19/11/2021
"محبت کے مارے"
سائیکالوجی میں ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے"'Empathy'". اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ انسان کے جذبات کو اس کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ کس زاویے سے حالات کو دیکھ رہا ہے وہ سمجھیں۔ وہ کیا محسوس کر رہا ہے یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اپنے پاؤں اس کے جوتوں میں ڈال کے دیکھیں۔ کلینیکل پریکٹس میں یہ پہلی، بنیادی اور ضروری شرط ہے۔
اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں کہ لوگوں کو سمجھنے کے بجائے اپنے نظریے سے دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ محبت کے درد میں ہے، تو بجائے اس کے احساسات سمجھنے کی اپنے حساب سے سمجھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ایسی باتوں کا اگلے انسان پے کوئی اثر نہیں ہوتا۔
ہم تب ہی کسی کی مدد کر سکتے ہیں جب ہم کسی کے جذبات کو اسی کےحساب سے سمجھیں۔ اگر کوئی کہتا ہے وہ جدائی میں ہے تو اس کی جدائی کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر آپ اس کو اپنے حساب سے سمجھانا شروع کر دیں گے تو یاد رکھیں اس کو آپ کی تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے وہ انسان چاہیے ہوتا ہے جو اس کے احساسات کو سمجھ سکے۔
اگر آپ کسی کو مشورہ دیتے ہیں کہ یہ پیار محبت کچھ نہیں ہوتا، شاید آپ کے لیے کچھ نہ ہو لیکن اگلے کے لیے وہ سب کچھ ہوتا ہے۔ کیا پتا وہ پیار کے لیے کیا کیا کرنے کو تیار ہو۔ آپ کو کیا پتا وہ کس شدت سے انتظار کر رہا ہو۔
اگر آپ اسے دینی لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا پتا اس کا رب سے رشتہ کتنا مضبوط ہے۔ اور رب سے کس کس طرح مانگ رہا ہے، ہو سکتا ہے وہ رو رو کے دعائیں مانگتا ہو۔ رب سے باتیں کرتا ہوں، اس سے سودے کرتا ہو۔
اگر کوئی انسان خوابوں کی باتیں کرتا ہے، خیالوں میں کھویا رہتا ہے تو آپ کو کیا پتا ہے وہ کیا کیا دیکھتا ہے۔ آپ اس کو بتاتے ہیں کہ لائف میں صرف پیار ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ زندگی میں کچھ اور بھی کرنا چاہیے۔ آپ کو کیا خبر محبت ملنے کے بعد وہ آپ سے 100 گنا زیادہ کام کر ے۔ محبت اس کے اندر اتنی انرجی ڈال دیتی ہے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
ٔٔں Alfred Adler کے مطابق
"Empathy is seeing with the eyes of another, listening with the ears of another and feeling with the heart of another.”
"دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنا، دوسروں کے کانوں سے سنا اور دوسروں کے دل سے محسوس کرنا Empathy ہے۔"
جب تک آپ اس کے اندر کی دنیا کو نہیں سمجھیں گے اسے اچھا مشورہ کیسے دیں گے۔ آپ کہتے ہوں گے خوش رہا کرو، پریشان نہ رہا کرو۔ بھلا ایک کاغذ کسی قلم کے بغیر خوش رہ سکتا ہے؟ جس کاغذ کی اوپر لکھا نہ گیا ہو اس کو کاغذ کون کہے گا۔ شاید قلم کے ساتھ ہی کاغذ کی خوبصورتی ہے۔ وہ کاغذ قلم کے بغیر کیسے خوش رہے۔ ایسے کاغذ کو شاید "خالی کاغذ" کہا جائے گا، تو کیا انسان کو بھی "خالی انسان" کہا جائے گا؟؟؟؟ خود سوچیں کون ہے جو خوش رہنا نہیں چاہتا۔ کس کو رات کو روتے ہوئے سونا اچھا لگتا ہے۔ کون جان بوجھ کے محفل میں تنہا رہتا ہے۔ کون عید کی خوشیوں کو بھی محسوس نہیں کرتا۔ کیا وہ جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے؟؟ وہ مصیبت میں ہوتا ہے، وہ درد میں ہوتا ہے، وہ اس وادی میں ہوتا ہے جو صرف اس وادی میں گئے ہوئے لوگوں کو ہی سمجھ آتی ہے۔
آپ کہتے ہیں کیوں اپنی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے، تو آپ خود سوچیں کسے شوق ہوتا ہے زندگی اجیرن کرنے کا، کیا پتا ان کی لائف میں وہ خوشیاں آنے والی ہوں جن کا وہ برسوں سے انتظار کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ مایوس ہو گیا ہو، اس کے لیے اب یہ کام ناممکن ہو گیا ہو۔ لیکن رب کے لئے تو کچھ بھی ناممکن نہیں نا۔ ان کی خوشیاں تو صرف رب کے "کن" کہنے کی محتاج ہیں۔ ("کن فیکون"، ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے") صرف" کن"کہنے سے پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ ہاری ہوئی بازی جیتی جاسکتی ہے۔ اور ویسے بھی رب کے لئے تو کیا مشکل اور کیا آسان۔ مشکل تو لوگوں کے لیے ہوتی ہے، رب کے لئے تو صرف "کن" ہے۔ اگر ایک بار اس نے کن فرما دیا نا تو آپ بھی ان کی زندگی پر رشک کرنے لگیں گے۔ ان کو بس کسی کی سپورٹ چاہیے۔
اس لئے ایسے لوگوں کو سمجھنا ضروری ہے یہ دل کے بہت نرم اور بہت اچھے ہوتے ہیں۔ اتنے اچھے کہ ایک انسان کے پیچھے زندگی کا سودا کر دیتے ہیں۔ اگر ان کو سمجھا نہیں تو ان کی مدد کیسے کریں گے۔ ایک گاڑی کا مسئلہ آپ کو سمجھ ہی نہیں ہے تو آپ ٹھیک کیسے کریں گے ؟؟ آپ ان کو اپنے لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی لیے ناکام ہو جاتے ہیں۔ اور بعد میں کہتے ہیں کہ میں اسے سمجھاتا رہا ہوں لیکن اس کو سمجھ ہی نہیں آتا۔ ارے آپ کو سمجھانا ہی نہیں آتا۔ پشتو میں سمجھا رہے ہوتے ہیں اور اگلے بندے کو صرف جرمن زبان آتی ہے، وہ کیسے سمجھے گا؟ آپ کو سمجھانے کے لیے اس کی زبان سیکھنی پڑے گی، اس کی زبان میں بات کرنی پڑے گی، اگر آپ اس کی زبان نہیں سمجھیں گے، تو یقین کریں آپ کی ساری باتیں اس کے لئے شور کے سوا کچھ نہیں۔ آپ کی آوازیں باتوں کے درجے پر نہیں پہنچتی۔ آپ کی باتوں کو باتوں کا درجہ دینے کے لئے لوگوں کے احساسات سمجھنا ضروری ہیں۔ ان کو آپ کا لیکچر نہیں چاہیے ہوتا ان کو کوئی سمجھنے والا چاہیے، جو ان کی زبان جانتا ہو، جو انکی مدد کر سکے، ان کو سن سکے، ان کو راستہ دکھا سکے۔
میں محبت کو صحیح یا غلط کا خطاب نہیں دیتا۔ اس پہ پھر کبھی بات کریں گے۔ یہ صحیح ہے یا غلط ہے، جو بھی ہے لیکن موجود ہے، اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح ہو یا غلط ہو حل تو کرنا پڑتا ہے نا۔
سائیکالوجی کے مطابق ہر وہ چیز اثر کرتی ہے جو انسان اپنے ذہن میں سچ سمجھتا ہے۔ وہ چیز سچ ہو یا نہ ہو لیکن انسان محسوس کرنے لگتا ہے۔ مثلا اگر کسی بچے کو کہیں کمرے کے باہر نہیں جانا باہر شیر ہے تو وہ وہی ڈر جائے گا۔ اب ڈر حقیقت ہے، چاہے باہر شیر موجود ہو یا نہ ہو۔
سوشل سائیکالوجی کے مطابق انسان کے اردگرد کے لوگوں کا انسان پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ماحول اور فیملی کے لوگوں کی رائے کا انسان کی اپنی رائے پر اثر پڑتا ہے۔ محبت کرنے والے انسان کے فیملی ممبر جب محبت کو نہیں سمجھتے، تو محبت کرنے والا انسان اکیلا رہ جاتا ہے۔ اس کی فیملی اس لذت سے نہ آشنا ہوتی ہے جس لذت کو وہ روز محسوس کرتا ہے۔ فیملی کی باتوں کی وجہ سے اسے خود پہ بھی شک ہونے لگتا ہے، کبھی کبھی تو مایوسی ہو جاتی ہے۔ انسان کو فیملی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ ایسے میں وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے کہ جائے تو کہاں جائے، بات کرے تو کس سے کرے، اپنا حال سنائے تو کس کو سنائے، ایسے میں اس کو کسی ماہر کا مشورہ چاہیے ہوتا ہے۔
والدین کو یہ چیزیں سمجھنا چاہیے، ان کے بچے کیسے سوچتے ہیں، کیسے محسوس کرتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں۔ ان چیزوں کو سمجھے بغیر ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں، ان کا غم کیسے دور کر سکتے ہیں، جب والدین کو کوئی حل نظر نہیں آتا تو زبردستی کرتے ہیں، اگر وہ تھوڑا سا سیکھ لیں تو آسانی سے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ ان کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کے بچے کوئی غلط خواہش نہیں کر رہے۔ اپنا حق مانگ رہے ہوتے ہیں، وہ حق جو انھیں دین دیتا ہے، وہ حق جو انہیں قانون دیتا ہے۔ صرف جاہلیت کی وجہ سے انہیں یہ حق نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ محبت کو طاقت بنایا جا سکتا ہے۔ اس کو پر کبھی ڈسکس کریں گے۔ صرف لاعلمی کی وجہ سے ان کو اس حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس سب کی شروعات صرف اور صرف ان لوگوں کو نہ سمجھنے سے ہوتی ہے، وہ کیا دیکھتے ہیں، وہ کیا سمجھتے ہیں، وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔