11/10/2022
تنظیم ایک فرد واحد کی سوچ ضرور لیکن مسائل ایک نہیں ہزاروں لوگوں کے حل کرتی ہے جب جب بھی جہاں ظلم ہوتا ہے تو کچھ لوگ آگے آتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور علم بغاوت کا اعلان کرتے ہیں ٹھیک اس طرح آج سے کچھ سال پہلے 2017 میں ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس کا سفر شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور انشاللہ آگے بھی جاری رہے گا کئ لوگ آئے اسکو ختم کرنے کا پلان لیکر لیکن ہمشیہ ناکام رہے کیونکہ اس کا فایدہ صرف اور صرف کمیونٹی کو ہو رہا ہے اور جن لوگوں کی کوئ آواز بلند کرنے والا نہیں تھا آج وہ ایک ڈاکٹر کمیونٹی میں کمیونٹی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ہر جگہ انکا اپنا اہم کردار ہے اور فارن میڈیکل گریجویٹس کمیونٹی کی پہچان بنانے میں جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس نے اپنا قلیدی کردار ادا کیا
ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس نے اس وقت لڑنا اور اس سسٹم کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا جس وقت اس کمیونٹی کا نیب امتحان پی ایم ڈی سی کے قانون میں سالانہ دو بار ہونے کے باوجود نہیں لیا جاتا تھا اور الحمدللہ ٹیم کے تمام ممبران کی کاوشوں سے اس مسئلے کو حل کیا اور پرسنٹیج جو انتہائی کم تھی اسکو بہتر کرنے اور پیر شیڈول کے ساتھ ایک مخصوص ٹایم فریم لیا جس سے بہت سے فارن میڈیکل گریجویٹس سسٹم کا حصہ بنے اور اسکے وہ لوگ گواہ ہیں جو اس کوشش سے مستفید ہوئے اور اسکے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کے مختلف انفرادی ایشو کو حل کرانے کے ساتھ ساتھ ایچ ای سی کی ایکولینس ایک خواب سمجھا جاتا تھا وہ بھی الحمدللہ کمیونٹی کی اپیل پر حل کروایا اور وہ ڈگری جس کی پاکستان میں نیب پاس نہ ہو جانے تک کوئ وقعت نہیں تھی اسکو ماسٹر کے برابر کیا اور اسکے بعد پی ایم سی آنے لگا تو فارن میڈیکل گریجویٹس کے حق میں پالیسی بنوا کر کئی فارن میڈیکل گریجویٹس کی پریشانیوں کو ختم کرنے کا سبب بنے اور اسکے ساتھ بیرون ممالک میں زیر تعلیم طلباء کے تمام مسائل کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ گریجویٹس کو درپیش مسائل جن میں مختلف قسم کی مشکلات بنائی گئی جو منڈیٹری اسٹیشن اور لیمیٹڈ اٹیمپٹس اسکو ختم کرایا اور اسکے اعلاوہ یکم اپریل کی بنائی جانے والی پالیسی پر سب سے پہلے طلبا کی آواز بننے والی تنظیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس ہے اور پھر اس پالیسی سے اس سال کے گریجویٹس کو مکمل طور پر استثنیٰ دلوایا جو خوش اسلوبی اور آرام سے ہاؤس جاب کر رہے ہیں اور ان میں سے اکثر کو یہ بھی نہیں پتا کہ انکا کام کس نے کرایا کیوں کہ ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس ہمیشہ مسایل کو حل کر کے آگے بڑھ جاتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ٹیم کی قیادت نے چائنیز طلباء کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے میڈیا پر پروگرام کرنے کے ساتھ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کیا اور پہلی بار فارن میڈیکل گریجویٹس کے ایشوز کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں ڈسکشن کا حصہ بنایا اور انڈر گریجوئیٹس کے لئے ۔مختلف قسم کے مشکل ترین پاتھ وے کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا اور اسکے بعد پاکستان بھر میں فارن میڈیکل گریجویٹس کو درپیش ہاؤس جاب کے مسائل کو۔حل کرانے کے ساتھ ساتھ این ایل ای امتحان کی پرسنٹیج کو ستر فی صد سے کم کرا کہ پچاس فی صد کرانے میں اپنا کردار ادا کیا اور اسکو اعلاوہ آج کل کمیونٹی جن مسائل سے آگاہ کرتی ہے ہماری کوشش ہوتی ہے متعلقہ اداروں سے ملکر ان مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں جس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ ادارے پی ایم سی اور پی ایم ڈی سی ہو وہ بیرون ممالک سے پڑھ کر آنیوالے طلباء پر مختلف قسم کی سختیاں لگا کر انکے راستے میں دشواری پیدا کرنے کے خواہاں لیکن یہ سب ہماری قیادت کا کمال ہے جو ہر وقت مزاحمت کرتی ہے اور اپنی سفارشات پیش کر کے بیرون ممالک میں زیر تعلیم طلباء کے مسایل کو ختم کرانے میں اپنا مکمل کردار ادا کر رہی ہے اور ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس اسٹوڈنٹس سے لیکر ہر گریجویٹس کی بات کرتی ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ خود غرض کمیونٹی کا نام بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں اور آئے روز تماشا رچاتے ہیں جس سے اداروں میں نفرت بھڑک رہی ہے اور انکا نقصان جونیئرز کو ہوتا ہے اور آج کا ایک جھتہ جو بیس سے پچیس بار احتجاج کر چکا ہے کہ وہ جس امتحان میں فیل ہو گئے ہیں انکو پرسنٹیج کم ہونے کے فیصلے کے بعد پاس مان لیا جائے جس پر ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس نے ہمیشہ دلائل سے اداروں کو اس بات پر قائل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہو پا رہا ہے اور اسکی واحد وجہ اس ایشو پر آئے روز سیاست چمکانے والے زمہ داران ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں تربیت کی بہت کمی ہے اور جاہل ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بکواسات پر آتر آتے ہیں جب بھی کمیونٹی کے دوسرے کسی ایشو پر بات ہو تو ان کو تکلیف شروع ہو جاتی ہے انکو یہ بات کون سمجھائے کہ تنظیم کا کام ایشو پر بات کرنا ہوتا ہے اور کامیابی دینا اللہ کا کام ہوتا ہے کیا کبھی کوئی تنظیم یہ چاہے گی کہ اسکی کمیونٹی کے لوگوں کا فایدہ نہ ہو ہم یہاں پر بغیر کسی تنخوا اور فنڈز کے اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں ہم کوئ کسی کے باپ کے نوکر نہیں کہ وہ جو مرضی بکواسات کرے آئندہ کسی نے بکواس کی تو فوری طور پر بلاک کر دیا جائے گا اور ہمیں کمیونٹی کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور الحمدللہ ہم نے ہمیشہ مسائل کو اجاگر کیا اور افہام و تفہیم سے حل کروانے میں اپنا کردار ادا کیا اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے جو کچھ لوگ پلان ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں وہ کرتے ہیں اور کمیونٹی جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس کی اعلی قیادت کی قربانیوں اور ان تھک محنتوں سے کمیونٹی بخوبی آگاہ ہے شکریہ
سوشیل میڈیا ٹیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس