24/11/2025
لاہور کے دل میں، ، ایک ایسا مقبرہ کھڑا تھا جسے شہر والوں نے صدیوں سے ’’نیلا گنبد‘‘ کے نام سے پکارا۔ جب صبح کے دھندلکے میں سورج کی پہلی روشنی اس کے نیلے کاشی والے گنبد پر پڑتی تو وہ دور سے ایسے چمکتا جیسے کسی نے آسمان کا ایک ٹکڑا زمین پر نصب کر دیا ہو۔ لیکن اس عمارت کے گرد صدیوں کا گرد و غبار، شہر کی بے ترتیبی، اور فائدے کی ہوس نے ایسا حصار بُن دیا کہ اصل مقبرہ عام آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ جو لوگ روز وہاں سے گزرتے تھے انہیں شاید اندازہ ہی نہ ہوتا کہ ان ٹوٹے پھوٹے اسٹالوں، چھپر والوں، مکینک کی دکانوں اور بے ہنگم جھونپڑیوں کے پیچھے ایک مغل درباری کی آخری آرام گاہ چھپی ہے — وہی محمد صالح کمبوہ جو شاہجہان اور اورنگزیب کے دور میں قلم کی شان سمجھا جاتا تھا، اور جس نے ’’عمل صالح‘‘ جیسی تاریخ لکھی جس سے آج بھی محققین مغلیہ دور کو سمجھتے ہیں۔
یہ مقبرہ کبھی شہر کی زینت تھا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب لاہور کی گلیوں میں شام اترتی تو اس نیلے گنبد سے جھلکتی روشنی راہیوں کو دور سے نظر آتی۔ مگر وقت نے کروٹ لی، شہر پھیلتا گیا، ٹریفک بڑھی، بے قاعدہ تعمیرات نے ہر کھلی جگہ کو گھیر لیا۔ نیلا گنبد بھی اس لپیٹ میں آ گیا۔ ایک ایک دکان بڑھتی گئی، پھر اس کے آگے ایک اور دکان، پھر چھپر، پھر شیڈ، پھر گودام، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا مقبرہ دکانوں کی دلدل میں دفن ہو گیا۔ یہ قبضے اس قدر مضبوط ہو گئے کہ اصل تاریخی ورثے تک پہنچنے کے لیے لوگوں کو پچھلی گلیوں کے سوراخ جیسے راستوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ اندر کا فنِ تعمیر بھی نقصان کا شکار ہوتا گیا — نیلی کاشی بارش اور دھوئیں سے اکھڑنے لگی، دیواروں میں نمی نے دراڑیں ڈال دیں، اور کئی حصے ایسے بھی تھے جنہیں مقامی دکاندار اسٹور یا کمرہ سمجھ کر استعمال کرتے تھے۔
پھر وہ دن آیا جب حکومت نے فیصلہ کیا کہ شہر کے اس قدیم ورثے کو مزید نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ورثہ ماہرین برسوں سے چیخ رہے تھے کہ اگر فوری طور پر ارد گرد کی غیر قانونی تعمیرات نہ ہٹائیں گئیں تو یہ مغلیہ دور کی عمارت کبھی بھی بیٹھ سکتی ہے۔ مگر دوسری طرف وہ دکاندار تھے جن کے لیے یہ جگہ اُن کی روزی تھی۔ انہوں نے برسوں سے یہاں کام کیا تھا، وہ حکومت سے گلہ کرتے تھے کہ پہلے متبادل دکانیں دیں، پھر کارروائی کریں۔ شہر کے بیچوں بیچ یہ ٹکراؤ بڑھتا گیا — ایک طرف تاریخی ورثہ، دوسری طرف لوگوں کی معاشی ضرورت۔
لیکن آخرکار فیصلہ ہو ہی گیا۔ مشینیں آئیں، دکانیں گرائی گئیں، قبضے ہٹائے گئے۔ دھول چھٹی تو کئی دہائیوں بعد لاہور نے پہلی بار نیلا گنبد کو کھلے آسمان کے نیچے پورا کا پورا دیکھا۔ لوگ حیران رہ گئے کہ ان ٹین کی چھ