12/02/2026
حکومت کی جانب سے دی جانے والی فری سولر انرجی پلیٹیں کہیں اُس ریسٹورنٹ کی خالی پلیٹ تو نہیں جس کا بل بعد میں ٹیکسوں، سرچارج اور پالیسیوں کی تبدیلی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟
سولر یقیناً مستقبل ہے… لیکن سوال نیت کا نہیں، حکمتِ عملی کا ہے۔
کیا یہ مکمل منصوبہ ہے یا صرف وقتی اعلان؟
ایک غریب خاندان کو اگر حکومت مفت سولر پلیٹ فراہم بھی کر دے، تو کیا وہ دو بیٹریاں — جن کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار روپے ہے — اور انورٹر، جس کی قیمت کم از کم 85 ہزار روپے ہے، اپنی جیب سے خرید سکے گا؟
آخر یہ اضافی خرچ کون برداشت کرے گا؟
کیا صرف پلیٹ دینے سے اندھیرا ختم ہو جائے گا… یا یہ ادھورا حل ہے؟
اگر نظام مکمل نہ ہو تو ریلیف صرف اعلان رہ جاتا ہے۔
حقیقی آسانی تب آئے گی جب پالیسی زمینی حقائق کے مطابق ہو، اور عام آدمی واقعی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
ہمیں نعروں کی نہیں، پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ایسی روشنی چاہیے جو کل کے اندھیرے کا سبب نہ بنے۔
سوچیے… آج کی مفت پلیٹ کہیں کل کا نیا بوجھ نہ بن جائے۔
✍️ سینئر صحافی اقبال علی اقبال