03/01/2026
سال کے اختتام پر انسان صرف دن اور مہینے نہیں گنتا، وہ چہرے یاد کرتا ہے… وہ دعائیں، وہ آہیں، وہ آنکھیں جن میں امید بجھنے کے قریب ہوتی ہے، اور وہ لمحے جب زندگی ایک بار پھر پلٹ
آتی ہے۔
میں نے مارچ 2025 میں جب شوکت خانم اسپتال سے واپس آ کر اپنے شہر فیصل آباد میں بطور ماہر متعدی امراض کے کام شروع کیا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ شہر مجھے طب سے بڑھ کر
انسانیت سکھا دے گا۔ فیصل آباد اور اس کے گرد و نواہ سے پیچیدہ انفیکشنز، ایچ آئی وی
ٹی بی، Syphilis, ہڈی جوڑ کے پیچیدہ انفیکشنز ، پیشاب، گردوں، جلد کے بگڑے ہوئے انفیکشنز، جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریوں، وبائی امراض ، منکی پاکس اور دیگر متعدی بیماریوں میں مبتلا مریض میرے پاس آنا شروع ہوئے — تھکے ہوئے، خوفزدہ، اور اکثر مایوسی کے آخری
کنارے پر کھڑے۔
میں کبھی واپس لاہور اور کبھی پاکستان سے باہر جانے کے لیے پر تول رہا تھا مگر جب میں نے کمزور، نحیف، بخار میں جلتے مریضوں کو گھنٹوں کے سفر طے کر کے اپنے پاس امید سے آتے دیکھا، صرف اس لیے کہ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے — تو مجھے احساس ہوا کہ کمائی اور کامیابی ہی شاید سب نہیں، لوگوں کے لیے امید بن جانا کامیابی ہے، مشکل وقت میں بطور معالج ان کا ہاتھ تھامے رکھنا اور اس کے بدلے دل سے نکلی بے لوث دعائیں لینا اصل کمائی ہے۔
متعدی امراض کا علاج محض دواؤں کا نام نہیں، سال ہا سال سے کیے گئے علاج کو، ایک ایک ٹیسٹ اور علامت سے ملا کے ایک تشخیص بنانے کا کام ہے، مشکل، وقت طلب اور تمام طبی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے۔ ہر دوا کے اثرات ہوتے ہیں، ہر علاج کے ساتھ آزمائش جڑی ہوتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان آزمائشوں کے باوجود مریض جینے کی خواہش نہ ہارے۔ زندگی صرف چلتی سانسوں کا نام نہیں — زندگی عزت کے ساتھ جینے کا نام ہے۔
میرے مریض زیادہ تر وہ لوگ تھے جو شہر اور گرد و نواہ کے تمام ماہر معالجین سے ہو کر میرے پاس آتے تھے تھکے ہوئے اور مایوس، میں نے ان کی بات سنی، ان کا خوف محسوس کیا، اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا، یہ مالی فائدے کا راستہ بھی نہیں تھا — مگر یہ انسان ہونے کا راستہ ضرور تھا۔
وقت کے ساتھ مریضوں نے جانا کہ جو معالج مشکل وقت میں ہاتھ تھام لے، وہی اصل معالج ہوتا ہے۔ اور یوں وہ لوگ جو مایوسی کے ساتھ آئے تھے، اپنے ہی شہر میں، اپنے ہی گھر کے قریب علاج پانے لگے۔
میری 2025 کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے مریض ٹھیک ہوئے —بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ مایوسی سے امید کی طرف لوٹے۔کتنے چہرے جو جھکے ہوئے تھے، دوبارہ مسکرانے لگے۔ میری کامیابی میرے HIV کے ایک مریض کی والدہ کے الفاظ ہیں کے اوپر اللّٰہ اور نیچے آپ ہیں جس نے میرے بچے کو بچایا، گردوں کے ساتھ psoas muscles سے لے کر gluteus muscles تک پھیلی ہوئی انفیکشن سے صحتیاب ہونے والی مریضہ نے جب مجھے یہ کہا کہ میں نے جینے کی امید چھوڑ دی تھی میرا بیٹا تم پھر سے مجھے زندگی کی طرف لے آئے اس وقت مجھے یقین ہو گیا کے میرا اپنے شہر میں رہنے کا فیصلہ درست تھا۔
اگر میں نے اس سال کسی ایک انسان کو بھی یہ یقین دلا دیا کہ “ابھی سب ختم نہیں ہوا”،تو میرا یہ سال کامیاب ہے۔
اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے، اور مجھ سے میری کمزوریوں کے باوجود یہ کام لیتا رہے۔ آمین۔