Infectious Diseases Consultant Dr Muhammad Arslan

Infectious Diseases Consultant Dr Muhammad Arslan Combat your infections with Infectious diseases Specialist trained from world renowned institutes I.e. Shaukat Khanum Memorial and Agha khan university
(1)

سال کے اختتام پر انسان صرف دن اور مہینے نہیں گنتا، وہ چہرے یاد کرتا ہے… وہ دعائیں، وہ آہیں، وہ آنکھیں جن میں امید بجھنے ...
03/01/2026

سال کے اختتام پر انسان صرف دن اور مہینے نہیں گنتا، وہ چہرے یاد کرتا ہے… وہ دعائیں، وہ آہیں، وہ آنکھیں جن میں امید بجھنے کے قریب ہوتی ہے، اور وہ لمحے جب زندگی ایک بار پھر پلٹ
آتی ہے۔

میں نے مارچ 2025 میں جب شوکت خانم اسپتال سے واپس آ کر اپنے شہر فیصل آباد میں بطور ماہر متعدی امراض کے کام شروع کیا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ شہر مجھے طب سے بڑھ کر
انسانیت سکھا دے گا۔ فیصل آباد اور اس کے گرد و نواہ سے پیچیدہ انفیکشنز، ایچ آئی وی
ٹی بی، Syphilis, ہڈی جوڑ کے پیچیدہ انفیکشنز ، پیشاب، گردوں، جلد کے بگڑے ہوئے انفیکشنز، جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریوں، وبائی امراض ، منکی پاکس اور دیگر متعدی بیماریوں میں مبتلا مریض میرے پاس آنا شروع ہوئے — تھکے ہوئے، خوفزدہ، اور اکثر مایوسی کے آخری
کنارے پر کھڑے۔

میں کبھی واپس لاہور اور کبھی پاکستان سے باہر جانے کے لیے پر تول رہا تھا مگر جب میں نے کمزور، نحیف، بخار میں جلتے مریضوں کو گھنٹوں کے سفر طے کر کے اپنے پاس امید سے آتے دیکھا، صرف اس لیے کہ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے — تو مجھے احساس ہوا کہ کمائی اور کامیابی ہی شاید سب نہیں، لوگوں کے لیے امید بن جانا کامیابی ہے، مشکل وقت میں بطور معالج ان کا ہاتھ تھامے رکھنا اور اس کے بدلے دل سے نکلی بے لوث دعائیں لینا اصل کمائی ہے۔

متعدی امراض کا علاج محض دواؤں کا نام نہیں، سال ہا سال سے کیے گئے علاج کو، ایک ایک ٹیسٹ اور علامت سے ملا کے ایک تشخیص بنانے کا کام ہے، مشکل، وقت طلب اور تمام طبی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے۔ ہر دوا کے اثرات ہوتے ہیں، ہر علاج کے ساتھ آزمائش جڑی ہوتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان آزمائشوں کے باوجود مریض جینے کی خواہش نہ ہارے۔ زندگی صرف چلتی سانسوں کا نام نہیں — زندگی عزت کے ساتھ جینے کا نام ہے۔

میرے مریض زیادہ تر وہ لوگ تھے جو شہر اور گرد و نواہ کے تمام ماہر معالجین سے ہو کر میرے پاس آتے تھے تھکے ہوئے اور مایوس، میں نے ان کی بات سنی، ان کا خوف محسوس کیا، اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا، یہ مالی فائدے کا راستہ بھی نہیں تھا — مگر یہ انسان ہونے کا راستہ ضرور تھا۔

وقت کے ساتھ مریضوں نے جانا کہ جو معالج مشکل وقت میں ہاتھ تھام لے، وہی اصل معالج ہوتا ہے۔ اور یوں وہ لوگ جو مایوسی کے ساتھ آئے تھے، اپنے ہی شہر میں، اپنے ہی گھر کے قریب علاج پانے لگے۔

میری 2025 کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے مریض ٹھیک ہوئے —بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ مایوسی سے امید کی طرف لوٹے۔کتنے چہرے جو جھکے ہوئے تھے، دوبارہ مسکرانے لگے۔ میری کامیابی میرے HIV کے ایک مریض کی والدہ کے الفاظ ہیں کے اوپر اللّٰہ اور نیچے آپ ہیں جس نے میرے بچے کو بچایا، گردوں کے ساتھ psoas muscles سے لے کر gluteus muscles تک پھیلی ہوئی انفیکشن سے صحتیاب ہونے والی مریضہ نے جب مجھے یہ کہا کہ میں نے جینے کی امید چھوڑ دی تھی میرا بیٹا تم پھر سے مجھے زندگی کی طرف لے آئے اس وقت مجھے یقین ہو گیا کے میرا اپنے شہر میں رہنے کا فیصلہ درست تھا۔

اگر میں نے اس سال کسی ایک انسان کو بھی یہ یقین دلا دیا کہ “ابھی سب ختم نہیں ہوا”،تو میرا یہ سال کامیاب ہے۔

اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے، اور مجھ سے میری کمزوریوں کے باوجود یہ کام لیتا رہے۔ آمین۔

15/11/2025
🌟 ہمت، ثابت قدمی اور درست علاج کی طاقت—ایک کہانی 🌟اس سال کے آغاز میں ایک نوجوان طالب علم میری کلینک میں داخل ہوا—نہایت ت...
15/11/2025

🌟 ہمت، ثابت قدمی اور درست علاج کی طاقت—ایک کہانی 🌟

اس سال کے آغاز میں ایک نوجوان طالب علم میری کلینک میں داخل ہوا—نہایت تھکا ہوا، کمزور اور تقریباً بے امید۔ وہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے غلط علاج اور غفلت کا شکار رہا تھا۔ جب وہ میرے پاس پہنچا تو وہ مسلسل بخار، بلغم والی کھانسی، تیزی سے وزن میں کمی اور شدید انفیکشنز—بشمول P*P نمونیا اور اس پر مستزاد Pseudomonas انفیکشن—کا سامنا کر رہا تھا۔

مکمل جائزے کے بعد یہ واضح ہوا کہ وہ کلینیکل، امیونولوجیکل اور وائرولوجیکل ناکامی کا شکار ہو چکا تھا۔ اسے فوری طور پر دوسری لائن اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی پر منتقل کرنے کی ضرورت تھی، لیکن یہ راستہ آسان نہ تھا۔ ہمیں مقامی مراکز کی شدید مزاحمت کا سامنا تھا—مگر ہار ماننا ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔

میں نے ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹایا، اعلیٰ حکام سے رابطے کیے اور اس وقت تک جدوجہد جاری رکھی جب تک ضروری ادویات کا انتظام نہیں ہو گیا۔ میں دل سے PACP لاہور کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور بروقت علاج کی فراہمی یقینی بنائی۔

پھر ایک فیصلہ کن لمحہ آیا۔

صرف ایک ماہ میں مناسب ARV ریجیم شروع کرنے کے بعد اس کا وائرل لوڈ 16,500 سے کم ہو کر تقریباً 1,000 تک آ گیا۔ اس کی CD4 تعداد بہتر ہونے لگی، جسم میں طاقت واپس آنے لگی اور اس کے ساتھ وہ چیز بھی لوٹ آئی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی—امید۔

آج وہ اپنی زندگی دوبارہ حاصل کرنے کے راستے پر ہے—صحت مند، باوقار اور امکانات سے بھرپور۔

یہ سفر یاد دلاتا ہے کہ بروقت اقدام، ہمدردانہ نگہداشت اور علاج تک منصفانہ رسائی زندگی بدل سکتی ہے۔
HIV کے ساتھ لڑنے والا کوئی بھی شخص کبھی خود کو تنہا یا نظرانداز شدہ محسوس نہ کرے

🌟 A Story of Courage, Resilience, and the Power of Proper Care 🌟Earlier this year, a young student walked into my clinic...
15/11/2025

🌟 A Story of Courage, Resilience, and the Power of Proper Care 🌟

Earlier this year, a young student walked into my clinic—exhausted, frail, and nearly out of hope. He had been mistreated and neglected in his HIV care for more than 3.5 years, and by the time he reached me, he was battling unresolving fevers, a productive cough, significant weight loss, and severe opportunistic infections, including P*P pneumonia with a superadded Pseudomonas infection.

After a thorough evaluation, it was clear that he had suffered clinical, immunological, and virological failure. He desperately needed to be switched to 2nd-line antiretroviral therapy, yet the path forward wasn’t easy. We faced immense resistance from local centers, but giving up was never an option.

I reached out to every channel available, contacted higher authorities, and pushed until the necessary medications could be arranged. I am deeply grateful to PACP Lahore for listening, understanding the urgency, and ensuring timely access to the treatment he required.

And then came the turning point.

Within just one month of starting the appropriate ARV regimen, his viral load dropped from 16,500 to nearly 1,000. His CD4 count improved, his strength began to return, and with it came something even more powerful—his hope.

Today, he is on the road to reclaiming the life he deserves: healthy, dignified, and full of possibility.

This journey is a reminder that timely intervention, compassionate care, and equitable access to treatment can change lives. No one battling HIV should ever feel abandoned or unheard.

For the first time in Faisalabad, Clinic of Infectious Diseases
29/10/2025

For the first time in Faisalabad, Clinic of Infectious Diseases

Address

Shifa International Hospital
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Infectious Diseases Consultant Dr Muhammad Arslan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share