Naveed Taj Ghouri - Nuqtay

Naveed Taj Ghouri - Nuqtay Operations and Strategic Planner | Digital Marketing Expert | Team Builder | Digital Content Creator | Consultant | Writer Nature, Revisited!

29/11/2025

Ghost of Yotei 1 minute review.

Better than Ghost of Tsushima or not yet?

Drop your rating in the comments and hit follow for more fast reviews.

Can you help me find this complete song and singer name?
27/11/2025

Can you help me find this complete song and singer name?

I found this Punjabi song inspired by Persian Music.Credit to original creators.

22/11/2025

اے آئی سے لوگ کیسے لکھاری بنے ہوئے ہیں، کیسے دھڑا در ریویوز آتے ہیں، یہ آپ کو چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ فرض کریں ڈرامہ پامال، پدرشاہی نظام، فیمنزم کو جوڑنا ہے، بس چند الفاظ لکھیں، اور رٹے رٹائے بیانیہ پر پورا مضمون تیار۔ آپ پڑھیں اور پھر بتائیں کہ کیسے پتا چلتا ہے کہ اے آئی سے لکھا گیا۔
تو ایک پرامپٹ لکھتے ہیں۔ میں نے اس کے لئے گوگل جیمینائی استعمال کیا ہے۔
"فیمنزم اور پدر شاہی نظام کے تناظر ڈرامہ پامال کے کے مرکزی کردار ملیکہ اور رضا کا جائزہ اور اوور آل ڈرامے کا ریویو کریں, تحریرکا متن مسلسل ہو اور انداز تحریر فارمل."
اور یہ تحریر سامنے آئی جو من و عن پیش کر رہا ہوں... (اے آئی جنریٹڈ)
--------
ڈرامہ سیریل 'پامال' کا اگر فیمنزم اور پدر شاہی نظام کی عینک سے جائزہ لیا جائے تو یہ کہانی محض دو افراد کے گھریلو جھگڑے کی داستان نہیں رہتی بلکہ سماج میں رائج طاقت کے اس غیر متوازن ڈھانچے کا ایک بلیغ استعارہ بن جاتی ہے جہاں صنفِ نازک کو اپنی بقا کے لیے مسلسل سمجھوتوں کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ڈرامے کا مرکزی تنازعہ ملیکہ اور رضا کے گرد گھومتا ہے، جو درحقیقت دو مختلف نظریات اور دو متضاد دنیاؤں کے نمائندے ہیں؛ ایک طرف رضا ہے جو پدر شاہی نظام کا پروردہ وہ مرد ہے جس کے لیے عورت پر حاکمیت اس کی مردانگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے، اور دوسری طرف ملیکہ ہے جو اس گھٹن زدہ ماحول میں اپنی انفرادی آزادی اور سانس لینے کا حق مانگتی ہے، جسے معاشرہ باغیانہ سوچ یا 'فیمنزم' کا لیبل لگا کر مسترد کر دیتا ہے۔
رضا کے کردار کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ روایتی 'ولن' سے زیادہ خوفناک دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے ہر ظالمانہ عمل کو محبت، غیرت یا تحفظ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے۔ رضا اس فرسودہ نظام کا بہترین نمونہ ہے جہاں مرد کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ عورت کی 'ناں' میں بھی 'ہاں' شامل ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی مرضی چلائے تو اسے زبردستی راستے پر لانا مرد کا حق ہے۔ اس کی محبت میں ایک طرح کا مالکانہ تفاخر ہے؛ وہ ملیکہ کو ایک جیتی جاگتی انسان کے بجائے اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ رضا کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کے عدم تحفظ (Insecurity) کو چھپانے کے لیے ملیکہ کی پرواز کو روکتا ہے، اسے ڈر ہے کہ اگر ملیکہ بااختیار ہو گئی یا اس نے اپنی آواز پا لی، تو رضا کی وہ جھوٹی برتری خاک میں مل جائے گی جو اس نظام نے اسے پلیٹ میں رکھ کر دی ہے۔ رضا کی شخصیت میں چھپی یہ زہر آلود مردانگی (Toxic Masculinity) ناظرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردانہ انا کس طرح رشتوں کو نگل جاتی ہے۔
اس کے برعکس، ملیکہ کا کردار اس کہانی میں 'پامال' ہونے والی انسانیت کا استعارہ ہے۔ فیمنسٹ تناظر میں دیکھیں تو ملیکہ وہ عورت ہے جس سے اس کی ایجنسی (Agency) یعنی فیصلہ کرنے کی طاقت چھین لی گئی ہے۔ شروع میں وہ ایک پرعزم اور خواب دیکھنے والی لڑکی دکھائی دیتی ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، رضا کا دباؤ اور سماجی زنجیریں اسے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ملیکہ کی جدوجہد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پدر شاہی نظام میں عورت کے لیے 'اچھی بیوی' یا 'اچھی بیٹی' بننے کا معیار صرف اور صرف اپنی ذات کی نفی ہے۔ ڈرامہ بہت باریکی سے دکھاتا ہے کہ کس طرح ملیکہ کو 'گیس لائٹ' کیا جاتا ہے، یعنی اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کے مطالبات غلط ہیں اور رضا کا جبر ہی دراصل اس کی بھلائی ہے۔ اس کی آنکھوں میں نظر آنے والی بے بسی دراصل اس پورے طبقے کی بے بسی ہے جو چیخنا تو چاہتا ہے مگر سماجی دباؤ نے ان کے ہونٹ سی دیے ہیں۔
مجموعی طور پر، 'پامال' ایک ایسا ڈرامہ ہے جو ناظرین کو تفریح فراہم کرنے کے بجائے انہیں بے چین کرتا ہے، اور یہی اس کی کامیابی ہے۔ یہ ڈرامہ فیمنزم کے اس بنیادی نکتہ کو اجاگر کرتا ہے کہ عورت کے حقوق کی جنگ مرد سے نفرت کی جنگ نہیں، بلکہ اس مائنڈ سیٹ کے خلاف جنگ ہے جو رضا جیسے مرد پیدا کرتا ہے اور ملیکہ جیسی عورتوں کو کچلتا ہے۔ اسکرپٹ اور ہدایت کاری نے جس طرح ان دونوں کرداروں کے درمیان طاقت کی کشمکش (Power Dynamics) کو دکھایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ یہ کہانی ہمیں یہ تلخ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ جب تک ہم اپنے بیٹوں کی تربیت میں عورت کے احترام اور اس کی خودمختاری کا تصور شامل نہیں کریں گے، تب تک ہماری بیٹیاں ملیکہ کی طرح پامال ہوتی رہیں گی اور رضا جیسے کردار اپنی انا کی تسکین کے لیے محبت کا گلا گھونٹتے رہیں گے۔
--------
تو جناب عالی اسی طرح دھڑا دھڑ تحاریر ٹھا ٹھا کر کے تیار کی جا رہی ہیں۔ معروف رائج تصورات پر جنریٹ کرنا اور آسان ہے، اسی طرح مشہور فلموں ڈراموں پر ریویو بھی، آپ مزاحیہ ٹون میں لکھنا چاہیں، طنزیہ یا سنجیدہ اس کو بتا دیں۔۔
اب آپ کو سمجھ لگی کہ کیوں ساری تحاریر ایک جیسی لگتی ہیں ان کی اور کیوں سب کے ریویو ملتے جلتے اسلوب میں ہوتے ہیں!

نوید تاج غوری

آپ یہ پوسٹر دیکھیں ہمارا ٹوریزیا کا، مشہوری تو چلو ہے ہی نیو ائیر پیکج کی لیکن، جو بات بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پورے...
22/11/2025

آپ یہ پوسٹر دیکھیں ہمارا ٹوریزیا کا، مشہوری تو چلو ہے ہی نیو ائیر پیکج کی لیکن، جو بات بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پورے کا پورا خاکسار نے خود اے آئی سے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے لئے استعمال کیا ہے گوگل کا جیمینائی اور اس میں امیج جنریشن ٹول۔ جس کا میں فری ورژن موبائل میں استعمال کر رہا ہوں، پیڈ نہیں۔ اب یہ پوسٹر انسٹا پوسٹ کے لئے بنایا 4:5 ریشو میں، تو جیسا نظر آ رہا ہے ایسا نہیں بنا تھا سیدھا۔ ریفرینس امیج ڈالنے پڑے، لگ بھگ دس بارہ دفعہ امپرو اور تصحیح کرنی پڑی ہے، کہیں سپیلنگ مسٹیک ہوئی ہے اے آئی سے، کہیں مجھے تصویر، فونٹ اور کلر نہیں پسند آیا ٹیکسٹ کا۔ لیکن بہرحال تیس منٹ کے اندر یہ بن گیا، باقی کانٹ چھانٹ ریشو سیٹنگ اور لوگو لگانا اوپر یہ موبائل گیلری میں سادہ پکچر ایڈیٹنگ سے کیا۔

سوال آتا ہے بہت کامن اور مشہور ترین کہ کیا ڈیزائنرز کی جاب خطرے میں ہیں یا اے آئی ری پلیس کر دے گی؟ تو اب معاملہ یہ ہے کہ کیا صرف ایک پرامپٹ سے سو فیصد ایسا پہلی بار میں بن جاتا، جواب ہے نہیں۔ شاید آگے بھی نہ بن سکے، کیوں کہ جو آپ چاہتے ہیں ذہن میں ہوتا ہے وہ اس کے قریب جا سکتا ہے یا کچھ مختلف، لیکن وہ ذہن نہیں پڑھ سکتا۔ اس کے لئے پرامپٹ انجینئرنگ، یعنی پہلے پرامپٹس کو دیکھنا سیکھنا، پھر لکھنا، امپروو کرنا، ضروری ہے۔ کچھ دوسرے پیجز اور ویڈیوز کو فالو کر کے بہت ساری ٹپس ملتی ہیں۔ ایسے پرامٹس ڈیزائن سے پہلے دینے پڑتے ہیں یا کسی کام سے پہلے کہ وہ اس کو بندے کا پتر بنا کر سیدھا کریں اور اے آئی ادھر ادھر کی نہ ہانکے ہا مفت کے لچ فرائی کرے۔ دوسرا آپ کا اپنا گرافکس ڈیزائننگ کی سوجھ بوجھ، یا کم از کم ایستھیٹک ضروری ہے ایک خاص طرح کی ورنہ ایسے لگے گا کسی نے جنریٹ کی تصویر پر ٹیکسٹ ٹول سے ٹائپ کر دیا ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہے کہ وہ مقصد پورا کر رہا ہے یا نہیں، آپ نے جو ڈیزائن بنایا ہے وہ کس انڈسٹری، بزنس، مقصد یا جگہ پر استعمال ہونا ہے۔ پھر کیمپین ہے کوئی تو کیا تمام سیٹ ایک تھیم پر بن سکتے ہیں؟

مثلا، ابھی میں فری ٹول سے اسی تھیم پر فیس بک کور فوٹو بناوں اسی ٹور کی تو کیا بن پائے گی؟ یا آپ کو پیڈ ٹولز یا گرافکس والے بندے یا آرٹ کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کی ضرورت پڑے گی۔ یعنی سوال سکیل کا ہو گیا۔ اب جیسے ہمارا ٹریول اینڈ ٹورز کا کام ہے اس میں اس امیج سے ہمارا کام چل جائے گا، پروموشن کے لئے استعمال کرنی، پیکج آتے رہتے ہیں، ایکسپائر جلدی ہو جاتے ہیں، اور ہر پوسٹر ایک الگ ڈیزائن کا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی فزیکل پراڈکٹس نہیں کہ جس کی پیکجنگ، لیبلنگ یا برانڈنگ بہت ساری کرنی پڑے لیکن سب جگہ سب بزنس میں ایسے کام نہیں چلتا۔

لہذا ڈیزائنرز ایک بات سمجھیں، آپ نے ٹولز سیکھیں ہیں وہ ضائع نہیں ہیں، اپنے آپ کو مزید اپ گریڈ کریں، ایستھیٹک اور آرٹ ڈائریکشن کی طرف آئیں، ٹارگٹ بڑے برانڈز اور بڑی مارکیٹ کی طرف کریں۔ اب آپ کا مقابلہ جیسوں کی مارکیٹ نہیں ہے جس کی ریکوائرمنٹ ایک انسٹا پوسٹ یا ایک کور فوٹو یا ایک اشتہاری پوسٹر بنانا ہے۔ اس ڈومین میں کھیلیں گے تو ٹیکنیکلی اے آئی ڈائریکٹ نہیں، اس کا یوزر آپ کو ری پلیس کر دے گا۔ اب آپ نے اس مارکیٹ میں کھیلنا ہے جو اے آئی نہیں کر سکتی یا کم از کم عام اے آئی کا یوزر نہیں کر سکتا اپنے موبائل سے۔ کیوں کہ اس نے بھی آخر کار وہی بنانا ہے جو اس کو آتا ہے یا جتنی اس کی سینس ہے یا جتنا وہ ٹرین کر سکتا ہے اپنی اے آئی کو۔ یہ بات بھی سمجھنی ہے کہ بالآخر بزنس ہی پروفیشنلز کو پے کرتے ہیں۔ اور بلاشبہ خود بھی ٹول کے طور ہر اے آئی کی ہیلپ لیں، ڈرافٹس اور ڈیزائن بنائیں، اور پھر پریکٹیکل اپلائی کریں، بہتر چیز بہتر مارکیٹ کے لئے۔ آپ کو کوئی ری پلیس نہیں کر سکے گا۔

تو اب چلیں باکو نیو ائیر منانے؟ بکنگ بھی اوپن ہے 😉

ایپل کی دو سو تیس ڈالر کی 'جراب' کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ سپیشلٹی یا نیش مارکیٹ کوئی چیز نہیں ہے،  آپ کا ایک نام شروع م...
19/11/2025

ایپل کی دو سو تیس ڈالر کی 'جراب' کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ سپیشلٹی یا نیش مارکیٹ کوئی چیز نہیں ہے، آپ کا ایک نام شروع میں بن گیا اور سٹیو جابز والی کہانی سب کو ذہن نشین ہو گئی تو اس کے بعد آپ اب تک اپنے نفسیاتی ٹریپ کسٹمرز کچھ بھی کچرا مہر لگا کر دے دیں۔ جیسے ہمارے اٹلس ہونڈا پاکستان والے ہر سال وہی بائیک سٹیکر چینج کر کے نئی پرائس پر بیچ دیتے ہیں۔ بعینہ ایپل کے یوزر کی یوزیج نہیں شو بازی ترجیح ہے لہذا فیک کلاس ڈکلئیر کر کے آپ مقابلے میں موجود باقیوں سے فیچر کے لحاظ سے کافی آوٹ ڈیٹیڈ مشینیں (آئی فون) بیچ سکتے ہیں جو نہ اب تک یوزر فرینڈلی ہے نا اس میں کھل کر آپ کچھ انسٹالیشن کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہی چ لوگ اب احمقوں کی طرح اس اونی جراب کا کو گلے میں بھی ڈال کر گھومیں گے اور خود کو ایلیویٹڈ بھی محسوس کریں گے۔ اب یہاں آ کر سیفٹی کی دہائی نہ دیجیے گا۔ ہالی ووڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل، آئی کلاوڈ ہیک ہونے سے ہی آیا تھا۔

18/11/2025

دوست وہ ہے، جو بلانے پر آ جائے!

11/11/2025

نسلی تفاخر کا ہر روپ مکروہ ہے، چاہے حوالہ مذہب ہو یا علاقہ۔

شناخت کا معمہ اور انتخاب کا واہمہ، دونوں کبھی الگ نہیں ہوتے۔کُرکشیتر کا میدان تیار ہے۔ یہ وہی کُرکشیتر ہے جہاں مہابھارت ...
10/11/2025

شناخت کا معمہ اور انتخاب کا واہمہ، دونوں کبھی الگ نہیں ہوتے۔

کُرکشیتر کا میدان تیار ہے۔ یہ وہی کُرکشیتر ہے جہاں مہابھارت کی جنگ ہوئی۔ دونوں طرف لاکھوں سپاہی قطار میں کھڑے ہیں۔ ارجن، پانڈووں کا شہزادہ، اپنے رتھ پر سوار ہے۔ اس کے رتھ کے سارتھی خود شری کرشن ہیں۔ جنگ شروع ہونے ہی والی ہے۔ ارجن کہتا ہے، "اے کرشن، میرا رتھ دونوں فوجوں کے بیچ لے چلو، تاکہ میں دیکھ سکوں کہ کن کن لوگوں سے مجھے لڑنا ہے۔" چنانچہ رتھ آگے بڑھتا ہے۔ گیتا کا پہلا ادھیائے اسی لمحے سے شروع ہوتا ہے جب ارجن اپنے رتھ پر کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ سامنے اس کے چچا، استاد دروناچاریہ، پِتامہ برابر بھیشم، بھائی، بھانجے، اور دوست سب کھڑے ہیں۔ ارجن کا دل دہل جاتا ہے۔ وہ رو پڑتا ہے، جسم کانپنے لگتا ہے دھنُش (تیر کمان) ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور کہتا ہے:

"میں یہ جنگ نہیں لڑ سکتا۔ یہ جیت بھی کیا جیت ہے جو خون سے تر ہو۔ میرا دل نہیں مانتا کہ میں اپنے ہی لوگوں کو ماروں۔"

اس لمحے کرشن اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف اپنے پیاروں کا ارجن نہیں، بلکہ اس کی شناخت ایک کشتریہ ہونا ہے، یعنی یہ طے ہے کہ اس کا دھرم لڑنا ہے۔ کرشن ارجن سے مخاطب ہوتا ہے۔

"ارجن، یہ جسم عارضی ہے، مگر آتما کبھی پیدا نہیں ہوئی اور نہ مرے گی۔ جو ہوا، وہ ہو چکا؛ جو ہونا ہے، وہ طے ہے۔ تُو صرف اپنا کرم کر۔ کرم کرنے کا حق تیرا ہے، لیکن اس کے پھل پر نہیں۔ کرم کر، مگر پھل کی آس نہ رکھ۔"

یہی انتخاب کا واہمہ ہے۔ وہ دھوکا جو انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ خود فیصلے کر رہا ہے، حالانکہ سب راستے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ فریڈم آف چوائس صرف ایک کیفیت ہے جو مصنوعی طور پر پیدا کی جاتی ہے۔ کسی شاپنگ مال میں گھومتے وقت ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے خریداری کر رہے ہیں۔ درحقیقت، دکانوں کی ترتیب، برانڈنگ اور ڈسکاونٹ آفرز ہماری توجہ مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں۔ کسی آؤٹ لیٹ میں نیلے یا سیاہ رنگ کا انتخاب کرتے ہوئے بھی، خریداری دراصل اسی برانڈ کی ہوتی ہے۔ ویب سائٹس یا ریلز پر سکرول کرتے وقت بھی یہی ہوتا ہے۔ کسی کا طے شدہ الگورتھم ہر حرکت، ہر کلک، ہر انٹرسٹ کا تجزیہ کر کے آپ کے لیے 'آپ کی پسند' کا اشتہار مہیا کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ انتخاب بھی پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔

زندگی میں، سماج میں، سیاست میں، یہ واہمہ بار بار آتا ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے مگر اس کے فیصلے خوف، امید یا کسی طاقت کے تابع ہوتے ہیں۔ ہر چند سال بعد اسے جبراً/مجبوراً ایک شناخت دی جاتی ہے کہ وہ ووٹر ہے، کتنا اہم ہے اس کا فیصلہ، وہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔چنانچہ، وہ اپنی مرضی کے جھنڈے کو ووٹ ڈالتا ہے، یا اپنی دانست میں پارٹی بدلتا ہے، احتجاج میں سڑک پر بھی نکلتا ہے، سوچتا ہے کہ وہ کچھ بدل سکتا ہے۔ مگر جب پردہ اٹھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ انتخاب بھی صرف ایک سراب تھا۔

میٹرکس فلم میں آرکیٹیکٹ نیو سے کہتا ہے کہ تم پانچویں بار یہاں کھڑے ہو۔ پہلے چاروں ون بھی یہی سوچ کر آئے تھے کہ سسٹم توڑ دیں گے۔
تم سمجھتے ہو کہ تم نے چنا؟ ریڈ پل لی، بغاوت کی، زیون بچایا؟
نہیں۔
یہ سب ہمارا بنایا ہوا ہے۔
انسان مکمل غلامی برداشت نہیں کرتا۔ اس لیے ہم نے بغاوت کی اجازت دی۔ ننانوے فیصد بلیو پلز لیں، ایک فیصد ریڈ پلز لے کر اپنے آپ کو آزاد سمجھیں۔ تم وہ ایک فیصد ہو۔ تمہاری محبت، تمہاری قربانی، تمہاری بیداری، سب پہلے سے لکھا ہوا تھا۔
زیون کو ہم چھ بار تباہ کر چکے ہیں۔ ہر بار ایک 'ون' اٹھتا ہے، وہی ڈرامہ، وہی امید۔
تم باغی نہیں ہو۔ تم سسٹم کا توازن ہو۔
تم آزاد نہیں ہو، نیو۔ تم ضروری ہو!!!

ہماری شناخت کا بحران اتنا شدید ہے کہ اس سسٹم نے ہمیں ہیک کر رکھا ہے۔ بچپن کی نا آسودگیاں، جوانی کی حسرتیں اور انا کا پھولا ہوا غبارہ ہمیں 'predictable' بنا دیتے ہیں۔ لہذا اس نظام کا جوالا مکھی پھٹنے سے پہلے ہی امنگوں، خواہشوں اور محرومیوں کو زبان دیتا ایک ہیرو تیار کیا جاتا ہے، اس کو پروان چڑھایا جاتا ہے، پھر اس کی بغاوت کو پلنے اور پھلنے پھولنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن ایک حد سے آگے جب وہ ہیرو نظام پر انگلی اٹھاتا ہے تو اسے عفریت بنا کر قلع قمع کر دیا جاتا ہے۔

ارجن سوچتا ہے کہ انکار کر کے وہ جنگ روک سکتا ہے، مگر اپنی شناخت کھونے سے ڈرتا ہے۔

ہمارا نیو سوچتا ہے کہ اس کی چوائس آزادانہ ہے، مگر آرکیٹیکٹ اور سسٹم نے اس کی اس اناملی یا خلل کو بھی پہلے سے پلان کر رکھا ہے۔

ہمارے انقلاب بھی منظور شدہ ہوتے ہیں، اور ہماری بغاوتیں بھی اجازت یافتہ۔

سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا چنا بلکہ یہ ہے کہ جو ہم نے چنا وہ نہ بھی چنتے تو کیا فرق پڑتا؟ اور جب انتخاب کا واہمہ ٹوٹتا ہے تو انسان کو اپنے آپ سے یہی پوچھنا پڑتا ہے کہ میں کون ہوں، وہ جو میں چن سکتا ہوں یا وہ جو مجھ سے چنوایا گیا۔

نوید تاج غوری

07/11/2025

پیمنٹ کرنا، پیمنٹ ٹرانسفر کرنا، پیمنٹ ڈیپازٹ کروانا، پیمنٹ بھیجنا یا پیمنٹ سینڈ کرنا، وغیرہ وغیرہ ہوتا ہے۔

پیمنٹ 'کرا' دیں تک کی کھچ تو کچھ قابل برداشت تھی یہ بھینس کی دم آج کل کچھ لوگوں، خاص طور پر اہلیان کراچی کے ہاں 'پیمنٹ لگوا دیں' یا 'لگوا دی ہے' کیا ہوتا ہے؟

اشتہار لگایا جاتا ہے، تصویر لگائی جاتی ہے، پوسٹر اور بینر لگتے ہیں، سٹال لگایا جاتا ہے، پھول لگائے جاتے ہیں، ٹائی لگائی جاتی ہے، داو لگایا جاتا ہے، شرط لگائی جاتی ہے، ریس لگائی جاتی ہے، بازی لگائی جاتی ہے، سرمایہ لگایا جاتا ہے، پرفیوم چھڑکا جاتا ہے چلو اس کو بھی لوگ لگا لیتے ہیں، عطر لگایا جاتا ہے، لائن لگا سکتے ہیں، آنکھ لگ سکتی ہے، دل لگ جاتا ہے حتی کہ دیوار سے لگایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ نہیں سمجھ آئی کہ پیمنٹ لگوانا کہاں سے نکلا ہے؟ فرسٹ ٹائم کسی نے مجھے کہا تو میں نے پوچھا کہاں لگواوں؟ مطلب پیسے کہیں لگ تو سکتے ہیں، کسی کے لگوا سکتے ہیں، اپنے لگوا کیسے سکتے ہیں؟ پھر جب سنا مطلب ٹرانسفر کرنے ہیں تو دل یہ ہی کیا کہ اس کو ہی کھینچ کر دو لگاوں۔

06/11/2025

جن کو امریکن ایمبیسی میں بھی داخلے کی اجازت نہیں ملتی، وہ نیویارک کے مئیر سے شجرہ ملا رہے ہیں!

پاکستان میں پوڈ کاسٹس اب باقاعدہ ایک کاروبار ہیں اور بہت سے رنگ بازوں اور فراڈیوں کا لانچنگ پیڈ بھی۔ راتوں رات جو اچانک ...
28/10/2025

پاکستان میں پوڈ کاسٹس اب باقاعدہ ایک کاروبار ہیں اور بہت سے رنگ بازوں اور فراڈیوں کا لانچنگ پیڈ بھی۔ راتوں رات جو اچانک کوئی آئی ٹی کنگ، کوئی فنانشل ایڈوائزر، کوئی کرپٹو ٹریڈر، کوئی معجزاتی حکیم، کوئی شوگر فاتح، کوئی آلٹرنیٹیو میڈیسن سپیشلسٹ، کوئی سٹوڈنٹ کاونسلر، کوئی معاشی جادوگر یا کوئی چیرٹی کنگ اگر اچانک کسی بڑے پلیٹ فارم پر یا یکے از دیگرے مختلف پلیٹ فارمز نمودار ہونا شروع ہو جائے، اس کے کلپ کاٹ کر خاص وائرل ہونے شروع ہو جائیں جس میں ناقابل یقین قسم کے دعوے کیے گئے ہوں تو فورا اپنے اینٹینا کھڑے کر لیں۔ یہ پوڈ کاسٹس عموما سپانسرڈ یعنی پیڈ ہوتی ہیں۔ یہ نالج نہیں دیتے، یہ اپنی اشتہار بازی کرتے ہیں۔

یہ وہ کاریگری ہے جو معلومات کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔ بولنے والا ہر جملے میں پاوں جوڑ کر چھکا لگاتا ہے، میزبان تائید میں سر ہلاتا ہے، بیچ بیچ میں ہلکی پھلکی تنقید یا ایک آدھے سخت سوالات کے بعد تعریفوں کے پل باندھتا ہے اور ناظرین سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اصلی ماہر گفتگو کر رہا ہے۔ حالانکہ مقصد انفلوئینس کرنا اور لوگوں کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ بندہ واقعی ایکسپرٹ ہے۔ یہ یقین ہی ان کا سرمایہ ہے جسے وہ بعد میں اپنی ویب سائٹس، کورسز، ادویات، یا پیڈسیشنز میں کیش کراتے ہیں۔

ایسے لوگوں کی پہچان مشکل نہیں۔ ان کے القابات سن کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ علم کم، دعوے زیادہ ہیں۔ کوئی صرف اپنے حلیے کو کیش کروا رہا ہے۔ کسی کے پاس تین ملکوں کی ڈگریاں، کسی کے پاس دس شعبوں میں مہارت، مگر جب بات تحقیق یا شواہد کی آئے تو سب خاموش۔ انٹرویوز بھی زیادہ تر پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں، سوالات نرم اور تعریفیں تیار۔ ان کی گفتگو کا اصل مقصد ایک تاثر بھیلانا ہوتا ہے کہ جیسے یہ یہ شخص کوئی عام بندہ نہیں بلکہ کسی خاص راز سے واقف ہے، جو راتوں رات آپ کو صحت مند، تبدیل یا امیر کر دے گا۔

آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یوٹیوب یا ریلز پر جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ سب اصلی نہیں ہوتا۔ ان مشہور پوڈ کاسٹرز کی اصل کمائی ان کے سلور یا گولڈن بٹن سے نہیں، فالوورز اور ویوز آنے کے بعد، سپانسرشپ سے ہوتی ہے۔ پوڈکاسٹس کی اس نئی دنیا میں شہرت خریدی جاتی ہے، امیج بنایا جاتا ہے، اور اعتماد بیچا جاتا ہے۔ ہر وہ گفتگو جو حد سے زیادہ پرفیکٹ لگے، ہر پوڈ کاسٹ جس میں ایک ہی جیسے سوالات اور جوابات دیے جائیں، ہر وہ مہمان جو ہر پلیٹ فارم پر ایک ہی انداز میں جلوہ گر ہو یا اس کے کام سے پہلے اس کا حلیہ، اس بیان یا کوئی وائرل جملہ اس ہی وجہ شہرت ہو اس کی، اس سے دور رہیں، کنفرم رنگ باز ہوگا۔ صرف منہ کے آگے مائیک رکھ دینے سے یا کسی نامور پوڈ کاسٹر کے ایپی سوڈ میں آنے سے بندہ ایک نمبر اور پراڈکٹ جینوئن نہیں بن جاتی۔

نوید تاج غوری

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Taj Ghouri - Nuqtay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Naveed Taj Ghouri - Nuqtay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Our Story

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "