26/03/2026
Copy بعض ڈاکٹرز کی جانب سے ہومیوپیتھک ادویات کے بارے میں عوام کو غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے ذہنوں میں ہومیوپیتھی کے متعلق بلاوجہ شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایک سائنسی نظامِ علاج کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
حال ہی میں ایک ڈاکٹر ,ڈاکٹر فضل معبود صاحب سوات نے ہومیوپیتھک دوا Medorrhinum CM کے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ گنوریا کے جراثیم سے تیار کی جاتی ہے اور اس کے استعمال سے انسان میں مختلف بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ھومیوپیتھک کی یہ دوا حکومت پاکستان کی Drug Regulatory Authority سے اپروڈ ھے۔
حقیقت یہ ہے کہ موصوف کو Medorrhinum CM کی تیاری کے اصولوں کا درست علم نہیں، اور بغیر تحقیق کے ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں۔
وضاحت کے لیے، اس دوا کی تیاری کا طریقہ مختصراً درج ذیل ہے:
ابتدائی مرحلے میں گنوریا کے مواد کو الکحل کے ساتھ ملا کر مدر ٹنکچر تیار کی جاتی ہے۔
اس مدر ٹنکچر کے ایک حصے میں 99 حصے الکحل شامل کر کے مخصوص طریقے سے جھٹکے (succussion) دیے جاتے ہیں، جس سے 1C پوٹینسی بنتی ہے۔
پھر اس 1C ڈائیلوشن کے ایک حصے سے 99 حصے الکحل اور جھٹکے دیکر 2C بنائ جاتی ھے
اسی عمل کو مرحلہ وار دہرایا جاتا ہے، جس سے 2C، 3C اور آگے کی پوٹینسیز تیار ہوتی ہیں۔
جب دوا 12C پوٹینسی تک پہنچتی ہے تو سائنسی اعتبار سے اس میں ابتدائی مادے کا کوئی مالیکیول باقی نہیں رہتا۔
Medorrhinum CM
پوٹینسی تک پہنچنے کے لیے اس عمل کو 100000 دفعہ تک دہرایا جاتا ہے، جہاں اصل مادے کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا۔
لہٰذا یہ کہنا کہ اس دوا میں جراثیم موجود ہوتے ہیں یا یہ بیماری پیدا کر سکتی ہے، سائنسی اور عملی دونوں لحاظ سے درست نہیں۔
مزید برآں، جدید (ایلوپیتھک) طب میں بھی بعض ویکسینز اور ادویات جراثیم یا ان کے اجزاء سے تیار کی جاتی ہیں، جن کا مقصد بیماری پیدا کرنا نہیں بلکہ جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرنا ہوتا ہے، جیسے:
Measles (خسرہ)
Mumps (ممپس)
Rubella (روبیلا)
Polio کی Injectable ویکسین (IPV)
Rabies ویکسین
Tetanus
Diphtheria
COVID-19 ویکسینز
سانپ کے زہر کا تریاق (Anti-venom)
اسی طرح Penicillin جیسی دوا فنگس سے حاصل کی جاتی ہے۔
چونکہ ایلوپیتھک میڈیسن میرا براہِ راست فیلڈ نہیں، اس لیے میں اس کے فوائد یا نقصانات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ تاہم، ہر نظامِ علاج کے بارے میں بات کرتے وقت تحقیق، دیانت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔