15/03/2026
ایمرجنسی میں 12 گھنٹے کی شفٹ ختم ہونے کو تھی سب ڈاکٹرز کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے کیونکہ ڈیوٹی بہت ہیوی گزری تھی۔
اچانک پانچ سات مردو خواتین کا گروہ ایک لڑکی کو ویل چیئر پر ڈالے داخل ہوا۔۔
لڑکی کی آنکھیں مڑی ہوئی تھیں ہاتھ پیٹ پر رکھا ہوا تھا اور اس کو جھٹکے لگ رہے تھے۔
ہاؤس آفیسر نے فوری بلڈ پریشر اور شوگر چیک کی جو بالکل نارمل تھی۔۔
ہسٹری لینے پر پتہ چلا کہ مریضہ نے بہن سے جھگڑے کے بعد ایک چوہے مار گولی کھا لی تھی۔کھائے ہوے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا۔ فوری خوراک کی نالی ڈال کر معدہ واش کر دیا گیا اور کچھ انجکشن لگا کر مریضہ کو بیڈ پر لٹا دیا گیا۔۔صاف پتا چل رہا تھا کہ لڑکی جان بوجھ کر اوور ایکٹنگ کر رہی ہے۔۔خون کی رپورٹ بھی بلکل ٹھیک آئی۔ اتنے میں دو مریض اور آگئے جو کہ کافی سریس حالت میں تھے سب عملہ ان مریضوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔کچھ ہی دیر گزری تھی وہ مریضہ اچانک چیخنے لگ گئی اور منہ سے جھاگ نکالنے لگی۔ حالانکہ چوہے مار گولی کی ایسی کوئی علامتیں نہ تھیں ۔ مریضہ کے ساتھ والے بار بار آتے اور سخت لہجے میں کہتے کہ ہماری مریضہ کو کوئی اور دوائی دیں اسکی طبیعت بہتر نہیں ہو رہی۔
وارڈ کی آپا جن کی ساری عمر ایمرجنسی میں گزری تھی اور وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھی وہ مریضہ کے پاس آئی اور مریضہ کے ساتھ والے مردوں کو باہر بھیج دیااور مریضہ سے کہا او بی بی بند کرو یہ ڈرامےبازی چوہے مار گولیاں نال چوہے تے مردے نئیں بندے کتھوں مرن لگے نے اٹھ کے بیٹھو نہیں تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں پیٹ کو چیرا لگا کر زہر معدے سے نکالنا پڑے گا اتنا سننا تھا کہ مریضہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی میں بالکل ٹھیک ہوں اسکے ساتھ والے مرد جب واپس آۓ تو حیران رہ گئے
خیر ضروری ٹیسٹوں کے بعد مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا
یہ حقیقی واقعہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمرجنسی میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیس آتے ہیں جو صرف ڈرامے بازی گھروالوں یا شوہر کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کیے جاتے ہیں اور ڈاکٹرز کو بھی امتحان میں ڈالتے ہیں اور جو سیریس مریض ڈاکٹرز کی زیادہ توجہ کے حقدار ہوتے ہیں ان کا بھی حق مارتے ہیں
اللہ پاک ہدایت نصیب فرمائے۔