Dr. Maqsood sugar wellness center.

Diabetes is a silent killer. Your knowledge of the disease is a shield against the complications of the disease. We will be able to provide you with the best possible solution for your queries

diabetes is a silent killer every patient diagnosed for type 2 diabetes mellitus should be screened for accompanied complications on day one

Operating as usual

youtube.com 29/10/2020

message on world diabetes DAY

Please listen till end

youtube.com Video from Dr.Maqsood Mehmood

17/08/2020
08/06/2020

تعلیم القرآن

تلاوت القرآن الکريم
شيخ قاري سديس

24/05/2020

عید مبارک

[05/22/20]   GLYCEMIC INDEX ( very important to understand)

The Glycemic Index (GI) is a relative ranking of carbohydrate (نشاستہ)in foods according to how they affect blood glucose levels. Carbohydrates with a LOW GI value (55 or less) are more SLOWLY digested, absorbed and metabolised and cause a LOWER and SLOWER rise in BLOOD GLUCOSE .
Examples
چکی کا آٹا
جو کا آٹا
دودھ بغیر چینی اور بلائی
لوبیا
جو کا دلیا

02/05/2020

How to deal with your sugar

02/05/2020

Rozay say hum Kiya hasil kar saktay hain. Please watch till end.

29/04/2020

Rozay ki halat main sugar check ki ja sakti hay

28/04/2020
25/04/2020

Sugar kay mareez aur ramzan ki sehri

25/04/2020

Sugar ka mareez aur roza

02/04/2020

اللہ تعالی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے تو ھمیں محسوس کیوں نہیں ھوتا

31/03/2020

Continue your medicine

26/03/2020

Keep taking your medicines, don't stop your medication without asking your doctor

19/03/2020

Protect your self

17/03/2020

Hypoglycemia symptoms and treatment

16/03/2020

Types of diabetes

12/03/2020

[02/11/20]   ذیابطیس کے مریض کب گردوں کی خرابی کا شکار ہو تے ہیں??





ذیابطیس کے مریض عموماََ دس سال سے بیس سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔خون میں شوگر کے نامناسب کنٹرول کی وجہ سے خون کی نالیوں میں تنگی آنا شروع ہو جاتی ہے اور آنکھ ، گردہ ، دماغ اور دل وغیرہ پر خون کی مناسب مقدار پہنچ نہیں پاتی ہے جس کی وجہ سے وہ عضو ختم ہو جاتا ہے ۔

عام طور پر آنکھ کی بینائی متاثر ہوتی ہے اس کے بعد گردے بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ لہذا شوگر کے مریضوں کو اپنی ذیابطیس بہت ہی مناسب حد تک کنٹرول میں رکھنی چاہیئے تاکہ جسم کے مختلف حصے اس کی وجہ سے خراب نہ ہو۔

جبکہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ گردے فیل ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔ ہائی بلڈ پریشر کو چونکہ خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جس کی اہم علامات بظاہر نہیں ہوتی ہیں لہذا ہر فرد کو کم از کم یا دو مہینے میں ایک دفعہ لازمی اپنا بلڈ پریشر چیک کر وانا چاہیئے ۔



گردوں میں خرابی کی ایک وجہ فضائی آلودگی بھی ہے ۔ تحقیق کے مطابق فضاء میں موجود تیل اور گیس کے جلنے سے خطرناک عنصر کیڈیم پیدا ہوتا ہے جو کہ گردوں کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور تمبا کو نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں کیڈیم بہت تیزی سے اپنا اثر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے ۔

پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ 2 کڑور سے زائد افراد گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہر

سال پچاس ہزار افراد گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔



گردے انسانی جسم کا ایک بے حد لازمی جزو ہے جو خون کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی طور پر بھی خون کو متوازن رکھتا ہے ۔ گردے ہر روز تقریباََ انسانی جسم میں 200 ملی لیٹر خون اور 2 ملی لیٹر فاصل اجزاء اور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں ۔ اور اگر گردے یہ اجزاء بروقت اور درست طریقے سے جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میںرہ کر جسم کے اندرونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اور جسم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ گردے انسانی جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے خون سے زہریلے اور فاصل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کی بروقت اور درست تشخیص نہ ہونے کے سبب گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسسز یا گردوں کی پیوندکاری کی نوبت ہو جاتی ہے ۔

[02/08/20]   ہائپو گلایسیمیا (خون میں گلوکوزکم ہو جانا ) کی وجوہات کیا ہیں؟

ہائپو گلایسیمیا اس کیفیت کو کہتے ہیں جو خون میں گلوکوز کی سطح بہت گر جانے پر پیش آتی ہے، بالعموم
سے کم گلوکوز پر، تاہم اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے
۔ ہائپو گلایسیمیا کا جلد علاج بہت ضروری ہے تاکہ خون میں گلوکوز کی سطح اور بھی کم نہ ہو جاۓ۔
اس کیفیت کو عام طور پر ’ہائپو‘، بلڈ گلوکوز کی کمی یا انسولین ری ایکشن بھی کہا جاتا ہے۔

ہائپو گلایسیمیا کی بڑی بڑی وجوہ کیا ہیں؟



ہائپو گلایسیمیا مندرجہ ذیل واقعات میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ کے سبب پیش آ سکتا ہے:
کھانے میں تاخیر ہو جاۓ یا کھانا نہ کھانے پر
کافی کاربوہائیڈریٹ )نشاستہ دار غذا( نہ کھانا
بغیر منصوبہ بندی کے ورزش
معمول سے بڑھ کر سخت ورزش
ضرورت سے زیادہ انسولین یا ذیابیطس کی گولیاں لینا ّ
اگرچہ یہ ہائپو گلایسیمیا کی معروف وجوہ ہیں،
بہت سے کیسوں میں کوئی معینہ وجہ معلوم نہیں ہو پاتی۔

اس کی علامات کیا ہیں؟



اگرچہ مختلف افراد کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، عام طور پر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں
کمزوری،
کپکپی یا جھٹکے لگنا
پسینہ آنا
توازن یا ہوش درست نہ محسوس کرنا
سر درد
توجہ برقرار نہ رکھ پانا/
رویّے میں تبدیلی
چکر آنا
آنکھیں بھر آنا/رونا
چڑچڑا پن
ّ ہونٹوں کے گرد اور انگلیوں میں حس کھو دینا
بھوک
اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی علامات کا احساس ہو اور اگر وقت اور حالات اجازت دیتے ہوں تو اپنے خون میں ّ گلوکوز کی سطح چیک کریں۔
اگر گلوکوز چیک کرنا ممکن نہ ہو تو احتیاط کے طور پر اپنی کیفیت کو ’ہائپو‘ تصور کریں اور اس کا علاج کریں۔

’ہائپو‘ کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟



سب سے پہلے تو یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ محفوظ ہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ گاڑی چال رہے ہیں تو سڑک سے اتر کر کنارے پر گاڑی روک لیں۔ پھر:
اقدام 1 –
سب سے اہم!
آسانی سے جسم میں جذب ہونے والی کوئی کاربوہائیڈریٹ کھائیں جیسے
: گلوکوز کی گولیاں جو 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کے برابر ہوں یا 6-7 جیلی بینز یا
½کین) ڈبہ( ریگولر سافٹ ڈرنک )’ڈائیٹ‘ نہیں
( یا 3
چاۓ کے چمچے چینی یا شہد یا
1/2 گلاس پھل کا جوس
اقدام 2
اگر آپ کے اگلے کھانے میں 20 منٹ سے زیادہ وقت ہے تو آپ کیلئے کوئی ایسی کاربوہائیڈریٹ کھانا ضروری ہے جس
کا اثر زیادہ دیر رہتا ہے۔ یہ مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک چیز ہو سکتی ہے:
ڈبل روٹی کا ایک سلائس یا 1
گلاس دودھ یا سویا ملک یا 1
خشک خوبانیاں، انجیریں یا دوسرا خشک پھل یا 2-3
عدد پھل یا 1
ٹب کم چکنائی والا سادہ دہی
اپنی انفرادی صورتحال کے حوالے سے مزید مشورہ حاصل کرنے کیلئے براہ مہربانی ذیابیطس کے سلسلے میں اپنی دیکھ بھال کرنے والے طبی ماہر سے بات کریں۔

’ہائپو‘ کا فوری علاج کرنا اہم ہے تاکہ آپ کے خون میں گلوکوز کی سطح کو مزید گرنے سے روکا جاے

اگر علاج نہ کیا جاۓ تو کیا ہوتا ہے؟



اگر جلد علاج نہ کیا جاۓ تو خون میں گلوکوز کی سطح مزید گرتی رہنا ممکن ہے جس کے نتیجے میں یہ صورتیں پیش آ سکتی ہیں:
حرکات میں ربط کھو بیٹھنا
کنفیوژن )
پریشانی(
< غیر واضح بولنا
بیہوشی/دورہ پڑنا
آپ کو دوسروں کی مدد کی ضرورت ہو گی!
اگر ذیابیطس کا مریض بیہوش ہو، غنودگی میں ہو یا نگلنے کے قابل نہ ہو تو کیا کیا جاۓ:
یہ ایک ایمرجنسی ہے! مریض کو منہ کے راستے کوئی کھانے یا پینے کی چیز ہرگز نہ دیں۔
یہ کرنا ضروری ہے:
اس شخص کو پہلو پر لٹا دیں اور یقینی بنائیں کہ سانس لینے کا راستہ کھلا رہے۔ اگر
Glucagon
انجیکشن مہیا ہو اور آپ نے یہ انجیکشن لگانے کی تربیت حاصل کی ہو تو انجیکشن لگائیں۔
ایمبولینس منگانے کیلئے فون کریں ( اور بتائیں کہ ’emergency diabetic
( ’ڈائبیٹک ایمرجنسی( ہے
۔ ایمبولینس کے پہنچنے تک اس شخص کے ساتھ رہیں۔
جب وہ شخص ہوش میں آ جاۓ تو اسے اپنے خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رکھنے کیلئے کاربوہائیڈریٹ کی ضرورت ہو گی۔

اس کے علاوہ مجھے اور کیا کرنا چاہیئے؟



ایسی نشانی پہنیں جس سے پتہ چلتا ہو کہ آپ کو ذیابیطس ہے۔
جب بھی آپ کو ’ہائپو‘ ہو، اپنی مانٹیرنگ بک میں نوٹ کر لیں اور اگلی مرتبہ ڈاکٹر یا ڈائبیٹیز ایجوکیٹر سے ملاقات کے موقع پر اس معاملے پر بات کریں۔
یہ یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر والوں، دوستوں، ساتھی کارکنوں، سکول کے عملے اور دیکھ بھال کرنے والوں کو پتہ ہو کہ ہائپو گلایسیمیا کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے اور علاج کیسے کرنا ہے۔
خود کو ’ہائپو‘ ہونے کی وجہ تلاش کریں تاکہ آپ دوبارہ ایسی صورتحال پیش آنے سے بچنے کی کوشش کر سکیں۔
اگر آپ کو اکثر ’ہائپو‘ ہوتا ہو تو اپنے ڈاکٹر یا ڈائبیٹیز ایجوکیٹر سے رابطہ کریں۔
اگر آپ انسولین یا بعض مخصوص قسموں کی ذیابیطس کی ادویات لے رہے ہوں تو جلد اثر دکھانے والا ’ہائپو‘
کا علاج ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں۔

[02/05/20]   دس ٹیسٹ جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہیں

۔



٦۔ پیروں کا معاینہ؛سال میں ایک بار
شوکر کی وجہ سے مریضوں میں خون کی گردش ٹھیک نہیں رہتی اور اعصابی نظام میں خلل پیدا ہو جاتا ہے جو پیروں کے سن ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ اپنے پاوٴں کا ڈاکٹر سے معاینہ کرانے کے علاوہ خود بھی باقاعد گی سے جائزہ لیتےرہیں کہ کویٴ زخم تو نہیں یا کوی تبدیلی تو ظاہرنہیں ہورہی۔ اس طرح آپ اپنے پیروں کو پیچیدگیوں سے بچا سکتے ہیں۔

۷۔دانتوں کا معاینہ؛ چھ ماہ بعد

اگر شوگر کنٹرول میں نہ رکھی جاےٴ تو خون میں موجود سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ سفید خلیے جراثیمی انفیکشن کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے منہ کی دیکھ بھال نہیں کرتے تو مسوڑھوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

۸۔مایکروایلبیومِنوریا ٹیسٹ؛ سال میں ایک بار
یہ پیشاب کا ٹیسٹ ہے جس سے پیشاب میں موجود پروٹین کی مقدار کا پتہ چلتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ گردے کی تکلیفوں کا شکار ہیں یا نہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو گردے کی بیماری ہوجانےکا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اگر وقت پر تشخیص ہو جاےٴ تو بیماری کا علاج ہو سکتا ہے یا ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

۹۔ بی۔ایم۔آی
جسم کا وزن قد کے حساب سے مناسب ہونا ضروری ہے۔ اگر قد کے حساب سے وزن زیادہ ہو تو موٹاپا ہو جاتا ہے۔ موٹاپا ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ،اگرذیابیطس کا مریض اپنا وزن قد کے حساب سے مناسب رکھے تو ذیابیطس پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

١۰۔اعصابی نظام کا معاینہ؛ سال میں ایک بار
ذیابیطس کے مریض میں خون کی گردش کا نظا م ناقص ہوجاتا ہے جس سے اعصابی کمزوری پیدا ہوتی ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایں کہ آپ کےاعصابی نظام کا مکمل معاینہ ہو تاکہ جسم کے ان حصوں کی نشاندہی ہو سکےجو اعصابی درد یا کسی پیچیدگی کا شکار ہیں

[02/05/20]   دس ٹیسٹ جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہیں

دس ٹیسٹ جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہیں

١۔اپنی شوگر خود چیک کریں یا کسی سے چیک کروایں؛ دن میں ایک مرتبہ یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق

شوگر کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدگی سے شوگر چیک کرنا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ سے ہمیں خون میں موجود شوگر کی مقدار کا پتہ چلتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے آپ جان جایں گے کہ دوا یا انسولین کتنی مقدار میں لینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ کس قسم کی خوراک آپ کے لیے ضروری ہے۔

۲۔ ہیمو گلوبنA1c ٹیسٹ؛ ہر چھ ماہ بعد
اس ٹیسٹ سے ہمیں ایک مخصوص مدت میں خون میں موجود شوگر کی اوسط مقدار کا پتہ چلتا ہے۔یہ ٹیسٹ روزانہ شوگر چیک کرنے کی نسبت آپ کو زیادہ معلومات فراہم کرے گا۔

۳۔ بلڈ پریشر؛ جب بھی آپ ڈاکٹر کے پاس جایں اپنا بلڈ پریشر چیک کروایں
اونچے درجے کا بلڈ پریشر خون کی شریانوں کو اسی طرح نقصان پہنچاسکتا ہے جس طرح خون میں شوگر کی زیادتی۔ہای بلڈ پریشر کے نتیجے میں خون کی جن نالیوں کے بارے میں سب سے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت ہے وہ آنکھوں کی خون کی نالیاں ہیں جو کہ شوگر کی وجہ سے پہلے سے ہی متاثر ہوسکتی ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنا بلڈ پریشر ۸۰/١۳۰سےنیچے رکھیں تاکہ مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں اور دل کی بیماری کا خطرہ نہ بڑہے۔

۴۔ لِیپِڈ پروفایل؛ lipid profile سال میں ایک بار
یہ خون کا ٹیسٹ ہے جس سے کو لیسٹرول اور ٹرائی گلیسیرایڈز کی مقدار کا پتہ چلتا ہے۔ ایچ ڈی ایل اچھا کولیسٹرول ہے جو دل کی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایل ڈی ایل برا کولیسٹرول ہے جو دل کے لیے نقصان دہ ہے۔ ٹرائی گلیسیرایڈز خون میں چکنائی کی ایک اور قسم ہے جس کی پیمایش اس ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔

۵۔ آنکھوں کا معاینہ؛ سال میں ایک بار
شوگر کے مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ اپنی آنکھوں کا تفصیلی معاینہ ضرور کروایںٴ ۔ ذیابیطس کے مریض آنکھ کے پردے کی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بیماری اس وقت ہو جاتی ہے جب آنکھ کے پردے کی رگوں میں تبدیلی آجاتی ہے؛ آنکھوں سے پانی بہنےلگتا ہے یا رگیں مکمل طور پر بند ہو جاتی ہیں۔ اگر وقت پر پتہ چل جاے تو اس بیماری کا علاج ممکن ہے لہذا اپنی آنکھوں کا باقاعدگی سے معاینہ کرواتے رہیں۔

[02/05/20]   پیروں کا معاینہ؛سال میں ایک بار
شوکر کی وجہ سے مریضوں میں خون کی گردش ٹھیک نہیں رہتی اور اعصابی نظام میں خلل پیدا ہو جاتا ہے جو پیروں کے سن ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ اپنے پاوٴں کا ڈاکٹر سے معاینہ کرانے کے علاوہ خود بھی باقاعد گی سے جائزہ لیتےرہیں کہ کویٴ زخم تو نہیں یا کوی تبدیلی تو ظاہرنہیں ہورہی۔ اس طرح آپ اپنے پیروں کو پیچیدگیوں سے بچا سکتے ہیں۔

۷۔دانتوں کا معاینہ؛ چھ ماہ بعد

اگر شوگر کنٹرول میں نہ رکھی جاےٴ تو خون میں موجود سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ سفید خلیے جراثیمی انفیکشن کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے منہ کی دیکھ بھال نہیں کرتے تو مسوڑھوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

۸۔مایکروایلبیومِنوریا ٹیسٹ؛ سال میں ایک بار
یہ پیشاب کا ٹیسٹ ہے جس سے پیشاب میں موجود پروٹین کی مقدار کا پتہ چلتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ گردے کی تکلیفوں کا شکار ہیں یا نہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو گردے کی بیماری ہوجانےکا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اگر وقت پر تشخیص ہو جاےٴ تو بیماری کا علاج ہو سکتا ہے یا ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

۹۔ بی۔ایم۔آی
جسم کا وزن قد کے حساب سے مناسب ہونا ضروری ہے۔ اگر قد کے حساب سے وزن زیادہ ہو تو موٹاپا ہو جاتا ہے۔ موٹاپا ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ،اگرذیابیطس کا مریض اپنا وزن قد کے حساب سے مناسب رکھے تو ذیابیطس پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

١۰۔اعصابی نظام کا معاینہ؛ سال میں ایک بار
ذیابیطس کے مریض میں خون کی گردش کا نظا م ناقص ہوجاتا ہے جس سے اعصابی کمزوری پیدا ہوتی ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایں کہ آپ کےاعصابی نظام کا مکمل معاینہ ہو تاکہ جسم کے ان حصوں کی نشاندہی ہو سکےجو اعصابی درد یا کسی پیچیدگی کا شکار ہیں

04/02/2020

[02/04/20]   السلام علیلم۔ گروپ میں اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ اپنی صحت کی جانچ کے لیے سالانہ کونسے ٹیسٹ کروانے چاہییں۔ اس سلسلے میں درج ذیل ٹیسٹ امپورٹنٹ ہیں۔
1۔ CBC. (کمپلیٹ بلڈ کاونٹ)۔ یہ خون میں موجود مختلف خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز آور وائٹ بلڈ سیلز کی تمام اقسام اور پلیٹ لیٹس کی تعداد اور خون میں موجود ہیموگلوبن کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ خون میں ہیموگلوبن کی کمی مطلب اینمیا کا شکار ہیں (جسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے) یا جسم میں کوئی انفیکشن یا الرجک پروسیس چل رہا ہے تو اس ٹیسٹ سے پتہ چل جاتا ہے۔
2۔ LFTs (لیور فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ جگر کا ٹیسٹ ہے۔ جس میں جگر کے نارمل کام کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے خون میں بلی ریوبن اور کچھ اینزائمز کو جانچا جاتا ہے۔ بلی ریوبن ایک مادہ ہے جو کہ ہمارے خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے اور جگر اس کو جسم سے صاف کرنے کے لیے دیگر کچھ مادوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور پھر یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے نارمل فنکشن میں کوئی خرابی ہو تو بلی ریوبن کی مقدار خون میں ایک مخصوص ویلیو سے بڑھ جاتی ہے۔
3۔ RFTs (رینل فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ گردوں کی جانچ کا ٹیسٹ ہے۔ اس میں خون میں موجود یوریا اور کریٹینن کو جانچا جاتا ہے اور اگر ان کی مقدار ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو تو یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے
4۔ Lipid profile Test. یہ جسم میں موجود مختلف طرح کے لپڈز کی جانچ کرتا ہے یعنی کولیسٹرول ، ہائی ڈینسٹی لائیپو پروٹینز اور لو ڈینسٹی لائیپو پروٹینز۔ جن افراد کی فیملی ہسٹری میں دل کے امراض ہوں ان کو (خاص طور پر مرد حضرات کو) یہ ٹیسٹ سال میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ لپڈز لیول میں اگر تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو تو آپ ابتدائی لیول پر اس کی جانچ کر کے اپنی خوراک میں تبدیلی اور ورزش کو روٹین کا حصہ بنا کر دل کے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مردوں میں دل کے امراض کا تناسب زیادہ ہے۔ لہذا سب مرد حضرات کو بیس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور جن کے ماں باپ میں سے کسی کو دل کا مرض ہے تو وہ سالانہ یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
5۔ BSL. ( بلڈ شوگر لیول )۔ HbA1c یہ ٹیسٹ خون میں موجود گلوکوز کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں ڈایا بٹیز (شوگر) کی بیماری ہے تو سالانہ اپنا یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں
6۔ Stool test . ترقی یافتہ ممالک میں ہر چھ ماہ بعد سکریننگ ٹیسٹ میں یہ بھی کیا جاتا ہے۔ کولون اور ریکٹم کے مختلف امراض خصوصا کینسر کو جلدی پکڑنے کے لیے یہ ٹیسٹ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ٹیسٹ میں سٹول سیمپل کی مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں خون ، پس یا کوئی اور ایبنارمل مادہ تو موجود نہیں ہے۔
7۔ Urine complete examinatiom۔ اس ٹیسٹ میں یورین کی مکمل مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں بیکٹریا ، خون ، پس یا کرسٹلز وغیرہ تو موجود نہیں۔۔یہ ٹیسٹ یورینری ٹریکٹ کی بیماریوں کی جانچ کے لیے ضروری ہے
8. تھایرایڈ ٹیسٹ.

[01/26/20]   اگر لفظ ذیابیطس کی بات کریں تو عموما ہمارے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ "شوگر زیادہ ہوگی اور میٹھا نہیں کھا سکتے" یہ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم شوگر کا صرف ایک ہی پہلو دیکھتے ہیں یعنی شوگر کی خون میں زیادتی)جسے "ہیپر گلائیسیمیا" کہتے ہیں۔
لیکن کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک لفظ "ہائپو گلائیسیمیا" بھی ہوتا جسے عام لفظوں میں "خون میں گلوکوز/ شوگر کی کمی" کہیں گے۔

شوگر کے کم ہوجانے سے ہمارا جسم نارمل کام نہیں کرسکتا کیوں کہ گلوکوز جسم اور دماغ کی انرجی کا سب سے اہم ذریعہ ہے
خون میں گلوکوز کی سطح کم ہوجانا انتہائی خطرناک ہے اگر اس کو بروقت کنٹرول نا کیا جائے تو یہ موت کی طرف لے جاتا ہے۔

بعض اوقات ہمارے خون میں گلوکوز/شوگر کی سطح نارمل مقدار سے گر جاتی ہے اور اسے ہم سادہ لفظوں ہیں "low Sugar" کہتے ہیں اور میڈیکل میں "Hypoglycemia"

🔴"پیمائش"
اس حالت کی پیمائش کو ہم تین سطح میں تقسیم کریں گے
یعنی ہلکی حالت، درمیانی اور شدید حالت

1️⃣ہلکی حالت میں گلوکوز نارمل مقدار سے گر جاتی ہے یعنی 70 mg/dl سے کم لیکن 54 mg/dl یا اس سے زیادہ

2️⃣درمیانی حالت میں شوگر کی سطح ہلکی مقدار سے زیادہ کم ہوجاتی ہے یعنی 54 mg/dl سے بھی کم

3️⃣شدید قسم کی اس ہیپوگلائیسیمیا میں شوگر 40 mg/dl سے کم ہوجاتی ہے اور اس میں متعلقہ شخص کسی قسم کی سرگرمی سرانجام دینے سے قاصر ہوجاتا ہے کیوں کہ شوگر کم ہو جانے سے اس کا جسم اور دماغ نارمل کام نہیں کرسکتا اور اسے مدد کے لیے کسی دوسرے شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔

🔴ان کی علامات کی بات کریں تو مختلف لوگوں میں مختلف علامات ہو سکتی ہیں لیکن زیادہ تر جو علامات سامنے آتی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

1️⃣پسینہ آنا یا جسم ٹھنڈا ہوجانا
2️⃣جسم کا کپکپانا
3️⃣سردرد اور چکر آنا
4️⃣دل کی دھڑکن تیز ہوجانا

اور اگر گلوکوز مستقل گرتی رہے تو علامات مختلف ہوجاتی ہیں
1️⃣ موڈ کا تبدیل ہونا۔۔۔ چڑچڑاپن اور غش(نیند زیادہ آنا)
2️⃣کمزوری یا بےچینی محسوس ہونا
3️⃣بولنے میں مشکل پیش آنا
4️⃣دیکھنے میں مشکل پیش آنا بعض اوقات دھندلا نظر آنا اور بعض اوقات دو دو نظر آنا
5️⃣بعض حالات میں یہ دیکھنے آیا ہے کہ مریض بے ہوش ہوجاتا ہے اور اسکے گھر والوں کو چاہئیے کہ جتنی جلدی ہوسکے اسکی شوگر چیک کرئیں۔

🔴"وجوہات"
1️⃣بہت زیادہ مقدار میں انسولین یا ذیابیطس کی گولیاں کھانا
2️⃣نارمل مقدار سے کم کھانا
3️⃣ناشتہ، دوپہر کا کھانا یا رات کا کھانا چھوڑدینا
4️⃣حد سے زیادہ ورزش کرنا
.

[11/05/19]   بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل
کنٹرول کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مزید معلومات کے لیے
03204344000

05/11/2019

Please like and share on your wall and spread the word

09/10/2019

[09/26/19]   بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل
کنٹرول کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مزید معلومات کے لیے
03204344000

Videos (show all)

Location

Category

Telephone

Address


RASHEED COMPLEX DHQ ROAD
Gujraniwala
52250

Opening Hours

Monday 19:00 - 20:00
Tuesday 19:00 - 20:00
Wednesday 19:00 - 20:00
Thursday 19:00 - 20:00
Saturday 19:00 - 20:00