Habib medical center

Habib medical center Day care Health center with OPD on daily basis It is clinic for patient treatment of all age groups
Daycare center for rehydration
Having laboratory facility

https://www.facebook.com/share/p/pWyf7Xf7rnB17sXt/?mibextid=WC7FNe
07/10/2024

https://www.facebook.com/share/p/pWyf7Xf7rnB17sXt/?mibextid=WC7FNe

Flue shot !
Available at
DrUmarPolyClinic Flate No 13,14. Street-1, F-8 Near Khyber Bank. Akhunzada(Zangal )Market Phase 6 Hayatbad Peshawar. Timings Morning 11:30 AM to 2 PM Evening 4 PM to 11:30 PM Appointment 03065862226 0915862226 ( Dr Umar- Sunday not Available... But Dr Kareem available on Sunday Evening)

https://www.facebook.com/share/q2ZqqvG3Ug64tVgC/?mibextid=WC7FNe
22/09/2024

https://www.facebook.com/share/q2ZqqvG3Ug64tVgC/?mibextid=WC7FNe

Sunday Evening clinic
Dr Abdul Karim Afridi

DrUmarPolyClinic Flate No 13,14. Street-1, F-8 Near Khyber Bank. Akhunzada(Zangal )Market Phase 6 Hayatbad Peshawar.
Timings Appointment 03065862226 0915862226
( Dr umar- sunday not Available... But Dr Kareem available on Sunday Evening)

Subscribe our channel and like our YouTube video 👍😊👍
30/12/2023

Subscribe our channel and like our YouTube video 👍😊👍

Dengue! Break bone Disease

21/10/2023

Like our page

DrUmarPolyclinic is place where multi clinics run by different specialist with affordable Fees

02/10/2022

Dengue ڈینگی

ڈینگی کیا ہے؟

ڈینگی دراصل ایک وائرس کا نام ہے جس کا تعلق وائرس کے Flaviviridae خاندان سے ہے. اس وائرس کے 4 اقسام ہیں جن کو DEN-1, DEN-2, DEN-3 اور DEN-4 کہا جاتا ہے.

کیا یہ صرف پاکستان میں موجود ہے؟

نہیں. ڈینگی آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور تقریباً ہر ملک میں اس کے متاثرہ لوگ موجود ہیں.

یہ کیسے پھیلتا ہے؟

ڈینگی دو انواع کے مادہ مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جن کے نام Aedes aegypti اور Aedes albopictus ہیں.
ان دو مچھروں میں زیادہ پھیلاؤ Aedes aegypti کے ذریعے ہوتا ہے.
جیسے ہی یہ وائرس مچھر کے جسم میں چلا جاتا ہے تو دس دن بعد وہ مچھر اپنی پوری زندگی وہی وائرس پھیلاتی رہتی ہے.
کاٹے جانے کے بعد جب انسانوں میں علامات ظاہر ہو تو اسی بندے سے تقریباً 12 دن تک Aedes جینس کے مچھروں کے ذریعے وائرس پھیلتا جاتا ہے.

ان مچھروں کی پہچان کیا ہے؟

ان مچھروں کی پہچان بہت آسان ہے. Aedes aegypti کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاؤں پر کالے اور سفید دھاریوں کے ساتھ ساتھ اس کے Thorax یعنی کمر پر بھی ایک سفید لکیر ہوگی. جبکہ Aedes albopictus کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر کالے اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں. اس کے thorax پر لکیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے آنکھوں کے درمیان سے لے کر اس کے thorax تک ایک اور سفید لکیر ہوتی ہے جو اس نوع کی خاص پہچان ہے.

یاد رکھیں کہ مچھروں کے بہت سے جنگلی انواع کے پاؤں پر بھی اس طرح کے کالے اور سفید دھاریاں ہوتی ہیں اور لوگ ان کو Dengue پھیلانے والا مچھر سمجھ لیتے ہیں جوکہ وہ ہوتے نہیں. آپ نے فوراً ان کے کمر پر لکیر دیکھنا ہے.

کیا یہ مچھر دوسرے وائرس بھی پھیلاتے ہیں؟

جی ہاں. Aedes aegypti ڈینگی وائرس سمیت Zika, chikungunya اور یرقان کے وائرس بھی پھیلاتا ہے.
اگر ایک بندے کو ڈینگی بخار ہو اور اس کو عام مچھر کاٹ لیں تو کیا وہ عام مچھر ڈینگی پھیلا سکتا ہے؟

نہیں، عام مچھر کسی بھی صورت ڈینگی کے وائرس نہیں پھیلا سکتا کیونکہ ان کا اندرونی جسم وائرس کے لئے موزوں نہیں ہے اور وائرس ان کے معدے میں جاتے ہی ہضم ہو جاتا ہے.

یہ مچھر کہاں رہتے ہیں؟

ان مچھروں کی پسندیدہ جگہ صاف پانی ہے. یہ عموماً پنکچر کی دکان والی ٹائروں جن میں پانی بھرا ہوتا ہے، گملوں، سوئمنگ پولز اور وہ پانی کی ٹینکیاں جن پر ڈھکن نہیں ہوتا، اس میں رہتے ہیں.

ڈینگی بحار کے علامات کیا ہیں؟

متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے تقریباً 4 سے دو ہفتوں کے بعد علامات شروع ہو جاتے ہیں. ڈینگی بخار کے سب سے بنیادی علامات میں بہت تیز بخار (104 تک)، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، دل کا خراب ہونا، الٹی کرنا، پٹھوں اور جوڑوں کا درد اور جسم پر خارش جیسے سرخ دانوں کا نمودار ہونا ہے. یہ شروع کے علامات ہیں جو 3 دنوں سے لے کر ایک ہفتہ تک رہتے ہیں.

ڈینگی جب شدت اختیار کر لے تو ابتدائی علامات کے بعد جسم کا درجہ حرارت یعنی بخار کم ہو جاتا ہے اور پھر مسلسل الٹی شروع ہو جاتی ہے اور الٹیوں میں خون آنا شروع ہو جاتا ہے ، پیٹ میں شدید درد، تھکاوٹ، بے سکونی، سانس کا پھولنا، مسوڑوں سے خون آنا شامل ہے. یہ تب ہوتا ہے جب خون میں platelets کی مقدار بہت گر جاتی ہے اور اندرونی اعضاء سے خون جسم کے اندر رسنے لگتا ہے. یہ انتہائی خطر ناک علامات ہیں جو ایک سے دو دن تک رہتے ہیں اور جانلیوا ہیں مگر بر وقت طبی امداد سے بچ جانے کے امکانات ہیں.

اگر کسی بندے کو ایک دفعہ بخار ہو جائے تو کیا اس کو دوبارہ ڈینگی بخار ہو سکتا ہے؟

جیسے اوپر بتایا گیا ہے کہ ڈینگی وائرس کے 4 اقسام ہیں جو بخار کا سبب بنتے ہیں. ایک قسم کا وائرس ایک ہی دفعہ بیماری کا سبب بنتے ہیں. پھر جسم میں ان کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور وہی قسم دوبارہ بیماری یا شدید بیماری کا سبب نہیں بن سکتا.

کیا ڈینگی کا علاج دوائی سے ممکن ہے؟

نہیں، فی الوقت ڈینگی کا کوئی علاج نہیں. ہسپتال میں مریض کا fluid level برقرار رکھا جاتا ہے اور بخار کو کم کرنے کی دوائی دی جاتی ہے. اور ساتھ میں لیموں ملا سیب کا جوس. یاد رکھیں ڈینگی کے سارے اقسام جان لیوا نہیں ہوتے. مریض کے مرنے کے چانسز 20 فیصد ہوتے ہیں اور کسی قسم کا کوئی علاج نہ کیا جائے. بر وقت علاج کی صورت میں مرنے کے چانسز 1 فیصد سے بھی کم ہوتے ہیں.

کیا ڈینگی کے ویکسین موجود ہیں؟

جی ہاں. ڈینگی کے ویکسین موجود ہیں جن کو Dengvaxia کہا جاتا ہے جو 2015 میں بنائے گئے جو 9 سے لے کر 45 سال تک کے عمر کے افراد کے لئے موزوں ہیں جو فی الحال کئی ممالک میں دستیاب ہیں جو بہت زیادہ ڈینگی کی لپیٹ میں ہیں. یہ ویکسین پوری دنیا میں بہت سے وجوہات کی بناء پر دستیاب نہیں اور وہ مسئلے وقت کے ساتھ حل کئے جائیں گے.

کیا ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے؟

ڈینگی سے بچاؤ یا خاتمے کے لئے اس مچھر کو ختم کرنا ہوگا جو یہ وائرس پھیلاتے ہیں. ان کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ:

گھر میں موجود گملوں، سویمنگ پولز، یا کسی بھی برتن میں پانی کھڑا نہ رہنے دیں یا اس کو ڈھانپ کر رکھیں جس میں مچھر داخل نہ ہو سکے.

گلیوں یا گھروں کے آس پاس موجود پانی کے چھوٹے تالابوں کو بند کر دیں اور اس کے آس پاس موجود گھاس میں کیڑے مار دوا سپرے کریں.

رات کو مچھر دانی کا استعمال کریں اور اپنے اور بچوں کے جسم کے کھلے اعضاء پر کوئی بھی مچھر بھگانے والے کیمیکل کا استعمال کریں.

پورے آستینوں اور پائنچوں والا لباس پہن رکھیں.

کیا کوئی ایسی سپرے ہے جس کو گھر میں کرنے سے ان سے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

جی ہاں. پر اگر آپ کے گھر میں بچے ہیں تو سپرے کرنا محفوظ طریقہ نہیں ہے اور سپرے کرتے وقت خود بھی نہایت احتیاط کرنی چاہیے. آپ گھر میں Icon یا Lambda نامی سپرے کر سکتے ہیں پر سپرے کرتے وقت پورے جسم کو ڈھانپ لیں اور ماسک اور عینک کا استعمال لازمی ہے. سپرے کے وقت سب برتن ڈھانپ لیں اور بچوں کو دور رکھیں. سپرے کے بعد نہا لیں.

یہ مچھر کب کاٹتے ہیں ؟

ان مچھروں کو crepuscular کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ سورج طلوع اور غروب ہونے کے وقت ایکٹیو ہوتے ہیں اور کاٹتے ہیں. یہ زیادہ اونچا نہیں اڑ سکتے اس لئے عموماً پاؤں پر کاٹتے ہیں. سورج طلوع ہونے کے 2 گھنٹے بعد یہ کاروائی شروع کرتے ہیں اس لئے اگر آپ متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں تو گھاس پر چلتے وقت یا ان اوقات کے وقت ہاتھ پاؤں پر موسپل وغیرہ لگائے رکھیں.

انکے دئیے گئے انڈے کتنے وقت تک کار آمد ہوتے ہیں؟

اگر یہ کسی جگہ انڈے دیں اور وہاں سے پانی ختم ہو جائے تو ان کے انڈے 1 سال تک کار آمد ہوتے ہیں. جیسے ہی ان کو پانی دستیاب ہوجاتا ہے، ان سے بچے نکل آتے ہیں.

ڈینگی کے مچھروں کو انفرادی طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا پھر اجتماعی؟

اس کا سب سے مؤثر کنٹرول اجتماعی طور پر ہو سکتا ہے. اگر ایک گاؤں والے اجتماعی طور پر پورے گاؤں میں غیر ضروری تالاب بند کریں اور کمیونٹی بنیاد پر سپرے کریں تو ان کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے. اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول، کالج، دفاتر، حجرہ یا کسی بھی کام والی جگہ پر ڈینگی کے متعلق آگاہی پھیلائیں..

A Dengue Awareness!صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر ڈینگی وائرس نے وبائی شکل اختیار کرلی ہے , لیکن علاج سے پہلے بیماری ...
14/09/2022

A Dengue Awareness!
صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر ڈینگی وائرس نے وبائی شکل اختیار کرلی ہے , لیکن علاج سے پہلے بیماری سے بچنے کیلئے احتیاط ضروری ہے تو آئیے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس بیماری کی روک تھام میں کردار اداکریں گے اور خود و اپنے خاندانوں کو اس جان لیوا بیماری سے محفوظ بنائیں

اس تحریر میں ڈینگی بخار سے منسلک علامات، علاج، اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے جو کہ درج ذیل ہیں
ڈینگی بخار کی علامات
ڈینگی بخار کی علامات اکثر معتدل یعنی ایک جیسے ہوتی ہیں، تاہم شدید بیماری کی صورت میں ڈینگی بخارانتہائی خطرناک اور ممکنہ طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈینگی فلو جیسی علامات کا سبب بنتا ہے جو اکثر 7-2 دن تک مریض کو متاثر کرتی ہیں۔ مریض کو بخار ڈینگی کے مچھر کے کاٹنے کے 10-4 دن کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈینگی بخار کی علامات درج ذیل ہیں:
• تیز بخار
• سر میں شدید درد
• آنکھوں کے پیچھے درد
• پٹھوں، ہڈیوں یا جوڑوں کا درد
• جلد پر خارش
• متلی اور قے
اگر آپ کو انفیکشن کے تین سے سات دنوں کے دوران ڈینگی کی کوئی شدید علامات ظاہر ہوں تو ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہو سکتا ہے۔ ڈینگی کی شدید علامات یہ ہیں:
• پیٹ میں شدید درد
• مسلسل قے آنا
• سانس کے مسائل
• مسوڑھوں یا ناک سے خون بہنا
• قے میں خون کی موجودگی
• بے چینی یا تھکاوٹ
نوٹ: شدید علامات یا ڈینگی سے متعلق پیچیدگیوں کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ڈینگی بخار کا علاج
اگر آپ میں ڈینگی کی علامات ظاہر ہوں تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو ہلکی علامات ہیں، تو آپ کو گھریلو علاج کا مشورہ دیا جائے گا۔ شدید بیماری کی صورت میں آپ کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑھ سکتی ہے۔ علاج کے دوران زیادہ سے زیادہ آرام کریں
• صحت مند اور غذائیت سے بھرپور کھانا کھائیں۔
• نمکول یا او آر ایس کا استعمال کریں اور پانی زیادہ پئیں۔
نوٹ: ماہرین ڈینگی بخار کے دوران آئبوپروفین اور اسپرین جیسی ادویات لینے سے منع کرتے ہیں۔ تمام ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بعد استعمال کریں۔
ڈینگی سے بچاؤ کے لئے ہدایات
ڈینگی سے بچاؤ کے لئے آپ درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔
انفرادی طور پر اپنانے والی احتیاطی تدابیر
• طلوع آفتاب کے دو گھنٹے اور غروب آفتاب کے دو گھنٹے بعد باہر نہ نکلیں کیونکہ۔
• اِن اوقات میں ایڈیس مچھر کے کاٹنے کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
• ہلکے رنگ اور لمبے بازو والے کپڑے پہنیں۔ گہرے رنگ کے کپڑوں سے پرہیز کریں۔
• کیونکہ وہ مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
• جسم پر مچھر بھگاوٴ لوشن لگائیں۔
• دن کے وقت بھی مچھر دانی کے نیچے سوئیں۔
گھریلو سطح پر اپنانے والی احتیاطی تدابیر
• اپنے گھر میں کیڑے مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ یہ چھڑکاؤ اندھیرے کونوں میں۔
• خاص طور پر کریں، جیسے بستر کے نیچے، الماریوں کے پیچھے، درختوں کے نیچے، وغیرہ۔
• گھر کی کھڑکیوں اور دروازوں کو بند رکھیں۔
• مچھروں کو اندر آنے سے روکنے کے لئے گھر کے اندر مچھر بھگاوٴ کوائلز اور میٹ کا استعمال کریں۔
• اپنے گھر کے اندر یا اس کے اردگرد موجود پانی کو جمع ہونے نہ دیں۔
• مویشیوں کے برتن، فوارے، پودوں، وغیرہ میں باقاعدگی سے پانی نکالیں اور تبدیل کریں۔
• مچھروں کو داخل ہونے سے روکنے کے لئے پانی کے ٹینکوں کو ڈھانپیں۔
• چھت پر یا گھر کے ارد گرد ڈرین پائپوں کو صاف کریں تاکہ پانی کے بہاؤ کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنایا جا سکے۔
محلے کی سطح پر اپنانے والے اقدامات
• اپنی گلیوں کو صاف رکھیں اور اپنے گھر کے باہر ایسی چیز نہ رکھیں جس میں پانی جمع ہو سکے۔
• اپنے کوڑے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔
• اپنے محلے کے پانی کی نالیوں میں کچرا یا فضلہ نہ پھینکیں۔
• اپنے پڑوس کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور کھڑے پانی کو سر

04/04/2022

Ramzan clinic time
3:30pm to 6:15 pm. then 7:45 pm to 12:00Am night.
Same Usual clinic timing except almost 1 and half hour Roza Afthar break time.

Sunday off as usual.

20/11/2021

حالیہ #ویکسینیشن # کیمپین:........

بہت سے لوگ حالیہ سرکاری ویکسینیشن کیمپین کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں Measles & Rubella ویکسین لگائی جا رہی ہے. اس سے متعلق مندرجہ ذیل نکات کو ذہن نشین کر لیں:

1. یہ ویکسین ہے کیا؟

یہ ویکسین 2 بیماریوں کے خلاف ہے:. خسرہ (Measles). جرمن میزلز (Rubella)

خسرہ سے تو آپ لوگ واقف ہی ہیں. جرمن میزلز بھی وائرس سے ہونے والی، خسرہ سے ملتی جلتی بیماری ہے. فرق یہ ہے کہ اسکی شدت کم ہوتی ہے اور اس میں جب جلد پر سرخ نشان(rash) ابھرتے ہیں تو بخار ٹوٹ جاتا ہے جبکہ خسرہ میں rash کے ساتھ بخار مزید تیز ہو جاتا ہے.

2. انکے خلاف ویکسین کیوں ضروری ہے؟

یاد رکھیں کہ یہ دونوں بیماریاں خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہیں. خصوصاً ان بچوں میں جنکی قوت مدافعت کمزور ہو. اور آجکل کے دنوں میں کوئی پتہ نہیں کہ کورونا نے ہماری اور بچوں کی قوت مدافعت پر مجموعی طور پر کیا اثرات مرتب کئیے ہیں. لہٰذا یہ ویکسین ضرور لگوائیں.

انکی ممکنہ پیچیدگیوں کی ہلکی سی جھلک دکھاتا ہوں:
. خسرہ کے وائرس کی وجہ سے شدید اسہال، شدید نمونیا، گردن توڑ بخار، جھٹکے، قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے دیگر خطرناک انفیکشنز اور کچھ بچوں میں کئی سال بعد مستقل اور خطرناک ذہنی معذوری SSPE کے امکانات ہوتے ہیں. اور ہمارے ہاں خوراک کی کمی کا شکار بچوں میں خسرہ کی صورت میں اسہال، نمونیا اور انفیکشنز تو بہت ہی عام ہیں اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں.
. روبیلا کا وائرس عموماً مریض کے اپنے لیے تو خطرناک نہیں ہوتا لیکن حاملہ خواتین میں حمل کے شروع میں یہ انفیکشن ہو تو بچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایسے بچے کئی پیدائشی معذوریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں. لہٰذا بچیوں میں تو اسکی ویکسین انتہائی ضروری ہے.

3. روٹین ویکسینیشن اور حالیہ کیمپین:

پاکستان میں بہت عرصے سے خسرہ کا حفاظتی ٹیکہ روٹین ویکسینیشن پروگرام میں شامل ہے. پہلے اسکی صرف ایک ڈوز لگتی تھی، 9 ماہ پر. پھر چند سال پہلے اسکی تعداد 2 کر دی گئی اور دوسری خوراک 15 ماہ پر دی جاتی ہے. پہلے MMR صرف پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں لگتا تھا اور اسکی قیمت 2 سے 4 ہزار تک ہے. یہ بھی 9ماہ(کچھ ڈاکٹر پہلی خوراک 12 ماہ پر لگاتے ہیں. وہ بھی ٹھیک ہے) اور 15 ماہ پر لگتا ہے.
یہاں یہ جان لیں کہ MMR ویکسین میں خسرہ اور روبیلا کے علاوہ، کن پیڑے یعنی Mumps کے خلاف ویکسین بھی شامل ہے. کن پیڑے یعنی ممپس کا وائرس عموماً چند دن کے بخار اور کان کے نیچے، لعاب پیدا کرنے والے غدود Parotid Glands کی سوجن کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے. لیکن کچھ بچوں میں گردن توڑ بخار، (لڑکوں میں) خصیوں یا (لڑکیوں میں) بیضہ دانی کی سوزش کر سکتا ہے. اور سب سے خطرناک وہ پیچیدگی ہے جس میں یہ لبلبے یعنی pancreas کی سوزش کرتا ہے اور شدید بیماری کے علاوہ بعد میں شوگر کا باعث بھی بن سکتا ہے.

یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ اب سرکاری طور پر Measles اور Rubella کی ویکسین دستیاب ہو گئی ہے اور عوام کو مفت لگائی جا رہی ہے. (ممپس والی فی الحال اس میں شامل نہیں)

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکا بوسٹر، یعنی تیسری ڈوز 4 سے 6 سال کی عمر کے دوران لگنا چاہیے جو کہ پہلے سرکاری طور پر تو بالکل نہیں لگتا تھا اور پرائیویٹ طور پر بھی اکثر لوگ بھول جاتے تھے. جن بچوں کو یہ تیسری خوراک نہ لگی ہو وہ 15 سال کی عمر تک بھی یہ لگوا سکتے ہیں. لہٰذا اب سکول جانے والے 15 سال تک کے بچوں کیلئے سنہری موقعہ ہے کہ وہ اس کیمپین سے فائدہ اٹھائیں.
اور یہ حالیہ کیمپین خسرہ سے بچاؤ کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ ہر سال موسم سرما میں اسکی وبا پھوٹ پڑتی ہے. اور جیسا کہ پہلے عرض کی اس بار پہلے ہی کورونا کی وجہ سے قوت مدافعت کی صورتحال کا کوئی علم نہیں. لہٰذا اسکی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے. اور اس مقصد کیلئے صرف خسرہ کی ویکسین کی بجائے M&R کا انتخاب تو بہت ہی مستحسن فیصلہ ہے.

4. شیڈول:

سب سے زیادہ سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ جن بچوں کو خسرہ کی ویکسین لگ چکی ہے یا لگنے والی ہے، انکا کیا کیا جائے؟ اس بارے میں درج ذیل باتیں سمجھ لیں:
. وبائی صورتحال میں یا وباء سے بچنے کیلئے متعلقہ بیماری کی ویکسین کی اضافی خوراک کو وسیع پیمانے پر لگانا ایک معمول کی بات ہے. خدارا اسے کسی سازشی تھیوری سے نہ جوڑیں.
. تو جن بچوں کو خسرہ کی ابھی 1 ہی ڈوز لگی ہے اور اسے 4 ہفتے سے اوپر ہو چکے ہیں، انہیں اس کیمپین کے تحت دوسری ڈوز لگوا لیں.
جن بچوں کو دونوں خوراکیں پہلے سے لگ چکی ہیں، اور دوسری خوراک کو 4 ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، وہ بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں اور اضافی خوراک کا کوئی نقصان نہیں. بلکہ فائدہ یہ ہے کہ پہلے صرف خسرہ کے خلاف مدافعت تھی تو اب روبیلا کے خلاف بھی ہو جائے گی.
. جو بچے پہلے ہی پرائیویٹ طور پر MMR لگوا رہے ہیں، انکو اگر پہلے ایک خوراک لگی ہے اور دوسری لگنے والی ہے تو انکی مرضی ہے کہ خواہ وہیں سے لگوا لیں جہاں سے پہلے لگوائی ہے، خواہ سرکاری کیمپین سے لگوا لیں. جن بچوں کو دونوں خوراکیں MMR کی لگ چکی ہیں اور انکی عمر 4 سال سے کم ہے، بہتر ہے کہ وہ ابھی نہ لگوائیں اور 4 سال کی عمر کا انتظار کریں اور پھر تیسری ڈوز لگوائیں. البتہ اگر دوسری ڈوز کو 4 ہفتے سے اوپر کا عرصہ گزر گیا ہو اور آپ نے کیمپین میں اضافی ڈوز لگوا لی ہو تو بھی کوئی مضائقہ نہیں.
. سکول جانے والے، 15 سال سے چھوٹے، وہ تمام بچے جنہیں (صرف) خسرہ یا MMR کی تیسری خوراک نہیں لگی، وہ اس سرکاری کیمپین کے تحت سکول میں ویکسین لگوانے کی اجازت بلا خوف و خطر دے دیں.
البتہ جو معدودے چند لوگ پرائیویٹ طور پر MMR کی تیسری ڈوز لگوا چکے ہیں، وہ یہ اضافی خوراک نہ بھی لگوائیں تو کوئی بات نہیں. البتہ اگر تیسری خوراک کو چند سال گزر چکے ہیں تو لگوا لینا بہتر ہے.

5. سائیڈ افیکٹس:

اسکے سائیڈ افیکٹس عموماً بہت کم اور معمولی سے ہوتے ہیں. زیادہ تر بچوں میں ٹیکے کی جگہ پر (یہ ٹیکہ جلد کے نیچے لگتا ہے) معمولی سوجن اور ہلکا بخار ہو سکتا ہے. اس صورت میں بس پیناڈول کا استعمال کریں. سوجن خود ہی ٹھیک ہو جائے گی. کچھ بچوں میں معمولی سا ریش (جلد پر سرخ نشان) بھی دیکھنے میں آیا ہے. یہ بھی کوئی تشویشناک بات نہیں اور خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے.

صحتمند بچے، روشن مستقبل

11/11/2021

روبیلا یا جرمن خسرہ،
پشتو میں شرےکہتے ہیں ۔
روبیلا، وائرس کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن ہے۔ علامات عام طور پر ہلکی ہوتی ہیں، لیکن اگر حمل کے دوران انفیکشن ہوتا ہے تو یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔(ہونے والے بچے ذہنی معذوری، بہرے پن،دل کے امراض،ٹائپ ون ذیابیطس وغیرہ کے شکار ہو جاتے ہیں )
روبیلا کی علامات میں سر درد، بخار، ناک بہنا، جوڑوں میں درد، اور لمف کے بڑھے ہوئے نوڈ شامل ہو سکتے ہیں۔
روبیلا خسرہ سے ملتا جلتا ہے، لیکن علامات زیادہ ہلکی ہیں۔
روبیلا انفیکشن سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ خسرہ، ممپس اور روبیلا ویکسینیشن (MMR) کروا لیں۔
نوٹ #
15 نومبر سے 27 نومبر تک حکومت پاکستان نے 09 ماہ سے 15 سال کے بچوں کے لئے خصوصی مہم میں بھرپور حصہ لینے اور محکمہ صحت کے سٹاف کے ساتھ تعاون کریں ۔۔
شکریہ ۔۔
Free of cost vaccine
No side effects
Measles and Rubella Disease is dangerous than vaccine
Usually it’s given in EPI schedule
But Bcz of CoViD issue many children missed it
Better to vaccinate ur kids

Dr Muhammad Umar Afiridi

Address

Sector F8 Akhunzada (Zangal)Market Near Bank Of Khyber
Hayatabad Peshawar
26100

Opening Hours

Monday 11:30 - 23:00
Tuesday 11:30 - 23:00
Wednesday 11:30 - 23:00
Thursday 11:30 - 23:00
Friday 11:30 - 23:00
Saturday 11:30 - 23:00

Telephone

+923156012843

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Habib medical center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Habib medical center:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category