The Heaven Science Academy Faisalabad

The Heaven Science Academy Faisalabad Discover, Learn, Succeed.

03/06/2024

بچوں کو سُست بنانے میں والدین کا کردار

اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے‘

پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔

بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چناں چہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔

ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا“؟

27/02/2022
05/08/2021

مجھے پسند ہے راہ چلتے بچوں کو چھیڑ کر ان کے لبوں پہ معصومیت اور مسکراہٹ دیکھنا،
کبھی کسی بزرگ کے پاس بیٹھ کے اس کی باتیں خاموشی سے سننا۔۔
کسی کے درد پہ اسے تسلی دے کے اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرنا۔۔کسی کو مسکراہٹ دے کے اس کو حرفِ تسلی دینا۔۔۔
دنیا سے نفرت مٹا کر محبت پیدا کرنا۔۔گلیوں میں کاغذ چنتے بچوں میں امیدِ زندگی جگانا ان کے ساتھ مل کر چاکلیٹس کھانا۔... کسی کو اس کی خامیوں کے ساتھ قبول کرکے اسے زندگی جینا سیکھانا ۔۔ہاں مجھے پسند ہے انسان بننا اور انسانیت بناۓ رکھنا...

محمد سہیل رضا

07/05/2021

ایک بچّے نے سمندر میں اپنا جوتا کھو دیا مایوس ہو کر اُس بچّے نے سمندر کے ساحل پر لکھ دیا ’سمندر چور ہے’.......کچھ فاصلے پر ایک شکاری نے سمندر میں جال پھینکا اور بہت سی مچھلیوں کا شکار کیا خوشی میں اُسنے ساحل پر لکھ دیا ’سخاوت کے لیے یہ سمندر ایک مثال ہے’۔۔۔۔۔۔۔پھر اُسی سمندر میں ایک نوجوان ڈوب کر مر گیا کنارے پر بیٹھی اُسکی غمزدہ ماں نے ریت پر ٹپکتے ہوئے آنسو کے ساتھ لکھ دیا کہ 'یہ سمندر ایک قاتِل ہے’۔۔۔۔۔۔۔ایک بزرگ کو اِس سمندر نے موتی کا تحفہ دیہ تو اُن بزرگ نے جذبات میں آکر ساحل پر لکھ دیا کہ ’یہ سمندر کرامات کی ایک مثال ہے’۔۔۔۔۔۔۔اُس ساحل پر ہر کسی نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے مطابق ہی لکھا اچانک ایک بہت بڑی لہر آئی اور پھر اُس نے سب کا لکھا ہوا مٹا دیا ہمارا ایمان اور عقیدہ یہ ہونا چاہیئے کہ ہمارا ساتھ زِندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ صرف اور صرف "اللّٰہ" کی مرضی اور "اللّٰہ" کے حُکم سے ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کی باتوں اور اُن کے واقعات کو ہمیں دل پر نہیں لینا چاہیے کیوں کہ اکثر لوگ صرف وہی کہتے ہے جو انہوں نے دیکھا ہے جو انہوں نے سہا ہے ایسے واقعات کے پیچھے کی حقیقت مصلحت اور حکمت صرف "اللّٰہ" ہی بہتر جانتا ہیں۔

Beshak ❤️
15/02/2021

Beshak ❤️

27/11/2020

میں ایک عام سا سوال خواتین سے ضرور پوچھوں گا کہ جن معاشروں میں تعلقات اور ملاقات کی اتنی آزادی ہے کہ ہر وقت male اور females (مردوعورت) اکٹھا رہ سکتے ہیں اور ہر وقت ان کیunderstandings ہوتی ہے اور ہر ممکن طریقے ان کے ملاپ کے موجود ہیں۔ اور کوئی رکاوٹ ان میں موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد چار پانچ سال کی مکمل مفاہمت کے بعد اور Social co-oporation (سماجی تعاون) کے بعد اور Financial Co-operation (معاشی تعاون) کے بعد جب ان کی شادیاں ہوتی ہیں تو ان کی طلاقوں کی Average (شرح) آپ سے زیادہ کیوں ہے؟Why it is? کہ مغرب جو دعویٰ کرتا ہے کہ ہم مکمل آزادی دیتے ہیں اور مرد و عورت کے درمیان کسی قسم کی رکاوٹیں، کسی قسم کے Barrier موجود نہیں ہیں اور محبتوں کی ہی شادیاں ہوتی ہیں اس کے باوجود پھر مغرب میں طلاقوں کی اتنی بڑی average کیوں ہے کہ جو imagine کرنا ہی مشکل ہے؟ اس کے علاوہ عورتوں کے حقوق کے دعویدار culture موجود ہیں انہوں نے عورتوں پر کیا بڑی آفت لاد رکھی ہے کہ۔۔۔۔۔
یہ قانون تو بنا دیا کہ عورت کو مرد کی جائیداد میں سے آدھا حصہ ملے گا مگر اس کے عوِض عورتوں کو کیا ملا؟ Unidentified relationships اور living together کا institution آ گیا کیوں کہ مردوں نے ان عورتوں کو آدھی جائیداد دینے سے انکار کیا یا آدھی جائیداد بچانے کے لئے وہ نکاح یا Registration تک نہیں پہنچتے اور living together کا ایک نیا institution پیدا ہو گیا جس نے عورت کے لیے کوئی عزت وحرمت چھوڑی اور نہ اس کے بچوں کے لیے جو society میں protection مانگتے تھے اور مرد اپنے مقاصد کے حصول کے بعد ان سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی انسانی قانون اتنا اچھا بنا ہوتا کہ عورتوں کو تحفظات دیتا تو میں یقین سے کہتا کہ میں اللہ کو کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے اسلام نے عورتوں کو کم حقوق دیے ہیں یا ان کی کم حفاظت کی ہے۔ But when we look at the conditions and multiphasic problems جو عورت مغرب میں face کر رہی ہے اور وہ بیشمار بچے جو بغیر ماں باپ کی identity کے پیدا ہو رہے ہیں تو پھر ہم کیوں convince نہیں ہوتے کہ کوئی system اس وقت دنیا میں موجود نہیں جو عورتوں کو اسلام سے زیادہ عزت و احترام بخش رہا ہے۔

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی..
26/07/2020

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی..

18/07/2020

کسی بھی گھر ميں اگر والد سخت طبيعت کے ہوں يا ماں سے لڑتے جھگڑتے ہوں تو بچے ماں کے دامن ميں پناہ ليتے ہيں اور اگر والدہ سخت مزاج ہوں يا ہر وقت شکايتوں اور لڑائی کا ماحول بنا کر رکھيں تو بچے والد کی انگلی پکڑ ليتے ہيں ۔
ليکن اگر دونوں يعنی ماں اور باپ ہر وقت لڑتے جھگڑتے ہوں ۔ آرام سے بیٹھ کر مسائل کو سلجھانا ان کو آتا ہی نہ ہو اور ايسے ميں ان کی اولاد کا بےسکون ہونا ، ذہنی طور پراپ سيٹ ہونا اور ڈپريشن کا شکار ہونا ایک قدرتی امر ہے ۔ ايسے ماحول کے زير اثر بڑے ہونے والے لڑکے ہوں يا لڑکياں دونوں ہی بری طرح متاثر ہوتے ہيں ۔ جس کا نتيجہ کبھی بھی مثبت نہيں نکلتا۔
ضروری نہيں کہ ايسے والدين ان پڑھ ہی ہوں۔ يہ بھی بہت حيرت کی بات ہے کہ پڑھے لکھے تعليم يافتہ والدين بھی اس بات کو مدنظر نہيں رکھتے ۔ شايد پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے دونوں خود کو عقلمند اور حق پر سمجھتے ہوۓ ہارنہيں ماننا چاہتے اور بڑھ چڑھ کرايک دوسرے کو جواب ديتے ہيں جس سے ہلکی سی بات بھی جو آرام سے سلجھائی جا سکتی تھی ،بحث يا لڑائی پر ختم ہوتی ہے ۔
ہم حالات پر بحث نہيں کر رہے کہ معاشی، معاشرتی، خاندانی مسائل کی وجہ سے ايسا ہوتا ہے کيونکہ ہم سب اچھی طرح سے ان سب حالات کو جانتے ہيں ۔ اس ليے انہيں لکھنے کی ضرورت نہيں۔
يہ ايک سنجيدہ مسئلہ ہے جس کا شکار ہمارے بہت سے بچے بنتے ہيں ۔ ايسے بچے جو اس ماحول ميں بڑے ہوتے ہيں ان کے ليے خود کو نارمل رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہو گا ۔ اس کا اندازہ ہم آسانی سے نہيں لگا سکتے۔
آپ کے خيال ميں ايسے لوگ جو اس ماحول ميں بڑے ہوتے ہيں خود کو مثبت رکھنے کے ليے ، خود کو ڈپريشن سے بچانے کے ليے ، خود کو کسی منفی ايکٹيويٹی کی طرف جانے سے روکنے کے ليے کيا کر سکتے ہيں ؟

16/07/2020

ہمارے تعلیمی اداروں میں بیٹھے پروفیسر صاحبان انتہا کے ٹھرکی ہیں.
میری طرح باقی نوجوان بھی جو یونیورسٹی کے میدان سے گزرے ہیں اس بات کو بخوبی جانتے ہوں گے...
ریٹ لسٹ کی طرح پروفیسر صاحبان کی بھی فہرست ہوتی ہے... نمبرز کی فہرست....
فلاں جگہ ہاتھ لگوانے کے اتنے اور فلاں جگہ ہاتھ لگوانے کے اتنے نمبر.... اور فلاں کام کے اتنے نمبر....
صبح لگنے والی لسٹ شام کو یا اگلے دن بدل دی جاتی ہے اور ڈی یا سی گریڈ حاصل کرنے والی لڑکی اس فہرست میں اے گریڈ پر ملتی ہے....
پنجاب یونیورسٹی کے بہت سارے سکینڈل دیکھ چکے ہیں آپ سب...
کچھ یونیورسٹی میں ایمبولینس میں بیماری کا کہہ کر اس میں خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کو بٹھا کر رات کو پروفیسر صاحبان یا پھر شہر کے کچھ سیاستدانوں کے بستر پر پیش کیا جاتا ہے....... لڑکیوں سے مسکرا مسکرا کر بات کی جاتی ہے... پوری ٹھرک جھاڑی جاتی ہے اور لڑکوں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے....
اور پھر روتے ہیں کہ میل طلباء عزت نہیں کرتے... جو سب کچھ دیکھ رہا ہو وہ ان کی عزت کیسے کرے؟
عزت تب ملتی ہے جب برابری رکھی جائے اور میرٹ ہر فیصلہ کیا جائے...
ایسے پروفیسر صاحبان بھی ہیں جو کچھ لڑکوں سے اس بات کا بدلہ لیتے ہیں کہ وہ لڑکا جس لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے وہ لڑکی پروفیسر صاحب کو پسند ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ پروفیسر صاحب اس لڑکی پر ٹھرکی ہوتے ہیں....
اور جو خواتین اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی، نسلی اور خاندانی ہیں وہ ان پروفیسر کے ہاتھ نہیں آتی... اور یہ پروفیسر بھرپور بلیک میل کرتے ہیں کبھی فیل کرتے ہیں تو کبھی اس کا تھیسز روک دیتے ہیں کبھی رپورٹ بنا دیتے ہیں تو کبھی کچھ اور دو سالہ ڈگری پانچ سالہ تک پہنچ جاتی ہیں...
بہت سی خواتین کو ان پروفیسر صاحبان کی ان حرکتوں کی وجہ سے یونیورسٹی اور اپنی تعلیم چھوڑتے دیکھا ہے. کیونکہ جو پاک دامن اور خاندانی خواتین ہیں وہ تعلیم کیلئے اپنی عزت اور باپ کی دستار کا جنازہ کبھی نہیں نکالتی..
میں نے پروفیسر صاحبان کے منہ سے وہ وہ جملے سنے ہیں جو میں یہاں بیان نہیں کر سکتا... چند ایک کو حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے بیان کرنے کی کوشش کروں گا..

"یہ میری لیب ہے کوئی کوٹھا یا چکلا نہیں کہ جب مرضی آ جاؤ اور آ کر بستر پر لیٹ جاؤ"

مجھے کیا پتا تم دیر سے کیوں آ رہی ہو.. کوئی مجبوری تھی یا اپنے یار کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی "

یہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر کسی سیاستدان سے کم بدمعاش نہیں ہیں... کیونکہ یہ سب بادشاہ سلامت ہیں... سب کچھ ان کے اختیار میں ہے... پیپر بناتے بھی خود ہیں، چیک بھی خود کرتے ہیں اور نتائج بھی خود بناتے ہیں... یہاں نہ تو کوئی فرضی رول نمبر کا چکر ہے... سامنے نام، ڈگری، سمسٹر اور ڈیپارٹمنٹ سب کچھ مینشن ہوتا ہے....
مجھے اس یونیورسٹی سسٹم سے ہی اختلاف ہے جناب...
جہاں پروفیسر اپنی مرضی کا مالک ہے... سامنے کھڑا کر کے کہتا ہے...
"تمہارا سوال سارا درست ہے.. یہ لو... کراس لگا کر کہتا ہے کہ جاؤ کر لو جو بھی کرنا ہے..."
مطلب وہ اعلانیہ کہتا ہے کہ میری مرضی... مجھ سے پوچھنے والا کون ہے؟
اور واقعی پوچھنے والا کوئی نہیں...
جیسے پولیس والے پولیس والوں کے پیٹی بھائی ہیں.. جج وکیل کے پیٹی بھائی ہیں ٹھیک ایسے یہ پروفیسر بھی ایک دوسرے کے پیٹی بھائی ہیں....
تقریباً پروفیسر حضرات نے اپنی لیب کے سارے اختیارات کسی لڑکی کو سونپ رکھے ہوتے ہیں.... نوازشات ہوتی ہیں.. اپنی گاڑیوں میں پک اینڈ ڈراپ تک دے رہے ہوتے ہیں..
اگر کوئی شکایت درج کروا بھی دے تو کچھ نہیں ہوتا... برائے نام ایک انکوائری ہوتی ہے اور پروفیسر کو بے گناہ اور شریف قرار دے دیا جاتا ہے....
پہلی بات کہ انکوائری ہوتی ہی نہیں...
اور ہماری یونیورسٹیوں میں وی سی صاحب تک رسائی حاصل کرنا وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے برابر ہوتا ہے...
سب سے پہلے اس سسٹم کو مضبوط کیا جائے.. شفاف کیا جائے... ورنہ تعلیم کے نام پر یہی کچھ چلتا رہے گا اور آگے آگے مزید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا...
کچھ اچھے بھی ہیں پروفیسر جو شریف النفس انسان ہیں... جو برابری رکھتے ہیں مساوات کرتے ہیں. یہ نہیں دیکھتے لڑکا ہے یا لڑکی.... ہمیشہ میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں..

اب آتے ہیں میل اور فی میل طلباء کی جانب....
تو جنسی استحصال یا درندگی کم اور اپنی مرضی زیادہ شامل ہوتی ہے...
یونیورسٹی میں تمام طلباء لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب میچور ہوتے ہیں... اچھے برے اور فائدے نقصان کا فرق بخوبی جانتے ہیں.... اس لیول پر کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا... یہاں جو بھی کپل یعنی کے جوڑا بنتا ہے وہ دونوں کی باہمی رضامندی سے بنتا ہے...
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار کر دو تین جوس کارنر پر جوس پینے اور کچھ ہوٹلوں پر کھانا کھانے کے بعد ہی ایک دوسرے کو اپنا سب کچھ سونپ دیتے ہیں.
یہاں آغاز ہمیشہ دوستی کی آڑ میں ہوتا ہے کیونکہ یہاں دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے...
لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ دو مخالف جنس اچھے دوست بھی ہوں تو بھی زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں...
یہاں پر کچھ لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے صاف رشتہ رکھ کر آگے چلتے ہیں مگر یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے....
زیادہ تر جوڑے جسمانی تعلقات میں مبتلا ہو جاتے ہیں...
یونیورسٹی لیول پر کوئی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا یہاں سب کچھ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے....
آپ لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، کراچی، ملتان اور بہاولپور جیسے بڑے بڑے شہروں کے ریسٹورنٹ، گیسٹ ہاوس اور ہوٹلوں کا اگر رات کے کسی پہر وزٹ کریں تو معلوم ہوگا یہاں پر موجود نوجوان جوڑوں میں سے اسی فیصد سے بھی زیادہ کا تعلق شہر کی مختلف یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں سے ہوگا....
آپ مختلف پیزا شاپ، جوس کارنر کا وزٹ کریں تو آپ کو یہاں یونیورسٹی کی کلاسز بنک کر کے ڈیٹ پر آنے والے نوجوان جوڑوں کا ایک جم غفیر ملے گا...
اور پچاس روپے والا جوس کا گلاس آپ کو 200 روپے کا ملتا ہے.... تیس منٹ تک کوئی پوچھنے نہیں آتا... تیس منٹ بعد آپ کو ایک اور آرڈر کرنا پڑتا ہے....
یہاں اندر کرسیوں کی جگہ صوفے لگے ہوتے ہیں یعنی کے پورا ماحول بنا ہوتا ہے.... آپ جو مرضی چاہیں کر سکتے ہیں...
تو یہ کہنا کہ یونیورسٹی لیول پر لڑکیوں کو جنسی زیادتی یا درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے سراسر غلط ہے...
یہاں نوجوان کپل شادی شدہ جوڑوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور پوری کلاس بلکہ پورے ڈیپارٹمنٹ کو خبر ہوتی ہے کہ کونسے والی کس کی ہے اور کونسے والا کس کا ہے؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟
آپ ان بڑے شہروں میں اگر شاپنگ مالز کا وزٹ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یا کمر اور کاندھے پر ہاتھ رکھ کر خریداری کرنے نکلے ہوں گے...... جن میں زیادہ تر کا تعلق اس شہر کی مختلف یونیورسٹیوں سے ہوگا.....
پارک میں جائیں تو بہت ساری تتلیاں کچھ پروانوں کے ساتھ چپک کر یا یہ کہہ لیں کہ ان کی گود میں بیٹھی ملیں گی آپ کو.........
آپ یونیورسٹیوں کا اگر وزٹ کریں تو آپ کو رات کو گرلز ہاسٹل اور بوائز ہاسٹل سے بہت سارے لڑکے اور لڑکیاں غیر حاضر ملیں گے.... ان سب کے گھر پر کال کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ تو یونیورسٹی میں ہیں...
آپ مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوس کا وزٹ کریں تو آپ کو ان میں سے زیادہ تر یہاں پر ملیں گے....
اور جن لڑکوں یا لڑکیوں کا تعلق اسی شہر سے ہے تو بھی پریشانی کی بات نہیں ہے...
آپ کو شہر میں ایسے بہت سارے ہوٹل ملیں گے جو صبح 8 بجے سے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کیلئے نوجوان جوڑوں کو کمرے کرایہ پر دیتے ہیں...
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے ہوٹل بنے ہی اسی کام کیلئے ہیں....
اور سونے پر سہاگہ کہ ان سارے ہوٹلوں کو بڑے بڑے پولیس افسران، بیورو کریٹ یا پھر سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے... ہر ہفتے یا مہینے کی بنیاد پر بھاری رقوم کی صورت میں بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سب کام آسانی سے ہو رہا ہے...
اگر کبھی میڈیا کا دباؤ یا پھر کوئی بڑی مکبری ہو بھی تو ان ہوٹل والوں کو پہلے سے ہی آگاہ کر دیا جاتا ہے...
پنجاب یونیورسٹی میں اپنی آنکھوں سے میں لڑکیوں کو آگے بیٹھ کر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھ چکا ہوں اور لڑکے پیچھے بیٹھ کر ان تتلیوں کو موٹر سائیکل چلانا سکھا رہے ہوتے ہیں....
پنجاب یونیورسٹی اور خاص طور پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں آپ کو لڑکیاں چھوٹی چھوٹی شرٹس اور بہت باریک لباس پہنے اور چھوٹے چھوٹے ٹراوزر پہنے نظر آئیں گی.....
دوپٹہ برائے نام ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں..
اتنے باریک باریک لباس ہوتے ہیں کہ جسم سارے کا سارا آویزاں ہو رہا ہوتا ہے اور سفید کپڑوں میں سیاہ رنگ صاف جھلک رہے ہوتے ہیں...
میں نے اپنی ان آنکھوں سے بہت سی خواتین کو حجاب میں یونیورسٹی آتے دیکھا ہے اور پھر ایک طرف ٹھہر کر یہ حجاب اپنے پرس میں ڈال کر پرس سے ایک چھوٹا سا باریک دوپٹہ گلے میں ڈال کر اپنی اپنی کلاسز میں جاتے دیکھا ہے.
پھر جب چھٹی کے وقت باپ یا بھائی کے آنے کا وقت ہوتا ہے تو پھر سے وہی حجاب پرس سے نکال کر پہن لیا جاتا ہے..........
مجھے آج تک سمجھ نہیں لگی کہ یہ tights اور اوپر سے چھوٹی چھوٹی باریک شرٹس پہننے کا آخر مقصد کیا ہوتا ہے.....
آ بیل مجھے مار؟
اتنی چھوٹی چھوٹی سی شرٹس پہننا اور پھر چلتے ہوئے بار بار پیچھے سے اپنی شرٹس کو درست کرنا...
کیسا عمل ہے؟
کیا ضرورت ہے...
یا تو پہنیں نہ... پہن لیا تو بس پھر ٹھیک ہے...
کیونکہ آپ کا جسم آپ کی مرضی...
پھر مرد کیوں نہ کہے کہ میری آنکھ میری مرضی؟
لیکن یہ سب فیشن ہے...
یہاں پر فقرے کسنا جرم نہیں کیونکہ کھلم کھلا دعوت دی جاتی ہے فقرے کسنے کی...
میوزک کنسرٹ، کلچرل فیسٹیول، اور اینول ڈنر کے نام پر ہونے والے رقص، مجرے کی محفلوں سے کم نہیں... میوزک کنسرٹ پر جسم کے ساتھ جسم لگے ہوتے ہیں اور ناچ گانے عروج پر کندھے سے کندھے جڑے ہوتے ہیں...
منشیات کا سب سے زیادہ استعمال بھی یونیورسٹی کے طلباء ہی کرتے ہیں... جن منشیات کا کبھی آپ نے نام تک نہیں سنا ہوگا وہ منشیات یونیورسٹی لیول پر آپ کو نظر آتی ہیں..
لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ان منشیات کی عادی ہیں اور یہ بھی کسی فیشن کی طرح پروان چڑھ رہا ہے....
لڑکیوں کے ہاسٹل میں یہ منشیات انتظامیہ کے زریع سے ہی فروخت کی جاتی ہیں اور بہت سے گروہ اپنے سہولت کار ان طالبات میں سے ہی چنتے ہیں...
پہلے نشے کا عادی بنایا جاتا ہے اور پھر جسم فروشی کے مقاصد کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے..
دونوں ایک دوسرے کو غلط کہہ رہے ہیں خواتین کے مطابق مرد حضرات اپنی نظروں کی حفاظت کریں اور مردوں کے مطابق خواتین اپنے جسم کی حفاظت کریں...
مگر دونوں میں سے کوئی بھی اپنی اصلاح کرنے کیلئے تیار نہیں... کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے........
یہ ہسپتالوں اور کچرے کے ڈھیر میں ملنے والے نومولود بچے طوائف کے نہیں بلکہ ان تعلیم یافتہ افراد کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری آپس میں انڈرسٹینڈنگ تھی...
ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہونے والے ابھورشن اسی انڈرسٹینڈنگ کے نتائج ہیں....
نان پریگننسی کی فروخت ہونے والی ادویات کے خریدار زیادہ تر یہی انڈرسٹینڈنگ والے جوڑے ہیں...
لیکن اگر یہاں کوئی سچ لکھے یا بولے تو وہ چھوٹی سوچ کا مالک ہے وہ تنگ نظر ہے وہ دیہاتی ہے...
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ ہماری یونیورسٹیاں کوٹھے اور چکلے ہیں....
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ یہ یونیورسٹیاں ؛ور یہ تعلیمی ادارے جسموں کی تجارت کی منڈیاں ہیں..
پھر میں کیوں نہ کہوں کہ یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی جسمانی تعلقات اور زنا کو فروغ دے کر والدین کی عزتوں کے جنازے نکال رہے ہیں...
یونیورسٹی کا مطلب "مادرِ علمی ہے"...
یہ کیسی ماں ہے جو اپنی بچیوں کے سر سے دوپٹہ اور جسم سے لباس اتارنے کی تربیت کو پروان چڑھا رہی ہے..
یہ کیسی ماں ہے جو اپنے بیٹوں کو بے حیائی اور زنا کی تعلیم دے رہی ہے؟
بلکہ یہ یونیورسٹیاں شاید طوائف کے کوٹھوں سے بھی زیادہ گری ہوئی جگہ ہیں کیونکہ ایک طوائف اپنی مجبوری کے تحت اپنا جسم فروخت کرتی ہے اور اس کے پاس آنے والے گاہک پیسے دے کر اس کا جسم خریدتے ہیں....
مگر ہماری یونیورسٹیاں وہ کوٹھے اور وہ اڈے ہیں جہاں عورت اپنا جسم اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص کو خوشی خوشی پیش کرتی ہے....
اور یہاں جسم لینے والا کوئی خریدار نہیں ہے... وہ ایسا گاہک ہے جسے مفت میں شراب اور شباب مل رہی ہوتی ہے..
اور جب اپنا جسم اپنی مرضی سے پیش کیا جائے اور لینے والا عورت کی مرضی سے اس کا جسم لے تو پھر نہ تو عورت اسے جنسی زیادتی یا درندگی کا نام دیتی ہے اور نہ ہی مرد اسے جنسی زیادتی اور درندگی کا نام دیتا ہے....
یہاں اس فیشن کو "انڈرسٹینڈنگ" کا نام دیا جاتا ہے...

اور اس سارے فسادات کی جڑ یہ Co-education ہے... ہمارا دین اسی وجہ سے اس نظام تعلیم کی مخالفت کرتا ہے... یہ نظام تعلیم ہماری نسلوں کو اُجاڑ رہا ہے... تباہ کر رہا ہے... یہی وجہ ہے کہ آج کے جوان پڑھے لکھے جاہل کے لقب سے نوازے جا رہے ہیں...
یہ یونیورسٹیاں تعلیم، علم، تربیت، تہزیب ،ادب، شعور کچھ بھی نہیں دے رہیں... بلکہ جو تھوڑا بہت ان سب کا تناسب موجود ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے...
ہماری یونیورسٹیاں فقط کاغذ کے ٹکڑے دے رہی ہیں.. غلامی کی سوچ اور سرکاری نوکری کے خواب عنایت کر رہی ہیں... لالچ اور حسد عنایت کر رہی ہیں...
ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا...
انفرادی طور پر اصلاح اور کوشش کرنی ہوگی تب جا کر اجتماعی طور پر چیزیں درست ہو سکتی ہیں...
تلخ لکھنے پر معذرت خواہ ہوں... مگر جو بھی لکھا سچ لکھا ہے... اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے...
میرے مطابق یہ موضوع بہت طویل ہے اور ایک گہرا سمندر ہے.... مگر اجازت چاہوں گا کیونکہ آج کل ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا لمبی لمبی تحاریر پڑھنے کا...
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین ثم آمین

29/06/2020

والدین نے جس بیٹی کو ہوسٹل پڑھنے بھیجا تھا اس کی خیر خبر لینے کے لیے فون کیا تو بیٹی میں بتایا کہ امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں آج کل دن رات دھواں دار قسم کی پڑھائی چل رہی ہے
۔۔حقیقت میں وہ بیٹی اسلام آباد کے ہوٹل میں یونیورسٹی کے کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھ کے ڈنر انجوائے کرتے ہوئے اپنی عزت کا جنازہ بھی نکال رہی ہوتی ہے ۔۔
کچھ دن بعد لڑکی پوچھتی ہے ہم شادی کب کریں گے ؟؟؟

پاگل ہوگئی ہے کیا. میں اور تجھ سے شادی کروں گا.

مگر تم نے تو قسم کھائی تھی تم مجھ سے شادی کروگے.

کھائی تھی. مگر جب دیکھا کہ جو لڑکی میرے ساتھ مری آ سکتی ہے. اپنی عصمت لٹا سکتی ہے. وہ اور کتنی حد تک گر سکتی ہے.۔۔بھاڑ میں گئی قسم ۔۔۔لڑکی دلبرداشتہ ہوکر زندہ لاش کی طرح بن جاتی ہے اور پھر جب لڑکی کی کسی اور کے ساتھ شادی ہوتی ہے اور شوہر کو اس کے کارناموں کا علم ہوجائے تو .یا تو وہ فورأ طلاق دے دیتا ہے. ۔۔۔اور لڑکی اتنی بے بس ہوجاتی ہے کہ زمانے کو بتا بھی نہیں سکتی کہ مجھے طلاق میرے کن غلطیوں کی وجہ سے ہوئی.....

دوسری طرف کچھ شوہر بظاہر معاف تو کردیتے ہیں لیکن بھولتے نہیں ہیں انکے دل میں یہ بات سوئی کی طرح چبھ جاتی ہے ۔۔۔بات بات پر بیوی کوطعنے دینا اُس کا مشغلہ اور مقصد بن جاتا ہے.بیوی کو زہر بھری نگاہوں سے دیکھنا اور بیوی پر ہاتھ اٹھانا. اُس کو کسی نہ کسی بہانے سے اذیت دینا اُس کا شوق بن جاتا ہے ..

اس طرح ایک نادانی کی وجہ سے عورت کی زندگی جہنم سے بھی بدتر ہوجاتی ہے ۔۔ اگر شادی کے بعد کی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہتی ہو تو شادی سے پہلے کسی نامحرم کے ساتھ کسی قسم کے ذہنی یا جسمانی تعلقات نہ رکھو..۔اپنے ماں باپ کی لاج کے ساتھ خدا کا خوف بھی رکھو ۔۔نکاح کرکے حلال رشتے سے اپنی خواہش پوری کرو ۔۔بدکاریاں کر کے اعمال کالے نہ کرو ۔۔۔
ایک طرف اس میں سب سے بڑی غلطی والدین کی بھی ہوتی ہے جو بیٹی کے جوان ہونے پر مناسب وقت میں اُس کی شادی تو نہیں کرواتے اور پھر جب بیٹی کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈھنگ کے رشتے نہ ملے یا پھر نکاح میں بےحد تا خیر کی وجہ سے بچی کے کالے کرتوتوں کے سبب اسے طلاق ہو جائے تو پھر رونا روتے ہیں ۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی کہ پڑھائی پوری کرنے کے نام پر جوان بیٹی کو نکاح سے محروم کیا ہوا ہے ۔ ذاتی گھر بنانے اچھی جاب ملنے اور بزنس کر کے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے نام پر لڑکوں کی شادیوں میں بھی تاخیر کی جاتی ہے ۔اگر یہ لڑکے زندگی کے 35 سال اپنا کیرئیر اور گھر بنانے میں لگا دیتے ہیں ۔تو نکاح کا اصل وقت تو گزر چکا ہوتا ہے جس وقت خواہشات عروج پر ہوتی ہیں ۔۔ایسی صورت میں بچے اپنی خواہشات کو غلط طریقوں سے پورا کرتے ہیں ۔جنسی خواہشات تو بچوں میں بلوغت کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔۔۔یہ وہ وقت ہے جہاں انٹرنیٹ کے مضر اثرات نے ہر گھر کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے تھوڑی دیر کے لیے کسی وجہ سے انٹرنیٹ کی فراہمی بند ہو جائے تو 8 سال کا بچہ بھی اس طرح پریشان نظر آتا ہے جیسے انٹرنیٹ نہیں آکسیجن بند ہو گئی ہو
۔۔ایسے میں آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ بچے اپنی خواہشات کو اس وقت تک کنٹرول کر سکیں گے جب تک کہ ان کا نکاح نہیں ہو جاتا ۔۔۔والدین بیوقوف بننا چھوڑ دیں گے یہ کون سا طریقہ ہے بیٹیوں کو اکیلے کالج یا ہوسٹل بھیج رہے ہیں یا اکیلے شوقیہ جاب پر بھیج رہے ہیں اور بیٹی کے ہاتھ میں سمارٹ فون دے کر اُس سے یہ اُمید بھی رکھتے ہیں کہ وہ کسی غلط راہ پر نہیں چل سکتی ۔۔۔
کیا یہ وقت ہے بیٹی کو کسی سرپرست کے بغیر اکیلے ہاسٹل میں چھوڑنے کا.۔۔کوئی بے خبر نہیں ہے کہ ہوسٹل یونیورسٹیز میں تنہا لڑکیوں کے ساتھ کس طرح کے معاملات ہوتے ہیں ۔۔یہ ڈرامائی باتیں نہیں ہیں بہت سے واقعات اپنے اردگرد رونما ہوتے ہوئے دیکھے ہیں ۔۔

مانا کہ بہت سے گھرانوں میں بچوں کی مضبوط دینی تربیت کی جاتی ہے .۔ہر گھر کے بچے بدکردار نہیں ہوتے ۔۔۔
مگر ایسے نازک حالات میں جہاں معاشرے میں ہر طرف بے حیائی پھیلی ہوئی ہے ایسے میں آپ بچوں کو بے لگام چھوڑ کر یہ توقع رکھیں کے بچے نیک بنے رہیں گے اور نکاح کے بغیر اپنی خواہشات کو کنٹرول کرتے رہیں گے ۔۔۔یہ تو سراسر غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے ۔۔۔
اپنی بیٹی بیٹیوں کی جلد سے جلد شادی کا انتظام کریں ۔۔

ہمارے پیارے مذہب اسلام میں جلد نکاح کی ترغیب دینے میں بہت سی حکمتیں چھپی ہیں ۔۔سب سے بڑی حکمت جو نمایاں ہے وہ یہی ہے کہ انسان بدکاری سے محفوظ رہتا ہے ۔۔

06/05/2020

دیہاتوں میں چور عام طور پہ چوری کا ایک طریقہ اپناتے ہیں۔ وہ جس گھر میں چوری کا ارادہ کرتے ہیں اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں اور وہ دو تین بار وقفے وقفے سے ایسا کرتے ہیں۔ اگر گھر والوں کی طرف سے کوئی رد عمل آئے مثلا" کوئی زور سے کہے "کون ہے باہر!" یا پھر لائٹ کھل جائے یا پھر صحن میں کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا ارادہ ملتوی کردیتے ہیں۔
لیکن اس کے برعکس اگر ان چھوٹے چھوٹے پتھروں کے جواب میں کوئی ردعمل نہ آئے تو چور اب پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور نقب لگا کر چلے جاتے ہیں۔
اس مثال کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ختم نبوت کی شق ہٹانے، نہ ہٹانے، قادیانیوں کو کسی کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز یا پھر الفاظ کے معمولی ردوبدل کو آپ معمولی نہ سمجھیں کیونکہ یہ وہ پتھر ہیں جس سے چور وقتا" فوقتا" آپ کی بیداری کا اندازہ لگا رہا ہے۔ جیسے ہی آپ نے رد عمل دکھانا بند کیا یا کم کیا، اصل نقب لگادی جائے گی۔ اس لئے قادیانیوں اور ختم نبوت سے متعلق کسی بھی معاملے کو ہلکا نہ لیں اور نہ ہی کسی قسم کی مصلحت برداشت کریں۔

Address

Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923049392497

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Heaven Science Academy Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Heaven Science Academy Faisalabad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram