27/10/2025
گلگتی عطائی – ایک خاموش قاتل
گلگت بلتستان، جہاں تعلیم کی شرح 95 فیصد بتائی جاتی ہے، وہاں ایک تلخ سچ یہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے معاملے میں حیرت انگیز طور پر لاپرواہ ہیں۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں پہاڑوں سے بھی مضبوط لوگ بستے ہیں، مگر افسوس ۔۔۔ بیماری آتے ہی ان کی پہلی منزل ڈاکٹر نہیں، عطائی ہوتا ہے۔
جٹیال، دنیور، نومل ہر علاقے میں "ڈرپ کلچر" عام ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ جب تک عطائی کی ڈرپ نہ لگ جائے، تب تک بیماری نہیں جاتی۔
اور یہ عطائی؟ اکثر حاضر سروس ڈسپنسر یا او ٹی ٹیکنیشن ہوتے ہیں، جو اسپتال میں ڈیوٹی ختم کر کے شام کو "کلینک" کھول لیتے ہیں۔
نہ بیماری کی پہچان، نہ دوائی کا علم۔ بس تجربے کے نام پر اندھا کام۔
حالیہ دنوں دنیور کے ایک مشہور عطائی (جو اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر بھی لگاتا ہے) نے ایک بچی کو زیادہ دوائی دے دی ک جس سے اس بچی کے گردے فیل ہوگئے اور وہ زندگی بھر ڈائلاسسز کنے پر مجبور ہے۔
جٹیال میں ایک عطائی نے فالج کی غلط تشخیص کی مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
دنیور کا ہی واقعہ ہے کہ مشہور زمانہ عطائی نے سمجھا کہ اپینڈکس کی سوزش کوئی معمولی بات ہے — نتیجہ؟ بچے کی آنت پھٹ گئی۔
نومل کا ایک مریض سینے کی تکلیف کے لیے سانس کی دوائیاں لیتا رہا، مگر اصل میں وہ ہارٹ اٹیک تھا۔
جب تک اسپتال پہنچا، دل کا صرف 20 فیصد حصہ کام کر رہا تھا۔
یہ وہ چند کہانیاں ہیں جو سامنے آئیں۔
سوچو، کتنے لوگ خاموشی سے ان کے ہاتھوں برباد ہو چکے ہوں گے۔
کتنی مائیں اپنی اولاد کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑتی ہیں۔
کتنے نوجوان ایک غلط انجکشن سے اپاہج ہو گئے ہوں گے۔
ذرا سوچو، صرف اس لیے کہ ہم نے وقت پر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری نہیں سمجھا۔
زندگی ایک ہی ہے۔
ایک غلط فیصلہ، ایک غلط ڈرپ — اور سب ختم۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی ہوش میں آئیں، اور دوسروں کو بھی سمجھائیں۔
اور حکومت سے اپیل ہے کہ ان عطائیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے، تاکہ مزید زندگیاں ان کے ہاتھوں ضائع نہ ہوں۔
Deputy Commissioner, Gilgit Commissioner Gilgit Division DG Health GB updates Gilgit Media Network Shaheed Saif-Ur-Rahman Government Teaching Hospital Gilgit Assistant commissioner /SDM/Administrator MC Gilgit YDA Gilgit Baltistan