13/09/2020
پر امن پاکستان اور نئے عالمی دہشت گرد منصوبے
" NOW ITS TIME TO SPEAK TRUTH "
عالمی سطح کے تھینک ٹینک مفکر جہاں کرونا کو بائیولوجیکل جنگوں کی ابتداء قرار دے رہے ہیں وہاں PROXY WARاور INPUT SOURCESکو برباد کرنا بھی اہم جنگی ہتھیار بن چکے ہیں، تھائی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جو زندگی کے تقریبا ہر شعبے کیلئے اچھی پناہ گاہ ہے۔ GEMS STONESکی سب سے بڑی منڈی بھی تھائی لینڈ ہی ہے۔ GEMS STONESجو کرنسی کی ٹرانزیکشن کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ بزنس جہاں بڑی بزنس کمپنیوں اور بزنس کمیونٹی کیلئے سونے کی چڑ یا ہے ،وہاں عالمی طاقتیں بھی اپنے ''خفیہ دفاعی سسٹم ''کو عالمی سطح پر نیٹ ورکنگ کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں،اس لئے تھائی لینڈ اسی بزنس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے چین ، روس ،امریکہ، اسرائیل و دیگر ممالک کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔دوسری طرف تھائی لینڈ عیاشی کیلئے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتاکیونکہ عالمی کھیلوں کے جوہری ایسی جگہوں کو اپنی دوسری پناہ گاہ سمجھتے ہیں ۔ موجودہ عالمی کشمش میں (چائنہ بمقابلہ امریکہ) دونوں کی PROXY WARتھائی لینڈ میں بصورت جمہوریت اور بادشاہت کے اقتدار کے غلبے کیلئے شروع ہے ،چائنہ کو بادشاہت اور امریکہ کو جمہوری سسٹم اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سوٹ کرتا ہے ۔ حال ہی میں بنکاک کی سڑکوں پر پچاس ہزار افراد کے قریب تھائی لوگوں نے بادشاہت کے حق میں مظاہرے کئے ہیں، اسی طرح ہزاروں افراد نے جمہوریت کے حق میں مظاہرے کئے اسی موقع پرانڈیا جو کہ امریکی مفادات میں بمقابلہ چائنہ امریکی پاٹنر ہے، انڈین ایجنسی'' را'' جو کافی عرصہ سے تھائی لینڈ میں انڈین ایمبسی کے ذریعے سے خفیہ منصوبوں پر کام کر رہی تھی، اس کی ظاہری انٹری بھی ہو گئی ہے۔انڈین انسانی سمگلرگورو تاج سنگھ جو (کانگڑہ )انڈین پنجاب کا رہنے والا ہے اور انڈین خفیہ ایجنسی کا اعلیٰ آفیسر ہے اوراپنے سینئر آفیسر سبہاش جو بظاہر اسسٹنٹ کمشنر کے روپ میں ''را ''کا کرنل رینک کا آفیسر ہے،یہ لوگ پاکستانی انسانی سمگلر ظاہر شاہ جو بنکاک میں ہے اور اس کے کارندے ضیاء خان ، رضی شاہ اور عمران جو ملائشیاء اور ترکی میں بھی نیٹ ورک چلا رہے ہیں ،یہ سب گرو تاج کی سپرستی میں ظاہراً انسانی سمگلنگ ، انڈین پاکستانی جعلی کرنسی، اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں ،لیکن حقیقت میں ان کے مقاصد دہشت گردانہ ہیں ،گروتاج سنگھ اور انڈین ایمبسی (تھائی لینڈ) کی سرپرستی میں پاکستانی و دیگر مسلم نوجوانوں کو ڈی ٹریپ کر کے خفیہ مقاصد کیلئے تیار کرتے اور استعمال کرتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانہ کو اس گروہ کی خفیہ کارروائی اور ممکنہ دہشت گرد منصوبوں کی معلومات حاصل ہوناشروع ہوئیں تو پاکستان سفارت خانہ (تھائی لینڈ) اور پاکستان کے حقیقی جانبازوں نے کمال مہارت سے سبہاش اور گروتاج سنگھ اور اس کے کارندوں کو انگیج کیا ، پاکستان ایمبسی کی ہی خفیہ اطلاعات پر ظاہر شاہ اور اُسکے کارندے جعلی کرنسی ، جعلی پاسپورٹ انسانی سمگلنک کے استعمال کے جرم میں اب بنکاک پولیس کی حراست میں ہیں ، لیکن دوسری طرف اس گرفتار دہشت گرد گروہ کی انڈین ایمبسی اورسبہاش اور گروتاج نیٹ ورک خفیہ طور پرمدد کر رہا ہے ،اور میڈیا میں اپنی اینٹی پاکستان لابیز کے ذریعے پاکستانی سفارت خانہ اور آئی ایس آئی پر الزام تراشی کی جا رہی ہے،لیکن پاکستانی ایمبسی نے تو حقیت میں بنکاک پولیس کی مدد کی اورتھائی لینڈ کو ''را'' کی مدد سے تیار کردہ دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کی۔۔ میںبطور انویسٹی گیشن جنرلسٹ عالمی میڈیا کی توجہ اس طرف مبذول کروا رہا ہوں کہ اس ایشو کو ہائی لائٹ کیا جائے جس کو پاکستانی سفارت خانہ کی پروفیشنل ورکنگ نے آنے والے وقت کی بڑی تباہی سے تھائی لینڈ کو بچا یاہے ۔عالمی طاقتیں اس فتنے کو اور ''را'' کی دہشت گردانہ منصوبہ بندی کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں،سبہاس اور گرو تاج سنگھ جو کلبوشن یادیو کے سٹائل کی نیٹ ورکنگ کے ماہرہیں ان کی کوشش ہے کسی نہ کسی طرح تھائی لینڈمیں جمہوریت اور بادشاہت کے غلبے کی تحریک میں پاکستانی و دیگر مسلم نوجوانوں کے جذبات اُبھار کرمتشدد اور خونی واقعات کروا کر پاکستان اور آئی ایس آئی کو بدنام کیا جائے ۔سبہاش اور گرو تاج سنگھ گروپ کا ماسٹر پلان یہ ہے'' کہ پاکستانی و مسلمان نوجوانوںاور تھائی مسلم کمیونٹی جوحقیقت میں زیادہ تر عرب اور ایشین مسلم تاجروں کی ہی نسل ہیں اور ان میں مسلم غیرت کا جینزتو ہے ، لہذا ایسے جذباتی مسلمانوں کو ٹریپ کر کے چائنہ او ر امریکہ کی پراکسی وار میں استعمال کر کے آگ اور خون کے کھیل میں نئی شطرنج کی بساط ترتیب دی جائے''پاکستانی ایمبسی نے اپنی اخلاقی ساخت کو ظاہراً دائو پر لگا کر اپنا حقیقی اخلاقی اور امن پسندانہ کردار ادا کیا ہے۔ لہذا نئے دہشت گردانہ فتنے کی وقت سے پہلے ہی سرکوبی کیلئے بیجنگ اور اسلام آباد او ر بنکاک کو سفارتی سطح پر''سبہاش اور گروتاج سنگھ نیٹ ورک'' کی سرکوبی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے ، اگر یہ کھیل پھر بھی سمجھ نہ آئے تو کلبوشن ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا کیس اور عالمی عدالت کے فیصلے بیجنگ اور بنکاک کیلئے گائیڈ لائن کی صورت میں موجود ہیں ، اور اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو تھائی لینڈ میں سستے ترین ہاسٹلز جہاں رہائش ، شراب اور عیاشی بہت کم ریٹس پر ملتی ہے ، وہاں انسانی سمگلروں کے روپ میں سبہاش اور گروتاج سنگھ اپنی ہی سلطنت بنائے ہوئے ہیں ، عقل والوں کیلئے اشارہ ہی کافی ہے ۔۔۔۔