02/06/2023
#کِرم کشی (ڈیورمِنگ) کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ #ڈیورمِنگ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
چونکہ ہمارے جانور زمینوں پہ چرائی کے لئے جاتے ہیں اور چرائی کے دوران اکثر جانور گھاس اور ایسی جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں جو زمین سے ذیادہ اونچی نہیں ہوتیں اور چرائی کے دوران جانور کا مُنہ زمین کے بُہت قریب اور اکثر زمین سے ٹکراتا ہے جس کی وجہ سے کِرموں/کیڑوں کے انڈے مُنہ کے راستہ پیٹ میں پہنچ کے کیڑوں کی شکل میں جانوروں کا کھانا کھاتے اور خون چوستے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اِن کِرموں کو ختم نہیں کیا جا سکتا مگر صحتمند مِقدار تک رکھا جا سکتا ہے جس کے لئے ڈی ورمِنگ کرنی ضروری ہے۔
اب اکثر دوست یہ سوچیں گے کہ ہم تو اپنی بکریوں کو چرائی کے لئے نہیں لے جاتے پِھر ڈیورمِنگ کی کیا ضرورت؟
جو جانور فارم پہ چارہ کھاتے ہیں وہ چارہ بھی تو زمین سے آتا ہے اور زمینی چارہ نہ بھی ہو تو جِن کُھرلیوں میں رکھ کے کِھلایا جاتا ہے ان سے بھی کِرموں/کیڑوں کے انڈے پیٹ میں جاتے ہیں غرض یہ کہ کُچھ بھی کر لیں چاہے ہائیڈروپونِکس چارہ کِھلا لیں پِھر بھی جلد نہیں تو دیر سے ڈیورمِنگ کرنی ہوتی ہے۔
* #طریقے:*
1) اِنجیکشن: آئورمیکٹین انجیکشن جو کہ مارکِیٹ میں مُختلف کمپنیوں کے جیسے ایکٹیمیک پلس اور آئی میک, سیلمیک ناموں سے ملتے ہیں جانور کو جسمانی وزن کے مطابق لگایا جاتا ہے جس سے پیٹ کے کِرم اور جِلد پہ جوؤں اور چِیچڑیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور جِلد چمکدار ہو جاتی ہے۔
2) ڈرینچ (پلانے والی دوا): صُبح بکری کو تقریبا 50 گرام گُڑ کھلانے کے آدھا گھنٹہ بعد دوا پِلائیں اور دو گھنٹوں تک جانور کو کھانے اور پینے کو کچھ نہیں دینا۔
پلانے والی دوائیں لیواسیل، سیلزین اور نِلزان پلس کے ناموں سے ملتی ہیں، نِلزان پلس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ پیٹ کے کِرموں کے ساتھ جِگر کی جونکوں کو بھی ختم کرتی ہے۔
دوا کے مُعاملے میں کوشِش کرنی چاہئے کہ جانور کو ڈی ورمِنگ کا کورس کروانے کے بعد اگلے کورس کے لئے دوا تبدیل کرنی ہے ورنہ کِرموں میں دوا کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور دوا کا اثر نہیں ہوتا۔ کورس سے یہ مُراد ہے کہ جس دن آپ جانور کو دوا استعمال کروائیں گے اُس کے 12 سے 15 دنوں بعد دوبارہ پلانی ہے تاکہ جانور کے پیٹ میں کِرموں کے رہ جانے والے آنڈوں سے نکلنے والے بچّوں کو جو کہ 10 سے 12 روز میں انڈوں سے پیدا ہو جاتے ہیں اُن کو بھی ختم کیا جائے۔
عموماً ایک کورس سے دوسرے کورس کا درمیانی وقفہ 3 ماہ ہوتا ہے۔
چھوٹے بچُوں کو 1 ماہ کی عُمر میں پہلا ڈی ورمِنگ کا کورس کرا دینا چاہیے۔
* #دیسی عِلاج:*
1) نیم کا تیل 12 سے 15 مِلی لیٹر 1/2 سے 1 پاؤ دودھ یا کچّی لسّی میں مِلا کے بڑی سِرینج میں ڈال کے پِلانے سے پیٹ کے کِرم صِحتمند حد تک کنٹرول میں رہتے ہیں اور نیم کے تیل کے فائدے ہی فائدے ہیں نُقصان کوئی نہیں بس اِس کے اِستعمال سے جانور کو دست ہوتے ہیں جو پریشانی کی بات نہیں اور اگر بکریاں اگر نیم کے پتّے کھاتی ہیں تو مہینے میں دو مرتبہ نیم کے پتّے کِھلائیں۔
2- میٹھے کدّو کے بیجوں کو سُکھا کے پیس کر محفوظ کر لیں اور دو کھانے کے چمچ صُبح شام اِستعمال کریں، کدّو کے بیجوں میں امینو ایسیڈ ہوتا ہے جِس سے کرم/کیڑے تباہ و برباد ہوتے ہیں۔
3- اَک کا چھاڑی نُما پیڑ تقریباً پورے پاکِستان میں پایا جاتا ہے، اَک کو تازہ حالت میں نہیں کِھلانا چاہئے اَک کے پیڑ کو کاٹ کے 2 دِن کے لیئے وہیں چھوڑ دینا چاہیئے یا کسی ایسی جگہ رکھنا چاہیئے اور خُشک حالت میں کِھلانے سے قُدرئی ڈی ورمر کا کام کرتا ہے اور جانور جِتنا کھائے کھانے دینا چاہیئے، جانور کی ضرورت جب پوری ہو جائے گی تو چھوڑ دے گا۔
اپنا اور اپنے جانوروں کا خیال رکھیں ۔