Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

  • Home
  • Pakistan
  • Jahania
  • Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے Amna Children clinic near Gate No.2 THQ hospital Jahanian

Dr Amir Ramay MBBS,RMP,
MCPS Pediatrics,
Child specialist

16/02/2026
15/02/2026

کہتے ہیں کہ انا ایک ایسی تلوار ہے جو سامنے والے سے زیادہ اپنے ہی ہاتھ کو زخمی کرتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو انسان کے اندر خاموشی سے جنم لیتی ہے، پہلے خود پسندی بن جاتی ہے، پھر ضد اور آخرکار تعلقات کو کاٹنے لگتی ہے۔ اگر بڑوں میں انا کا ہونا نقصان دہ ہے تو بچوں میں اس کا پروان چڑھنا مستقبل کی شخصیت کو سخت، تنہا اور ناسمجھ بنا دیتا ہے۔

بچوں میں انا عموماً اس وقت جنم لیتی ہے جب ان کی ہر بات مان لی جائے، یا انہیں یہ احساس دیا جائے کہ وہ دوسروں سے برتر ہیں۔ والدین جب لاشعوری طور پر بچے کی ضد کو اس کی عزتِ نفس سمجھ لیتے ہیں تو دراصل وہ انا کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔ عزتِ نفس کا مطلب خود کو قابلِ قدر سمجھنا ہے، جبکہ انا کا مطلب خود کو ہمیشہ درست اور دوسروں کو کمتر جاننا ہے۔ یہ باریک فرق اگر بچپن میں واضح نہ کیا جائے تو بچہ ہر انکار کو اپنی توہین اور ہر نصیحت کو اپنی بے عزتی سمجھنے لگتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا بے حد ضروری ہے کہ انکار زندگی کا حصہ ہے اور ہر خواہش پوری ہونا حق نہیں۔ جب بچہ کسی بات پر ضد کرے تو فوراً مان لینے کی بجائے اسے احساس دلایا جائے کہ دوسروں کی ضروریات اور احساسات بھی اہم ہیں۔ بات چیت کے ذریعے اسے یہ سمجھایا جائے کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں اور ہار جانا بے وقعت ہونا نہیں۔ اس عمل میں نرمی، تسلسل اور محبت شرط ہے، کیونکہ سختی انا کو توڑتی نہیں، بلکہ مزید مضبوط کر دیتی ہے۔

تعریف اور حوصلہ افزائی بھی توازن کے ساتھ ہونی چاہیئے ۔ بچے کی کوشش کی تعریف کی جائے، اس کی ذات کی نہیں۔ اسے یہ نہ سکھایا جائے کہ وہ سب سے بہتر ہے، بلکہ یہ بتایا جائے کہ وہ بہتر بن سکتا ہے۔ اس فرق سے بچہ مقابلہ بازی کے بجائے خود احتسابی سیکھتا ہے، اور انا کے بجائے عاجزی اس کی شخصیت کا حصہ بنتی ہے۔

انا سے پاک تربیت کا مطلب کمزور بچہ بنانا نہیں، بلکہ مضبوط دل اور کھلے ذہن والا انسان تیار کرنا ہے۔ ایسا بچہ جو اپنی قدر بھی جانتا ہو اور دوسروں کی قدر بھی کرے، جو اپنی بات کہہ بھی سکے اور سن بھی سکے۔ یہی وہ توازن ہے جو والدین اگر بچپن میں سکھا دیں تو انا کی تلوار بچے کے ہاتھ میں نہیں، اس کی سمجھ کے نیچے آ جاتی ہے۔

14/02/2026

بچے چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنی پہچان بناتے ہیں۔ جو رنگ انہیں اچھا لگتا ہے یا جو لباس وہ خوشی سے پہنتے ہیں، وہ ان کے دل کی کیفیت بتاتا ہے۔ بچپن میں اگر بچے کو اپنی پسند بتانے اور اس پر عمل کرنے کا موقع ملے تو یہی احساس آہستہ آہستہ اس کی سوچ اور اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔

جب بچوں کو اپنی پسند کے لباس یا رنگ چننے دیا جاتا ہے تو وہ خود کو صرف حکم ماننے والا نہیں بلکہ ایک بااختیار فرد محسوس کرتے ہیں۔ یہ احساس ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے اور انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ان کی رائے بھی معنی رکھتی ہے۔ بچہ جب خود فیصلہ کرتا ہے تو وہ اپنے انتخاب سے جُڑ جاتا ہے اور یہی تعلق اس کی شخصیت کو نکھار دیتا ہے۔

انتخاب کی آزادی بچے کی سوچ کو وسعت دیتی ہے۔ وہ مختلف چیزوں میں فرق کرنا سیکھتا ہے، پسند اور ناپسند کو سمجھتا ہے اور آہستہ آہستہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ اگر کبھی اس کا انتخاب درست نہ بھی ہو تو وہ اس سے سیکھتا ہے، جس سے اس کے اندر برداشت اور سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

اس طرح بچے میں ذمہ داری کا احساس بھی جنم لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر انتخاب کے ساتھ ایک نتیجہ جڑا ہوتا ہے اور ان نتائج کو قبول کرنا زندگی کا حصہ ہے۔ والدین کی نرمی سے کی گئی رہنمائی بچے کو ضد یا خوف کی بجائے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔

اپنی پسند کے اظہار کا موقع بچے کو ذہنی سکون دیتا ہے۔ وہ خود کو سمجھا ہوا اور قبول کیا ہوا محسوس کرتا ہے، جو اس کی جذباتی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ لباس یا رنگ کے انتخاب جیسی سادہ آزادی دراصل بچے کی ذات کو پہچان دینے اور اس کی سوچ کو طاقت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

13/02/2026

والدین اور اساتذہ جب بھی بچوں سے بات کرتے ہیں تو ہر جملہ ان کے دل و دماغ میں ایک نقش چھوڑ جاتا ہے۔ خاص طور پر تعریف کے الفاظ اگر سمجھ بوجھ اور سچائی کے ساتھ ادا کئے جائیں تو وہ بچے کے اندر اعتماد، خود شناسی اور ذہنی توازن کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تعریف صرف خوش کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی کا ایک حساس عمل ہے۔

جب بچے کی تعریف حقیقت پر مبنی ہوتی ہے تو وہ خود کو پہچاننا سیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی کون سی خوبی واقعی قابلِ قدر ہے اور کہاں اسے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ ایسی تعریف بچے کو رشتوں سے جوڑے رکھتی ہے اور اس کے اندر خود فریبی پیدا نہیں ہونے دیتی۔ اس کے برعکس مبالغہ آمیز تعریف وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر آہستہ آہستہ بچے کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے، جہاں ذرا سی ناکامی اس کے اعتماد کو توڑ سکتی ہے۔

مخلص تعریف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچہ کوشش کو اہمیت دینا سیکھتا ہے، نہ کہ صرف نتیجے کو۔ جب اسے یہ بتایا جائے کہ اس نے دل لگا کر کام کیا ہے، ایمانداری دکھائی ہے یا صبر سے سیکھا ہے، تو وہ انہی اوصاف کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اس طرح اس کے اندر ذمہ داری، خود احتسابی اور سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔

سچائی پر مبنی تعریف بچے کے اور والدین کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط کرتی ہے۔ بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات اور اس کی محنت کو واقعی سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ محض رسمی الفاظ سے بہلایا جا رہا ہے۔ یہی احساس اسے کھل کر اظہار کرنے، سوال پوچھنے اور اپنی غلطیوں کو قبول کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

وہ بچے جن کی تعریف خلوص اور حقیقت کے ساتھ کی جاتی ہے، وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ، خود اعتمادی اور حقیقت پسندی پیدا ہوتی ہے۔ یوں سادہ مگر سچی تعریف ایک مضبوط، متوازن اور باوقار شخصیت کی تعمیر میں خاموش مگر گہرا کردار ادا کرتی ہے۔

12/02/2026

بچوں کی شخصیت کی بنیاد انہی خیالات اور احساسات پر رکھی جاتی ہے جو وہ اپنے بارے میں آہستہ آہستہ سیکھتے ہیں۔ اگر بچہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھے تو اس کے اندر خوف، جھجھک اور احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، اور اگر وہ خود کو برتر سمجھنے لگے تو غرور، بے حسی اور دوسروں کو حقیر جاننے کا رویہ پیدا ہو جاتا ہے۔ دونوں صورتیں بچے کی متوازن شخصیت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ والدین کا اصل کردار یہی ہے کہ وہ بچوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کریں مگر ساتھ ہی عاجزی اور انسانیت کا شعور بھی برقرار رکھیں۔

والدین کو سب سے پہلے اپنے رویّوں پر نظر ڈالنی چاہیئے کیونکہ بچے الفاظ سے زیادہ عمل سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں بار بار بچوں کا دوسروں سے موازنہ کیا جائے، کبھی یہ کہا جائے کہ فلاں تم سے زیادہ اچھا ہے یا کبھی یہ احساس دلایا جائے کہ تم سب سے بہتر ہو اور کوئی تمہارے برابر نہیں، تو بچہ آہستہ آہستہ خود کو یا تو کمتر یا حد سے زیادہ برتر سمجھنے لگتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کی توجہ دوسروں سے مقابلے کی بجائے اپنی صلاحیتوں اور بہتری کی طرف دلائی جائے۔

بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ہر انسان منفرد ہے، ہر کسی کی اپنی خوبیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ جب بچہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی انسان کی قدر کا پیمانہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک مرحلہ ہے، تو وہ نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ والدین اگر بچے کی کامیابی پر اس کی محنت کو سراہیں اور ناکامی پر اس کا ساتھ دیں تو بچے کے اندر توازن پیدا ہوتا ہے۔ تعریف اور اصلاح دونوں میں اعتدال بہت ضروری ہے۔ حد سے زیادہ تعریف بچے کو غرور کی طرف لے جا سکتی ہے اور مسلسل تنقید اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے۔

بچوں کو دوسروں کے احساسات سمجھنے کا موقع دینا بھی بہت اہم ہے۔ اگر والدین انہیں ہمدردی، شکرگزاری اور احترام کا درس دیں تو بچہ یہ سیکھتا ہے کہ ہر انسان قابلِ عزت ہے۔ اس طرح نہ وہ خود کو سب سے نیچے سمجھتا ہے اور نہ سب سے اوپر، بلکہ خود کو ایک عام مگر قیمتی انسان کے طور پر قبول کرتا ہے۔

متوازن خود اعتمادی بچے کو زندگی میں مضبوط بناتی ہے۔ والدین کا پیار، سمجھ داری اور رہنمائی بچے کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ وہ جیسا ہے ویسا ہی قابلِ قبول ہے، اور یہی احساس اسے احساسِ کمتری اور برتری دونوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

11/02/2026

ایک دن بریسٹ فیڈنگ کروانے سے 10 کلو میٹر چلنے جتنی انرجی خرچ ہوتی ہے اور اس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے😯
جو بھی ماں بریسٹ فیڈنگ کو چنتی ہے، بریسٹ فیڈنگ کیلئے کوشش کرتی ہے، تکلیف برداشت کرتی ہے، نیند کی قربانی دیتی ہے، تھکاوٹ اور زمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتی ہے... پھر بھی بریسٹ فیڈنگ جاری رکھتی ہے.... اس ماں کو میرا سلام ❤️

Address

Jahania

Telephone

+923004065259

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram