09/12/2025
دل کے وہ مریض جنہیں سٹنٹ(stent)، بائی پاس، ہارٹ اٹیک، یا شدید دل کی نالیوں کی بیماری ہو چکی ہو، اُن کے لیے کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کا ایک بھی ناغہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان میں سرفہرست Clopidogrel (75mg)، Aspirin (75–81mg)، Atorvastatin، Rosuvastatin، ACE inhibitors (Ramipril)، ARBs (Losartan) اور beta-blockers شامل ہیں۔
کلوپی ڈاگرِل تقریباً 7، 8گھنٹے میں خون میں آدھی رہ جاتی ، لیکن خون جمانے والی پلیٹوں (پلیٹ لیٹس )پر اس کا اثر 7سے 10 دن تک رہتا ہے، اس لیے یہ گولی چھوڑنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پلیٹلیٹس دوبارہ فعال ہو کر نالیاں مصنوعی طور پر کھولنے والے سٹنٹ stent کو بند کرنے لگتے ہیں۔ لوپ رین ، ایس کارڈ ، پیڈوگِرل Aspirin 75سے 81 mg کے پیچھے موجود پوری سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ یہ خوراک خون جمانے والی پلیٹوں (پلیٹ لیٹس) کے راستے COX-1 pathway کو مستقل روکتی رہتی ہے، اور یہی وہ مقدار ہے جو دنیا بھر میں کم dose antiplatelet therapy کے لیے ثابت شدہ ہے
(AHA 2019, ESC 2020, CHEST 2021)
یہ دوائیں عام درد کی نہیں، ۔۔
یہ وہ حفاظتی دیوار ہیں جو مریض کے خون کو دل اور دماغ جیسی نازک جگہوں پر جمنے سے روکتی ہیں۔ اسی لیے مصنوعی راستہ stent لگنے کے بعد کم از کم 1 سال Dual Antiplatelet Therapy (DAPT) ضروری ہے، یعنی Clopidogrel + Aspirin۔ ایک سال کے بعد کئی مریضوں میں صرف ایس پی رین ساری عمر Aspirin life-long جاری رہتی ہے۔
خوراک میں ادرک، لہسن، جنکو بائی لوبا ، ہلدی زیادہ مقدار, alcohol، NSAID Brufen, Diclofenac اور سٹی رائیڈ steroids احتیاط کے ساتھ لینے چاہئیں کیونکہ یہ خون بہنے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ اسی طرح Omeprazole، Clopidogrel کا اثر کم کر دیتا ہے؛ اس لیے Pantoprazole / Famotidine محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق اور جان کاری یہی بتاتی ہے کہ دل کے مریض کے لیے ان دواؤں کا روزانہ استعمال کسی عادت کی طرح ہونا چاہیے ہے ایک دن بھی چھوٹ یا ناغہ کیا جائے تو حفاظت کی دیوار میں گڑھا پڑ سکتا ہے۔ دل خاموش دشمن ہے، شکایت پہلے نہیں کرتا، نقصان پہلے کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ دوائیں کھانی ہیں بلا ناغہ