Dr Hasnain Maqsood

Dr Hasnain Maqsood Best Treatment for Children

https://youtu.be/39Nd2Kwp99M
06/02/2024

https://youtu.be/39Nd2Kwp99M

This video contains all necessary information to pass MRCPCH part 1A (FOP). All Materials needed for exam. This video will help you to pass exam in House Job...

2nd Lecture of our Road to UK/Ireland series.Subscribe for more videos.
12/01/2024

2nd Lecture of our Road to UK/Ireland series.
Subscribe for more videos.

This video contains all necessary information about how to pass MRCS A. After this video you will be able to understand about MRCS. All important stuffs need...

01/01/2024

سرکاری ہسپتالوں سے عوام الناس کو جو دوائیاں مفت ملتی ہیں ان کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔

نوے فیصد سٹاک چھوٹی لوکل کمپنیوں سے لیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے لوگ ہسپتال انتظامیہ سے لے کر سیکریٹیریئٹ تک سب کو پیسے کھلاتے ہیں۔ ظاہر ہے رشوت میں دے چکنے کے بعد ان پیسوں کو دوا کا معیار بہتر بنانے پے تو لگایا نہیں جا سکتا، سو جو چیز ملتی ہے اس کے بارے سیانے کہتے ہیں کہ بندہ ٹھیک ہو نہ ہو اگر وہ پہلے سے مزید بیمار نہ ہوا تو یہ بھی کامیابی ہے۔ ایک پروفیسر صاحب بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے سرکاری ہسپتال سے کھانسی کا سیرپ لے کے لیبارٹری میں چیک کیا تو اس میں amoeba (جو پیٹ کی انفیکشن کرتا ہے) نظر آیا تھا۔ یعنی دوا میں لوکل کمپنیوں والے پانی بھی گٹر والا استعمال کر لیتے ہیں اگر رشوت میں زیادہ ہی رقم دینی پڑ گئی ہو۔

پھر مزے کی بات یہ کہ دوائی کتنی منگوانی ہے اس میں بھی کوئی خاص حساب کتاب لگانے کی زحمت اکثر نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً کروڑوں کا سٹاک استعمال نہ ہونے کے سبب ایکسپائر ہو جاتا ہے۔ ایکسپائر دوائی بارے ہدایت یہ ہے کہ اس کو ضائع کر دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ٹیکس گزار کے کروڑوں روپے ہسپتال والے ضائع کر دیتے ہیں! جناب بالکل نہیں! ایکسپائر شدہ دوائیوں کو عملہ و انتظامیہ کے بندے اٹھاتے ہیں، اوپر سے سٹیکر وغیرہ اتارتے ہیں اور ایک چوتھائی ریٹ پے بیچ دیتے ہیں۔ پھر لوکل کمپنیوں والے ان کی ری پیکیجنگ کر کے دوبارہ مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔ بالکل علامہ اقبال کی تعلیمات کے مطابق:

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

اللہ بھلا کرے پلاسیبو ایفیکٹ کا، کہ سرکاری دواوں سے بھی لوگ شفا سمیٹ رہے ہیں۔ ایک دفعہ مریض میرے پاس سیرپ لایا جو اس نے تازہ تازہ ہسپتال کی فارمیسی سے لیا تھا۔ مجھے ڈرتے ڈرتے کہتا ڈاکٹر صاحب یہ سیرپ میں سے کیا ہمیشہ بدبو آتی ہے؟ میں نے رُوکھا سا جواب دیا کہ بھائی دوا تو کڑوی اور بدبودار ہوتی ہی ہے، کہنے لگا ڈاکٹر صاحب ذرا اس کو سونگھیں تو سہی۔ میں نے بے دلی سے سیرپ اس کے ہاتھ سے پکڑ کے ڈھکن کھولا تو غشی سی چھانے لگی ایسی غلیظ بدبو تھی۔ میں نے فوراً ڈھکن واپس لگایا اور اسے کہا بھائی اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔ مریض نے پوچھا اب کیا کرنا ہے، میں نے کہا باہر سے اپنا خرید لو۔ اس نے کہا پیسے نہیں ہیں، میں نے کہا بھائی پھر اللہ کا نام لے کے ناک بند کر کے یہی پی لو یا پھر لائن میں واپس لگ کے آدھا گھنٹا خرچ کر کے سیرپ ریپلیس کروا لو۔ پاکستان میں رہتے ہو، خدا کا خوف کرو اصلی اور خالص چیز کی امید (وہ بھی مفت کی) کرتے تمہیں ویسے ہی شرم آنی چاہیے! اس نے ہنستے ہوئے اثبات
Copied میں سر ہلایا اور واپس لائن میں لگ گیا!

08/08/2023

Address

Buraaq Medical Center
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Hasnain Maqsood posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Hasnain Maqsood:

Share

Category