16/09/2025
پاکستان میں نفسیاتی خدمات کا چیلنج اور معیار پر سمجھوتہ ⚠️
پاکستان میں نفسیاتی خدمات کے معیار پر اکثر سمجھوتہ ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے تھراپسٹ مناسب تربیت یا نگرانی (supervision) حاصل کیے بغیر ہی مختلف تھراپیوں (جیسے کہ CBT، EMDR، یا DBT) کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ایک سنگین اخلاقی مسئلہ ہے جو ہمارے پیشے کے وقار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ایسے میں، اے پی اے اخلاقی ضابطہ (APA Ethics Code) ہمارے پیشے کے لیے ایک اہم خاکہ ہے جو ہمیں درست سمت دکھاتا ہے۔ اس کا ایک بنیادی اصول معیار 2.01: اہلیت کی حدود (Boundaries of Competence) میں پایا جاتا ہے، جو یہ لازم قرار دیتا ہے کہ ماہرینِ نفسیات کو "صرف اپنی اہلیت کی حدود کے اندر ہی خدمات فراہم کرنی چاہئیں، جو ان کی تعلیم، تربیت، زیر نگرانی تجربے، مشاورت، مطالعے، یا پیشہ ورانہ تجربے پر مبنی ہو۔"
یہ صرف ایک تجویز نہیں ہے؛ یہ وہ بنیاد ہے جس پر نفسیات کا پورا پیشہ قائم ہے۔ عملی طور پر یہ کچھ یوں نظر آتا ہے:
✅ نگرانی (supervision) ایک غیر سمجھوتہ پذیر ضرورت ہے۔ چاہے آپ کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہو یا ماسٹرز کی، زیرِ نگرانی مشق اہلیت کو پرکھنے اور بنانے کا بنیادی طریقہ کار ہے۔
➡️ ماسٹرز کی سطح کے تھراپسٹس کے لیے، نگرانی (supervision) لائسنس کا حصول ہے۔ انہیں گریجویشن کے بعد قانونی طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، لائسنسنگ بورڈز کو لائسنس کے لیے درخواست دینے سے پہلے ان کے لیے پوسٹ گریجویٹ نگرانی کا ایک سخت، کئی سالوں پر محیط دورانیہ — جو اکثر ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے — درکار ہوتا ہے۔
✅ لائسنس یافتہ ماہرینِ نفسیات کے لیے، نگرانی (supervision) ایک پیشہ ورانہ تحفظ ہے۔ اگرچہ وہ آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں، اے پی اے کا معیار یہ طے کرتا ہے کہ اگر وہ کوئی نئی تھراپیوٹک طریقہ کار (جیسے EMDR یا DBT) استعمال کرنے یا کسی نئے شعبے میں داخل ہونے کا انتخاب کریں تو انہیں اہلیت حاصل ہونے تک مناسب نگرانی یا تربیت حاصل کرنی چاہیے۔
مسلسل نگرانی (supervision) کا عزم کمزوری کی علامت نہیں؛ یہ ایک پیشہ ور کی زندگی بھر سیکھنے اور اخلاقی مشق کے لیے لگن کا سب سے سچا نشان ہے۔ ہمارے کلائنٹس کی فلاح و بہبود کا انحصار اسی پر ہے۔