Fitness by Diet

Fitness by Diet علاج بلغذاکو اپنائیں اور ایلوپیتھک سے نجات پائیں.

عورت جو رشتے میں سکون لے آئے — مرد کیوں دل سے عزت اور محبت کرتا ہے؟مرد دولت، حسن یا اختیار سے پہلے سکون کو ترجیح دیتا ہے...
17/01/2026

عورت جو رشتے میں سکون لے آئے — مرد کیوں دل سے
عزت اور محبت کرتا ہے؟

مرد دولت، حسن یا اختیار سے پہلے سکون کو ترجیح دیتا ہے۔
اگر عورت میں یہ تین خوبیاں ہوں تو وہ صرف بیوی نہیں،
بلکہ مرد کے لیے راحت بن جاتی ہے۔

1) خوش رہنے والی عورت — سکون کی پہلی کنجی
جو عورت خود خوش رہنا سیکھ لیتی ہے، وہ پورے گھر کو خوش رکھتی ہے۔
کیسے؟
بات منوانے کے لیے شکوے اور طنز کم کریں
موازنہ (میکے، دوسروں کے شوہر) ترک کریں
چھوٹی خوشیوں پر شکر کرنا سیکھیں
مسئلہ ہو تو چیخنے کے بجائے بات کریں
👉 ایسی عورت کے ساتھ مرد خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔
2) پُراعتماد عورت — ذہنی سکون کا ذریعہ
اعتماد خاموش طاقت ہے، شور نہیں۔
کیسے؟
پیٹھ پیچھے بات کرنے سے پرہیز
خوف کے بجائے وقار اپنائیں
اپنی بات نرمی اور وضاحت سے رکھیں
خود کو کم تر ثابت نہ کریں
👉 پُراعتماد عورت مرد کے دل میں احترام پیدا کرتی ہے۔
3) عزت دینے والی عورت — رشتے کی بنیاد
عزت مانگی نہیں جاتی، دی جاتی ہے۔
کیسے؟
شوہر کی بات سب کے سامنے نہ کاٹیں
اختلاف ہو تو تنہائی میں بات کریں
اُس کی کوششوں کو سراہیں
سخت وقت میں ساتھ کھڑی رہیں
👉 جو عورت عزت دیتی ہے، وہ عزت پاتی ہے۔
نتیجہ
جو عورت: ✔ خوش رہنا جانتی ہو
✔ پُراعتماد ہو
✔ عزت دینا جانتی ہو
وہ مرد کے لیے سکون، طاقت اور دعا بن جاتی ہے۔
ایسی عورت سے مرد صرف محبت نہیں کرتا،
بلکہ دل سے اس کی قدر کرتا ہے۔

“عورت اگر سکون بن جائے تو مرد پوری دنیا جیتنے کو تیار ہو جاتا ہے۔”


True 💟
25/05/2025

True 💟

22/02/2023

خوش رہنا سیکھیے ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہارورڈ جیسی عظیمُ المرتبت یونیورسٹی میں سب سے مقبول اور کامیاب کورس کون سا ہے؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہارورڈ جیسے علم دوست، ادب پروَر اور فن شناس ادارے میں سب سے مقبول کورس یہ ہے کہ "خوش رہنے کا طریقہ کیسے سیکھا جائے؟"
یہ ایک بے حد دلچسپ اور لائقِ توجہ کلاس ہوتی ہے جس کے ایک سمسٹر میں 1400 طلباء داخلہ لیتے ہیں جن میں 20 فیصد کے قریب ہارورڈ کے گریجو ایٹس ہوتے ہیں۔ اس کلاس میں طلباء کو ہمیشہ خوش رہنے اور زندگی کے میدان عمل میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے پُر امید رہنے کے رُموز سکھائے جاتے ہیں - طلباء کو کامیاب ہونے اور اپنی زندگی کو خوشیوں کا گہوارہ بنانے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔
اس کلاس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ انسان کیسے اپنا معیارِ زندگی بہتر بناسکتا ہے اور مثبت رویے اپنا کر ایک خوب صورت زندگی گزار سکتا ہے۔
ہارورڈ کی کلاس میں سکھائے جانے والے مندرجہ ذیل 14 نکات اپنا کر آپ بھی اپنی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور ایک زیادہ بہتر، پُر سکون اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

سبق نمبر1: "شکرگزاری"
آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے، اس کے لیے دل سے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کریں ۔ اپنی ذاتی زندگی میں سے دس ایسی چیزوں کا انتخاب کریں جو آپ کو خوشی دیتی ہیں اور ان کو اپنے پاس لکھ لیں۔ ان پر توجہ دینے سے آپ کا رویہ مثبت ہوتا جائے گا۔
سبق نمبر 2: "ورزش"
جسمانی سر گرمیوں کو لازمی طور پر اپنا معمول بنائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنے سے انسان کا موڈ بہتر ہوتا ہے۔ صرف آدھے گھنٹے کی باقاعدہ ورزش اداسی اور تناؤ کے خاتمے کے لیے اَکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔
سبق نمبر:3 " ناشتہ"
کچھ لوگ وقت کی کمی یا پھر وزن گھٹانے کے لیے ناشتہ نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ جسمانی اور بالخصوص ذہنی صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق ناشتہ انسان کو توانائی دیتا ہے، یہ ہمیں درست سوچنے اور اپنے اُمور کی صحیح انجام دہی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سبق نمبر4: "مستقل مزاجی"
ہم جو چاہتے ہیں، جو سوچتے ہیں، وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ہم سورج کی طرح مستقل مزاج ہوں۔ جلتے رہیں، ڈھلتے رہیں لیکن مسلسل چلتے رہیں۔ یہ رویہ اپنا کر ہم ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں ۔
سبق نمبر 5: "سیکھتے رہیے"
اپنا پیسہ اور وقت نئے نئے علوم سیکھنے پر خرچ کریں۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 75 فیصد لوگ اپنا پیسہ سفر، صحت، کورسز اور کلاسز میں لگاتے ہیں تو زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ بہت تھوڑے لوگ شاپنگ وغیرہ میں پیسہ اور وقت لگا کر سکون حاصل کرتے ہیں۔
سبق نمبر 6: "چیلنجز کا سامنا کریں"
کہا جاتا ہے کہ وقت تلوار کی مانند ہے۔ اگر آپ اسے نہیں کاٹتے تو یہ آپ کو کاٹ ڈالتا ہے۔ جتنا زیادہ کسی چیلنج کو ملتوی کیا جائے گا،مستقبل میں وہ اُتنا ہی بڑا مسئلہ بن کر ابھرے گا اور نتیجتاً بہت سی پریشانیوں اور تناوٴ کو جنم دے گا۔لہذا درپیش چیلنجز کا سامنا کریں اور فوری طور پر ان کو نمٹائیں۔
سبق نمبر7: "خوب صورت یادیں"
اپنے گردوپیش میں ہر جگہ اپنے پیاروں کی اچھی یادیں، جملے اور تصاویر سجائے رکھیں۔ اپنا فریج، کمپیوٹر، ڈیسک، کمرہ اور کام کی جگہ کو خوب صورت یادوں سے مزیّن رکھیں ۔ یہ ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔
سبق نمبر:8 "سلام میں پہل کریں"
دوسروں سے ملتے وقت نہایت گرم جوشی کا مظاہرہ کریں اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔
سبق نمبر:9 "آرام دہ جوتے پہنیں"
اگر ہمارے جوتے سخت ہوں تو پاوٴں جلد تھک جاتے ہیں جس سے انسان میں چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے۔ امریکی آرتھوپیڈکس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کینتھ واپنر نے اس بات پر بطورِ خاص زور دیا ہے۔
سبق نمبر: 10 "متوازن چال"
چلتے ہوئے اپنے کندھوں کو تھوڑا پیچھے کی طرف رکھ کر سیدھا چلیں اور سامنے کے منظر کا مشاہدہ کریں۔ یہ خود اعتمادی کی علامت ہے۔

سبق نمبر 12: "غذا کا خیال رکھیں"
ہم جو غذا کھاتے ہیں، اس کا لازمی اثر ہمارے روَیّوں پر ہوتا ہے۔ زیادہ دیر بھوکا رہنے سے انسان چِڑچڑا ہوجاتا ہے ۔ لہذا وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ کھاتے رہیے لیکن صاف ستھرا اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھائیے۔ کوشش کریں کہ جسم میں گلوکوز کی کمی نہ ہونے پائے۔ بہت زیادہ چینی اور سفید آٹے سے پر ہیز کریں۔
سبق نمبر 13: " ہمیشہ مثبت سوچیں"
یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ ہمارے رویّے ہماری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ 70 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اچھی سوچ انھیں ایک خوشگوار احساس دلاتی ہے۔
سبق نمبر 14: "خدا پر پختہ یقین"
اگر انسان کا خدا تعالی پر کامل یقین ہو تو پھر کچھ بھی ناممکن نہیں۔ لہذا، ہر لمحہ خدا کی موجودگی کے احساس سے دوچار رہیں۔
یاد رکھیں!
خوشی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے لیکن ہم جگہ جگہ اس کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔
ہم ایک بار اسے کھو دیں تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے پاگل ہوجاتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ خوشی کی چابی تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ لہذا اداس ہونا چھوڑئیے اور جینا شروع کیجیے۔
طالب دعا
*عبدالکریم طاہر*

22/07/2022

لیکوریا اور اسکے اسباب ..یہ پوسٹ خواتین کے لیے

اندام نہانی سے سے غیر ضروری بدبودار رطوبت کا اخراج.کمردرد..رنگت کا پیلا پڑجانا.بھوک کا کم لگنا.چہرے پہ چھائیاں پڑنا.پٹھوں اور ہڈیوں میں مستقل درد کا رہنے لگ جانا.

انشااللہ چند ہفتوں میں ان گولیاں کے استعمال سے لیکوریا کا مسلہ حل ہوجاتا ہے بہت اعلی دوا ہے جو بہنیں علاج کروا کروا کے تھک گئی ہو ایک بار ضرور استعمال کریں اور میرے حق میں دعا کردیں اب آتے ہیں نسخے کی طرف ....

نسخہ

ماجو،مائیں، بھکڑہ، سنگھاڑہ،طباشیر 2، 2 تولہ کیکرپھلی 5 تولہ، سپاری تیلیہ 3 تولہ گلسپاری، گل انار، گوند ببول، کمرکس،2 2 تولہ کشتہ بیضہ مرغ 1 تولہ کشتہ صدف 1 تولہ
بس تیار ہے آدھی چمچ صبح شام کھانے کے آدھے گھنٹے کے بعد لیں... یا کیپسول تیار کر لیں.... کچھ ہی دنوں میں بہتری ہو جائے گی مکمل شفاہ یاب ہونے تک استعمال کرے اور ساتھ میں ھمدرد يا قرشی کا اکسير نسواں سيرپ دو چمچ صبح+شام پی لیں تو بہت مفید ہوتا ہے...

15/07/2022

*ڈاکٹر ٹری‘ کسے کہتے ہیں؟*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

انگریزی میں ’ڈاکٹر ٹری‘ یا ’مورنگا‘ کہلائے جانے والا سوہانجنا کا درخت اپنی بے شمار افادیت کی وجہ سے دنیا بھر میں کرشماتی درخت کہلاتا ہے۔

سوہانجنا کا استعمال مجموعی صحت سے لے کر خوبصورتی میں اضافے کے لیے بھی بے حد معاون ہے، سوہانجنے کے درخت سے حاصل ہونے والے پتے، ٹہنیاں، پھلیاں اور پھولوں سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں 300 بیماریوں کا علاج ہے اسی لیے اسے انگریزی میں ’ڈاکٹر ٹری‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے

اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوہانجنا کی افادیت نباتاتی شعبے سمیت سائنس بھی مانتی ہے، سوہانجنا کا استعمال خواتین کی صحت کے لیے نہایت موزوں قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مورنگا وٹامنز اور منرلز سے بھرپور درخت ہے جس کے 100 گرام پتوں میں 99.1 ملی گرام کیلشیم، 1.3 ملی گرام آئرن، 35.1 ملی گرام تھا جس کے بعد یہ پودا برصغیر کے دیگر حصوں اور جنوبی افریقا میں پہنچا۔

دنیا بھر کے ماہرین غذائیت اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کرشماتی پودے کی خصوصیات پر حیران ہیں، اس کے ہر حصے کو بطور غذا استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً پھول بطور سبزی، پھلی کا اچار اور سالن تیار کیا جاتا ہے جبکہ جڑوں کا اچار پاک و ہند میں مقبول ہے۔

تحقیقات کے مطابق مورنگا میں دودھ کے مقابلے میں 17گنا زیادہ کیلشیم، دہی سے 9گنا زیادہ پروٹین، گاجر سے 4گنا زیادہ وٹامن اے، بادام سے 12گنا زیادہ وٹامن ای، کیلے سے 15گنا زیادہ پوٹاشیم اور پالک سے 19گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔

صحت مند جلد کے لیے سوہانجنا کا استعمال

امریکی ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سوہانجنا کے پتوں میں وٹامن اے اور ای پایا جاتا ہے جس کے سبب اس کے استعمال سے اسکن صاف شفاف اور نکھر جاتی ہے، یہ عمر کے اثرات بھی کم کرتا ہے اور جھریوں کے عمل کو روکتا ہے۔

اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامینٹری خصوصیات ایکنی بننے کے عمل کو روکتی ہیں۔

اس کے پتوں کو سکھا کر پاؤڈر بنا کر محفوظ کیا جا سکتا ہے، مورنگا پاؤڈر میں دودھ، عرق گلاب، لیموں کے قطرے ملا کر ماسک کی صورت استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ تازہ پتے پیس کر بھی چہرے پر لگا ئے جا سکتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر بناتا ہے
کیلشیم کی بھر پور مقدار پائے جانے کے سبب سوہانجنا کے پتوں کے استعمال سے نظام ہاضمہ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے جبکہ فائبر کی بھی مقدار حا صل ہوتی ہے، مورنگا آنتوں اور معدے کی جملہ امراض میں مفید ہے

ذیابطیس کے مرض میں مفید
مورنگا میں کلوروجینک ایسڈ پایا جاتا ہے جس کے سبب اس کے استعمال سے انسولین کا اخراج متوازن ہوتا ہے، کلوروجینک ایسڈ غذا کے استعمال کے بعد اچانک خون میں شوگر لیول بڑھنے سے بھی بچاؤ ممکن بناتا ہے ۔

دل کی صحت بہتر ہوتی ہے
مورنگا میں اینٹی آکسڈنٹ کی قسم ’ قوارسٹین ‘ پائی جاتی ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول رہتا ہے۔

جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک ہیلتھ رپورٹ کے مطابق سوہانجنا کے استعمال سے انسانی جسم مین کولیسٹرول کی سطح بھی متوازن رہتی ہے جبکہ اس کے باقاعدگی کے استعمال سے وزن میں بھی کمی آتی ہے

واضح رہے پورے پاکستان میں سوہانجنا کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں

التماسِ دعا

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

15/03/2022

.گنے کا رس جگر کے افعال کو بڑھاتا ہے۔
گنے کے رس کو جگر سے متعلقہ بیماریوں جیسے یرقان کا ایک بہترین قدرتی علاج کہا جاتا ہے۔ چونکہ گنے کا رس فطرت میں الکلائن ہوتا ہے، اس لیے یہ جسم میں الیکٹرولائٹ کا توازن برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

3. جسم کو کینسر سے لڑنے میں مدد کریں۔
کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، آئرن اور مینگنیج کی زیادہ مقدار گنے کے رس کو فطرت میں الکلائن بناتی ہے۔ flavonoids کی موجودگی جسم کو کینسر کے خلیات، خاص طور پر پروسٹیٹ اور چھاتی کے کینسر کو روکنے میں مدد کرتی ہے۔

4. یہ نظام انہضام کو آسان بناتا ہے۔
گنے کے رس کے دیگر فوائد کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی غیر معمولی ہے جو ہاضمے کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ گنے کے رس میں موجود پوٹاشیم معدے میں پی ایچ لیول کو متوازن کرتا ہے، ہاضمے کے رس کے اخراج کو آسان بناتا ہے اور نظام کو درست رکھتا ہے۔ یہ پیٹ کے انفیکشن کو روکنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

5. شوگر کے مریضوں کے لیے گنے کا رس مفید ہے۔
اگرچہ گنے کے رس میں شوگر کی زیادہ مقدار ذیابیطس کے مریضوں کو اس جوس کے استعمال سے محتاط کر سکتی ہے۔ لیکن، اعتدال میں، گنے کا رس ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، قدرتی چینی میں کم گلیسیمک انڈیکس ہوتا ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح میں بار بار اضافے کو روکتا ہے۔

6. گنے کا رس گردے کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔
قدرتی کم کولیسٹرول، کم سوڈیم والی غذا ہونے کے ناطے، جس میں سیر شدہ چکنائی نہیں ہوتی، گنے کا رس گردوں کو اعلیٰ شکل میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

7. یہ STDs اور UTIs سے منسلک درد کو کم کرتا ہے۔
اگر پتلی شکل میں چونے کے رس اور ناریل کے پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو گنے کا رس جسم کی سوجن کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردے کی پتھری اور پروسٹیٹائٹس کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

8. ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں مدد کرتا ہے۔
پہلے دن میں، گنے کی چھڑی چبانا چھوٹے بچوں اور نوعمروں کے لیے ایک باقاعدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ ان کو قبضے میں رکھنے کے علاوہ، گنے کے رس کے کیلشیئم سے بھرپور فوائد کنکال کے نظام، ہڈیوں اور دانتوں کی مناسب نشوونما کو بھی یقینی بناتے ہیں حکیم شوکت علی نجف

9. گنے کا رس سانس کی بدبو اور دانتوں کی خرابی کو دور رکھتا ہے۔
دانتوں کی خرابی سے منسلک سانس کی بو محسوس کر رہے ہیں؟ گنے کا رس آپ کی بچت کا فضل ہو سکتا ہے۔ گنے کیلشیم اور فاسفورس سمیت معدنیات سے مالا مال ہوتا ہے، اور یہ دانتوں کے تامچینی بنانے اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ سڑنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ یہ ان غذائی اجزاء کی کمی کی وجہ سے سانس کی بو پر بھی قابو پاتا ہے۔

10. گنے کا رس مہاسوں کے علاج میں مدد کر سکتا ہے۔
گنے کے رس کا عام استعمال جلد کے مسائل جیسے کہ مہاسوں کو کم کرنے اور ٹھیک کرنے میں مدد کرتا ہے۔ چونکہ گنے کے رس میں الفا ہائیڈروکسی ایسڈز (AHAs) ہوتے ہیں جیسے گلائکولک ایسڈ، یہ سیل ٹرن اوور کو بڑھاتا ہے۔ وہ جلد کو بھی صاف کرتے ہیں، مہاسوں کی تعمیر کے امکانات کو ختم کرتے ہیں. بس جوس کو فلرز ارتھ ( ملتانی مٹی ) کے ساتھ ایک ماسک جیسی مستقل مزاجی میں مکس کریں، چہرے اور گردن پر لگائیں اور 20 منٹ تک لگا رہنے دیں۔ آخر میں ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔،حکیم شوکت علی نجف

گنے کے رس میں موجود چینی قدرتی ہے لیکن خیال رہے کہ یہ بنیادی طور پر چینی ہے۔ اس صحت بخش مشروب کو اعتدال میں استعمال کریں

طالب دعا

11/03/2022

پستان بڑے کرنا

بادام گری شیریں 7 عدد
ہرڑ زرد 1 عدد
خشخاش سفید 1 چاۓ والی چمچ
مکھن ۔ کھانے والا ایک چمچ۔
مصری مسفوف۔ دو سے چار تولہ
سواۓ مکھن کے تمام کو مٹی کے برتن میں رات کو بھگو دیں۔ صبح ہرڑ کو توڑ کر گھٹلی نکال دیں۔بادام کے اوپر سے جھلی اتار دیں۔
سب سے پہلے ہرڑ کو کونڈے ڈنڈے میں کوٹیں ۔ پھر گری بادام کوٹیں ۔اس کے بعد خشخاش شامل کر کے رگڑیں۔ جب ملاٸم چٹنی بن جاۓ تو مکھن شامل کریں۔
آخر میں مصری سفوف شامل کریں۔
یہ خوش ذاٸقہ ناشتہ ہے۔ صبح استعمال کریں۔ اور اوپر سے دودھ پی لیں۔
مسمن بدن ہے۔ سوکھے سڑے جسم کو دو تین ہفتوں میں موٹا تازہ کرتا ہے۔ جسم کو سڈول بناتا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کیلیے بہترین غذاٸی ٹانک ہے۔ مقوی دماغ و حافظہ ہے۔
اور خاص طور پر جن خواتین کے پستان چھوٹے ہوں ان کیلیے بہت مفید پڑتا ہے۔

2)اس کے ساتھ یہ نسخہ استعمال کریں
قسط شیریں۔ 1 پاٶ
شہد ۔آدھا کلو
معجون بنا لیں۔
آدھی چمچ تینوں وقت یا صبح شام کھانے کے ایک گھنٹہ بعد دودھ کے ساتھ
غذا گرم تر سے تر گرم تک
مالش کیلیے ایک پاٶ کیسٹرآٸل میں ایک چھٹانک بہیر بوٹی ریت جنتر جلا لیں۔
پن چھان کر تین قطرے عطر گلاب شامل کر لیں۔
صبح شام مالش کرواٸیں ۔
دو سے تین ماہ میں قابل ذکر نتاٸج حاصل ہونگے

09/03/2022

کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔
یہ مزیدار میوہ عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس کا روز استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟
اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔

فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔

کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے، کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔

کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کشمش میں موجود اجزاءآنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے، کشمش کا استعمال وٹامنز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاءکو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔

اس میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناﺅ کو کم کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے۔ اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔

اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔

09/03/2022

تمہیں لگتا ہے بیٹے سے معاشرہ چلتا ہے تو خود کیوں نہیں کرتے بیٹے پیدا..؟؟؟😭😭
تم اپنی مرضی سے بیٹا بنے ہو تو تم اپنی مرضی سے بیٹا پیدا کرو..💔🔥

وہ ساری تکلیف جو بیٹیاں سہ کر تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو پیدا کرتی ہیں وہ تم خود کرو تم اپنی نسل خود چلاؤ
تمہیں بیٹی نہیں چاہیے لیکن بیٹا پیدا کرنے کے لئے کسی کی بیٹی کیوں چاہیے..؟؟؟ تم اپنی اور بیٹوں کی سانسیں اپنے قابو میں کرکے نسلیں چلا سکتے ہو..؟؟

ایک کن اور تم اور تمہارے بیٹوں کی سانسیں رک سکتی ہیں تم پیرالائز ہو کر ماؤں بیویوں پر بوجھ بن سکتے ہو...تمہیں بیٹے چاہییں تو خود سے کرو بیٹے پیدا تم دوسروں کی بیٹیوں کے محتاج ہو تم کس منہ سے ان سے بیٹوں کی ڈمانڈ کرتے ہو..💔🔥😭

02/03/2022

یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

’’ صحت‘‘۔

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت
اور
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں

‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے

‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے

‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘

آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں

‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘

ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے

‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا

‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں

‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں

‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘

دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘

آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘

دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔

گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘

انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے

‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

شوگر‘
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘

ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘

ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
دوڑ لگا سکتے ہیں‘
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘
کانوں سے سن‘
ہاتھوں سے چھو‘
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘

ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ —
اگر آپ نے شکر ادا نہیں کیا تو جلدی شکر ادا کرلیں۔

19/02/2022

*چار شادیوں سے فائدہ کس کو ھو گا مرد کو یا عورت کو*

میں فیصل آباد میں رکشہ چلاتا ھوں
تقریباً پچپن سال کی خاتون کی انکھیں 20 روپے کرایہ نہ ھونے کی وجہ سے آنسووں سے بھیگ گئیں اس کے ساتھ ایک چھوٹی بچی بھی تھیں میں نے اسے پہچان لیا۔وہ میری بچپن کی ٹیچر تھی انتہای با پردہ خوبصورت اور ایم اے پاس اس نے اپنی درد بھری کہانی کچھ یوں سنای۔

میری شادی کو تیسرا سال تھا۔زندگی بہتر سے بہتر ہو رہی تھی کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی میں نے پہاڑ سر پر اٹھا لیا۔مجھے لگا کہ میرے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ھے

۔میرے میاں نے بہت سمجھایا کہ اس لڑکی کا رزق بھی اللہ ھمیں دے گا اور وہ اسانی سے ایڈجسٹ ھو جائے گی لڑکی بہت مجبور اور لاوارث ھے۔

مگر میں نے ایک نہ سنی اور میں نے اسے طلاق دلوا کر ھی چھوڑا ۔

ٹھیک تین مہینے بعد میرا خاوند ایکسیڈنٹ میں فوت ھو گیا۔ اور میری دنیا اجڑ گٸ میری گود میں ایک بچی تھی اسے لیکر اپنے والدین کے گھر آگٸ۔

۔زندگی میں مجھے اپنی غلطی کا احساس ھو چکا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر اپنی سوتن کو طلاق دلوائی تھی اب میں اپنی اس بہن سے زیادہ مجبور تھی اور نکاح کی خواہش بھی دل میں تھی لیکن کوئی بھی معیاری رشتہ نہیں مل رھا تھا۔

فارغ ھونے کی وجہ سے اسلام کا بھی بخوبی مطالعہ کر رھی تھی۔پہلی بار مجھے اسلام ثواب سے ہٹ کر ایک معاشرتی ضرورت لگا۔

میرے تایا زاد بھاٸ گورنمنٹ ملازم تھے وہ مجھ سے نکاح کر کے سہارا دے سکتے تھے مگر وہ اپنے گھر میں مسلہ کھڑا نہیں کرنا چاھتے تھے کیونکہ وہ شادی شدہ تھے اور اسکی بیوی ظاھر ھے معمول کے مطابق رکاوٹ بنتیں

مجھے پہلی بار اپنا تایہ زاد بھائی قصوروار نظر آیا جب اس نے بزدلانہ بہانہ کیا کہ اسے دوسری شادی کی ضرورت نھیں ھے


ابھی میں بہت خوبصورت تھی۔امید کر رھی تھی کہ شاید کوٸ کنوارہ رشتہ ہی مل جائے

ایک تہجد گزار مجھ سے کچھ سال بڑے کزن نے مجھ سے نکاح کی حامی بھری مگر اس کی والدہ نے مجھ پر بیوگی جیسا جرم تھوپ دیا۔میں سوچتی تھی کہ بیوہ ہونے میں میرا کیا قصور ھے؟

گھر میں میرے دل سے پہلی مرتبہ اس معاشرے کی بربادی کے لیے بد دعایں نکل رھی تھی کہ میں معاشرے کو کیسے سمجھاوں کہ ایک سے زیادہ نکاح مرد کی نہیں عورت کی ضرورت ھے

میں بہت پریشان تھی۔میری عمر بھی اب چالیس سال ہو گٸ تھی۔ابھی بھی نکاح کی خواہش تھی۔

ہمارے محلے میں ایک تاجر نے بیواؤں کے لیے ماہانہ راشن کا بندوبست کیا ھوا تھا۔اس نے میرا نام بھی لکھ لیا اور میرے گھر راشن بھیجنا شروع کیا
وہ روتے روتے کہنے لگی کہ بیوہ یا مطلقہ کو بہت زیادہ مرد کی ضرورت ہوتی ھے مجھے افسوس ہے ان عورتوں پر جو اپنے مردوں کو کسی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتیں ۔خدا کی قسم ایک بیوہ یا مطلقہ کو کم از کم پچاس سال تک مرد کی ضرورت پیسوں سے زیادہ ہوتی ھے۔ مگر وہ اپنی عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کرتی اور بہت سی بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔

اب میری بیٹی بھی جوان ہوچکی ھے اس کی بھی شادی کرنا ھے۔اور میں سوچ رھی ہوں کہ اس کی شادی میں کسی مرد سے کروں اور اسکو نصیحت کروں کی کبھی اپنے شوھر کو دوسری شادی سے منع نہیں کرنا تاکہ میں اپنی اس غلطی کا ازالہ کر سکوں جو میں نے اپنے شوہر سے اپنی سوتن کو طلاق دلوا کر کی تھی

آخر میں ان تمام مسلمانوں سے گزارش ھے کہ وہ کسی مجبور اور بےسہارا عورت کو صرف مالی مدد نہ کریں بلکہ نکاح میں لے کر ان کی مدد کریں
ن

اگر ایک لاوارث اور بیوہ کو اللہ نے ہی پیٹ لگایا ھے تو شہوت کا جزبہ بھی اسی اللہ نے ھی لگایا ھے اور یہ بھی گزارش ھے جن کی بہنیں بیوہ ہیں ان کا نکاح کریں ان کی صرف مالی مدد نہ کریں ۔نکاح سے مالی اور جسمانی دونوں مددیں ہوجاتی ہیں
معاشرے میں دوسری شادی میں رکاوٹ خود عورتیں بنی ہوئی ہیں اور ایسا کر کے عورتیں عورتوں کی دشمن بنی ھوئی ھیں ۔

مرد چار نکاح کر سکتا ھے اسکو اللہ نے اجازت دی ھے

وہ بھای جو اپنی بہنوں کو دوسری شادی نہیں کرنے دیتے وہ قیامت والے دن اس بات کا جواب دیں گے

17/02/2022

یہ تحریر اس مردوں کے لئے جو اپنی بیوی کو بیوی نہیں سمجھتے!
آٹھ وجوہات عورت کی محبت ختم کر دیتی 👇👇
کون آپ کے آغاز کی محبت اور ساتھ جینے مرنے کے وعدوں کو کوئی بھول سکتا ہے ؟ شاید ہی کوئی ایسا لمحہ ہوتا ہو جب آپ اپنے چاہنے والے کے بارے میں نہیں سوچتے اور اسے دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے۔۔۔

آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کو کسی ایسے شخص سے محبت ہو جائے گی جس کے بغیر آپ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن پھر اچانک ایسا ہو جاتا ہے کہ آپ کو محبت ہو جاتی ہے۔۔۔

پھر اچانک ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی محبت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟

1۔ جب عورت کو کہیں اور سے توجہ مل جائے

جب ایک مرد دوسری چیزوں میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنا وقت کسی اور جگہ صرف کرنے لگے اور اپنی زندگی کی ساتھی کو یکسر نظر انداز کرنے لگے۔ ہم سب ہی کسی نہ کسی کی توجہ چاہتے ہیں اور یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مردوں اور عورتوں کو اسی قسم کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے،

جب عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس کو توجہ نہیں دے رہا اور اس کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہے خاص کر جب عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ مرد کی زندگی میں سب سے اہم ہے، ایسے میں جب اسے کسی اور جانب سے توجہ ملے تو کوئی شخص اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہو تو وہ اس کی توجہ اس جانب مبذول ہو جاتی ہے۔۔۔

2۔ جب مرد اپنی غلطی تسلیم نہ کرے

لڑائی اور اختلافات ہر رشتے کا ناگزیر جز ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں کچھ بنیادی اصولوں پر متفق ہوں اور اپنی غلطی کو ہمیشہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں،

ایسے لوگ جو اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو عورتوں کے دل میں ان کے لیے نفرت پیدا ہونے کے امکان زیادہ ہیں۔ لڑائی ہمیشہ جیتنے کے لیے نہیں ہوتی اور جب آپ غلطی پر ہوں تو کس طرح معاملات کو ٹھیک کرنا ہے یہ آپ کہ ذمہ داری بنتی ہے۔۔۔

3۔ جب ضرورت کے وقت عورت کو تنہا چھوڑ دے

کسی بھی شخص کے لیے اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جب وہ اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور عورت کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص مشکل صورتحال میں عورت کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ یہ مرد اس کی پروا رکھتا ہے اور اس کے لیے دوسروں کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت کے دل میں اس کے محبت کم ہو جاتی ہے۔۔۔

4۔ جب مرد اس کی تعریف و تحسین ترک کر دے

تعلق قائم رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور اسے اہمیت دیں۔ مرد اپنی جیون ساتھی کے کاموں اور اس کی چیزوں کی تعریف کرے جو کامیاب تعلقات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تعریف کیے جانے کی وجہ سے عورت اپنے آپ کو خاص محسوس کرنے لگتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ تعلقات قائم رکھنے میں کام شام ہے۔۔۔

5۔ جب مرد اسے ہنسانا چھوڑ دے

عورت اپنے آپ کو مرد سے منسلک رکھتی ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ مرد اسے ہنسائے، خوش رکھے۔ جب کوئی مرد بات کرتے ہوئے عورت کو ہنساتا ہے تو وہ اس مرد میں دلچسپی رکھتی ہے۔۔۔

6۔ جب مرد مشکل وقت میں اس کا ساتھ نہ دے

عورت خصوصی توجہ چاہتی ہے، ہم سب مشکل وقت سے گزرتے ہیں اور ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ عورت کو یہ کہیں کہ وہ اسمارٹ نہیں ہے یا ماڈلنگ کے لیے آپ اس کو کسی قسم کی سپورٹ نہ کریں اور اسے باتیں سننے کو ملیں تو وہ کسی دوسرے کی تلاش میں سرگرداں ہو جائے گی۔۔۔

7۔ جب عورت خود کو پنجرے میں بند محسوس کرے

زیادہ تر نئے رشتوں کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے کہ آپ شاید ابتدائی طور پر زیادہ وقت اپنے جیون ساتھی کے ساتھ صرف نہیں کر سکیں گے لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور آپ اس کے ساتھ زیادہ وقت خرچ کرنے لگتے ہیں۔ کچھ ایسی چیزیں بعد میں عورت کو یاد آتی ہیں جو اس کی تکلیف کا سبب بنتی ہیں۔۔۔

ذاتی آزادی اور اکیلا پن لوگوں کی زندگی میں اہمیت رکھتا ہے اور آخر میں کچھ چیزیں تعلق ختم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ خواتین کو جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور مواقعوں کو آزادی کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں زور زبردستی سے نہیں۔۔۔

8۔ جب عورت کو جذباتی توجہ نہ ملے

جب عورت کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ عورت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آپ اپنے راز اس کو بتا رہے ہوں اور اپنے خیالات اس کے ساتھ شیئر کر رہے ہوں کیونکہ آپ اپنی کوئی بھی بات اس سے کر سکتے ہیں۔ عورت اس طرح کے تعلق پر اعتماد کرے گی اور شاید اس سے اس کے دل میں آپ کے لیے محبت اور زیادہ بڑھے گی۔۔۔!

Address

Gujranwala
Gujranwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923404194626

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fitness by Diet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Fitness by Diet:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram