08/05/2026
بچہ دنیا میں آ کر سب سے پہلے اپنے والدین کو دیکھتا ہے، ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کے رویئے محسوس کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سننے سے کم اور دیکھنے سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اس کی آنکھیں ہر وقت ماں باپ کا جائزہ لیتی ہیں، وہ کیسے بات کرتے ہیں، کس سے کیسا برتاؤ کرتے ہیں، خوشی اور غصے میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کے دل پر نقش ہوتا جاتا ہے اور پھر یہی اس کی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے۔
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو بار بار نصیحت کر دینا کافی ہے۔ لیکن الفاظ کا اثر اتنا دیرپا نہیں ہوتا جتنا عمل کا ہوتا ہے۔ اگر والدین سچائی، نرمی اور صبر کو اپناتے ہیں تو بچہ بھی ان خوبیوں کو اپنا لیتا ہے۔ اگر وہ نماز کے پابند ہیں تو بچہ بھی آہستہ آہستہ اس طرف راغب ہوگا۔ لیکن اگر صرف کہا جائے اور کیا نہ جائے تو بچہ تضاد دیکھ کر الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور نصیحت کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
بچہ والدین کی خاموشی، ان کی مسکراہٹ، حتیٰ کہ ان کے غصے سے بھی سبق لیتا ہے۔ اس کے لئے ماں باپ ہی سب سے بڑی کتاب ہیں۔ وہ کسی استاد کی بات بھی اسی وقت مانے گا جب گھر کا ماحول اس کی تائید کرے۔ لہٰذا اصل تربیت وہ ہے جو روزمرہ زندگی میں والدین کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔
یاد رکھیں، رویہ سب سے بڑی نصیحت ہے۔ لفظ وقتی ہیں، لیکن عمل دل میں گھر کر لیتا ہے۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے نرم دل، باادب اور سچ بولنے والے بنیں تو سب سے پہلے انہیں خود ان صفات کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ بچہ دیکھ کر سیکھتا ہے، اور اعمال کی گونج ہمیشہ لفظوں سے زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہے۔