Dr.Shoaib Hameed

Dr.Shoaib Hameed the page is to get in touch with surrounding community at social level to get feed back for betterment of Services provided.

کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”'کے ہم نہیں تو بچے ایسے ہی پالے...
07/04/2025

کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”'کے ہم نہیں تو بچے ایسے ہی پالے ہیں'“
تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله

1- ہر رونے میں پیناڈول دینا کے کوٸ تو تکلیف ہو گی .
2- بمشکل 3 ماہ کے بچے کو سیریلیک، گلوکو بسکٹ، کسٹرڈ وغیرہ دینا۔
3- دانتوں میں بائیو 21 دینا۔ یہ بہت راحت بخش ہے۔ لیکن ایف ڈی اے نے منظوری نہیں دی۔ یہ دانتوں کی اینکیلوسس کا سبب بن سکتا ہے۔
4- شیر خوار بچوں کے جسم کے بالوں کو ختم کرنے کے لیے آٹے کا گولا قسم کی چیز رگڑنا۔
5- بچے کا سر بنانے کے عمل کے لیے پلیٹ کو سر کے نیچے رکھنا۔ فلیٹ ہیڈ سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔
6- ایک سال کی عمر سے پہلے شہد دینا بچے میں بوٹولزم کروا سکتا ہےجس میں جسم کے پٹھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
7- ایک سال سے پہلے گائے کا دودھ دینا۔ گائے کے دودھ کی ساخت اور اس کا بچے کے گردے پر اثر ہے۔ اور اس کی وجہ سے بچے میں آئرن کی کمی ہوتی کیونکہ گاۓ کے دودھ میں آئرن کم ہوتا ہے اور جو ہوتا ہے وہ جزب نہیں ہو پاتا۔
8- ایک سال سے پہلے ضرورت سے زیادہ چینی اور نمک بچے کو دینا ۔
9- چھ ماہ سے پہلے پانی دینا۔ جیسا کہ مدر فیڈ کے معاملے میں اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
10- کاجل/سورما لگانا۔ آنکھوں میں انفیکشن، آنسو کی نالی میں رکاوٹ اور آنکھوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
11- فینرگن یا دیگر سکون آور ادویات دینا تاکہ بچہ سویا رہے,چار سال سے پہلے یہ سیرپ بچے کا سانس بھی بندکروسکتا ہے ۔
13- ماں کا یہ تصور کبھی بھی بچے کی خوراک کافی نہیں ہے۔ 'پیٹ نہیں بھرتا' اور پھر کھلا دودھ شروع کروا دینا
14- ایک سال کی عمر کے بعد ضرورت سے زیادہ دودھ دینا ۔
15- چھوٹے بچے کو ہونٹوں/گال پر بوسہ دینا بچے میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے خاص کر جب آپکا گلا خراب یا فلو ذکام ہو۔
16- بچے کی نشوونما کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا۔
17- واکر کا استعمال۔ آپ اس کے نتائج پر تحقیق کر سکتے ہیں۔
18- اوور لیئرنگ یا زیادہ کپڑے پہنا دینا۔جو بچے کو زیادہ گرم کرنے اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
19- وٹامن ڈی سپلیمنٹ کو خاطرناک سمجھنا۔ خصوصی دودھ پلانے والے بچے میں اس کی اہمیت کے بارے میں تحقیق کریں۔
20-پیداٸیش پر وٹامن کے کا انجیکشن نہ لگوانا کہ بچے کودرد ہوگا ۔ وٹامن کے کی کمی سے بچے میں خون پتلا ہوجاتا ہے اور دماغ میں بھی خون بہ سکتا ہے
21-بچے کی ناف پر تیل اور ایسی چیزیں لگانا ۔ناف کے انفیکشن اوردیر سے گرنے کا سبب بنتی ہیں
22-بچے کو ٹھنڈا گرم کے چکر میں اھم غزاٶں جیسے انڈہ ,دہی ,چاول اور سٹرس فروٹس سے محروم رکھنا
23- بچے کو خاص طور پردوسال سے پہلے موباٸل یا ٹی وی کارٹون دکھانا ۔۔یہ بچے میں آٹزم جیسے مساٸل پیدا کر سکتا ہے
24-بچے کی گروتھ کے لیے عرق ,گٹھی جیسی چیزیں دینا ۔انکی ساٸنسی افادیت ثابت نہیں ہو سکی
25-کوالیفاٸیڈ ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود نارمل ڈلیوری پر اصرار کرنا۔ اگر اس دوران بچے کو دماغی آکسیجن کی کمی ہو جاۓ تو بچہ سی پی چاٸلڈ بن سکتاہے۔
26-بچے کی ویکسینیشن نہ کروانا یا ویکسینشن میں تاخیر کرنا۔ ویکسینشن مفت ہے اور بچے کو بارہ خطرناک جان لیوا بیماریوں سے بچاتی ہے
27- میڈیکل سٹور پر جاکر سیلز مین سے بچے کا مسلہ بتا کر دواٸ لینا خاص کر اینٹی باٸیوٹیکس اور ایک بچے کی دواٸ دوسرے بچے پر آزمانا

تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله

نو زائیدہ بچوں کے اہم مسائل اور ان کا آسان حل!!!(بچوں کے مسائل اور انکے حل پر ھماری روزانہ کی بنیاد پر آنے والی پوسٹس دی...
19/10/2024

نو زائیدہ بچوں کے اہم مسائل اور ان کا آسان حل!!!

(بچوں کے مسائل اور انکے حل پر ھماری روزانہ کی بنیاد پر آنے والی پوسٹس دیکھیں، دوست احباب کے ساتھ شیر کریں اور ھمیں فالو کریں )

بچہ جب اس دنیا میں اتا ہے تو وہ بڑوں سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اسکو کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے ۔نو زائیدہ بچوں کی کچھ چیزیں جو نارمل ہوتی ہیں لیکن والدین کو مسئلہ لگ رہی ہوتی ہیں۔
ہم کوشش کریں گے کہ اس پوسٹ میں نوزایئدہ بچوں سے متعلق پانچ ایم چیزیں دیکھیں گے جو والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں اور ہم اپ کی رہنمائی کریں گے کہ کیسے ان کو اپ نے حل کرنا ہے۔

1.بچوں میں پیٹ درد یا کولک کا مسئلہ.
یہ بہت عام مسلہ ہے .اس کی تعریف یہ ہے کہ بچے کو درد تین ہفتے سے لے کے تین ماہ تک ہوتا ہے, ہفتے میں کم از کم تین دن ہوتا ہے اور ایک دن میں تین گھنٹے ہوگا۔ اس میں بچہ بہت بے چین ہوتا ہے روتا ہے اس کا رنگ سیاہ پڑ سکتا ہے اور پیٹ اکڑ جاتا ہے۔ اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں۔
کولک بچوں کے والدین کے لیے اہم ہدایات !!!
۔بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلائیں
۔بچوں کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلوائیں
۔بچے کے پیٹ کے اوپر ہلکی سی مالش کریں
۔بچے کواٹھا کر جھلا سکتے ہیں
۔کوشش کریں کہ بچے کو گھر کے سب افراد مل کے باری بار اٹھائیں کیونکہ روتے ہوۓ بچے کو جب ایک ہی بندہ اٹھائے گا تو وہ بہت چڑچڑے پن کا شکار جاتا ہے
امید ہے کہ یہ مسئلہ تین مہینے پہ جا کے ٹھیک ہو جاۓ گا۔

2.بچوں میں دودھ پینے کے بعد دودھ کا نکالنا.
یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں کیونکہ بچوں کی خوراک دودھ ہوتی ہے ,بچے ہمیشہ لیٹے رہتے ہیں اور بچوں کی خوراک کی نالی جو معدے اور منہ کو ملاتی ہے بہت چھوٹی ہوتی ہے
والدین کے لیے اھم ہدایات !!!دودھ پلانے کے بعد بچے کو لٹانا نہیں بلکہ اس کو پانچ سے دس منٹ کندھے پہ رکھیں بچے کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلواٸیں دودھ ہمیشہ ماں کا پلاٸیںبچے کو اور فیڈ نہ کرواٸیںدودھ تھوڑا اور بار بار پلاٸیںڈبے کے دودھ پینے والے بچوں میں کچھ سپیشل فارمولے بھی آتے ہیں جن کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے
بچے کا یہ مسئلہ بھی جیسے بچہ چھ ماہ کا ہوتا ہے, بیٹھنا شروع کر دیتا ہے اور دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا شروع ہوتی ہے تو یہ عموما ٹھیک ہو جاتا ہے

3.بچے میں ہر دودھ پینے کے بعد پاخانہ کر دینا.
یہ مسئلہ بھی اہم اور عام ہے۔ اسکی وجہ بچوں میں خوراک کی نالی چھوٹی ہوتی ہے جیسے ہی دودھ معدے میں جاتا ہے تو وہ اگلے حصے کو سگنل بھیجتا ہے تاکہ مزید خوراک کی جگہ بنے تو بچہ پاخانہ کر دے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر بچے کے پاخانے پتلے پانی کی طرح کے نہیں ہیں ,بچے کو کوئی پانی کمی کی علامات نہیں آرہی تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ جیسے بچہ بڑا ہوگا تو یہ مسئلہ خود سے ٹھیک ہو جاتا ہے

4.بچہ رات کو سوتا نہیں ہے۔
یہ مسئلہ والدین کے لیے کافی اہم ہے اور اکثر نئے والدین اس کی شکایت کرتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بچے کی نیند عمر کے حساب سے ہوتی ہے۔ نامولود بچے کی نیند 15 گھنٹے تک بھی ہو سکتی ہے لیکن بچے کا سونے کا سائیکل نہیں بنا ہوتا ۔اس کو نہیں پتہ ہوتا ہے کہ دن ہے یا رات تو وہ کسی بھی ٹائم سوئے گا کسی بھی ٹائم اٹھ جائے گا ۔ یہ والدین کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے کہ جب بچہ رات کو اٹھ جائے گا تو ان کو پریشانی ہوتی ہے ۔
تقریبا چھ ماہ کے بعد آہستہ آہستہ یہ سائیکل بننا شروع ہوتا ہے اس میں بچے کی نیند کی ترتیب بنتی ہے کہ بچے نے دن میں سونا کم کر دیتا ہے اور رات کو زیادہ سوتا ہے ۔ اپ نے تب تک اس چیز کو برداشت کرنا ہے۔ اس کے لیے کوئی میڈیسن دوائیاں فنرگن سیرپ وغیرہ بچے ک نہیں دینے۔

4.ڈاکٹر صاحب بچے کی بھوک پوری نہیں ہو رہی۔
یہ اہم سوال ہے اور والدین اکثر اس تزب زب کا شکار ہوتے ہیں کہ کیا میرے بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب بھی بچہ رو رہا ہے تو اس کا مطلب بچہ بھوکا ہے جو ہرگز نہیں ہے۔ تو اہم چیز یہ ہے کہ اگر بچہ دودھ پینے کے بعد سکون سے سو جاتا ہے , اس کا وزن بڑھ رہا ہے ,بچہ ترتیب سے پاخانہ اور پیشاب کر رہا ہے تو بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے ۔اپ نے اس کے لیے ہرگز بچے کو ڈبے , گائے کا دودھ یا پانی نہیں پلانا۔

5.بچے کے دانت نہیں آرہے
اکثر والدین بہت پریشان ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بچے کے دانت جلدی ا جائیں ۔حتی کہ ہمارے ڈاکٹرز بھی ہم سے اپنے بچوں سے متعلق یہ پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ دانت آنے کا جو نارمل دورانیہ ہے وہ چھ ماہ سے لے کے تقریبا ڈیڑھ سال تک ہے تو اس دوران بچے کے دانت اتے ہیں ۔ اگر بچہ ایک سال کا ہو گیا ہے اور باقی وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے ,اس کی گروتھ صحیح جا رہی ہے اور صرف دانت نہیں ائے تو اس کے لیے اپ کو کیلشیم وٹامن ڈی یا ایسی چیزیں دینے کی ضرورت نہیں ہے بچے کے دانت ا جائیں گے بس تھوڑا صبر کریں
بچوں کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے ہماری روزانہ کی پوسٹس دیکھتے رہیں اور تمام والدین کے ساتھ شیر کریں۔

اسلام علیکم! آج کا موضوع تھائرائیڈ غدود Thyroid Gand کے حوالے سے ہے، تھائیرائیڈ Thyroid سے جڑے اہم سوالات جن کے جواب  جا...
07/03/2024

اسلام علیکم!
آج کا موضوع تھائرائیڈ غدود Thyroid Gand کے حوالے سے ہے،

تھائیرائیڈ Thyroid سے جڑے اہم سوالات جن کے جواب جاننا ضروری ہیں خاص کر خواتین کے لیے!

پاکستان میں ہر 12 میں سے ایک شخص تھائرائیڈ Thyroid کے مسئلے سے دوچار ہے۔ 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تھائرائیڈ کے تقریباً 1 کروڑ مریض ہیں۔

تھائیرائیڈ Thyroid کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً ایک تہائی لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

ویسے یہ بیماری خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ حمل Pregnancy اور پیدائش کے پہلے تین مہینوں کے دوران، تقریباً 44 فیصد خواتین کو تھائیرائیڈ Thyroid کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تھائیرائیڈ کیا ہے؟
What is Thyroid Gland?

تھائرائیڈ Thyroid گردن کے قریب تتلی کی شکل کا ایک غدود Gland ہوتا ہے۔ یہ غدود Gland ایسے ہارمونز Hormones پیدا کرتا ہے جو دل، دماغ اور جسم کے دیگر حصوں کو صحیح طریقے سے چلاتا ہے۔

یہ جسم کو توانائی کا استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے اور اسے گرم رکھتا ہے۔

ایک طرح سے یہ غدود جسم کی بیٹری کی طرح کام کرتا ہے۔ اگر یہ غدود کم یا زیادہ ہارمونز خارج کرے تو تھائرائیڈ Thyroid کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔‘

تھائیرائیڈ کی کتنی اقسام ہیں؟
Types Of Thyroid Gland Disorders..
جب تھائرائڈ گلینڈ جسم کے لیے مناسب ہارمونز پیدا کرنے نہیں کر پاتے تو اسے ’ہائپو تھائیرائیڈزم‘ Hypothyroidism کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسے کھلونے کی طرح ہے جس کی بیٹری مر چکی ہے۔ ایسی حالت میں جسم پہلے کی طرح متحرک نہیں رہتا اور اس کے مریض جلد تھک جاتے ہیں۔

اس میں تھائیرائیڈ گلینڈ Thyroid Gland سے ٹرائی آئوڈین تھائروکسن Triiodothyronine یعنی T3اور تھائروکسین یعنی T4 ہارمونز کا اخراج کم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں تھائیرائیڈ سٹریمولیٹنگ ہارمون TSH بڑھ جاتا ہے۔

اگر یہ غدود زیادہ ہارمون پیدا کرنے لگے تو اس مسئلے کو 'ہائپر تھائیرائیڈزم' Hyperthyroidism کہا جاتا ہے۔ ایسے میں مریضوں کی حالت اس شخص کی سی ہو جاتی ہے جس نے بہت زیادہ کیفین Caffeine لی ہو۔

تیسری حالت تھائیرائیڈ گلینڈ کی سوجن ہے جسے گوئٹر Goiter کہتے ہیں۔ اگر یہ دوائیوں سے ٹھیک نہیں ہوتا ہے تو اسے سرجری کے ذریعے درست کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تھائیرائیڈ کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
Sign and Symptoms Of Thyroid Gland...
ہائپو تھائیرائیڈ کی علامات:
Symptoms of Hypothyroidism:
وزن بڑھنا، Weight Gain چہرے، ٹانگوں کی سوجن، Swelling or Inflammation کمزوری، Weakness سُستی، Fatigue بھوک کا نہ لگنا، Anorexia بہت زیادہ نیند آنا، Sleep Distrubness بہت زیادہ ٹھنڈ لگنا، Cold Intolaranceخواتین کی صورت میں ماہواری میں تبدیلی، Menstrual Period Irregular بالوں کا گرنا، Hair Fall حاملہ ہونے میں دشواری Infertility وغیرہ۔

ہائپر تھائیرائیڈ کی علامات:
Symptoms of Hyperthyroidism:
چونکہ یہ ہارمونز کو زیادہ مقدار میں خارج کرتا ہے، اس لیے کافی کھانے اور بھوک لگنے کے بعد بھی یہ وزن میں کمی Weight Loss اور اسہال Diarrhea کا باعث بنتا ہے۔
اس میں بے چینی ہے، ہاتھ پاؤں میں کپکپاہٹ اور گرمی زیادہ محسوس ہونا Feeling Hot۔ موڈ میں تبدیلی اور نیند نہ آنا دل کی دھڑکن Palpitations میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔‘

احیتیاط:
Precautions:
کیا کریں اور کیا نہ کریں؟
طرز زندگی کو بدل کر بھی تھائیرائڈ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے متوازن خوراک لینا بہت اہم ہے۔ کھانے میں پھل، سبزیاں، انڈے شامل ہونے چاہئیں۔ فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

آئوڈین Iodene تھائیرائڈ کے لیے اہم ہے، جو ہارمونز بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلینیم Sellinium تھائیرائڈ کے اینزائمز Enzymes کو متحرک کرتا ہے۔ ہم اسے چاول، مچھلی، گوشت اور سبزیوں سے حاصل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کھانے میں پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس Carbohydrates کو شامل کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ اس میں فائبر Fiber زیادہ ہوتا ہے، جو ہمیں اناج، سبزیوں اور پھلوں سے ملتا ہے۔

ہائپو تھائیرائڈزم Hypothyroidism میں میٹابولزم Metabolism کی شرح کم ہوجاتی ہے، اسے بڑھانے کے لیے کارڈیو ورزش کرنی چاہیے، جس میں جاگنگ، دوڑنا، تیز چہل قدمی، ٹریڈ مل پر دوڑنا شامل ہیں۔

ڈاکٹرز تھائرائیڈ کے مریضوں کو گلائسیمین Glycemene کھانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں پولش چاول، فائبر کم خوراک، ریفائنڈ آٹے سے پرہیز کریں۔

اچھی نیند لینے سے بھی تھائیرائیڈ کنٹرول میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز بھی محفوظ خوراک اور پیکجڈ فوڈ سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

تھائرائڈ کا پتہ لگانے کے لئے کون سا ٹیسٹ؟
Laboratory Tests For Thyroid Gland Abnormalities:
تھائیرائیڈ گلینڈ دو بڑے ہارمونز پیدا کرتا ہے، جن میں ٹرائی آئوڈین تھائیروکسین یعنی T3 اور تھائیروکسین یعنی T4 اور ٹی ایس ایچ TSH یعنی تھائیرائیڈ کو متحرک کرنے والے ہارمون شامل ہیں۔

یہ معلوم کرنے کے لیے کہ غدود ٹھیک سے کام کر رہا ہے یا نہیں، تھائیرائیڈ پروفائل ٹیسٹ Thyroid Profile Tests کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے خون میں ٹی 3، ٹی4 اور ٹی ایس ایچ جیسے ہارمونز کی سطح کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

زیادہ تر معاملات میں T4 اور TSH ٹیسٹ ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ تھائرائیڈ پروفائل ٹیسٹ کی قیمت تقریباً اچھی لیبارٹری میں 1500 سے 2000 روپے ہے۔۔۔

حمل کے دوران تھائیرائیڈ:
Thyroid Issue during Pregnancy:
حمل کے دوران خواتین کو اکثر ذیلی کلینیکل ہائپوتھائیرائڈزم Sub-Clinical Hypothyroidism ہوتا ہے۔

اس حالت میں تھائرائیڈ کی علامات نظر نہیں آتیں لیکن حمل کے دوران ٹی ایس ایچ TSH کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اسقاط حمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے لیے ڈاکٹر ہر چھ ہفتے بعد ٹی ایس ایچ TSH لیول چیک کروانے کو کہتے ہیں۔

کیا یہ مسئلہ جان لیوا ہے؟
Is Thyroid Gland issue Life Threaten?
اگر وقت پر ہائپو تھائیرائیڈزم کو نہ پہچانا جائے تو بعض اوقات ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہائپر تھائیرائیڈزم کی وجہ سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

ہائپو تھائیرائیڈزم Hypothyroidism کی صورت میں مریض سوڈیم کی سطح میں کمی کی وجہ سے کوما میں جا سکتا ہے۔ اگر بچوں کی پیدائش کے بعد اس مسئلے کو نہ پہچانا جائے تو ان کی ذہنی نشوونما رک سکتی ہے۔بچے کا آئی کیو لیول کم ہو سکتا ہے۔

چونکہ یہ مسئلہ علاج سے آسانی سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس لیے اس بیماری کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ ورنہ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ جب سکول جانے والے بچوں میں ایسا ہوتا ہے تو ان کی نشوونما Growth رک سکتی ہے۔

اگر تھائیرائیڈ کے ان دونوں مسائل کو وقت پر نہ پہچانا جائے تو بعض اوقات یہ جان لیوا بھی بن سکتے ہیں۔

تھائرائیڈ اڈ کینسر کیا ہے؟
What is Thyroid Cancer?
ایک اندازے کے مطابق 100 میں سے 4 خواتین کو تھائرائیڈ کینسر ہوتا ہے۔

کینسر کو تھائرائیڈ گلینڈ میں کچھ خلیوں کی ضرورت سے زیادہ نشوونما کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر بروقت پتہ چل جائے تو اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

تھائیرائیڈ کینسر کی علامات میں گلے میں گانٹھ، Goiter سانس لینے میں دشواری Breathing Problems اور نگلنے Swallowing میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔

29/03/2023

It's all about health and health related issues..it's open access book to all human on planet Earth..here u know "what really matters u and fundamental art of paediatrics.....

ریبیز Rabies یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے!ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سو...
29/03/2023

ریبیز Rabies یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے!

ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔
کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!
ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسینز مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، بہرحال اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔
اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔
اگر کتا آپ کے یہاں پالتو ہے، یا آپ جانوروں کے ڈاکٹر ہیں، یا آپ فوج میں ہیں، یا دیہی علاقے کی پولیس میں ہیں، یا کسی بھی ایسی جگہ ہیں جہاں دوران ملازمت آپ کھلے میدانوں کا رخ کر سکتے ہیں، یا کتوں والے کسی بھی علاقے میں جانا پڑ سکتا ہے تو آپ ریبیز سے بچاؤ کا حفاظتی کورس بھی کر سکتے ہیں۔
ریبیز سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آج تک پانچ سے زیادہ لوگ بچ نہیں سکے۔ وہ بھی دس بارہ سال پہلے ایک تجربہ شروع کیا گیا تھا جس میں مریضوں کو مصنوعی طریقے سے کئی ماہ تک بے ہوش رکھا گیا، انہیں مختلف دوائیں دی گئیں اور آہستہ آہستہ جب وائرس ختم ہو گیا تب ہوش میں لایا گیا۔ لیکن یہ طریقہ بھی کئی سو میں سے صرف پانچ لوگ بچا سکا۔ ان پانچ کے بارے میں بھی ڈاکٹر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں والدین سے ریبیز کے خلاف قوت مدافعت آئی ہو گی۔
بلی، گائے، بھینس، گھوڑا، گدھا، چمگادڑ، ہر وہ جانور جو دودھ پلانے والا ہے، وہ ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاگل کتا جب انہیں کاٹتا ہے تو وہ اپنے جراثیم ان میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہی جراثیم انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں اگر یہ جانور کاٹ لیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔
صرف شہر کراچی میں ہر سال تیس ہزار کتے کاٹے کے مریض مختلف ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ اندازہ کر لیجے باقی ملک میں کیا صورت حال ہو گی۔ پالتو کتوں کی ویکسینیشن بھی اس سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

کلب فٹ Clubfoot                                                                                                         ...
29/03/2023

کلب فٹ Clubfoot کلب فٹ Clubfoot نو از ئیدہ بچے کے پا وں کا ایک پیدا ئشی نقص ہے ۔ جسے ٹیلیپیسtalipesکہا جا تا ہے ۔ پیر ٹخنے کے جوڑ میں اندر کی طر ف مو ڑا ہو تا ہے اسے میڈیکل کی زبان میںtalipes equinovarus کہتے ہیں ۔ بعض اوقات پیر با ہر کی طر ف مو ڑا ہو تا ہے تو اسے talipes equinovalgus کہا جاتا ہے ۔ عام طور پر یہ صحت مند نو مو لود بچے میں مو جو د ہو تا ہے ۔مگر بعض اوقات یہ مور ثی نقا ئص اور پٹھوں اور اعصاب کی مو رثی بیما ریو ں کے ساتھ بھی ظا ہر ہو سکتا ہے ۔ کلب فٹ ایک یا دنو ں پا وں میں ہو سکتا ہے ۔ وجو ہات ۔ یہ ایک پیدا ئشی نقص ہے ۔اس کی بنیا دی وجو ہا ت معلوم نہیں ۔ البتہ کچھ عوامل ایسےہیں جن کی مو جودگی میں اس کا رسک بڑھ جا تا ہے۔ مثلا دوسرے پیدا ئشی نقا ئص مثلا سپا ئنا با ئفیڈا یا اعصاب کےدوسرے نقائص ۔ اس کے علاو ہ مو رثی وجو ہات مثلا ماں باپ یا بہن بھا ئوں میں نقص کا مو جودہو نا ۔ ما حول کا اثرجیسے سگریٹ نو شی وغیرہ اس کے علا و ماں کے رحم میں پانی یا ایما نئا ٹک فلو ئیڈ کی کمی وغیرہ سے کلب فٹ کا رسک بڑھ جا تا ہے ۔ علا مات۔ بے بی کا پیرپیدا ئش کے وقت ہی اندر کی طرف مڑا ہو تا ہے ۔ پیر کا اوپروا لا حصہ نیچے اجا تا ہے اورٹخنہ زمین کے ساتھ لگتا ہے۔ ایڑی اندر کی طرف مڑا ہوا ہو تا ہے ۔شدید قسم میں پٹھے ستاور چھو ٹے ہو تے ہیں اور پیر کا سا ئز بھی نسبتا چھو ٹا ہو تا ہے ۔ تشخیص ۔ پیدا ئش کے وقت ڈاکٹر طبی معا ئنے کے دوران اس نقص کی تشخیص کرتا ہے اور نقص کی شدت کا انداز ہ لگا نے کے بعد ار تھو پیڈک سرجن او فز یو تھرا پیسٹ کو ریفر کرتاہے ۔شا زو نادر ایکسرےکی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اس کےعلا وہ حمل کے دوران ہونے والے بیس ہفتے کی الٹرا ساو ںڈ میں بھی یہ نقص نظر اسکتا ہے۔ علاج ۔ کیونکہ نو از ائیدہ بچے کی ہڈیاں ۔جو ڑ اور پٹھے لچکدارہو تی ہیں ۔اس لئے نو موود بچے کا علاج پہلے چند ہفتوں میں کیا جا تا ہے ۔علاج کا یک طر یقہ پو نٹیسی طریقہ کھیچاو اور کا سٹ کا ہہ

Stretching and casting (Ponseti methoSurgery اس میں بچے کے پیر کو اہستہ سے ذرا سا کھینچ کرکا سٹ یا پلا سٹر لگا دیا جا ت ہے اور یہ عمل ہر ہفتے دہرا یا جا تا ہے اور کئ مہینوں کےبعد بچے کا پیر تقر یبا سیدھا ہو جا تا ہے ۔علاج ک دوسرا طر یقہ اپر یشن سے ہے ۔اگر نقص شد ید نو عیت کا ہو تو پیڈیا ٹرک ارتھو پیڈک سر جن اپر یشن کے ذریعے جو ڑاور پٹھو ں کو سیدھا کرتا ہے ۔اس کے سا تھ ساتھ فز ویوتھر پی کی بروقت ضرورت پڑتی ہے ۔ اس میدن کا ما ہر فزیو تھر اپیسٹ جو ڑ کو فعا ل بنا نے میں اپنا کر در اد کر تاہے ۔ پچیدئگیاں ۔اگر وقت پر علاج نہ کیا جا ئے تو نقص ہمیشہ کے لئےرہ جا تا ہے ۔ ٹخنے کا جو ڑ ٹیڑا ہو جا تا ہے اور تناو کی وجہ سے دد بھی محسو س ہو سکتا ہے ۔اور ار تھرا ئٹس یا جو ڑ کی بیما ری کا رسک بڑھ جاتا ہے ۔
کچھ مشہور افراد جو کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوئے تھے :
کلیوڈیس ، رومن شہنشاہ
ڈڈلی مور ، انگریزی اداکار
امریکی اداکار اور مزاح نگار ، ڈیمن وینز
ٹرائے ایکمان ، امریکی فٹ بال پلیئر ، ٹی وی ہوسٹ
انگلش فٹ بال کھلاڑی اسٹیون جیرارڈ
کرسٹی یاماگوچی ، فگر اسکیٹنگ کے لئے 1992 کے اولمپک طلائی تمغے کی فات

ا یمپیٹیگو  دانے یا پھو ڑے ۔  Impetigo                                                              یہ ایک بیکٹر یا  bac...
29/03/2023

ا یمپیٹیگو دانے یا پھو ڑے ۔ Impetigo یہ ایک بیکٹر یا bacteria کی وجہ سے نکلنے والے متعدی دانے یا پھو ڑے ہیں چہرے با زو یا جسم کے دو سرے حصے کے جلد کو متا ثر کر تے ہیں ۔یہ کسی بھی عمر کے شخص کو متا ثر کر سکتے ہیں مگر پا نچ سال سے چھو ٹے عمر کے بچو ں میں عام ہے ۔ وجو یا ت۔یہ ایک بیکٹیریا سٹر یپٹٹو کو کس پا ئیو جنز Streptococcus pyogenes کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔جو جلد کی بیر ونی سطح ایپیڈرمس epidermis کو متا ثر کرتا ہے ۔ یہ یکٹریا زخم یا کٹے ہو ے جلد یا صحت مند جلد کو بھی متا ثر کرتا ہے ۔ یہ د انوں یاپھو ڑوں کو چھو نے سے ایک شخص سے دو سرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔شو گر کے مر ضوں ۔کم قوت مدا فعت ولے بچوں یا بڑ وں مین ۔ زیا دہ نمی والے جگہو ں میں رہنے وا لوں اوراس کے علا وہ جن لو گو ں میں جلد کی کو ئی بیماری موجو ود ہو جیسےسکیبیسScabies۔ایکزیما eczem میں زیا دہ ہو نے کا امکان ہے ۔ علا مات ۔ سب سے پہلے بچے کے منہ یا ناک کے ارد گرد ایک چو ٹےسےسرخ دانا جو کہ جلد زخم کی شکل اختیار کر تا یہ ۔اس کے بعدا چھا لے بنتے ہیں اوریہ چھا لے پھٹ کر پیلی کرسٹ کیشکل اختیار کر تا ہے ۔اس میں کبھی کبھار کھجلی اور ہلکی پلکی تکیف ہو تی ہ ے ۔کر سٹ جب گرتا ہے تو جلد سرخ ہوتا ہے اور نشان چھو ڑے بغیر ختم ہو جا تا ہے۔ اور اسی کے ق ر یب قر یب ایکنیا دا نہ ظا ہ ہو سکتا ہے ۔ تشخیص ۔ عام طو ر پر دا نو ں کیکل اور شبا ہت کودیکھ کرہیڈا کٹر اس کیتشخیص کر تا ہے۔اور اگر ضرورت پڑے تو کلچر سے لیبا ر ٹری میںبیکٹیا کی تشخیص کی جا تی ہے ۔ علاج ۔کیو نکہ یہ بیکٹریا کی وجہ سی لگت ہے اس لئے اس ک علا ج اینٹی با ئیو ٹک سے کیا جاتا ہے ۔ زیا دہ تر اس کا علاج اینٹی با ئیوٹک کریم یا مر ہم سے کیا جا ت ہے ۔اگر مر ض پیچیدہ ہو او ر مدا فعتی نظام کمزور ہو تو منہ کے ذریعے یا انجیکشن کے ذریعے اینٹی با ئیو ٹک کیضڑورت پڑ سکتی ہے ۔

کیا آپ کا نو مو لود newborn بچہ رات دو بجے جا گتا ہے جب آپ دن بھر کی تھکان سے گہری نیند میں ہو تے ہیں اور چند گھنٹے آرام...
29/03/2023

کیا آپ کا نو مو لود newborn بچہ رات دو بجے جا گتا ہے جب آپ دن بھر کی تھکان سے گہری نیند میں ہو تے ہیں اور چند گھنٹے آرام کر نے کی کو شش کرتے ہیں کیو نکہ آپ کو صبح سو یر ے پھر جا گنا ہے ۔ جی ہا ں یہ نو مو لود بچے کا با لکل نا رمل عمل ہے ۔کیونکہ نو مو لود بچے دما غ کی گھڑی یا سر کیڈین ر ید م circadian rhythm جو کہ انسا نی جسم کو دن کو جا گنے اور رات کو سو نے مد د کر تا ہے کا تا بع نہیں ہو تا ۔ نو مو لود بچہ دن اوررات کا فر ق تین مہینے کی عمر سے پہچا نناشرو ع کرتا ہے ۔ یعنی نا مل سر کیڈین ریدم circadian rhythm تین مہنے کی عمر سے کام کرنا شروع کرتا ہے ۔ یعنی ا گر اپ کے ہاں حا ل ہی میں پہلے بچے کی آمد ہو ئی ہے ۔تو تین مہنے تک اس نئے مہما ن کی رات تین بجے خا طر تو ا ضع کر نے کے لیے تیار رہیں ۔ اس کے بعد بھی اس ننھے مہمان کی مر ضی ہے کہ آپ پر کب ترس کھا تا ہے ۔

یہ calcium کی کمی نہیں ہے ۔اپنا پیسا اور وقت نہ برباد کریں اس بیماری کا نام Pityriasis Alba ہے جس کے لئے فکر یا دوا کی ض...
29/03/2023

یہ calcium کی کمی نہیں ہے ۔اپنا پیسا اور وقت نہ برباد کریں

اس بیماری کا نام Pityriasis Alba ہے جس کے لئے فکر یا دوا کی ضرورت نہیں ہوتی 6 سے 12 مہینے میں خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے ۔اگر پھر بھی نہ ٹھیک ہو تو ڈاکٹر کو دکھا لیں

No treatment needed
Just use lotion on face

عمومی طور پر 3-2 ہفتوں میں بچے کی ناف مکمل طور پر اندر چلی جاتی ہے اور اپر سے مکمل بند بھی ہوجاتی ہے ۔ مگر کچھ بچوں میں ...
29/03/2023

عمومی طور پر 3-2 ہفتوں میں بچے کی ناف مکمل طور پر اندر چلی جاتی ہے اور اپر سے مکمل بند بھی ہوجاتی ہے ۔ مگر کچھ بچوں میں یہ کھلی رہ جاتی ہے اور بعد میں یوں umblical hernia بھی بن جاتا ہے ۔

یہ زیادہ پریشانی والی بات نہیں ہوتی بچے کی ناف ایک سال تک انتظار کیا جا سکتا ہے کے خود ہی ٹھیک ہوجاۓ گی اگر اس کے بعد بھی ٹھیک نہ ہو یا ناف کا یہ باہر والا حصہ نیلا پر جاۓ تو فورن ڈاکٹر سے رابطہ کریں

سوال ۔  پری میچور بچہ کتنے د ن ہسپتال میں ایڈمٹ رہتا ہے ۔   جواب ۔ ا س کا انحصار  اس بات پر ہے کہ بچہ کتنا پری میچور ہے ...
29/03/2023

سوال ۔ پری میچور بچہ کتنے د ن ہسپتال میں ایڈمٹ رہتا ہے ۔

جواب ۔ ا س کا انحصار اس بات پر ہے کہ بچہ کتنا پری میچور ہے ۔ بہت زادہ پریمیچور بچے کو کئی مہینے تک بھی ہسپتال میں داخل رکھنا پڑتا ہے ۔ جب کہ کم پری میچور بچہ چند دن یا چند ہفتے ہسپتال میں رہتا ہے۔

جب بچہ اس قابل ہوجاتاہے کہ اپنا ٹمپریچربغیر انکو بیٹر کے برقرا رکھ سکے ۔ خود بغیر ٹیوب کی مدد سے دودھ پی سکے ۔ بغیر ا کسیجن کے کے اپنا اکسجن کا لیول برقرار کھ سکے ۔ اور باقی کو ئی ایسے مسائل نہ ہوں جو بچے کی زندگی کے لئے خطرہ نہ ہو ۔ تو بچے کو ہسپتال کے این ائی سی یو سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ او ر وقفے وقفے سے بچےکو چک اپ کےلئے بلایا جاتا ہے

جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور سانس کی نالی بند ہوتی...
29/03/2023

جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور سانس کی نالی بند ہوتی محسوس ہوتی ہے __ ایک سال سے کم عمر بچے اور بوڑھے اس طرح کی صورتحال سے جلد دوچار ہوجاتے ہیں__ اور بعض اوقات یہ صورت حال جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

اسے طبی اصطلاح میں Throat Choking کہتے ہیں اور اس کے دو درجے ہیں

(١) جزوی طور پہ گلہ بند ہونا : اس صورت میں غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنسنے کی صورت میں گلہ جزوی طور پہ بند ہوجاتا ہے، انسان بمشکل بول اور سانس لے سکتا ہے...آپ نے مدد کیسے کرنی ہے؟
متاثرہ شخص کو زور زور سے کھانسنے کا کہیں تاکہ پھنسا ہوا ٹکڑا باہر نکل آئے یا اُسے جھُکا کے اُس کی پِیٹھ پہ عین گلے والی جگہ پہ اپنی ہتھیلی کی مدد سے پانچ دفعہ رگڑنے کے انداز میں تھپڑ لگائیں ( مُکے نہیں مارنے) اور ساتھ ساتھ اُسے کھانسنے کا کہیں........ سیدھا کھڑا کرکے یہ کوشش نہ کریں ورنہ پھنسا ہوا ٹکڑا مزید نیچے چلا جائے گا اور نہ ہی متاثرہ شخص کو پانی پلائیں، قوی امکان ہوتا ہے کہ پانی ناک کے راستے باہر آئے گا اور مزید تکلیف کا باعث بنے گا

اگر آپ اکیلے ہیں اور آپ اس صورت حال سے دوچار ہوجائیں اور آس پاس کوئی مددگار نہ ہو تو کُرسی کی پشت پہ کھڑے ہوکے اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پہ باندھ کے اپنے وزن کے ساتھ اپنے پیٹ پہ دباؤ ڈالیں ( طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے)

(٢) گلہ مکمل طور پہ بند ہوجانا : غذا کا بڑا ٹکڑا گلے میں پھنس جانے کی صورت میں گلہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے اور گلے سے آکسیجن کی آمدورفت بھی رُک جاتی ہے .... یہ کنڈیشن زیادہ خطرناک اور زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے... متاثرہ شخص بول نہیں سکتا، بات نہیں کرسکتا، کھانس نہیں سکتا.... ہونٹ اور ناخن نیلے ہوجاتے ہیں... آپ نے مدد کیسے کرنی ہے
متاثرہ شخص کو سیدھا کھڑا کرکے اُس کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اور اُسے پیچھےسے جپھی ڈال کے اُس کی ناف اور پسلیوں کے درمیان اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے باندھ کے اُسے اٹھانے کے انداز میں پانچ یا اس سے زائد دفعہ جھٹکے دیں. اور تب تک کرتے رہیں جب تک گلے میں پھنسی چیز باہر نہ آجائے (طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے) اگر مریض بے ہوش ہوجائے تو ریسکیو کال کریں اور پروفیشنلز کے پہنچنے تک CPR کرتے ھوئے مریض کا سانس بحال کرنے کی کوشش کریں... لیکن CPR صرف اُس صورت میں مفید ہوگا جب گلہ صاف ہوچکا ہوگا۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Shoaib Hameed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Shoaib Hameed:

Share