10/09/2025
ساس اور بہو کے جھگڑوں کی اصل وجہ اور رشتوں میں توازن کی کمی پاکستانی معاشرے میں ساس اور بہو کے رشتے کو اکثر ایک نازک ڈور سے تشبیہ دی جاتی ہے، جو محبت، احترام اور تفہیم سے مضبوط ہوتی ہے، لیکن غلط فہمیوں اور توقعات کی وجہ سے کمزور بھی پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مردوں کا رشتوں میں توازن برقرار نہ رکھ پانا بھی خاندانی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ آئیے، ان دونوں مسائل کی جڑ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساس اور بہو کے جھگڑوں کی اصل وجہ ساس اور بہو کے درمیان تنازعات کی بنیادی وجہ اکثر توقعات کا ٹکراؤ ہے۔ ساس، جو برسوں سے گھر کی سربراہ رہی ہوتی ہے، اپنی روایات، اقدار اور گھریلو نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف، بہو ایک نئے گھر میں اپنی شناخت بنانے اور اپنے شوہر کے ساتھ اپنی زندگی کو اپنے انداز میں ڈھالنے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ دونوں نقطہ ہائے نظر جب ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں، تو بات چیت کی کمی اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ایک اور اہم وجہ معاشرتی دباؤ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ساس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بہو کو "گھر کی لکیر" پر چلائے، جبکہ بہو سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ساس کی ہر بات مانے۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ توقعات دونوں فریقین کے لیے تناؤ کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خاندان کے دیگر افراد، خاص طور پر مردوں کی غیر جانبداری یا خاموشی، صورتحال کو مزید خراب کر دیتی ہے۔ مرد رشتوں میں توازن کیوں نہیں رکھ پاتے؟ رشتوں میں توازن برقرار رکھنا مردوں کے لیے ایک چیلنج کیوں ہوتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ معاشرتی کرداروں کی روایتی تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں مرد کو گھر کا "سربراہ" سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کردار کے ساتھ اکثر یہ توقع بھی وابستہ ہوتی ہے کہ وہ گھریلو تنازعات سے دور رہے۔ جب ساس اور بہو کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے، تو مرد اکثر غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتا ہے یا تنازع سے بچنے کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ وقتی طور پر تناؤ کم کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ مردوں کی طرف سے توازن کی کمی کی ایک اور وجہ جذباتی طور پر کمزور رابطہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کو جذباتی طور پر کھل کر بات کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً، وہ اپنی بیوی اور ماں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ مرد اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے تنازعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو رشتوں میں عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ حل کیا ہو سکتا ہے؟ بات چیت کی اہمیت: ساس اور بہو دونوں کو کھل کر اپنے جذبات اور توقعات کا اظہار کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ایک غیر جانبدار ماحول بنانا ضروری ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سن سکیں۔ مردوں کا کردار: مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں اور بیوی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کریں۔ غیر جانبداری کے بجائے، وہ دونوں کی بات سن کر ایک منصفانہ حل نکالنے کی کوشش کریں۔ باہمی احترام: رشتوں کی کامیابی کی کنجی باہمی احترام ہے۔ ساس کو بہو کی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ بہو کو ساس کے تجربے اور گھریلو کردار کی قدر کرنی چاہیے۔ خاندانی مشاورت: اگر تنازعات زیادہ سنگین ہوں، تو خاندانی مشاورت یا کاؤنسلنگ ایک بہترین حل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک غیر جانبدار فریق کی موجودگی میں مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ نتیجہ ساس اور بہو کے جھگڑوں کی اصل وجہ اکثر غلط فہمیاں، توقعات کا ٹکراؤ اور بات چیت کی کمی ہوتی ہے۔ اسی طرح، مردوں کی طرف سے رشتوں میں توازن کی کمی ان کی غیر جانبداری یا جذباتی رابطے کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم کھل کر بات چیت کریں، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں اور باہمی احترام کو فروغ دیں، تو خاندانی رشتوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ آئیے، اپنے گھروں کو محبت اور سکون کا گہوارہ بنائیں، جہاں ہر فرد کی قدر ہو اور تنازعات کی بجائے تعاون کی فضا ہو۔ (ڈاکٹر کاظم رزاق)
اس بلاگ کے مصنف ڈاکٹر کاظم رزاق ہیں، جو 21 سال سے زائد عرصے سے ہومیوپیتھی، غذائیت، اور شادی شدہ جوڑوں کی کاؤنسلنگ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور رشتوں کی ہم آہنگی کے لیے منفرد حل پیش کرتے ہیں۔
© 2025 ڈاکٹر کاظم رزاق۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
#