Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

  • Home
  • Pakistan
  • Jahania
  • Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے Amna Children clinic near Gate No.2 THQ hospital Jahanian

Dr Amir Ramay MBBS,RMP,
MCPS Pediatrics,
Child specialist

16/11/2025

الرجی ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہمارا جسم مختلف ماحولیاتی چیزوں جیسے دھول، دھواں، ٹھنڈی ہوا، وائرل انفیکشنز کا ردعمل ضرورت سے زیادہ شدت کے ساتھ دیتا ہے۔
الرجی بنیادی طور پر ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کی بے ضابطگی کا نام ہے۔ الرجی مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتی ہے جیسے سینے کی الرجی جس میں کھانسی ، سینے کی جکڑن اور سینے سے سیٹیوں جیسی آوازیں کا آنا شامل ہے۔ الرجی ناک کی بھی ہو سکتی ہے جو کہ فلو اور ناک سے پانی بہنے کی علامات کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ الرجی جلد کو متاثر کر سکتی ہے جس میں جلد کی خارش اہم علامت ہے۔ الرجی آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہے جو آنکھوں کے درد اور سرخی کا سبب بن سکتی ہے۔
الرجی والے افراد کو سال بھر مسائل ہوتے ہیں لیکن سردیوں کا موسم ان کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
اس وقت ہم فضائی آلودگی کی وجہ سے سموگ جیسے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں جس سے الرجی کا مساٸل اور بڑھ گۓ ہیں۔ سردیوں کے موسم میں عموماً گھر کے دروازے کھڑکیاں بند رہتی ہیں جس سے وینٹیلیشن کم ہو جاتی ہے ۔نتیجاتأ گھر ک اندر الرجی کروانے والے عوامل بڑھ جاتے ہیں۔
الرجی کے مسائل کو کم کرنے کے لیے چند اہم چیزیں جوآپ کر سکتے ہیں!!!
1. گھر سے باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کریں، خاص طور پر سموگ کے موسم میں
2. گھر میں کمروں کی روزانہ صفائی کریں۔بہتر ہے ویکیوم کلینرکا استعمال کریں۔
3. اپنے بستر اور تکیےکی چادروں ,کمبل کو گرم پانی سے دھوئیں اور ڈسٹ مائٹ پروف کور کا استعمال کریں۔
4. کمرے کی مناسب وینٹیلیشن ہو ۔
5. کتے بلی اور دوسرے پرندوں کو پالنے سے گریز کریں کیونکہ انکے پر یا بال ,فضلہ الرجی کروا سکتے ہیں۔
6. مناسب مقدار میں پانی پیں
7.گھر میں قالین نہ لگواٸیں
7. اپنے بچوں کے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اینٹی الرجک دوا استعمال کریں۔

16/11/2025
15/11/2025

اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے وقت کے ساتھ خود ہی سمجھدار ہو جائیں گے، لیکن سچ یہ ہے کہ بچپن کا ہر دن ان کے ذہن اور دل میں کچھ نہ کچھ لکھ رہا ہوتا ہے۔ بچے لفظوں سے زیادہ رویوں کو سمجھتے ہیں۔ آپ کا لہجہ، آپ کی نظر، آپ کی خاموشی تک ان کے اندر نقش چھوڑ دیتی ہے۔ اگر گھر میں اعتماد، عزت اور سکون ہو تو بچہ دنیا کو ایک محفوظ جگہ کے طور پر دیکھتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اگر ہر دن شور، جلد بازی یا تنقید میں گزرے تو وہ دنیا کو ایک ایسی جگہ سمجھنے لگتا ہے جہاں اسے ہمیشہ محتاط رہنا ہے۔ یہ سوچ اس کے اعتماد کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔
جب اصول صاف ہوں اور رویئے متوازن ہوں تو بچے کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی دنیا قابلِ بھروسہ ہے۔ یہ احساس اس کے اندر ایسی مضبوط جڑیں پیدا کرتا ہے جو اسے زندگی کے ہر طوفان میں قائم رکھتی ہیں۔

والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنی موجودگی کو بچے کے لئے بوجھ نہیں بلکہ سہارا بنائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ہر خواہش پوری کرنی ہے، بلکہ یہ کہ ان کے لئے ایک پراعتماد جگہ ہونی چاہیئے جہاں وہ اپنی ناکامی، اپنی پریشانی اور اپنی خوشی کھل کر بانٹ سکے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر دوسروں کے ساتھ تعلقات میں بھی زیادہ سمجھدار اور متوازن ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں، بچہ ہر لمحہ دیکھ رہا ہے کہ آپ مسائل کو کیسے حل کرتے ہیں، غصے کو کیسے قابو میں رکھتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ آپ کی نصیحت سے نہیں، بلکہ آپ کی عادتوں سے سیکھتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے نرم دل اور مضبوط کردار کے مالک ہوں تو ہمیں اپنے اندر بھی وہی تبدیلی لانی ہوگی جو ہم ان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی اصل تربیت ہے اور یہی محبت کا وہ موسم ہے جس میں بچے ایک خوبصورت اور مضبوط درخت بن جاتے ہیں۔

14/11/2025

بچوں میں آئرن کی کمی ۔ آئرن ہمارے خون کے سرخ خلیو ں میں مو جود پروٹین ھیموگلوبن کا اہم جزو ہے ۔ھیموگلوبن آکسیجن کو انسانی پھپھڑوں سے جسم کے ہر حصے اور ہر خلیے تک پہنچا تی ہے ۔اگر جسم میں آئرن کی کمی ہو تو ھیموگلو بن کی پیداوار میں کمی ہو تی ہے جسے انیمیا کہتےہیں۔ بچو ں میں آ ئرن کی کمی کب ہو تی ہے ۔
9 مہینے میں پیدا ہو نے والے بچو ں میں آئرن کی مقدار چار سے چھ مہنے تک کا فی ہو تی ہے اس کے بعد ا گر بچوں کو کم آئرن وا لی خوراک دی جا ئے تو بچے کی جسم میں آئرن کی کمی شرو ع ہو جا تی ہے ۔
وقت سے پہلے پیدا ہو نے والے یا پری میچو ر بچو ں کی جسم میں آئرن کم ہو تا ہے اس لئے پہلے دو مہنو ں میں آئرن کی کمی کے اثرا ت شر وع ہوتے ہیں ۔
اس لئے لا زم ہے کہ وقت سے پہلے پیدا ہو نے وا لے بچوں میں اضا فی آئرن دیا جا ئے ۔اس کے علاوہ اگر چھہ مہینے کی عمر میں بچےکو کم آئرن وا لی خوراک دی جائے تو آئرن کی کمی شروع ہو تی ہے ۔
کم ائرن والی غذا میں ۔بسکٹ ۔آلو چپس ۔بغیر آئرن کا دودھ وغیرہ شا مل ہے ۔ اور چھ مہینے کے بعد ما ں کے دودھ میں بھی آئرن کی مقدار نا کا فی ہوتی ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ چھ مہینے کی عمر میں بچے کو آئرن والی ٹھوس غذاآہستہ آہستہ شروع کی جا ئے ۔
اسی طرح بچہ اگر دو سال کے بعد بھی بو تل سے دودھ پیتا رہے تو جسم میں آئرن کی کمی ہو تی ہے ۔ صرف دودھ سے پیٹ بھرنا اور ٹھو س غذا کم کھا نے کی وجہ سے بھی آئرن کی کمی وا قع ہو تی ہے ۔ آئرن کی کمی کے اثرا ت ۔ کیو نکہ آئرن جسم کے تمام خلیو ں میں آکسیجن پہنچا نے کے لئے ضروری ہے اس لئے جب یہ اہم عنصر جسم میں کم ہو تو خلیو ں کو صحیح آکسیجن اور انر جی نہیں پہنچتی۔ اس کا نتیجہ سستی ۔بھوک نہ لگنا ۔ کمزوری ۔ چہر ے اور آنکھو ں کی پیلا ہٹ کے طور پر ظا ہر ہو تا ہے ۔جد ید تحقیق کے نتییجے میں اس با ت کا بھی پتہ لگا ہےکہ آئرن کی کمی وا لے بچے دما غی اور ذہنی طو ر پر بھی دو سرے بچو ں سے پیچھے ہو تے ہیں ۔
اس لئے یہ ضروری ہے کہ بچوں میں آئرن کی کمی نہ ہو نے دی جا ئے ۔ آئرن کس خو راک میں مو جود ہوتا ہے ۔
آئرن جانوروں سے حا صل کی ہو ئی غذا یعنی گو شت یا پودوں سے حا صل شدہ غذا یعنی سبزی پھل یا دا لو ں میں مو جود ہوتا ہے ۔ گوشت میں موجود آئرن آسا نی سے انسا نی آنتو ں سے جذب ہو تا ہے ۔ سرخ گو شت یعنی بیف ۔مٹن اور مچھلی میں آئرن کی مقدار زیا دہ ہو تی ہے ۔اس کے علاوہ کلیجی ۔چکن اور انڈو ں میں بھی آئرن کی اچھی مقدارہو تی ہے ۔
پودوں اورسبزیو ں سے حاصل کردہ غذا میں گندم ۔دالیں ۔ پھلیا ں ۔ہر ے پتے وا لی سبز یاں ۔ خو با نی ۔انجیر ۔سیب ۔پا لک میں بھی آئرن موجود ھوتا ہے۔
پو دو ں سے حاصل شدہ آئرن گو شت کے مقا بلے میں کم آسانی سے جذب ہوتا ہے۔ وٹامن سی وا لی غذا ئیں جیس کہ کینو ۔ ما لٹا ۔ ٹما ٹر۔ سٹرا بیر ی و غیرہ آئرن کو جذب ہونے میں مدد د یتےہیں ۔ آئرن کی کمی کو کیسے روک جا سکتا ہے ۔
بچے کو چھ مہینے کی عمر سے ایسی ٹھوس غذا شروع کی جا ئے جس میں زیا دہ آئرن ہو ۔ صرف دودھ پلانا ناکافی ہوتا ہے۔ زیا دہ جو س اور شکر و الی غذا ئیں بسکٹ ۔چپس و غیرہ سے پر ہیز کیا جا ئے ۔
ا گر بو تل کا دودھ دینا نا گزیر ہو توبچے کو ایسا دو دھ دیں جس میں آئرن شا مل ہوتا ہے ۔ دو سال کی عمر میں بچے کی بو تل اور دودھ چھڑوا دیں ۔اس کے بعد بچہ دن میں دو کپ سے زیا دہ دودھ نہ پئے ۔ پری میچو ر بچو ں میں شرو ع سے اضا فی آئر ن شرو ع کر یں ۔گو شت مچھلی آئرن کا بہترن ذریعہ ہے ۔
آ گر بچہ سست اور پیلا نظر آئے اور بھوک کم لگےتو بچوں کے ڈاکٹرسے مشو رہ کر یں ۔
جوس ۔ بسکٹ کینڈی چپس وغیرہ کی عا دت ڈالنے سے پرہیز کریں۔

13/11/2025

پاکستان میں ہر طرح کے ماحول کی آلودگی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے ۔ ہمارے افراد خصوصا بچوں کی جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی ، جذباتی ، معاشی اور معاشرتی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں یا مرتب ہونے جا رہے ہیں ۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
ہم سب کو اپنے مفادات کو بالائےطاق رکھ کر صرف پاکستان کے عوام کی حالت زار کو بہتر کرنے کے حوالے سے سوچنا ہوگا ۔
کیا کبھی ہمیں یہ خیال آتا ہے کہ ہمارا نیلا آسمان کہاں کھو گیا ہے ۔ رات کو چمکنے والے تارے کہاں گم ہو گئے ہیں ۔ باغوں میں چہکنے والے پرندوں کی چہچہاہٹ کہاں چلی گئی ہے ۔ پھولوں کی خوشبو کہاں غائب ہوگئی ہے ۔ میرے دیس میں پیدا ہونے والے پھلوں ، سبزیوں اور اجناس کا ذائقہ کہاں چلا گیا ہے ۔
کچھ تو بتائیں ۔ ہم کہاں جا رہے ہیں ۔
کبھی آپ نے 25 سے 40 سال کے افراد میں ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات سنی اور دیکھی تھیں ۔ کبھی ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے کم عمری میں فالج اور دماغ کی شریان کے پھٹنے کے واقعات سنے تھے ۔ کبھی ہر شخص کے چہرے پر اتنی افسردگی ، مایوسی اور پژمردگی دیکھی تھی ۔ وہ خوبصورت ہنستے مسکراتے چہرے کدھر ہیں ۔
ہمارے پارک کیوں غیرآباد ہوتے جاریے ہیں ۔ ہمارے ہسپتال اتنے آباد کیوں ہوتے جا رہے ہیں ۔
ہم میں سے کسی کے پاس اس کا جواب ہے ۔
آئیں ہم سب مل کر بیٹھتے ہیں ۔ اپنے لئے نہیں ۔ اپنے پاکستان کے لئے ۔ اپنے نوجوانوں کے کل کے پاکستان کے لئےجس کی انہوں نے باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔

12/11/2025

بچوں میں انگوٹھا/انگلی چوسنے کی عادت:...........

یہ عادت بہت عام ہے اور اکثر والدین اسکی وجہ سے پریشان رہتے ہیں کہ اس سے کیسے نجات حاصل کریں. پہلی بات تو یہ ہے کہ یاد رکھیں کہ یہ بچوں کا جذباتی تناؤ سے نبٹنے کا ایک "کوپنگ میکنزم" ہوتا ہے. لہٰذا پہلے 3 سال تک تو اسے نہ چھیڑیں اور نہ بچے کو منع کریں. بڑی اکثریت تو اس عمر کے بعد خود سے چھوڑ دیتی ہے. لیکن اگر یہ عادت برقرار رہے تو جبڑے اور دانتوں کی شیپ خراب ہو سکتی ہے. اس صورت میں آپ اپنی سہولت اور بچے کے مزاج کے مطابق درج ذیل طریقوں میں سے کوئی ایک یا زائد طریقے استعمال کر سکتے ہیں:

1. بار بار سمجھائیں... مثلاً جراثیم کے بارے میں، یا یہ کہیں کہ اس سے دانتوں کی شیپ خراب ہو گی اور تم "فنی" لگو گے، یا سکول میں بچے مذاق اڑائیں گے کہ یہ تو ابھی تک "بے بی" ہے، یا بولنے میں مشکل ہو گی

2. نہ کرنے پر تعریف کریں اور بار بار کریں

3. ایک چارٹ بنائیں اور ہر بار ایک گھنٹہ اگر انگوٹھا چوسے بغیر گزارے تو ایک سٹار دیں. پورا دن نہ چوسے تو سپیشل انعام دیں.

4. جن اوقات میں عادت کی شدت زیادہ ہوتی ہے، وہ نوٹ کریں. زیادہ تر بچے ٹی وی دیکھتے وقت یا رات سوتے وقت ضرور ایسا کرتے ہیں. تو ٹی وی دیکھنے کے دوران جب بچہ منہ میں انگلی لے جائے تو 5 سے 10 منٹ کیلئے ٹی وی بند کر دیں. سوتے وقت ایسا کرے تو ہاتھ پر موزا چڑھا دیں. 5. کھانے والی جیولری دیں. آنلائن مل جائے گی(chewlery)

6. پلاسٹک کی ڈیوائس استعمال کریں جو انگوٹھے پر لاک ہو جاتی ہے. آنلائن دستیاب ہے

7. گندے ذائقے والی، نظر نہ آنے والی، نگلی جا سکنے والی نیل پالش استعمال کریں. مثلاً thum

8. ایک حل کہنی پر Ace bandage بھی ہے. اس سے کہنے مڑ نہیں پائے گی اور بچہ ہاتھ منہ تک نہیں لے جا سکے گا

امید ہے کہ ان طریقوں سے ضرور فائدہ ہو گا
اگر منہ کی شیپ خراب ہو جائے تو فوراً ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے تالو پر خصوصی ڈیوائس لگوائیں.

11/11/2025

بچوں کو اپنی رائے دینے کا موقع دینا صرف ان کی بات سن لینا ہی نہیں بلکہ ان کے اندر اعتماد، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور احترام کو پروان چڑھانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ جب بچہ دیکھتا ہے کہ اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے تو وہ خود کو خاندان کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ وہ اپنے خیالات کو واضح انداز میں بیان کرنا سیکھتا ہے اور غلطی کرنے کے خوف کے بغیر نئی باتیں آزمانے کا حوصلہ پاتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر تنقیدی سوچ رکھتے ہیں، خود مختار بنتے ہیں اور دوسروں کی بات کا بھی احترام کرتے ہیں۔

روزمرہ زندگی میں اس کا عملی آغاز آسان ہے جب آپ بچوں سے براہِ راست پوچھیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں، تو صرف "ہاں/ناں" پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان سے وجہ بھی پوچھیں۔ مثال کے طور پر کھانے کے انتخاب میں انہیں دو تین محدود آپشن دیں: “کیا تم آلو گوشت پسند کرو گے یا دال چاول؟” اسکول کے حوالے سے ایک فیملی میٹنگ رکھیں جہاں ہر بچہ اپنی ایک بات کہے اور پھر مل کر فیصلہ کریں۔ جب بچہ کوئی تجویز دے تو اسے فوراً رد نہ کریں؛ پہلے سنیں، پھر سوال کریں اور ممکنہ حد تک اس پر عمل کریں اس سے بچے کو سیکھنے اور اپنی بات کی اہمیت جاننے کا موقع ملے گا۔

جب اختلاف ہو تو اس کا طریقہ بھی سکھائیں۔ فرض کریں بچہ کہتا ہے کہ وہ ٹی وی زیادہ دیکھنا چاہتا ہے؛ غصے میں آ کر منہ بند کروانے کی بجائے کہیں، “تم بتاؤ تمہارے خیال میں روزانہ کتنے منٹ ٹھیک رہیں گے اور کیوں؟” اگر وہ معقول جواب نہ دے سکے تو محدود انتخاب دیں مثلاً کھیل ختم ہونے کے بعد 30 منٹ۔ اس طرح آپ اس کی رائے کو خاطر میں رکھتے ہوئے حد بھی قائم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح غلطیوں کی صورت میں سزا دینے کی بجائے نتیجے سمجھائیں: “اگر تم نے اس کام کو خود نہیں کیا تو کیا مسئلہ ہو سکتا تھا؟” یہ سوالات بچوں کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور نتائج سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماں باپ کو اپنے رویئے میں بھی احتیاط کرنا ہوگی ۔اگر آپ اپنی غلطی مان لیتے ہیں اور بچوں کے سامنے اعتراف کرتے ہیں تو وہ بھی سیکھتے ہیں کہ رائے میں نرمی اور ایمانداری دونوں آ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی بچوں کی تجویز عملی نہ بھی ہو تو بھی احترام کے ساتھ جواب دیں: “یہ اچھا خیال ہے، مگر اس وقت یہ ممکن نہیں ہم کیوں نہ مل کر کوئی اور راستہ تلاش کریں؟” اس جملے سے بچے کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اس کی رائے اہم ہے اور مسائل پر تعاون کے ذریعے حل نکلتا ہے۔
یاد رکھیں کہ رائے دینے کی آزادی چھوٹی چھوٹی مشقوں سے بنتی ہے روزانہ کے فیصلوں میں شمولیت، احترام سے سُننا، حدود دینا اور غلطیوں پر سبق سیکھنا۔ یہی عمل بچوں کے اندر وہ پائیدار اعتماد پیدا کرتا ہے جو انہیں زندگی کے بڑے فیصلوں میں بھی روشن رہنمائی دے گا۔

Address

Jahania

Telephone

+923004065259

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram