02/02/2026
🫀 گلگت بلتستان میں دل کے امراض: نمک، خاموش دشمن
گلگت بلتستان، جو کبھی اپنی صاف فضا، قدرتی غذا اور سادہ طرزِ زندگی کی وجہ سے صحت مند علاقوں میں شمار ہوتا تھا، آج ایک خطرناک تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک اب گلگت میں غیر معمولی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ امراض ہر گھر میں اب عام ہو چکے ہیں۔
اس بحران کی کئی وجوہات ہیں، مگر ایک وجہ سب سے زیادہ نظر انداز کی جا رہی ہے:
نمک کا حد سے زیادہ استعمال۔
طبی ماہرین کے مطابق ایک بالغ انسان کے لیے پورے دن میں زیادہ سے زیادہ 5 سے 5.75 گرام نمک کافی ہوتا ہے، یعنی تقریباً ایک چائے کا چمچ۔
حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف ایک کھانے میں ہی اس سے زیادہ نمک استعمال کر لیتے ہیں۔
عمر کے حساب سے نمک کی محفوظ مقدار یہ ہے:
1 سے 3 سال کے بچوں کیلئے: تقریباً 2.5 گرام نمک
4 سے 8 سال: 3.5 گرام نمک
9 سے 13 سال: 5 گرام نمک
14 سال اور اس سے زائد (بالغ افراد): زیادہ سے زیادہ 5.75 گرام نمک روزانہ
یہ مقدار صرف وہ نمک نہیں جو ہم چمچ سے ڈالتے ہیں، بلکہ اس میں وہ پوشیدہ نمک بھی شامل ہے جو اچار، نمکو، پیکٹ والے اسنیکس، فاسٹ فوڈ، نان، بسکٹ اور بازاری کھانوں میں پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔
زیادہ نمک کا سب سے پہلا اثر ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں سامنے آتا ہے، اور ہائی بلڈ پریشر ہی دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی کی بنیادی وجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بیماری اکثر بغیر کسی علامت کے رہتی ہے، اسی لیے اسے “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے۔
گلگت کے سرد موسم میں جسمانی سرگرمی کم ہو جانا، نمکین اور محفوظ (preserved) غذاؤں کا زیادہ استعمال، اور بازار کے تیار کھانوں پر بڑھتا ہوا انحصار، یہ سب عوامل مل کر دل کے امراض کو بڑھا رہے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے بزرگ کم بیمار کیوں تھے؟
اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے دل مضبوط تھے، بلکہ اس لیے کہ:
ان کی خوراک سادہ تھی
نمک کم تھا
اور جسمانی مشقت زیادہ تھی
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر فیصلہ کریں کہ نمک کم کرنا ہے۔
یہ ایک چھوٹا قدم ہے، مگر اس کا اثر بہت بڑا ہے۔
اگر ہم آج نمک کم کریں گے، تو کل:
دل کے دورے کم ہوں گے
فالج کے کیسز کم ہوں گے
نوجوان عمریں محفوظ ہوں گی
نمک کم کریں — زندگی بچائیں۔
یہ صرف نصیحت نہیں، ایک طبی حقیقت ہے۔