Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

  • Home
  • Pakistan
  • Jahania
  • Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے Amna Children clinic near Gate No.2 THQ hospital Jahanian

Dr Amir Ramay MBBS,RMP,
MCPS Pediatrics,
Child specialist

08/05/2026

بچہ دنیا میں آ کر سب سے پہلے اپنے والدین کو دیکھتا ہے، ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کے رویئے محسوس کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سننے سے کم اور دیکھنے سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اس کی آنکھیں ہر وقت ماں باپ کا جائزہ لیتی ہیں، وہ کیسے بات کرتے ہیں، کس سے کیسا برتاؤ کرتے ہیں، خوشی اور غصے میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کے دل پر نقش ہوتا جاتا ہے اور پھر یہی اس کی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے۔

اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو بار بار نصیحت کر دینا کافی ہے۔ لیکن الفاظ کا اثر اتنا دیرپا نہیں ہوتا جتنا عمل کا ہوتا ہے۔ اگر والدین سچائی، نرمی اور صبر کو اپناتے ہیں تو بچہ بھی ان خوبیوں کو اپنا لیتا ہے۔ اگر وہ نماز کے پابند ہیں تو بچہ بھی آہستہ آہستہ اس طرف راغب ہوگا۔ لیکن اگر صرف کہا جائے اور کیا نہ جائے تو بچہ تضاد دیکھ کر الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور نصیحت کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
بچہ والدین کی خاموشی، ان کی مسکراہٹ، حتیٰ کہ ان کے غصے سے بھی سبق لیتا ہے۔ اس کے لئے ماں باپ ہی سب سے بڑی کتاب ہیں۔ وہ کسی استاد کی بات بھی اسی وقت مانے گا جب گھر کا ماحول اس کی تائید کرے۔ لہٰذا اصل تربیت وہ ہے جو روزمرہ زندگی میں والدین کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔
یاد رکھیں، رویہ سب سے بڑی نصیحت ہے۔ لفظ وقتی ہیں، لیکن عمل دل میں گھر کر لیتا ہے۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے نرم دل، باادب اور سچ بولنے والے بنیں تو سب سے پہلے انہیں خود ان صفات کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ بچہ دیکھ کر سیکھتا ہے، اور اعمال کی گونج ہمیشہ لفظوں سے زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہے۔

08/05/2026
07/05/2026

ہر بچہ اپنے اندر ایک چھوٹی سی دنیا اور بے شمار خواب لئے اس دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں مستقبل کی روشن تصویریں ہوتی ہیں اور دل میں یہ یقین کہ وہ کچھ بن سکتا ہے، کچھ کر سکتا ہے۔ مگر زندگی کے ابتدائی مراحل میں وہ خود سے زیادہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے رویوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر اس کے ماحول میں حوصلہ، اعتماد اور مثبت سوچ موجود ہو تو اس کے خواب مضبوط ہوتے جاتے ہیں، لیکن اگر بار بار مایوسی، تنقید یا بے اعتنائی کا سامنا ہو تو یہی خواب آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگتے ہیں۔ اسی لئے بچوں کے دل میں امید کو زندہ رکھنا دراصل ان کے مستقبل کو روشن رکھنے کے مترادف ہے۔

بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں امید بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ایک بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جا رہا ہے تو اس کے اندر آگے بڑھنے کی ایک نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ وہ غلطیوں سے گھبرانے کی بجائے ان سے سیکھنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔ ایسے بچے زندگی کے نشیب و فراز کو شکست نہیں بلکہ ایک نیا سبق سمجھتے ہیں۔

والدین بچوں کے ذہن اور دل پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ایک حوصلہ افزا جملہ، ایک شفقت بھری مسکراہٹ یا ایک مثبت رہنمائی بچے کے اندر ایسی طاقت پیدا کر سکتی ہے جو اسے مایوسی کے اندھیروں سے بچائے رکھتی ہے۔ جب بچوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی بات سنی جاتی ہے اور ان کے جذبات کو سمجھا جاتا ہے تو ان کے اندر خود اعتمادی پروان چڑھتی ہے۔ یہی خود اعتمادی مستقبل میں انہیں بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

اس کے برعکس اگر بچوں کو ہر قدم پر تنقید، موازنہ یا سختی کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے اندر خوف اور عدم اعتماد پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کی امید کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت میں توازن، محبت اور سمجھ بوجھ کو ترجیح دی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ بچے الفاظ سے زیادہ رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر اور تعلیمی ماحول میں مثبت سوچ، اعتماد اور حوصلہ افزائی کا کلچر موجود ہو تو بچے خود بخود امید اور عزم کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ یہی امید ان کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے اور انہیں زندگی کے ہر مرحلے میں ثابت قدم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ بچوں کے دل میں امید کو زندہ رکھنا صرف ایک تربیتی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ جب ہم بچوں کے اندر امید، اعتماد اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں جہاں آنے والی نسلیں مایوسی کی بجائے روشنی اور امکانات کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔

06/05/2026

کامیابی اور ناکامی دونوں انسان کے سفر کا حصہ ہوتی ہیں۔ اکثر ہم اپنے بچوں کو کامیابی کے قصے تو بڑے فخر سے سناتے ہیں، مگر اپنی ناکامیوں کا ذکر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ حالانکہ ناکامی وہ استاد ہے جو انسان کو وہ سبق سکھا دیتی ہے جو کئی کتابیں بھی نہیں سکھا پاتیں۔ بچوں کی تربیت میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ ناکامی کوئی انجام نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک مرحلہ ہے۔ اگر والدین اپنی ناکامیوں کو کہانی کی شکل میں بیان کریں تو بچے نہ صرف دلچسپی سے سنیں گے بلکہ ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں گے۔

بچوں کی نفسیات قصے کہانیوں سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ جب کسی سبق کو خشک نصیحت کی بجائے ایک واقعے یا کہانی کی صورت میں بیان کیا جائے تو وہ زیادہ دیر تک ذہن میں محفوظ رہتا ہے۔ اسی لئے اگر والدین اپنی زندگی کے ایسے واقعات بچوں کو سنائیں جن میں انہیں کسی مشکل، غلطی یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو، تو بچے اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ غلطیاں کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب بچے یہ سنتے ہیں کہ ان کے والدین یا اساتذہ بھی کبھی ناکام ہوئے تھے مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اس تجربے سے سیکھ کر دوبارہ کوشش کی، تو ان کے اندر بھی مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔

کہانی سناتے وقت یہ ضروری ہے کہ صرف ناکامی کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ یہ بھی بتایا جائے کہ اس سے کیا سبق حاصل ہوا اور اس کے بعد کیا تبدیلی آئی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا تو اسے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں کسی موقع پر محنت کی کمی یا غلط حکمت عملی کی وجہ سے ناکامی ہوئی، مگر بعد میں اپنی غلطیوں کو سمجھ کر محنت اور منصوبہ بندی کے ذریعے بہتری حاصل کی گئی۔ اس انداز سے بیان کی گئی کہانی بچوں کے ذہن میں یہ تصور پیدا کرتی ہے کہ ناکامی دراصل سیکھنے کا ایک موقع ہوتی ہے۔

جب بچے یہ دیکھتے ہیں کہ بڑے لوگ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تو ان میں بھی اپنی کوتاہیوں کو ماننے اور انہیں درست کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بچوں کو ہر وقت صرف کامیابی کی مثالیں دی جائیں تو وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ناکامی ایک شرمندگی کی بات ہے، جسے چھپانا چاہیئے ۔ نتیجتاً وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ان سے خوف محسوس کرنے لگتے ہیں۔

بچوں کو اپنی ناکامیوں کو کہانی کی صورت میں بیان کرنا دراصل انہیں خود احتسابی اور مثبت سوچ کی طرف مائل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ جب بچے اپنے تجربات کو ایک واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں تو وہ اس پورے عمل کو دوبارہ ذہن میں دہراتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کو بہتر طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ اس عمل سے ان کی سوچ میں پختگی آتی ہے اور وہ مسائل کو مایوسی کے بجائے سیکھنے کے موقع کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔

05/05/2026

جدید دور میں جہاں زندگی تیزی سے بدل رہی ہے، وہاں بچوں کے اندر اعتماد، جرات اور نئے تجربات کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ وہ بچے جو چیلنجز کا سامنا کرنے اور نئی چیزیں آزمانے کی عادت رکھتے ہیں، مستقبل میں زیادہ مضبوط، خودمختار اور کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر بچوں کو ہر وقت تحفظ کے حصار میں رکھا جائے یا انہیں ناکامی کے خوف سے بچایا جائے تو ان کی شخصیت میں جھجھک اور عدمِ اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ مشکلات کو رکاوٹ نہیں بلکہ سیکھنے کے مواقع سمجھیں۔

والدین کی طرف سے مناسب رہنمائی اور اعتماد اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ انہیں ہر کام میں مکمل ہونا ضروری نہیں، بلکہ اصل کامیابی کوشش اور سیکھنے کے عمل میں ہے۔ جب بچے کو کسی مشکل کام کا سامنا ہو تو والدین کو چاہیئے کہ وہ اسے حل بتانے کی بجائے اس کی سوچ کی رہنمائی کریں۔ اس طرح بچہ خود مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور آئندہ چیلنجز سے گھبرانے کی بجائے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا بھی بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ کھیل، مطالعہ، تخلیقی سرگرمیاں یا گروپ ایکٹیویٹیز بچوں کو نئے تجربات کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ جب بچہ مختلف حالات اور تجربات سے گزرتا ہے تو اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور وہ نئے چیلنجز کو قبول کرنے کے لئے زیادہ تیار ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران والدین کی حوصلہ افزائی اور مثبت رویہ بچے کے اعتماد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ بچوں میں چیلنج قبول کرنے اور نئی چیزیں آزمانے کی ہمت پیدا کرنا محض نصیحت سے ممکن نہیں بلکہ ایک مثبت ماحول، اعتماد اور مسلسل رہنمائی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب والدین بچوں کو سیکھنے، سوچنے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں تو وہ نہ صرف مضبوط شخصیت کے حامل بنتے ہیں بلکہ زندگی کی پیچیدگیوں کا سامنا بھی اعتماد اور حوصلے کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ ایسے بچے ہی مستقبل میں معاشرے کی ترقی اور بہتری میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

04/05/2026

ہمارے گھروں میں ہونے والی بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو گھر کے افراد کے درمیان رہیں تو ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب گھر میں کوئی مہمان آتا ہے تو بچے خوشی اور معصومیت میں اس قدر کھل جاتے ہیں کہ گھر کی چھوٹی بڑی باتیں بلا جھجھک بیان کرنے لگتے ہیں۔ کبھی وہ والدین کی کسی بحث کا ذکر کر دیتے ہیں، کبھی مالی حالات کی بات بتا دیتے ہیں اور کبھی گھر کے کسی فرد کی کوئی ایسی بات بیان کر دیتے ہیں جو دوسروں کے سامنے مناسب نہیں ہوتی۔ بچے ایسا بدنیتی سے نہیں کرتے بلکہ ان کی فطرت میں سادگی اور بے ساختگی ہوتی ہے، وہ نہیں جانتے کہ کون سی بات کہاں تک کہنی چاہیئے ۔

والدین بچوں کو محبت اور سمجھداری کے ساتھ یہ شعور دیں کہ ہر بات ہر جگہ نہیں بتائی جاتی۔ بچوں کو ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے وہ یا تو ضدی ہو جاتے ہیں یا پھر ڈر کر بات چھپانے لگتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ کسی پرسکون وقت میں بچے کے ساتھ بیٹھ کر آسان الفاظ میں اسے سمجھایا جائے کہ گھر کی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف گھر والوں تک محدود رہتی ہیں۔ جیسے ہم اپنی قیمتی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں، ویسے ہی گھر کی باتوں کی بھی حفاظت کی جاتی ہے۔

بچوں کو مثالوں کے ذریعے سمجھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ انہیں بتایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی دوست اپنے گھر کی ہر بات باہر بتاتا رہے تو لوگوں کے دل میں اس گھر کی عزت کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اپنے گھر کی باتوں کو سنبھال کر رکھیں تو یہ ہمارے خاندان کے احترام اور اعتماد کی علامت بنتا ہے۔ جب بچے یہ بات سمجھ جاتے ہیں کہ خاموشی بھی ایک اچھا اخلاق ہے تو وہ آہستہ آہستہ خود احتیاط کرنے لگتے ہیں۔

اگر گھر کے بڑے خود ہر جگہ گھر کے مسائل بیان کرتے رہیں تو بچے بھی یہی سیکھتے ہیں۔ لیکن اگر والدین محتاط اور متوازن انداز میں بات کریں تو بچے بھی اسی طرز کو اپنانے لگتے ہیں۔ تربیت کا یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بچے نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔

بچوں کو یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ مہمانوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات کرنی چاہیئے لیکن ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مہمان ایسی بات پوچھے جو گھر کے معاملات سے متعلق ہو تو بچہ سادہ انداز میں بات بدل سکتا ہے یا مسکرا کر کہہ سکتا ہے کہ اسے اس بارے میں زیادہ معلوم نہیں۔ یہ سادہ سی تربیت بچوں میں اعتماد بھی پیدا کرتی ہے اور انہیں غیر ضروری گفتگو سے بھی بچاتی ہے۔

یاد رکھنا چاہیئے کہ بچوں کی معصومیت ان کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے، اسے سختی سے نہیں بلکہ حکمت سے سنوارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب بچوں کو محبت، اعتماد اور سمجھ کے ساتھ یہ شعور دیا جاتا ہے کہ گھر کی عزت دراصل ان کے اپنے ہاتھ میں بھی ہے تو وہ خود اس ذمہ داری کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ بچے یہ سیکھ جاتے ہیں کہ ہر بات کہنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں دل اور گھر کی چار دیواری میں رہیں تو ہی بہتر ہوتی ہیں۔

بچوں میں بعض اوقات والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے کے سر کی شکل وقت کے ساتھ گول اور برابر رہنے کی بجائے ایک طرف سے چپٹی ...
03/05/2026

بچوں میں بعض اوقات والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے کے سر کی شکل وقت کے ساتھ گول اور برابر رہنے کی بجائے ایک طرف سے چپٹی یا قدرے ٹیڑھی ہونے لگتی ہے۔ یہ کیفیت "پوزیشنل" یا "ڈیفارمیشنل پلیجیوسفیلی" کہلاتی ہے۔ ھم اس طرح کے بچے اکثر اپنے نیورولوجی کلینک میں دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر یہ سر کی شکل میں خرابی کسی بیماری یا سنگین مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ بچے کے زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔

اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام وجہ یہ ہے کہ والدین بچے کو دن بھر زیادہ وقت کمر کے بل لٹائے رکھتے ہیں اور پیٹ کے بل کھیلنے کا وقت نہیں دیتے، جسے "ٹمی ٹائم" کہا جاتا ہے۔ مسلسل کمر کے بل رہنے سے سر کے پچھلے حصے پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ چپٹا ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر بچہ ہمیشہ پیٹھ کے بل سوئے اور دن کے وقت بھی زیادہ تر اسی حالت میں رہے تو اس کے سر کی شکل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض بچوں میں پیدائش کے وقت یا بعد میں گردن کے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں، جسے "ٹورٹی کولس" کہتے ہیں۔ ایسے بچے ہمیشہ ایک ہی طرف دیکھتے ہیں، اور مسلسل دباؤ کی وجہ سے سر ایک طرف سے چپٹا ہو جاتا ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے اس مسئلے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی ایکٹوٹی کم ہوتی ہے۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے والدین چند احتیاطی تدابیر اپنا سکتے ہیں۔ بچے کو روزانہ کچھ وقت جاگتے ہوئے پیٹ کے بل نرم جگہ پر لٹائیں تاکہ نہ صرف سر کی شکل بہتر رہے بلکہ گردن اور جسم کے پٹھے بھی مضبوط ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کو ہمیشہ ایک ہی طرف نہ لٹائیں بلکہ باری باری بائیں، دائیں اور سیدھی پوزیشن میں رکھیں تاکہ دباؤ برابر تقسیم ہو۔ اگر بچے کی گردن ٹیڑھی ہو تو بچوں کے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق گردن کی ورزشیں کروانی چاہئیں۔ بچے کو گود میں زیادہ وقت دینا بھی مفید ہے کیونکہ اس سے سر پر مستقل دباؤ نہیں پڑتا۔ اسی طرح دودھ پلاتے وقت کبھی ایک بازو پر اور کبھی دوسرے بازو پر لیں تاکہ بچہ بار بار ایک ہی طرف نہ دیکھے۔

اکثر اوقات یہ حالت وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب بچہ خود سے بیٹھنا اور رینگنا شروع کرتا ہے۔ تاہم، اگر سر کی شکل میں خرابی زیادہ ہو یا والدین کو لگے کہ بچہ صرف ایک ہی طرف دیکھ رہا ہے تو فوراً بچوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض صورتوں میں، جب مسئلہ زیادہ نمایاں ہو اور عام تدابیر سے درست نہ ہو، تو ڈاکٹر "ہیلمٹ تھراپی" کی تجویز دے سکتے ہیں۔ اس میں بچے کو ایک خاص ڈیزائن کا ہیلمٹ پہنایا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ سر کی شکل کو درست کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مختصر یہ کہ پوزیشنل پلیجیوسفیلی زیادہ تر احتیاط اور صحیح عادات سے روکی جا سکتی ہے۔ اگر والدین شروع ہی سے بچے کو پیٹ کے بل وقت دینا، پوزیشن میں تبدیلی کرنا اور زیادہ دیر تک ایک ہی حالت میں نہ رکھنے جیسی باتوں کا خیال رکھیں تو یہ مسئلہ عموماً پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو زیادہ تر خود ہی بہتر ہو جاتا ہے۔

Address

Jahania

Telephone

+923004065259

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share