ہائیڈریشن برقرار رکھتا ہے بلکہ اس میں موجود غذائی اجزاء بچے کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔ اگر والدین شیر خوار کو اضافی پانی پلائیں گے تو اس سے بچے کی بھوک کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ دودھ کم پئے گا اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
‎2. معدے کی چھوٹی جسامت
‎نوزائیدہ بچوں کا معدہ نہایت چھوٹا ہوتا ہے، تقریباً ان کی بند مٹھی کے برابر۔ اگر والدین بچے کو بار بار پانی پلانے لگیں گے تو اس کا معدہ بھرجائے گا اور وہ ماں کا دودھ کم مقدار میں پیئے گا۔ اس کے نتیجے میں بچے کو مناسب غذائیت نہیں ملے گی، جس کی وجہ سے اس کی نشوونما رک سکتی ہے اور وزن میں کمی ہو سکتی ہے۔
‎3. گردوں کی نامکمل نشوونما
‎چھ ماہ سے کم عمر بچوں کے گردے مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے۔ یہ گردے اضافی پانی کو مؤثر طریقے سے فلٹر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر شیر خوار کو زیادہ پانی پلایا جائے تو اس کے گردوں پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے، جو مستقبل میں گردوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
‎4. پانی کی زیادتی اور سوڈیم کی کمی
‎نوزائیدہ بچوں کے جسم میں سوڈیم ایک نہایت اہم معدنیات ہے، جو جسم کے الیکٹرولائٹ توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر بچے کو زیادہ مقدار میں پانی دیا جائے تو اس کے خون میں سوڈیم کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جسے "ہائپوناٹریمیا" کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں بچے کے جسم میں پانی زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ ضروری معدنیات کم ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے درج ذیل سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
‎• جھٹکے (Seizures)
‎• دماغی سوجن (Cerebral Edema)
‎• غنودگی اور کمزوری
‎• بے ہوشی کی کیفیت
‎• بدترین صورت میں موت
‎5. قوت مدافعت پر منفی اثرات
‎ماں کا دودھ بچے کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے اور مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب والدین بچے کو پانی دیتے ہیں، تو وہ پیٹ بھر جانے کی وجہ سے کم دودھ پیتا ہے، جس سے اس کی قوت مدافعت کمزور پڑ سکتی ہے اور وہ مختلف بیماریوں، خاص طور پر ڈائریا، نمونیا اور دیگر انفیکشنز کا شکار ہو سکتا ہے۔
‎6. پانی میں موجود آلودگی کے خطرات
‎اگر بچے کو دیا جانے والا پانی جراثیم سے آلودہ ہو تو اس کے معدے میں انفیکشن ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دست (Diarrhea) اور دیگر معدے کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، اس لیے آلودہ پانی ان کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
‎7. زندگی کے ابتدائی مراحل میں غذائیت کی اہمیت
‎پہلے چھ ماہ بچے کی زندگی میں نہایت اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران بچے کو صرف ماں کے دودھ یا، کسی مجبوری کی صورت میں، مناسب فارمولہ دودھ دیا جانا چاہیے۔ اگر بچے کو غیر ضروری طور پر پانی پلایا جائے تو اس کے جسم میں غذائی قلت ہو سکتی ہے، جو بعد میں اس کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
‎نتیجہ
‎چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو ماں کے دودھ کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی غذائیں یا مشروبات دینے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر پانی۔ ماں کے دودھ میں وہ تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں جو بچے کی بڑھوتری، صحت اور مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ پانی پلانے سے بچوں کو غذائی قلت، گردوں کی خرابی، جھٹکے اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مستند طبی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں اور بغیر کسی طبی ضرورت کے اپنے بچے کو پانی نہ پلائیں۔

نور فاطمہ ہسپتال ڈنگہ
13/02/2025

نور فاطمہ ہسپتال ڈنگہ

                @@@
13/02/2025





@@@

Address

Noor Fatima Hospital Bypass Dinga
Dinga
54280

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Hafiz Usman-Child specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram